تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیعلمیکالم

ہمیں سیکولر پاکستان چاہئیے‎ —- سمیع احمد کلیا

by دانش ڈیسک 03/10/2019
written by دانش ڈیسک 03/10/2019
82

انسان مسلم یا غیرمسلم ہوتا ہے۔ ریاست مسلم یا غیرمسلم نہیں ہوتی۔ زمین اور خطے کا مذہب نہیں ہوتا، انسانوں کا ہوتا ہے۔ پیمبر سیاروں یا پہاڑیوں کے لیے نہیں اترتے، انسانوں کے لیے آتے ہیں۔ اللہ پاکستان کو سیکولر اور ہم اور آپ کو بہتر مسلم بنائے۔

پاکستان اسلام پسندوں اور لبرلز کے مابین شاید پہلے کبھی بھی اتنا منقسم نہیں تھا، جتنا کہ آج ہے۔ پاکستانی ریاست کیسی ہونی چاہئے؟ سیکولر یا اسلامی؟ کیا پاکستان کے بانی محمد علی جناح ایک اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے یا مسلم اکثریت والا ایک ایسا ملک، جہاں دیگر اقلیتوں کو بھی برابری کے حقوق حاصل ہوں؟ دکھائی یوں دیتا ہے کہ پاکستانی باشندے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی واضح نہیں ہیں کہ پاکستان کو کس طرح کا ہونا چاہیے؟
پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا: آپ آزاد ہیں، آپ مندر، مسجد اور پاکستان میں کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کی آزادی رکھتے ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب اور فرقے سے ہو سکتا ہے اور اس معاملے میں ریاست آپ کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں رکھتی۔ جناح صاحب نے پاکستان کی تخلیق کے لئے دن رات ایک کی تھی اور نئی ریاست کے لئے ان کا منصوبہ اس تقریر میں موجود تھا۔ وہ اس امر سے باخبر تھے کہ اس وقت (اگست 1947) میں پاکستان کی آبادی کا پچیس فیصد حصہ غیر مسلموں پر مشتمل تھا۔ ستر سال گزر گئے، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا اور موجودہ اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کی آبادی کا ستانوے فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اس موقعے پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا ایک مسلم اکثریت ملک میں سیکولرازم کی جگہ موجود ہے یا نہیں۔

پاکستان میں بہت سے لوگ، جو ملک میں طالبان طرز کا اسلامی نظام حکومت نہیں چاہتے، وہ بھی کسی حد تک یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ملک کو اسلامی قوانین کے تحت ہی چلایا جائے۔ یہ لوگ پاکستان میں اکثریت رکھتے ہیں اور ملک میں سیکولرازم اور مغربی طرز زندگی کے مخالف ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت کا دعویٰ ہے کہ جناح اور ان کی آل انڈیا مسلم لیگ پارٹی خالصتاﹰ ایک مذہبی ریاست چاہتی تھی، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا ملک، جہاں کا نظام شرعی ہو۔ پاکستانی حکمران بھی گزشتہ چھ دہائیوں سے اسی نظریے کی تائیدکرتے آئے ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے اسی کا پرچار کیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب ملکی سیکولر طبقے کو یقین ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کا خیال ہی خطرناک ہے اور یہی نظریہ ملک میں کئی عسکری تنظمیوں کے قیام کی وجہ بنا ہے۔ ان کے مطابق جناح شراب پیتے تھے، مغرب کے تعلیم یافتہ آزاد خیال انسان تھے اور غیر روادار اسلامی ریاست نہیں چاہتے تھے۔ پاکستان کا زیادہ تر لبرل طبقہ تعلیم یافتہ اور شہروں میں آباد ہے۔ اس طبقے کے مطابق ملک میں ان کے لیے جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے اور وہ بڑھتی ہوئی اسلامیت پر فکر مند ہیں۔

جناح کی ذاتی زندگی بہت ہی سیکولر تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے ذاتی رویوں کا اثر ان کی سیاست پر بھی تھا، ’’بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جناح نے اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بہت کچھ کہا تھا لیکن اقلیتوں کے بارے میں بات کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ ایک سیکولر ریاست چاہتے تھے۔ میرے ذاتی خیال میں جناح کی سیاست سیکولر تھی۔ وہ مسلمان نسلی گروپوں کی نمائندگی کرتے تھے نہ کہ مذہب کی۔

میرے خیال میں مذہب کی بنیاد پر بننے والے کسی ملک کو لازمی طور پر مسائل کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔ میں اگر ایک پاکستانی ہوں تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ میں مسلمان بھی ہوں۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ زیادہ محب وطن بھی ہے۔ مذہبی نظریے نے پاکستانی شہریوں اور بالخصوص اقلتیوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ پاکستان میں سیکولرازم کے داعیوں کے لئے ایک بڑا چیلنج یہ دکھانا ہے کہ اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر قائم کردہ ملک میں سیکولرازم کی ممکنہ شکل کیا ہو گی؟ میری ذاتی رائے میں پاکستانی سیکولرازم کا مطلب رواداری، بھائی چارہ اور ایک غیر متعصب ریاست ہے۔ ایک ایسی ریاست جو مسلمانوں، غیر مسلموں، شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، احمدی، اور پارسی میں تفریق نہ کرے اور سب کی حفاظت کا ذمہ اٹھائے۔

سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس گورنمنٹ دیال سنگھ کالج، لاہور اور آج کل پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں--------- انوار احمد
Facebook Comments Box
Secular StateSecularismسمیع احمد کلیاسیکولر پاکستانسیکولر ریاستسیکولرازمسیکولرزم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول ——– اے خالق سرگانہ
next post
کیا ہم ردِ عمل کی قوم ہیں؟ —- اظہر عزمی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.