تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

افغانستان اور افغان جنگ : کچھ غلط فہمیاں — احمد الیاس

by دانش ڈیسک 23/09/2019
written by دانش ڈیسک 23/09/2019
130

افغانستان اور افغان جنگ کے حوالے سے ہمارے مختلف طبقات میں بہت سی مضحکہ خیز غلط فہمیاں رائج ہیں جو ریاست اور ریاست کے مخالفین نے اپنے اپنے مفادات کے لیے پھیلا رکھی ہیں۔ اس حوالے سے حقائق بہت کم لوگوں کے سامنے آ پاتے ہیں۔ ذیل میں محض چند بڑے مغالطوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

۱۔ “افغانستان ایک پشتون ملک ہے”

جی نہیں، افغانستان میں پشتون سب سے بڑا لسانی گروہ ہیں لیکن ان کی واضح اکثریت نہیں ہے۔ وہ قریباً چالیس فیصد ہیں۔ ساٹھ فیصد افغان غیر پشتون ہیں اور افغانستان کی سرکاری زبانیں بھی فارسی اور پشتو ہیں اگرچہ عملاً فارسی ہی زیادہ تر استعمال ہوتی ہے۔

۲۔ “افغان مجاہدین ضیاء نے بنائے تھے”

افغان مجاہدین کی تیاری کا آغاز بھٹو صاحب نے کیا تھا۔ سردار داؤد کی حکومت پاکستان میں بھٹو صاحب کی مخالف نیشنل عوامی پارٹی کو سپورٹ کرتی تھی لہذا بھٹو صاحب نے سردار داؤد کی مخالف جمعیت اسلامی کو سپورٹ کرنا شروع کردیا۔ برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یار جیسے مجاہدین لیڈروں کو بھٹو صاحب نے بلا کر تربیت اور پیسے دینے شروع کیے۔ یہ لوگ کابل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے اور نظریاتی طور پر پاکستان کی جماعت اسلامی جیسے نظریات رکھتے تھے۔

۳۔ “مجاہدین اور طالبان ایک ہی چیز ہیں”

یہ کافی مضحکہ خیز مغالطہ ہے۔ مجاہدین اور طالبان ایک دوسرے کے کٹر دشمن ہیں۔ روس کے خلاف جنگ مجاہدین نے لڑی تھی جن کی قیادت عموماً جدید تعلیم ہے اور ان کا تعلق افغانستان کے تمام لسانی گروہوں سے ہے اور سب سے نمایاں قیادت تاجک ہے۔ طالبان روس اور ضیاء کے چلے جانے کے کافی عرصہ بعد نوے کی دہائی میں (بے نظیر دور میں) افغان خانہ جنگی کے ردعمل میں ابھرنے والا ایک گروہ تھا جو پاکستان کے دیوبندی مدرسوں سے پڑھا ہوا ہے اور یہ خالصتاً پشتون ہیں۔ مجاہدین کو ہمارے ہاں “شمالی اتحاد” بھی کہا جاتا ہے۔

۴۔ “”شمالی اتحاد” والے کمیونسٹ اور سیکولر ہیں۔ “

یہ بھی انتہائی بے ہودہ مغالطہ ہے۔ شمالی اتحاد وہ مجاہدین ہیں جو کمیونسٹوں کے خلاف لڑے تھے۔ یہ لوگ پاکستان کے خلاف اور بھارت سے قریب بھی تب ہوئے جب ہم نے نوے کی دہائی میں انہیں آپس میں لڑانا شروع کیا اور پشتونوں کو پہلے گلبدین حکمت یار اور پھر طالبان کے تحت تاجکوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا۔ اس سے قبل یہ انتہائی پاکستان نواز لوگ تھے۔

۵۔ “افغان جہاد کی وجہ سے افغان ہمارے خلاف ہیں کیونکہ اس سے ان کا ملک تباہ ہوا”

افغان جہاد روس کے خلاف ہوا تھا اور روس کے خلاف جدوجہد کو آج بھی تمام افغان اپنی قومی آزادی کی جدوجہد مانتے ہیں اور روس کے انخلاء کو سرکاری چھٹی اور قومی جشن مناتے ہیں۔ افغان روس کے خلاف جہاد کی حمایت کی وجہ سے نہیں بلکہ انہیں آپس میں لڑانے اور طالبان کی حمایت کی وجہ سے آپ سے ناراض ہیں۔ طالبان کو غیر پشتون (جو افغانستان میں اکثریت میں ہیں) تو بالکل پسند نہیں کرتے، پشتونوں کی رائے بھی ان کے حوالے سے بالکل منقسم ہے اور اب پشتونوں کی ایک قلیل اقلیت ہی ان کی حامی ہے۔ طالبان کو بھی اس بات کا احساس ہوچکا ہے لہذا وہ مل جل کر ایک مشترکہ حکومتی نظام میں شریک ہونے پر بھی اب تیار نظر آتے ہیں۔

۶۔ “افغان طالبان پاکستان کے کنٹرول میں ہیں”

افغان مجاہدین کے کچھ حلقوں پر پاکستان کا اثر و رثوخ ضرور ہے لیکن وہ پاکستان کے کنٹرول میں ہرگز نہیں ہیں بلکہ امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے وہ بھی پاکستان سے ناراض ہی ہیں۔

۷۔ “افغان طالبان خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں”

افغان مجاہدین داعش یا القائدہ جیسی عالمی تنظیموں کے برعکس ایک مقامی پشتون تحریک ہیں جن کے نظریات پاکستان کے مذہبی دیوبندی پشتونوں (جے یو آئی) کی مانند نیم مذہبی اور نیم لسانی پشتون قوم پرستی پر مبنی ہیں۔ ان کی توجہ کا مرکز صرف افغانستان ہے۔ وہ پاکستانی طالبان سے بھی بہرحال ایک الگ گروہ ہیں۔

۸۔ “روس کے پاکستان کے گرم پانیوں تک پہنچنے کے لیے افغانستان آنے والی بات کہانی ہے، روس ایران سے بھی تو گرم پانیوں تک پہنچ سکتا تھا”

ایران میں انقلاب سے قبل ایک انتہائی امریکہ نواز بادشاہت تھی اور انقلاب کے بعد بھی کمیونزم اور روس کے مخالف شیعہ ملاّ قابض ہوگئے۔ انقلابی ایران امریکہ سے اپنی تمام تر دشمنی کے باوجود روس کی نسبت مغرب سے ہی زیادہ قریب رہا۔ ایران ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے جس پر قبضہ کرنا بھی ناممکن تھا اور نہ ہے۔ اس کے برعکس افغانستان اور پھر بھارت کے ساتھ مل کر بلوچستان پر قبضہ کرنا روس کے لیے بہت مشکل نہ تھا، خاص کر اس وقت جب افغانستان میں ۱۹۷۸ کی سازش کے نتیجے میں کمیونسٹ آمریت تھی۔

اس کے باوجود روس کو امید تھی کہ ایران کے انقلاب کے نتیجے میں ایران کے اندر کمیونسٹ حکومت بنے گی لہٰذا وہ ۱۹۷۸ میں کابل میں کمیونسٹ حکومت آنے اور اس حکومت کے بار بار روس کو بلانے کے باوجود تب تک افغانستان میں نہیں آیا جب تک واضح نہیں ہوگیا کہ ایران کے اسلامی دھڑوں نے کمیونسٹ دھڑوں کو کچل دیا ہے اور ایران میں کوئی کمیونسٹ انقلاب نہیں آرہا۔ یاد رہے کہ انقلاب ایران میں اسلام پسندوں کے ساتھ سُرخے برابر کے شریک تھے مگر امام خمینی کی قیادت اور منظم نیٹ ورک کے باعث انقلاب کے بعد اسلام پسند غالب آگئے۔ تاہم جب تک ان کا غالب آنا واضح نہ ہوا، روس افغانستان نہیں آیا۔ لیکن ۱۹۷۹ کے بالکل اختتام پر وہ افغانستان میں کود پڑا۔

نیز یہ کہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے والے یا اس طرف جانے والے جہاز پاکستان کی سمندری حدود میں سے یا اس کے پاس سے گزر کر ہی جاتے ہیں، پاکستان یا پاکستان میں بیٹھ کر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کو روس کے لیے باآسانی مفلوج کرسکتا تھا۔ بلکہ خلیج کے عرب ممالک میں بیٹھ کر بھی خلیج فارس کے گرم پانیوں میں آگ لگائی جاسکتی تھی۔ پاکستان کی بندرگاہیں ایسے خطروں سے محفوظ ہیں۔

۹۔ “روس تو خود زمینی طور پر یورپ تک پھیلا ہوا تھا، اسے منڈیوں تک پہنچنے کے لیے پاکستان کے گرم پانیوں کی کیا ضرورت تھی”

پہلی بات تو یہ کہ گرم پانی صرف تجارتی نہیں بلکہ دفاعی بالادستی کے لیے بھی ضروری ہوتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ روس ساٹھ کی دہائی کے آخر سے ہی سرد جنگ میں پچھڑنا شروع ہوگیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایشیا، لاطینی امریکہ اور کسی حد تک افریقہ کی ابھرتی منڈیوں اور وسائل کے ذخیروں پر امریکہ کی بالادستی قائم ہوچکی تھی اور روس بحری راستے نہ ہونے کے سبب وہاں تک پہنچ ہی نہ پاتا تھا۔ یورپ کے ساتھ جانے کے لیے تجاری راستے تو زمین سے موجود تھے لیکن مغربی یورپ امریکہ کا اتحادی ہونے کے سبب روس کو بحری راہداری نہیں دیتا تھا۔ یوگو سلاویہ اور چین کمیونسٹ ہوتے ہوئے بھی روس کے آمرانہ رویے کے سبب اس کے دشمن تھے۔

بلوچستان اور سندھ کے گرم پانیوں کے لیے جدوجہد تو انیسویں صدی تک جاتی ہے جب برطانیہ اور روس افغانستان پر قبضے کے لیے لڑتے رہے۔ یہ تمام واقعات برطانیہ اور روس دونوں کی تاریخ میں بہت اہمیت کے حامل ہیں، “دا گریٹ گیم” کے حوالے سے ایک سرچ کی دور پر یہ ساری تاریخ دستیاب ہے۔

۱۰۔ “افغان جہاد امریکہ نے شروع کروایا”

افغان مجاہدین (شمالی اتحاد) پاکستان نے بھٹو دور میں بنانے شروع کیے اور تب امریکہ ان کو ناپسندیدگی سے دیکھتا تھا۔ افغان جہاد شروع ہونے کے بعد بھی امریکہ ڈیڑھ سال تک جہاد سے لاتعلق رہا اور اس کو قطعاً امید نہ تھی کہ آئی ایس آئی اور مجاہدین روس کے خلاف کوئی مزاحمت کرسکیں گے۔ امریکہ نے پاکستان اور مجاہدین کی حمایت ۱۹۸۰ میں قدامت پسند رونالڈ ریگن کے صدر بننے کے بعد شروع کی۔ جمی کارٹر جن کے دور میں افغان جہاد شروع ہوا، امریکہ افغان جہاد کا قطعاً حامی نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سید جمال الدین افغانی : اک بھولا ہوا تاریخی کردار -------- پروفیسر غلام شبیر
Facebook Comments Box
AfghanistanFeatruredfeaturedاحمد الیاسافغانافغان جنگافغان جہادافغان مجاہدینافغانستانپختونپشتونطالبان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کراچی کا کچرہ : مسئلہ نہیں لائف سٹائل ہے ——– خرم شہزاد
next post
حاجی لق لقؔ : ایک فراموش کردار —– شاہین اختر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.