تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

دھرنا ختم ہوا لیکن ’کب تماشا ختم ہوگا‘ —— اورنگ زیب نیازی

by دانش ڈیسک 22/11/2019
written by دانش ڈیسک 22/11/2019
108

شہر اقتدار میں مولانا کا دھرنا 14ویں روز ختم ہو گیا اور اپنے پیچھے دُھول چھوڑ گیا۔ دُھول بیٹھے گی تو معلوم ہو گا کہ اس دھرنے کا حاصل حصول کیا تھا؟ یہ دھرنا بہ ظاہر ناکام ہوا اور حکومت کے حامیان اس ناکامی پر بغلیں بجا رہے ہیں۔

مسلسل تیسری سیاسی حکومت میں یہ تیسرا سیاسی دھرنا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں علامہ طاہر القادری نے دھرنا دیا اور آئین کے آرٹیکل 62,63 کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ ایک معاہدے اور وعدے کے تحت یہ دھرنا ختم ہوا۔ مظاہرین کے گھر پہنچنے سے پہلے حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی۔ بالکل اسی طرح جس طرح پیپلز پارٹی نواز شریف کے ساتھ کیے گئے ’’میثاق جمہوریت‘‘ سے یہ کہہ کر مکر گئی تھی کہ معاہدے کوئی قرآن، حدیث نہیں ہوتے۔ یہی نہیں پیپلز پارٹی کے ایک سنجیدہ راہنما نے طاہرالقادری کی مزاحیہ انداز میں نقلیں بھی اتاریں لیکن اس 62,63 نے بعد میں میدان سیاست کے برجزمہروں کو جو دھول چٹائی وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دوسرا دھرنا ن لیگ کے دور حکومت میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی تحریک انصاف نے دیا۔ 126 دن کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد، بہ ظاہر ناکامی سمیٹ کر یہ دھرنا بھی اختتام پذیر ہوا لیکن پاکستانی سیاست پر اس کے جو اثرات مرتب ہوئے ان کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے۔

اور اب مولاناکا دھرنا۔ یہ دھرنا اپنی نوعیت کا منفرد دھرنا اس لیے ثابت ہوا کہ یہ مختلف الخیال پارٹیوں اور لوگوں کا ایک گلدستہ تھا۔ اس میں مدرسے کے طالب علم (بہ قول شخصے طالبان) بھی تھے، خدائی خدمت گار بھی، این جی اوز کے ہیرو اچکزئی صاحب بھی، بائیں بازو کی پیپلز پارٹی بھی، بیانیہ والی ن لیگ بھی، ملیشیا کی وردی میں ملبوس صف اول کے صحافی اور اینکرز بھی اور جمہوریت کے لیے اچھل کود کرتے دانشور بھی۔ لبرل طبقے کا ’’دانشور ونگ‘‘ پہلے چار دن تو خود بھی اس نظریاتی قے کی بد بو کو برداشت نہ کر سکا اور خاموش رہا لیکن آخر کار کچھ جواز تراش لینے میں کامیاب ہو گیا۔ ایک مشہور کالم نگار نے لبرل ازم کی اقسام گنوائیں ا ور بتایا کہ ہم نظریاتی نہیں، سماجی لبرل ہیں۔ ایک مشہور ابن مشہور کالم نگار نے دلیل دی کہ یہ حکومت چونکہ بہتر سال کی بد ترین حکومت ہے۔ معاشی بد حالی، بیروزگاری، مہنگائی، بیرونی قرضے، کرپشن وغیرہ جیسی برائیاں سب اسی کی پیدا کردہ ہیں اس لیے تما م لبرل اور روشن خیال طبقات مولانا کی قیادت میں اس کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں تا کہ ملک و قوم کو اس سے نجات دلائی جا سکے اور ملک میں پہلے کی طرح دودھ اور شہد کی نہریں پھر سے جاری ہو سکیں۔ ایک نا مشہور بلاگر نے یہ دلیل تراشی کہ یہ حکومت نیو لبرل حکومت ہے، اس نے عام آدمی اور اشراف کے درمیان ایک خلیج پیدا کر دی ہے۔ چناں چہ دھرنے کے شرکاء اسلام آباد میں جو ’’گھیسیاں‘‘ اور جھولوں کے مزے لے رہے ہیں وہ دراصل ان کی فرسٹریشن کا اظہار ہے جو موجودہ حکومت کی پیدا کردہ ہے وگرنہ ڈیڑھ سال پہلے تک تو شیر اور بکری مل کر اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں کھانا کھاتے تھے۔ اگر یہ دھرنا ’’آزادانہ‘‘ تھا تو پاکستان میں لیفٹ کی نظریاتی سیاست کی موت کا اعلان ہو چکا اور اگر ’’آزادانہ‘‘ نہیں تھا اور یار لوگوں کے بہ قول موجودہ حکومت کو دبائو میں لانے یا کمزور کرنے کے لیے ’’کرایا ‘‘گیا تھا تو اس کا مطلب وہی ہوا جو پنجابی کے ایک مشہور محاورے میں بیان ہوا ہے، جس میں کوئی ’’ک‘‘ چوروں کے ساتھ مل جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں واضح نشانیاں ہیں ان عقل والوں کے لیے جو کسی بھی سیاسی جماعت سے کسی ’’اینٹی E بیانیے‘‘ اور مزاحمت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

دھرنا ختم ہو گیا لیکن تماشا ختم نہیں ہوا۔ دھرنا ختم ہوتے ہی پیپلز پارٹی نے اپنی الگ راہ، یعنی مفاہمت کی راہ لے لی ہے۔ پیپلز پارٹی جو کبھی پاکستان میں سیاسی مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی تھی؛ اس کی گزشتہ کم از کم بیس سال کی سیاسی تاریخ کے چند اہم واقعات جیسے مشرف کے ساتھ این۔ آر۔ او، 2008ء کا الیکشن، بے نظیر مرحومہ کے ’’نامزد کردہ‘‘ شخص کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تقرری، جنرل Kکی مدت ملازمت میں توسیع، چیئرمین سینٹ کے انتخاب اور بعد ازاں تحریک عدم اعتماد نہ صرف پارٹی کے سربراہ جناب آصف علی زرداری بلکہ پوری جماعت کو ’’مفاہمت کا بادشاہ‘‘ ثابت کرتے ہیں۔ ن لیگ نواز شریف کی ’’با عزت‘‘ رخصتی کے بعدفی الحال اپنا بیانیہ سمیٹ رہی ہے۔ میاں صاحب بغرض علاج لندن پہنچ چکے ہیں۔ لیکن تماشا ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔ تحریک انصاف والوںکی خوشی پر پانی پھر جائے گا جب چار یا چھے یا آٹھ ہفتوں کے بعد ’’قیدی‘‘ واپس آئے گا اور باعزت بری ہونے کے بعد دوبارہ لندن سدھار جائے گا۔

کیا انسانی ذہن اتنا بانجھ ہے کہ ایک کثیر لسانی، کثیر قومی، کثیر مسلکی خطے کے زمینی حقائق کے مطابق جاری نظام میں ایسی ترامیم یا کوئی ایسا سیاسی نظام تشکیل نہیں دے سکتا جو کروڑوں انسانوں کے دکھوں کا مداوا کر سکے؟

کیا تماشا یہاں ختم ہو جائے گا؟ ہر گز نہیں۔۔ کوئی اور ہدف کوئی اور نشانہ ہو گا۔ مداری ڈگڈگی بجاتا رہے گا۔ بائیس کروڑ تماشائی اپنے اپنے ہر نئے پسندیدہ ایکٹ پر تالیاں پیٹتے رہیں گے اور تماشا جاری رہے گا۔۔۔۔۔ تو نہیں اور سہی، اور نہیں اور سہی۔۔۔۔ تماشا جاری رہے گا جب تک اشرافیائی گٹھ جوڑ کا یہ نظام جاری رہے گا جسے یار لوگ جمہوریت کا نام دیتے ہیں؛جس نے ملکی ادروں کو اس حد تک کھوکھلا کر دیا ہے کہ وہ اس اشرافیائی گٹھ جوڑ کی باندی بن بیٹھے ہیں۔ اگر قطاروں میں لگ کر ووٹ کی پرچی ڈبے میں ڈالنے کا نام جمہوریت ہے تو ان گناہ گار آنکھوں نے اپنے بچپن اور نوجوانی میں ضیاء اور مشرف دور کے الیکشن بھی دیکھے ہیں جب ہزاروں لوگوں نے لائنون میں لگ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ اگر الیکشن بازی ہی جمہوریت ہے تو پھر ملک میں جمہوریت کے عدم تسلسل کا گلہ کیسا؟ چلو الیکشن بازی ہی سہی، جب تک ہمارے نمائندے ہماری مرضی سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں نہیں پہنچ جاتے یہ تماشا جاری رہے گا۔

ڈاکٹرز کا نمائندہ کوئی ڈاکٹر ہوسکتا ہے ایک پولیس مین نہیں۔ وکیلوں کا نمائندہ وکیل ہوتا ہے کوئی پروفیسر نہیں، مزدوروں کا نمائندہ مزدور ہو گا، کوئی تاجر ان کی نمائندگی نہیں کر سکتا تو کروڑوں مجبور، لاچار، غریب لوگوں کا نمائندہ کوئی ارب پتی تاجر، زمیندار یا سرمایہ دار کیسے ہو سکتا ہے؟ اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے سیکڑوں ’’نمائندگان‘‘ میں سے کتنے ہیں (پانچ سات استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر) جو اپنے اپنے حلقے کے عوام کے نمائندے ہیں؟ الیکشن بازی کے اس نظام میں ایک حلقے کا الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں روپے درکار ہوتے ہیں جب کہ ملک کی ساٹھ فی صد آبادی تو خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں ساٹھ فی صد (شاید اس بھی زیادہ) آبادی کی نمائندگی ہی نہیں تو جمہوریت کیسی؟ نہ صرف یہی بلکہ یہ ملک مختلف مذہبی، مسلکی، لسانی اکائیوں میں بٹا ہوا ہے۔ کوئی پڑھا لکھا ایماندار پنجابی بلوچستان کے کسی حلقے سے الیکشن اس لیے نہیں جیت سکتا کیونکہ وہ پنجابی ہے۔ اردو بولنے والی جماعت کراچی سے اکثریت حاصل کرتی رہی ہے لیکن لاہور میں ان کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جاتی ہیں۔ جس ملک میں یہ صورت حال ہو، وہاں آزاد رائے دہی اور شفاف جمہوریت کا دعویٰ دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔

آخر میں ایک بار پھر اس سوال کا اعادہ کہ کیا انسانی ذہن اتنا بانجھ اور بنجر ہو چکا ہے کہ ایک کثیر لسانی، کثیر قومی، کثیر مسلکی خطے کے زمینی حقائق کے مطابق جاری نظام میں ایسی ترامیم نہیں کر سکتا یا کوئی ایسا سیاسی نظام تشکیل نہیں دے سکتا جو کروڑوں انسانوں کے دکھوں کا مداوا کر سکے؟

Facebook Comments Box
DharnafeaturedJUIJUIFLiberlasPPPPresidential SystemPTIاسلامی صدارتی نظامجمہوریتدھرناصدارتی نظامفضل الرحمانکمزور جمہوریتمولانا فضل الرحمن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
Importance and Evaluation of Youth —- Farhat Rashid
next post
یا اللہ یارسول – بے نظیر بے قصور : ایک نعرہ کی تاریخ ——- اظہر عزمی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.