تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

پولیس کے احتجاج پر احتجاج کیوں ——- خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 17/10/2019
written by دانش ڈیسک 17/10/2019
140

ویسے تو ہم عجب لوگ ہیں لیکن کس قدر عجب، یہ شائد ہمیں خود بھی پتہ نہیں۔ اسی لیے بہت سے معاملات میں ہماری رائے خود ہماری سوچ اور نظریات کے برعکس ہوتی ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارے پاس چند لائنیں ہوتی ہیں جن کو ہم نظریات سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور ان پر ایمان لے آتے ہیں۔ ہمارا خیال ہوتا ہے کہ یہی سچائی ہے اور اگر کوئی اس سے ذرا بھی دائیں بائیں کی بات کرئے تو ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔

ایسے ہی کچھ خیالات اور نظریات ہمارے پولیس کے بارے میں ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص گواہی دے سکتا ہے کہ پولیس والے رشوت خور ہوتے ہیں، ظالم ہوتے ہیں، ظالم کے حمایتی بھی ہوتے ہیں، تھانے میں کسی عزت دار کی عزت محفوظ نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔ہم میں سے ہر شخص کی خواہش ہے کہ جو بھی حکومت وقت ہو، وہ پولیس کا نظام بدل کر رکھ دے، اچھے لوگوں کو پولیس میں بھرتی کرئے، رشوت خوری کا خاتمہ کرئے، تھانہ کلچر میں تبدیلی لائے، پولیس کو ہمارے ملازموں سے بھی نیچے کا کوئی درجہ عطا ہو کہ ہم تو ہم، ہمارے معاشرے کے ادنی ترین بندے کی ایک آواز پر پولیس بھاگتی آئے اور جب تک اس کا مسئلہ حل نہ ہو جائے، پولیس والے اپنا کھانا پینا اور سونا جاگنا تک بھول جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنی پیدائش کے وقت سے ہی پولیس سے شکایات نہیں بلکہ ہمارے آباواجداد بھی یہی شکایات اور بہتری کے ارمان دل میں لیے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے یہ سمجھا ہے کہ پولیس کی وردی میں بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ہر دور حکومت میں مختلف طرح سے پولیس والوں کو ریفارمز کے نام پر قابو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن کبھی کسی بھی دور حکومت میں پولیس والوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوئی کوشش سامنے نہیں آئی۔ عوام کی طرف سے قانون پر عمل داری یقینی بنانے کا کوئی وعدہ سامنے نہیں آتا اور آخر میں پولیس والے ہی بدنام ہوتے ہیں کہ یہ ریفارمز کی ہر کوشش کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ پنجاب میں پولیس ریفارمز کی کوشش ناکام رہی، کمیٹی کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا اور لوگوں کے بقول پولیس کو ایک بار پھر اپنی بدمعاشی دیکھانے کی کھلی چھوٹ مل گئی۔ خبر تو یہ بھی تھی کہ آئی جی پولیس نے ایسا کہا ہے کہ اگر پولیس کو بیوروکریسی کے تابع کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم ملازمت چھوڑ کر گھر چلے جانے کو ترجیح دیں گے یعنی دوسرے لفظوں میں پولیس کھلم کھلا احتجاج کے موڈ میں ہے اور اس احتجاج پر ہر کوئی احتجاج کر رہاہے کہ احتجاج کرنا اور اپنی آواز بلند کرنا پولیس کا حق نہیں ہے۔

اگر احتجاج کرنا پولیس کا حق نہیں تو پاکستان بھر میں آئے دن ڈاکٹرز کیوں اور کس لیے ہڑتال کر کے بیٹھ جاتے ہیں؟

بہت سے سوالات اس صورت حال پر اٹھائے جا سکتے ہیں جیسا کہ ’’کیا اس ملک میں کوئی آواز حکمرانوں کے کانوں میں بغیر احتجاج کے پہنچنے میں کامیاب بھی ہوئی ہے؟‘‘ کیا احتجاج سے ذرا پہلے تک کسی حکمران نے دانش مندی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے؟ اگر حکمران معاملات کو سمجھنے میں اتنے ہی نا اہل ہوتے ہیں تو چار گھنٹے سڑک بند ہونے یا دو چار عمارتوں کو آگ لگانے سے کیسے انہیں عقل آجاتی ہے اور وہ عوامی امنگ کے مطابق فیصلہ جاری بھی کر دیتے ہیں؟ اور سب سے اہم سوال کہ اگر احتجاج کرنا پولیس کا حق نہیں تو پاکستان بھر میں آئے دن ڈاکٹرز کیوں اور کس لیے ہڑتال کر کے بیٹھ جاتے ہیں؟ قانون پر عمل داری کے خلاف دکانداروں نے کیوں احتجاج کیا تھا اور سارے ملک میں کاروبار زندگی معطل کر کے رکھ دیا تھا؟ ہر دوسرے دن عدالتوں کا بائیکاٹ کرکے وکلا کون سی عوامی خدمت سر انجام دیتے ہیں؟ یہاں آئے دن استادوں کو ہڑتال کی ضرورت پڑتی ہے تو کوئی ان کی آواز کیوں نہیں سنتا؟ اگر احتجاج اور ہڑتال اہل اقتدار تک اپنی آواز پہنچانے کا درست طریقہ نہیں تو ہر سیاسی پارٹی ہر دوسرے دن ہڑتال کی کال کیوں دے دیتی ہے؟ لیڈی ہیلتھ ورکرز سے لے کر استادوں تک اور جیل میں بند مجرموں سے لے کر ڈاکووں تک، پاکستان میں ہر شخص جب اپنے آپ کو درست سمجھتا ہے اور اس کی آواز نہیں سنی جا رہی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ جس ملک میں ہر طبقہ فکر احتجاج اور ہڑتال کا داعی ہو اور موقع بہ موقع اس کا استعمال بھی کرتا ہو وہاں پولیس بھلا کیوں اور کس لیے اس راستے پر نہ چلے؟

پولیس میں تبدیلیوں کے سبھی خواہش مند ہیں لیکن یہاں کوئی بھی قانون پر عمل درآمد کا خواہش مند نظر نہیں آتا۔

آسان لفظوں میں یہی بات ہے کہ ہم معاملات کو اپنی عینک سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں جبکہ اسی تصویر اور معاملے کو دوسرا شخص اپنی عینک اور اپنے زاویے سے دیکھ رہا ہوتا ہے جو کہ ہم سے یقینا مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے جب تک ہم دوسروں کے زاویہ نظر کو سمجھنے اور قبول کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے ہمارے ہاں ہڑتالیں اور احتجاج ہوتے رہیں گے۔ پولیس میں تبدیلیوں کے سبھی خواہش مند ہیں لیکن یہاں کوئی بھی قانون پر عمل درآمد کا خواہش مند نظر نہیں آتا۔ ایسے میں پولیس ریفارمز کا کوئی بھی اقدام جس میں پولیس والوں کو شامل نہ کیا جائے انہیں یقینا ایک ایسے راستے پر لے جاتا ہے جہاں آئی جی پولیس بھی یہ کہنے پر مجبو ہو جاتا ہے کہ اگر ہماری نہ سنی گئی تو پھر ملازمت چھوڑنا ہماری مجبوری ہو جائے گی۔ پولیس کے احتجاج پر آج سبھی احتجاج کر رہے ہیں لیکن کوئی بھی پولیس والوں کا نہ تو موقف لینے کو تیار ہے اور نہ اس موقف کو سمجھنا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم پولیس کے نظام میں بہتری لانا چاہتے ہیں یا پھر پولیس کو قابو کرنے کا یہ نیا طریقہ استعمال کرنے کی کوشش ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں پولیس کے احتجاج کو بھی اہمیت دینی ہو گی، اس سے پہلے کہ پولیس سڑکوں پر نکلنے یا گھر جانے پر مجبور ہو جائے۔

Facebook Comments Box
featuredpolicepolice protestpunjab policeپاکستانی پولیسپولیسپولیس اصلاحاتپولیس ریفارمزپولیس کا احتجاج
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
رعونت ———– خرم شہزاد
next post
ہماری بے وقار کہانی ——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.