تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

فروغِ انتشار کی صنعت اور ٹارگٹ کی نشانہ بازی —- عزیز ابن الحسن

by دانش ڈیسک 14/10/2019
written by دانش ڈیسک 14/10/2019
92

پاس ہی پیڑ پہ ہدہد کی کھٹا کھٹ کھٹ کھٹ
اور نڈھال انگلیاں کہتی ہیں تھکا تھک تھک تھک

ضیا جالندھری کا یہ شعر ان دنوں سوشلستان میں مچی حلقہ ارباب ذوق، اسلام آباد، کی ایک حالیہ نشست کی دھوم سے یاد آیا جس میں معروف سائنسدان اور سماجی ایکٹیوسٹ پرویز ہود بھائی نے اقبال کے سائنسی علم پر کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ اگرچہ ہم اس محفل میں بنفس کثیف موجود نہ تھے لیکن چند احباب نے یہ روداد بہت مفصل طور پر ہمارے سامنے بیان کی ہے۔ علاوہ ازیں محترم اعجازالحق اعجاز، جناب جلیل عالی، اور برادرم ادریس آزاد نے اس مسئلے پر مفصل اور وقیع شذرات بھی لکھے ہیں۔ کچھ احباب کی رائے ہے کہ قومی وسائل سے بننے والے اداروں مثلاً اکادمی ادبیات میں فکرِ اقبال پر ایسے پروگرام نہیں ہونے چاہیں۔ ہمیں اس نقطۂ نظر سے اختلاف ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اقبال پر تنقید اور اس کی فکر سے اختلاف کا دروازہ ہر حال میں کھلا رہنا چاہیے لیکن یہ تنقیدیں اگر کسی دائرے اور کسی تناظر کے اندر ہوں تب ہی کوئی نتیجہ خیز بحث کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہیں ورنہ یہ محض فروغِ انتشار کا ایک ذریعہ ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ فی زمانہ فروغِ انتشار بھی ایک مقصد ہے جس کے لئے پوری ایک صنعت وجود میں آ چکی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب پرویز ہود بھائی اپنی کرشماتی شخصیت اور اپنے دلکش انداز بیان کی وجہ سے متاثر کن آدمی ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب انسان اپنی حدود سے تجاوز کر کے باہر قدم رکھتا ہے تو اس باہر والی شے بارے اپنی کج علمی کے سبب اور دوسرے اس سے بھی زیادہ اس شے بارے "علمی غرہ” اور تحکم کی وجہ سے قدم پر قدم پر مضحک معروض بھی بنتا ہے۔

مجھے نہیں یاد پڑتا کہ اقبال نے اپنی کسی تحریر میں اپنے سائنسی علم یا سائنس دان ہونے کا دعوی کیا ہے۔ مگر اپنے زمانے کے سائنسی علوم اور نئی دریافتوں سے اقبال کی دلچسپی ایک معروف بات ہے اور زمانے کے عام شعرا کی بنسبت بہت آگے کی چیز بھی ہے۔ اس کے داخلی شواہد کے طور پر اقبال کی چھوڑی ہوئی کتب میں نظریہ اضافیت، زمان مکان، نفسیات اور اپنے زمانے کے دیگر معروف سائنسی نظریوں کی کتب پر ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نوٹس پیش کئے جاسکتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان معاملات میں اقبال کی دلچسپی اپنے دور کے عام پڑھے لکھے لوگوں سے بہت آگے تھی۔

اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال ان سائنسی علوم کے منتہی تھے بلکہ صرف یہ کہ وہ ان مباحث کے ایک سچے اور پُرشوق طالب علم تھے۔ ان کی سرگرمیاں محض ادعائیت کی نہیں بلکہ ہمیشہ طلبِ علمی والی رہی ہیں۔ چونکہ ان مسائل سے دلچسپی رکھنے والا شاعر ذہن اقبال کی سطح کا ذہن تھا اس لئے انہوں نے ان معلومات کو فلسفیانہ سطح پر اپنی شاعری اور فکر کی تشکیل میں اور اپنے مقاصد کی تکمیل کیلیے استعمال کیا۔ چونکہ یہ ایک تعبیری معاملہ تھا اس لئے یہ استعمال اتنا ہی صحیح یا غلط تھا جو کسی بھی سائنسی و تیکنیکی نظریے کو فکری بیانیہ بنانے کی کوشش میں در آتا ہے۔ اہم بات یہ نہیں کہ سائنس کے میدان میں اقبال کی معلومات درست، ناقص، سطحی یا ان کے پیش نظر مقصد کے حصول میں کامیاب تھیں یا ناکام، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ایک شاعر اپنے زمانے کے عمومی سانسی بیانیے اور عملی منہج سے لاتعلق نہیں رہا حتی المقدور اسے سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرتا اور اپنی حد تک اسے اپنی فکری نظام میں استعمال کرتا رہا۔

ہود بھائی، یا کسی بھی ایسے ذہن کا، جو مذہبی تصور کائنات سے اختلاف کرتا ہو، کا اصل مسلہ یا ہدف اقبال نہیں ہوتا بلکہ وہ موقف، تصور یا نظریہ (یعنی مذہب یا اسلام) ہوتا ہے جس کا کوئی شخص، بصورت موجودہ، اقبال ایک علامت بن جاتا ہے۔

اپنے زمانے کی علمی روایت سے دلچسپی رکھنا اور اس بارے میں کوئی نہ کوئی موقف رکھنا ہمارے دیگر شعرا کا بھی طریقہ رہا ہے۔ غالب اپنے زمانے کے معروف و مروج علوم و مسائل میں بہت دستگاہ رکھتا تھا۔ مومن کی ستارہ شناسی معروف بات ہے۔ ایک قاری اور نقاد کے طور پر ہم اپنے شعرا کی اس طرح کی "غیر نصابی” دلچسپیوں کی داد ہی دیا کرتے ہیں۔ ان فنی معاملات میں ان کی دلچسپیوں کو صحیح یا غلط کے طور پر دیکھنے کے بجائے ہم یہ دیکھا کرتے ہیں کہ اپنی "شاعرانہ فکر” کی تشکیل میں انہوں نے ان چیزوں سے کیا کام لیا ہے۔ یہی معاملہ ہمارا اقبال کے ساتھ بھی ہونا چاہیے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اپنے زمانے میں علم نفسیات، طبیعیات اور کونیات وغیرہ میں جو سائنسی تصورات اور نئی تحقیقات سامنے آ رہی تھیں کیا اقبال ان سے لاتعلق رہے یا انہیں سمجھنے اور ان کے فلسفیانہ مضمرات کے بارے میں انہوں نے کوئی نہ کوئی رویہ اختیار کرنے میں سنجیدہ دلچسپی کا ثبوت دیا۔ اس پہلو سے ہمیں اقبال اپنے زمانے کے ہر بڑے شاعر سے فرسنگوں آگے نظر آتے ہیں۔

ویسے تو جوش ملیح آبادی کے بارے میں بھی یہ روایت ہے کہ وہ اپنے ایک عالم دوست سے نظریۂ اضافیت صرف اس لئے سمجھنا جاتے تھے تاکہ وہ اسے منظوم کر سکیں۔ اس امر سے قطعِ نظر کہ نظریۂ اضافیت کو صرف اس لئے سمجھنے کی خواہش کہ اسے منظوم بیان کیا جا سکے یا یہ کہ "منظوم نظریہ اضافیت” اپنی جگہ پر تفہیم کا کوئی موثر ذریعہ بن سکتا ہے یا اس کی کوئی قدر قیمت بھی ہوتی، اقبال کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ وہ کسی ایسے فضول چکر میں نہیں پڑے بلکہ انہوں نے اس نظریے کو صرف اس لئے سمجھنا چاہا کہ اس نظرئے کے فلسفیانہ مضمرات ان کی مجوزہ کونیات و معادیات (eschatology) کی تشکیل میں کس حد تک معاون ہو سکتے ہیں. بس یہی اقبال کی غلطی تھی۔ وہ میر اور غالب کی طرح اگر محض ایک شاعر ہوتے اور اپنی شاعری کو کسی فکری مابعد الطبیعیاتی اور آخرت مرکز تصور حیات و کائینات (خصوصاَ اسلام) سے "آلودہ” نہ کرتے تو وہ ہر طرح کی داد کے مستحق ہوتے۔ آج کے زمانے میں فکرِ اقبال جو کچھ لوگوں کے لئے "المیہ” بنی ہوئی ہے اس کا واحد سبب یہی ہے کہ ایک ایسے دور میں جب مغرب کے حاوی پیراڈائم میں مذہب کو دیس نکالا دیا جاچکا ہے اور سرمایہ داری ہی دنیا کا واحد مذہب بنتی جا رہی ہے اقبال ایک آسمانی مذہب کو زندہ قوت کے طور پر ایک فکری نظام اور فعال قوت بنانے کی بات کیوں کرتا ہے۔

ہود بھائی، یا کسی بھی ایسے ذہن کا، جو مذہبی تصور کائنات سے اختلاف کرتا ہو، کا اصل مسلہ یا ہدف اقبال نہیں ہوتا بلکہ وہ موقف، تصور یا نظریہ (یعنی مذہب یا اسلام) ہوتا ہے جس کا کوئ شخص، بصورت موجودہ، اقبال ایک علامت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہود بھائی اور ان کے ہمنوا ہر اس شخص کی علمی تعبیرات سے اختلاف رکھتے ہیں جو "دنیاوی علم” کو کسی علیحدہ خانے میں بند کرنے کے بجائے کل علم (مذہبی، سماجی، فلسفیانہ، سائنسی، طبیعی، اور کونیاتی وغیرہ) کے ساتھ یکجان کرکے اسے مذہبی روایت، مابعدالطبیعی تصورِ کائنات میں صرف کرنے، کھپانے یا اسے اپنے زمانے میں بامعنی بنانے کی سعی کرتا ہے۔

امام غزالی سے ہود بھائی کی چڑ بھی اسی امر کی وجہ سے ہے۔ میں مکرر عرض کرتا ہوں کہ یہاں اختلاف یا چِڑ غزالی یا اقبال کی شخصیت سے نہیں ہوتی بلکہ اس تصورِ کائنات و حیات سے ہوتی ہے جس کی یہ دونوں شخصیات علامت اور نمائندہ ہیں۔ اس علامت یا نمائندگی کو تضحیک و تنقید کا نشانہ بنانا اس ذہن کا خاص سروکار ہوتا ہے جس کے ایک نمائندہ پرویز ہودبھائی ہیں۔ ان علامتوں کا انہدام اسلئے مطلوب ہوتا ہے کہ یہ علامتیں مذہبی و مابعد الطبیعی منزل کی سنگ ہائے میل ہوتی ہیں۔ خالص طبیعیاتی شعبے کے علاوہ دیگر سیاسی سماجی اور تہذیبی معاملات میں پرویز بھائی کی تمام تر سرگرمیوں کو دیکھ لیجیے ان کی تنقید کا اصل ہدف یہی علامتیں، تصورات، شخصیات اور روئیے ہوتے ہیں۔ ان علامتوں اور رویوں کو ہدف بنانے والی ہر بات پرویز ھود بائی اور اس ذہن کے دوسرے لوگوں کو، آپسی اختلاف اور ایک دوسرے کے موقف کو کمزور سمجھنے کے باوجود، بہت خوش آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "فکرِ اقبال کا المیہ” پیش کرنے والے صلاح الدین درویش صاحب کو فکر اقبال پر ہود بھائی کی تنقید زیادہ مربوط نہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اچھی لگتی ہے کہ اس نے اپنے ہدف کو ٹھیک نشانے پر رکھا ہے:

"ہود بھائی کا لیکچر ہر گز جاندار نہیں تھا اور نہ انہوں نے کوئی بہتر اور واضح موقف اختیار کیا ہے۔۔۔لیکن دوستوں کی آرا سے محسوس ہوتا ہے کہ جن باتوں کو ہود بھائی نے ٹارگٹ کیا ہیں وہ ٹھیک ٹھیک نشانے پر لگی ہیں۔۔۔
یہی ہود بھائی کی کامیابی ہے۔۔۔”
[جلیل عالی کے ایک شذرے پر صلاح الدین درویش کا تبصرہ]

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ سابقہ ترقی پسند و حالیہ لبرل ذہن کا اصل مسئلہ فکر اقبال پر کوئی مربوط مدلل اور درست تناظر میں تنقید نہیں ہوتی بلکہ ہمشہ سے اپنے "ٹارگٹ کو ٹھیک ٹھیک نشانہ” بنانا ہوتا ہے۔

آخری بات۔
احباب اس بارے میں بھی بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی عمومی اور مستحکم روایت کے برعکس، پرویز بھائی کی مذکورہ بالا نشست کے صدر نے ہود بھائی کی گفتگو/مقالے پر، جلسے کے سامعین کو بات کرنے کی زیادہ اجازت نہیں دی۔ ہمیں اس پر نہ کوئی حیرت ہے نہ اسکی وجہ سوائے اسکے کوئی اور نظر آئی کہ صدر صاحب ابھی کافی عرصے تک اس کیف میں مبتلا رہنا چاہتے تھے کہ انہیں ایک ایسی ادبی نشست کی صدارت کرنا نصیب ہوئی ہے جس میں پرویز ہودبھائی جیسا عالمِ طبیعیات اقبال پر تنقید کر رہا تھا! ظاہر ہے ایسی نشست کی صدارت کے کیف کو حاضرین کی جوابی گفتگو سے بدمزہ کرنا صاحبِ صدارت کو کسی طرح بھی مناسب نہ لگا ہوگا، حلقہ ارباب ذوق جیسے فورم کی روایتوں کا کیا ہے وہ تو ٹوٹتی بنتی رہتی ہیں!

باقی رہی فروغِ انتشار کی صنعت گری تو اس پر جون ایلیا بے تحاشہ یاد آتا ہے

اور پھـر آدمـی نـے غـور کـیـا
چھپکلی کی لطیف صنعت میں

یہ بھی پڑھیں: پرویز ہود بھائی: کشش و کشمکش —- عزیز ابن الحسن

Facebook Comments Box
Allama IqbalHoodbhoyiqbalاقبالاقبال دشمنیاقبالیاتپرویز ہودبائیفاروق عادلہود بائیہودبھائی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستان، کشمیر اور سنکیانگ ——– عمیر فاروق
next post
پیغام ——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.