تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

قائمہ کمیٹی اجلاس: پی آئی اے، ہراسمنٹ اور نواز کھوکھر — سعدیہ کیانی

by دانش ڈیسک 07/12/2019
written by دانش ڈیسک 07/12/2019
82

ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کے اجلاس میں پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگریوں کے حوالے سے (جائزہ کمیٹی سے) پروگریس رپورٹ طلب کی گئی تھی (چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان اور ممبر کمیٹی کی جانب سے) لیکن مجھے کمیٹی ممبران ( پی آئی اے حکام) جواب کی مکمل تیاری کے ساتھ نظر نہ آئے جب سینٹر مشاہد اللہ خان ان سے کوئی سوال کرتے یا کوئی اور سینٹر کچھ پوچھتا تو جواب میں پی آئی اے حکام بات کہیں اور لے جاتے اور بجائے یہ ذمہ داری خود لینے کے کہ ملازمین سے متعلق فیصلے کرنا ان کا حق ہے وہ کبھی ہائی کورٹ اور کبھی سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے نظر آئے۔

اجلاس کے ایجنڈا پر تیسرا (اور پانچواں) مسئلہ خواتین کی طرف سے سینیٹ چئیرمین کو حراسگی سے متعلق خط لکھ کر داد رسی کا بھی تھا، ثناء وحید سینئر آرٹی او، فرزانہ یاسمین اور نوشابہ طلعت کو حراساں کیا گیا اور ان کی شکایت میں کہیں نہ کہیں ونگ کمانڈر کامران انجم کا نام آرہا تھا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ آخر ایسا کیا ہے کہ سبھی خواتین ایک ہی افسر کے خلاف شکایت کررہی ہیں؟ ان کا خیال تھا کہ ضرور موصوف کچھ ایسا کرتے ہیں کہ خواتین ان کے ساتھ کام کرنے میں اطمینان محسوس نہیں کرتیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے پوچھا کہ گزشتہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ ثناء وحید اور مسٹر کامران انجم، جو اسپیشل اسسٹنٹ سی ای او ہیں) کمیٹی کو تفصیلات فراہم کریں گے مگر نہ دونوں حاضر ہوئے اور نہ کوئی پیش رفت نظر آرہی ہے۔ اُن کی عدم شرکت کی وجہ سے آئندہ اجلاس تک معاملہ مؤخر کرتے ہیں کمیٹی نے انھیں نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا اگر آئندہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تو دونوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ سینٹرز (کمیٹی ممبران) کی جانب سے ونگ کمانڈر کامران انجم کے رویے کی بابت جب بھی سوال ہوتا ان کے ساتھی (پی آئی اے حکام) اپنے ساتھی کا دفاع کرتے نظر آتے۔ چئیرمین صاحب نے پوچھا کہ کیا کامران انجم کو بھی کوئی شوکاز نوٹس کیا گیا؟ جس کے جواب میں پی آئی اے ایگزیٹو نے ان خواتین (جنہوں حراسگی کی درخواست دی) کے متعلق مختلف (خواتین کے ذاتی مفادات سے متعلق) باتیں سنانی شروع کردیں کہ فلاں کو ملتان پوسٹنگ چاہیے تھی تو اس نے حراسگی کی درخواست دی اور جب پوسٹ ہوگئی تو معاملہ رفع دفع ہوگیا یا کسی نے کسی اور رنجش میں درخواست دی اور پھر واپس لے لی وغیرہ۔ ان وردی میں ڈیوٹی کرنے والے افسران نے ائیر فورس کا سر فخر سے بلند کردیا جب سینیٹر مشاہد اللہ خان اور سینٹر نعمان وزیر خٹک نے ان کے اس بھونڈے دفاع پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کا نام بار بار خواتین کو حراساں کرنے کے حوالے سے سامنے آرہا ہے لیکن آپ خواتین کو ہی قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔ کچھ خیال کریں ۔ ا ن کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری ہونی چاہئےتاکہ ادارے کا نام بدنام نہ ہو اور ان خواتین کی داد رسی ہو۔

بعد از میٹنگ جب میں پی آئی اے حکام پر تنقید کی کہ آپ لوگ اجلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ نہیں آئے اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے آپ لوگ خودمختار نہیں پی آئی اے کے معاملات پر تو سیکرٹری صاحب نے صرف اتنا کہا کہ ایسا نہیں ہم مکمل بااختیار ہیں اور مسکرا دئیے۔ پھر میں نے سینیٹرمشاہد اللہ خان سے پوچھا کہ آخر کامران انجم کون ہے جس کو اس طرح بچایاجارہا ہے جبکہ واضح طور پر تمام خواتین ایک انہیں کا نام درخواست میں لکھ رہی ہیں؟ سینیٹر صاحب نے کہا آپ خود تحقیق کریں گی تو آپ کو پتا چل جائے گا۔

اس کے علاوہ اجلاس میں نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ منصوبے میں کرپشن کے حوالے سے سینیٹر بہرہ مند خان تنگی نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں کمیٹی نے واضح ہدایت کی تھی کہ جے آئی ٹی بنا کر رپورٹ فراہم کی جائے مگر ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے مختلف ائیر پورٹس کو بند کئے جانے کے حوالے سے سوال اٹھایا اور آئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ سینیٹر کھوکھر کی خوبی ہے کہ یہ ساتھ ساتھ ساری فائلیں پڑھے رہتے ہیں اور بہت عمدہ نکات سامنے لاتے ہیں۔ میں نے بعد میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کو ان کی اس توجہ اور پبلک اکاونٹس میں دلچسپی پر سراہا بھی کہ اگر آپ کی طرح دیگر بھی تیاری کرکے آئیں تو ان کمیٹیوں کے اجلاس سالوں سال بے نتیجہ چلتے رہنے کی بجائے محض چند دنوں میں کسی نتیجہ پر پہنچ کر حل نکال لیں۔

میرے نزدیک کسی سیاستدان کی پارٹی سے زیادہ اس کے کام کی اہمیت ہونی چاہیے اسی لئے جب بھی لکھتی ہوں تو آپ کے سامنے ان لوگوں کے کام اور عوامی نمائندہ کی حیثیت سے کردار پر بات کرتی ہوں۔ ہمارا مقصد صرف عقابی نگاہ سے جائزہ لے کر کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

ایک معاملہ اے ایس ایف کا بھی تھا جس کے لئے ڈی جی اے ایس ایف کو کمیٹی میں بلوایا گیا تھا یہ معاملہ وہی ہے جس پر میڈیا رپورٹس میں اہلکار کی جانب سے مسافر سے بدتمیزی اور کپڑے پھاڑنے کا معاملہ تھا۔ بتایا گیا کہ ملوث لوگوں کے خلاف انکوائری اور ایکشن لیا جا رہا ہے۔ چونکہ اے ایس ایف آرمی ایکٹ کے تحت کام کرتی ہے اس لئے زمہ داران کا کورٹ مارشل کیا جارہا ہے۔

پی آئی اے کو (1990) سندھ حکومت نے ایک زمین تحفے میں دی جس پر پی آئی اے نے کچھ تعمیرات کیں بعدازاں پی آئی اے حکام نے یہ زمین پھر سندھ گورنمنٹ کو لوٹادی اور اب معاملہ میری اور تیری پر کھڑا ہے۔ ایسا مضحکہ خیز کیس کہ سننے والے بھی پریشان ہوئے اور سنانے والے بھی سر کھجاتے نظر آئے۔ بس یہی سوچا کہ الہی یہ ملک شاید فرشتے چلا رہے ہیں جو اب تک بچا ہوا ہے ورنہ ہم جنہیں ووٹ دے کر لائے ان کا تو صرف ایک ہی کام ہے کہ اپنی دھن دولت میں مسلسل اضافہ کرو اور ملک کے لئے مسلسل مسائل بناتے جاو۔ کسی ایک نے بھی شاید کوئی فیصلہ قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ کیا کبھی۔

مزید کیا لکھوں؟ دل ہی جل جاتا ہے ایسی صورتحال دیکھ کر۔ ان کمیٹیوں میں بیٹھنے کا فائدہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ امور سلطنت میں ہونے والے کام اور انتصرام کی سمجھ آجاتی ہے۔ ہمارے مسائل اور وسائل کیا ہیں اور کس طرح ان کا غلط استعمال ہوتا ہے یہ سب سمجھ آجاتی ہے۔

مزید بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن ابھی یہیں اختتام کروں گی۔ آئیندہ کسی میٹنگ کا حال بھی اسی انداز سے لکھوں گی کہ عام قاری کو بھی سمجھ آجائے کہ سینٹ اور پارلیمنٹ کا اصل کام کیا ہے اور ان پارلیمانی ممبران اور سینٹرز کی زمد داریاں کیا ہیں۔

آپ سب کا شکریہ جنہوں نے اس تحریر (پہلا حصہ) کو بے حد پسند کیا۔ مجھے بیشمار پیغام ملے جن میں میری سادہ انداز سے بات سمجھانے کو پسند کیا گیا اور اصرار ملا کہ آئیندہ بھی اسی طرح لکھیں۔ دوسری بات میری بیباک تحریر پر داد دی گئی تو سچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالی کی ذات نے خوف جیسی شے میرے دل میں ڈالی ہی نہیں۔ اس لئے آپ بے فکر رہیے ان شاء اللہ میں یونہی لکھتی رہوں۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

Facebook Comments Box
featuredNawaz Khokhar SenetorPIAPIA Fake DegreeStanding committeeایوی ایشن کی سب کمیٹیپبلک اکاونٹس کمیٹیپی آئی اےجعلی ڈگریاں کیسقائمہ کمیٹیمشاہد اللہ سینیٹرنواز کھوکھر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خود تصویریت یا سیلفی کا جنون —- اسما ظفر
next post
اشتراکیت: سرمایہ داری نظام کا ہراول —— محمد دین جوہر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.