تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیکالم

تقسیم اور رقابت پر پر مبنی سوچ کے بھیانک سماجی مضمرات

by محمد حسین 12/03/2017
written by محمد حسین 12/03/2017
100

برصغیر کی گزشتہ چند دہائیوں کو دیکھ لیا جائے تو تقسیم کا عمل ہمیں قدم قدم پر پہلے سے زیادہ پُرتشدد اور پُرتعصب نظر آتا ہے۔ مسلم سلطنتوں کی داخلی خلفشار اور کمزوریوں کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی سے شکت ہوئی۔ جس کے خاتمے اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زمام حکومت سنبھالنے کے بعد تقسیم کا عمل پھر سے شروع ہوا۔ پہلے ہندوستانی و برطانوی بنے، اور ہندو مسلم مل کر برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدو جہد کی۔ پھر ہندوستانی بلاک ہندو مسلم میں تقسیم ہو گیا۔ مسلمان بھی دو حصوں میں بٹ گئے ایک متحدہ ہندوستان کے حق میں تھا اور دوسرا مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے حق میں۔ مسلمانوں کے دوسرے طبقے نے ہندو اکثریتی سماج میں بطور اقلیت مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور اپنی آزادی و خودمختاری کے لیے تحریک چلائی جس کے نتیجے میں ہندوستان کو چھوڑ کر جانے والے برطانوی سامراج نے اس خطے کو آبادی کے تناسب سے دو حصوں میں تقسیم کر کے دو الگ آزاد مملکتیں پاکستان اور بھارت بننے کے فارمولہ پر اسے اپنی غلامی سے آزاد کر دیا۔

تقسیم ہند کے عمل میں پاکستان اور انڈیا کے مابین تقسیم کے طے شدہ فارمولے پر کشمیر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس کے باعث پاکستان اور انڈیا اپنی تقسیم اور تاریخ انسانی کی سب سے بڑی انسانی مہاجرت کے تکلیف دہ انسانی بحران سے باہر آنے سے پہلے ہی باہمی رقابت پر اتر آئے اور یہ رقابت برسوں کے سفر کو لمحوں میں طے کر جنگ میں بدل گئی۔ اور تقسیم کی دو دہائیاں بھی نہ گزری تھیں کہ آپس میں جنگ چھڑ گئی۔ اب دونوں طرف ایسے جنگی مزاج پر مبنی سماج کی پرورش کا آغاز ہو گیا کہ دونوں ملکوں کے انسانی، قدرتی اور قومی وسائل کا رخ انہی جنگوں ہی کی طرف مڑ گیا اور یہیں اٹک گیا جو ہنوز پھنسا ہوا ہے۔ نہ کشمیر کا فیصلہ ہوتا ہے اور نہ جنگی مزاج کا کوئی خاتمہ بالخیر۔۔ شاید اسی مزاج کا ہی نتیجہ تھا کہ تقسیمِ ہندوستان کی تیسری دہائی کی ابتداء میں دوسری جنگ چھڑی۔ اس جنگ کی کوکھ سے ایک الگ آزاد مملکت بنگلہ دیش جنم لیا جو اس سے پہلے مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔

سابقہ مغربی پاکستان اور سن اکہتر کے بعد کا موجودہ پاکستان چار صوبوں، اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹیری، فاٹا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان یعنی مجموعی طور پر آٹھ یونٹوں پر مشتمل ہیں، بعض یونٹوں کو آئینی اور سیاسی حقوق کے لحاظ سے اور بعض کو معاشی اور انتظٓامی حقوق اور خودمختاری کے اعتبار سے مختلف طر ح کی شکایتیں ہیں۔ 1973 میں ملک کا پہلا متفقہ جمہوری دستور منظور ہوا جس کے مطابق پاکستان کو دستوری طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان بنایا گیا۔ اگرچہ پاکستان کو ایک وفاق کے تحت متحد کیا گیا مگر اس کے باوجود داخلی تناؤ اور تقسیم مزید گہری ہونے لگی۔ اسٹبلشمنٹ اور سیاست دانوں کے مابین اقتدار کی رسی کشی کے علاوہ سماجی سطح پر کراچی میں سندھی مہاجر، بلوچستان میں بلوچ ہزارہ، پشتون، پنجاب میں پنجابی او سرائیکی اور پوٹھوہاری، خیبر پختونخوا میں پختون و ہزارہ، گلگت بلتستان میں گلگتی بلتی، شین اور یشکن میں لسانی و نسلی تناؤ کے واقعات وقتا فوقتا سامنے آنے لگے۔
مذہبی تقسیم کی لہر چلی تو پہلے مسلم غیر مسلم، پھر مسلمانوں میں شیعہ سنی، پھر سنیوں میں مقلد و غیر مقلد، مقلد بھی دیوبندی و بریلوی، دیوبندی آگے حیاتی مماتی میں تقسیم، معتدل و شدت پسند۔ بریلوی مسلک سواد اعظم ہونے نہ ہونے کی بابت ذیلی تنظیموں میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتا گیا۔ اسی طرح شیعوں میں اثنا عشری و اسماعیلی کی تقسیم پختہ ہونے لگی، اثناعشری آگے بڑھ کے علماء و ذاکرین کے پیروکاروں میں تقسیم ہو گئے۔ علما کے پیرکاروں کی مزید تقسیم انقلابی وغیر انقلابی ہونے میں نظر آنے لگی، جبکہ ذاکرین میں بعض غالی اور بعض مقصر قرار پائے۔۔۔۔ ابھی ہر طرف یہ تقسیم مزید جاری ہے،
سیاسی بنیادوں پر دائیں اور بائیں بازو، جو مزید تقسیم ہو کر مذہبی و غیر مذہبی، آگے بڑھ کے مذہبی جماعتوں میں ہر ایک مسلک کا الگ برانڈ سامنے آتا ہے۔ آپ کو ہر مسلک کی کم و بیش تین تین درجن مذہبی سیاسی جماعتیں نظر آئیں گی جن کی اندرونی رقابتیں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ ان جماعتوں کے پُرسان حال بھی مسلکی خطوط پر زیادہ تر بیرونی ممالک ہیں۔ کچھ سعودی عرب کی آغوش میں بیٹھ کر پاکستان میں رقصاں ہیں تو کچھ تہران کو عالم مشرق کا جنیوا دیکھنے کے لیے بے تاب، بعض کو ترکی مسیحا نظر آتا ہے۔کچھ ایسے بھی جو خلیجی ممالک کے دست شفقت کے بابرکت سایہ تلے رہنے میں آخرت نہیں تو دنیا میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔۔۔۔۔ غیر مذہبی جماعتیں لبرل اور نظریاتی میں تقسیم ہیں۔ بعض امریکہ کو مثالیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو بعض یورپ کو، کچھ ایسے بھی ہیں جو چین سے امیدیں جوڑ رکھی ہیں، کچھ سہمے ہوئے مزاج کے ساتھ بھارت کی طرف دیکھتے ہیں۔۔۔ الغرض کہیں ریاست نے دوستی اور دشمنی کی لکیریں کھینچ کر لوگوں کو انہی پر لگا دیا تو کہیں تہذہبی برتری و سیاسی نفوذ اور کہیں پر خطیر رقم ہی قوت جاذبہ بنی ہوئی ہے۔۔۔۔
سماجی حیثیت کے اعتبار سے ہماری قوم جاگیردار، سردار، سیاسی و عسکری اشرافیہ، سرمایہ دار، بالائی متوسط طبقہ، متوسط متوسطہ طبقہ، زیرین متوسطہ طبقہ، سفید پوش، غریب، افلاس زدہ کے خانوں میں بٹ گئی ہے۔ بد قسمتی سے ریاستی ادارے، مراعات اور وسائل لوگوں کی ضروریات اور استحقاق اور محنت کے حساب سے تقسیم نہیں ہوئے بلکہ قوت بازو کے حساب سے لوٹے جاتے ہیں۔
تقسیم کا رخ جب تعلیمی اداروں کی طرف بڑھا تو پہلے برطانوی و ہندوستانی، پھر انگریزی اور اسلامی، پھر انگریزی تقسیم ہو کر پبلک و پرائیوٹ سیکٹر، پھر لوگوں کی سماجی حیثیت کے لحاظ سے اشرافیہ سے لے کر غربت زدہ لوگوں کے لیے پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹرز میں الگ الگ تعلیمی نظام بنتا گیا۔ مذہبی تعلیم مسالک کی تقسیم کے حساب سے تقسیم در تقسیم ہوتی گئی۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، یہ تقسیم اب پاکستان سے دیگر دنیا میں برآمد بھی ہو رہی ہے۔ پاکستان کے داخلی مذہبی اور سیاسی تناؤ مغربی، خلیجی اور دیگر ممالک میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
رقابت پر مبنی تقسیم کے اس تسلسل کا انکار کرنے والے وہی ہو سکتے ہیں جن کو آرام دہ کرسیوں اور بستروں سے باہر نکل کر دیکھنا نصیب نہیں ہوا، ’’سب کچھ ٹھیک ہے سر‘‘ سے زیادہ سنا نہیں۔ ورنہ گزشتہ سات دہائیوں میں بھوک، افلاس، قتل و غارت اور باہمی انتشار اس سماجی تفریق، سیاسی تناؤ اور مذہبی منافرت اس کی گواہی کے لیے کافی ہے۔
خطے کی صورت حال اور عالمی طاقتوں کے تزویراتی مفادات کے ٹکراؤ نے تناؤ کو مزید شدید کر دیا۔ چنانچہ سات دہائیوں سے انڈیا کے ساتھ تناؤ، گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان میں یکے بعد دیگرے روس اور امریکہ کی مداخلت کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے حالات اور اس میں پاکستان کا کردار ایسا عنصر ہے جس نے اس مداخلت کے پُرتشدد لہر کو پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ اس ریاستی ٹاسک کے لیے پرائیوٹ طبقات میں سے کچھ زیادہ کاریگر ثابت ہوئے تو کچھ کم۔ یوں داخلی تقسیم کو اس ہمسائیگی کی تپش نے مزید گرم کر دیا۔ چین کے اقتصادی قوت کے طور پر ابھرنے کے باعث عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کی سرد و گرم جنگ کے لیے پاکستان اہم ترین میدان قرار پایا۔ پھر عالمگیریت کے جدید دور میں سراٹھانے والی عالمی دہشت گردی نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا ہے۔ اب یہ مختلف الجہات تناؤ گمراہ (unguided) میزائل کی طرح بن گیا ہےجس کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا کہ کب کس طرف جائے گا اور کہاں جا کر پھٹے یا گرے گا۔یوں تقسیم پھل پھول کر آگ و خون کے کھیل میں بدل گئی۔ اس خون و آگ اور منافرت کے کھیل کے باعث نہ عبادت گاہ کا تقدس باقی رہا اور نہ ہی درسگاہ کا تحفظ۔ انسان ایسے کٹنے اور جھلسنے لگے جس کا منظر دیکھ کر آنکھوں کی روشنی چلی جائے اور جس کی دردناک چیخیں سن کر کان کے پردے پھٹ پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس مزاج کے باعث پیدا ہونے والے سماجی تعصبات اور سوچ و رویوں کی کہانی الگ مضمون کی متقاضی ہے۔

Facebook Comments Box
رقابتمذھبی تقسیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حسین

محمد حسین، مصنف، مطالعات تنازعات کے ایک ماہر نصابیات اور تربیت کار ہیں، اور تعمیر امن اور بین المذاہب مکالمے کی بین الاقوامی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

previous post
متبادل بیانیہ ۔۔ آصف محمود
next post
پاکستانی عوام کا متوازن اجتماعی شعور۔ جلیل عالی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.