تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینسیاسیعلم و ادبکالم

مارکسی صوفی: اجمل خٹک —- فاروق عادل

by دانش ڈیسک 02/11/2019
written by دانش ڈیسک 02/11/2019
99

وہ شخص انقلاب کی آرزو میں گھر سے نکلا تو اُس کی جیب میں چار آنے تھے، لوٹ کر آیا تو اس کی جیب خالی تھی لیکن دامن تجربے کی دولت سے بھرا ہوا تھا۔

یہ اجمل خٹک کی کہانی ہے۔ اجمل خٹک سے میری ملاقات کراچی میں ہوئی جہاں وہ فاروق بنگش ۱؎ کے گھر قیام پذیر تھے۔ پارٹی سربراہ کی حیثیت سے وہ اکثر دورے پر رہتے لیکن انھوں نے کبھی کسی بڑے ہوٹل میں قیام کیا اور نہ کبھی وہ کسی امیر کبیر کے مہمان بنے۔

اجمل خٹک عوامی نیشنل پارٹی کا مرکزی صدر منتخب ہونے کے بعد پہلی بار کراچی آئے تو گلشن اقبال کے ایک چھوٹے سے گھر میں ٹھہرے۔ دوسری بار آئے تو ایک ٹیکسی ڈرائیور کے گھر میں قیام کیا۔ یہ گھر ڈرگ کالونی کے قریب ایک گندے نالے کے کنارے غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ کارکن اُن سے ملنے کے لیے آتے تو بابا کہہ کر اُن کے سامنے سرجھکا دیتے، وہ کسی کو سینے سے لگاتے، کسی کے گال تھپتھپاتے اور کسی کا ماتھا چوم لیتے۔ سادگی اُن میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ موٹا جھوٹا پہنتے، بناوٹ سے پاک گفتگو کرتے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے وہ اکثر ایک پرانی وضع کی جیپ پر سوار ہو کرآتے جو ارکانِ پارلیمنٹ کی بڑی بڑی گاڑیوں کے ہجوم میں رینگتی ہوئی پارلیمنٹ ہائوس کے صدر دروازے پر پہنچتی، اجمل خٹک اس سے اُتر کر لحظہ بھر رکتے اور دورانِ سفر ڈھیلی ہو جانے والی گرم چادر کو درست کر کے نپے تلے قدم اُٹھاتے ہوئے مرکزی دروازے کی طرف بڑھتے۔ راستے میں کوئی مل جاتا تو تپاک سے مصافحہ کرتے اور مسکراتے ہوئے اُسی ایوان کی راہ داریوں میں گم ہوجاتے جس سے مایوس ہو کر انھوں نے کبھی جلاوطنی اختیار کی تھی۔ تقریر کے لیے کھڑے ہوتے تو چادر ایک بارپھر درست کرتے لیکن ذرا سی تبدیلی کے ساتھ۔ اب یہ چادر سمٹ کر ایک کاندھے کے اوپر اور دوسرے کے نیچے سے گزرتی ہوئی واپس اپنی جگہ پر پہنچ جاتی۔ اُن کی خاص وضع کی مختصر ڈاڑھی اور اُٹھی ہوئی ٹھوڑی کو دیکھ کر لینن کی یاد تازہ ہوجاتی۔ اشتراکیت کے جدامجد کی وضع قطع رکھنے والا یہ انقلابی جلا وطنی ختم کر کے پارلیمان کے ذریعے تبدیلی لانے پرکیسے آمادہ ہوا؟ اجمل خٹک سے جب میں پہلی بار ملاتو میں اُن سے یہی پوچھنا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے میں نے ایک اور مشکل سوال کیا جس کا جواب انھوں نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر دیا۔ میں نے پوچھا:

’’کیا یہ درست ہے کہ آپ نے پشتون نوجوانوں کو سوویت یونین بھیجا جہاں سے وہ تخریب کار اور گوریلے بن کر لوٹے؟‘‘۔
’’ جی، یہ درست ہے‘‘۔
اجمل خٹک نے اعتراف کیا۔
’’آپ نے ایسا کیوں کیا؟‘‘

میں نے انھیں سوچنے کا موقع دیے بغیر پوچھا تو انھوں نے اُسی بے ساختگی کے ساتھ جواب دیا کہ میرے نزدیک یہی بہتر تھا۔
’’پھر آپ اپنے زیر تربیت بچوں کو دیارِ غیر میں چھوڑ کرواپس لوٹ آئے اور اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچے۔

اب میں اپنے اصل سوال کے قریب آپہنچا تھا۔ میری بات سن کر اُداسی اُن کے چہرے پر سائے کی طرح لہرائی اور ایک دکھی سی مسکراہٹ نے اُن کے سُرخ و سفید چہرے کو سنولا دیا۔ کہنے لگے:

’’میں انقلاب کی آرزو میں کابل گیا مگر یہ شہر میرے لیے پشاور سے مختلف ثابت نہ ہوا‘‘۔
’’ وہ کیسے؟‘‘۔
میں نے حیرت سے سوال کیاتو انھوں نے بتایا کہ پشاور میں میری کتاب ’’دا غیرت چُغہ‘‘ کو باغیانہ تحریر قرار دے کراس پر پابندی لگا دی گئی تھی، کابل میں ظاہر شاہ نے بھی یہی کیا۔

انقلاب اور ’’قومی آزادی‘‘ کی تلاش میں ترکِ وطن کرنے والے انقلابی کے لیے یہ واقعہ سبق بن گیا اور اُ س کے اندازِ فکر میں تبدیلی کروٹیں لینے لگی جس کی پہلی جھلک اُس وقت نظر آئی جب پی آئی اے کا اغوا شدہ طیارہ کابل میں اُترا اور شاہ نواز بھٹو نے ہائی جیکروں کے خیر مقدم کے لیے ایئر پورٹ جانے کا فیصلہ کیا، اجمل خٹک نے بتایا:

جی ہاں! ہماری افغان پالیسی بھی غلط تھی‘‘۔ اجمل خٹک نے فراخ دلی سے اعتراف کیا

’’میں یہ سن کر تڑپ اُٹھا اور شاہ نواز کو مشورہ دیا کہ ایسی حماقت کبھی نہ کرنالیکن اُس نے سُنی اَن سُنی کر دی‘‘۔
’’آپ شاہ نواز کو ہائی جیکروں کی پیشوائی سے کیوں روکنا چاہتے تھے؟‘‘۔
’’میری نظر میں یہ ایک چال تھی‘‘۔
’’کیا چال تھی؟‘‘۔
میں نے پوچھا تو انھوں نے کہا:
تاکہ بھٹو خاندان کو پاکستان سے ہمیشہ کے لیے نکالا جاسکے‘‘۔

کیا ہم اسے پاکستان سے مایوس ہو کر جلاوطنی اختیار کرنے والے شخص کے اندازِفکرمیں تبدیلی کااشارہ سمجھیں؟

میں نے اپنی بات جاری رکھی؟
’’اور کیا جلاوطنی کے خاتمے اور سیاسی عمل میں آپ کی واپسی کو سجدہ سہو سمجھا جائے؟‘‘
’’جی ہاں! ہماری افغان پالیسی بھی غلط تھی‘‘۔
اجمل خٹک نے فراخ دلی سے ایک اوراعتراف کیا تو میں اپنے مزید سوال بھول گیا۔

اجمل خٹک کی زندگی ایک آدرشی کی زندگی تھی جس نے خواب دیکھے اور انھیں حقیقت میں بدلنے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالی لیکن جیسے ہی احساس ہوا کہ اُن کا فیصلہ درست نہیں، انھوں نے واپسی میں دیر نہیں لگائی اور قومی سیاست میں بھرپور طریقے سے شریک ہو گئے۔

۸۰ء کی دہائی میں پشتون مہاجر فسادات نے کچھ ایسی شکل اختیار کی کہ کراچی بارود کا ڈھیر بن گیا۔ صبح شام دنگے ہوتے اور لاشیں گرا کرتیں۔ کہا جاتا کہ پاکستان کی اِن دو لسانی اکائیوں کے درمیان کبھی مفاہمت نہیں ہوسکتی لیکن الطاف حسین سے اُن کی ایک ہی ملاقات کے بعد صورت حال بدل گئی۔ اپنی ایک تقریر ۲؎ سے شہر کی کایا پلٹ دینے والے الطاف حسین، اجمل خٹک کے صرف ایک سوال کے سامنے ڈھیر ہو گئے، انھوں نے الطاف حسین سے پوچھا:

اجمل خٹک اپنی آخری اننگز میں جنرل مشرف کے فریب کا شکار ہو گئے اور اس کی باتوں کے سحر میں گرفتار ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو ئے کہ مجھے اِس کی آنکھوں میں چمک نظر آتی ہے۔

’’آپ مہاجروں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، ہم پشتونوں کے حقوق کی، آپس میں لڑ کر یہ منزل ہمیں کیسے ملے گی؟‘‘۔

گھنٹوں تقریر کرنے، روتوں کو ہنسانے اور ہنستوں کو رلا دینے والا فسوں کار ان کے استدلال کی تاب نہ لاسکا اور مہاجر پشتون آویزش دوستی میں بدل گئی۔

ہمیشہ سچی اور سیدھی بات کرنے اور مخاطب کا مدعا سمجھنے میں کبھی دیر نہ کرنے والے اجمل خٹک اپنی آخری اننگز میں جنرل مشرف کے فریب کا شکار ہو گئے اور اس کی باتوں کے سحر میں گرفتار ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو ئے کہ مجھے اِس کی آنکھوں میں چمک نظر آتی ہے۔ اس پختہ کار پختون کو جنرل مشرف کی شکل میں واقعی کوئی نجات دہندہ دکھائی دے گیا تھا؟ ایک نوجوان قوم پرست پختون کا خیال ہے کہ ایسے مواقع پر انھیں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نجات دہندہ دکھائی دے جاتا تھا جس کی کشش میں وہ کبھی کابل جاپہنچتے اور پختون قوم پرستی کی نائو ڈوب جاتی اور کبھی وہ ولی خان کا ساتھ چھوڑ کر کسی کی راہ کا کانٹا چن دیتے۔

یہ جملہ معترضہ اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اجمل خٹک جوانی میں انقلاب سے متاثر ہوئے تو جلاوطنی اختیار کی۔ پرویز مشرف سے متاثر ہوئے تو ولی خان کا ساتھ چھوڑا اور نئی جماعت بنالی لیکن جلد ہی حقیقت ان پر ایک بار پھر آشکار ہوئی اور وہ اپنے قبیلے میں پلٹ آئے۔ سلیم کوثرنے کہا تھا ؎

وہ جو لوٹ آئیں، پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنھیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے


۱۔ فاروق بنگش، عوامی نیشنل پارٹی کراچی کے رہنماجن کا گلشن اقبال میں ایک چھوٹا سا گھر تھا۔
۲۔ ۱۹۸۶ء میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقریر جس میں انھوں نے اپنے پیروکاروں کو ٹیلی ویژن اور وی سی آر فروخت کر کے اسلحہ خریدنے کا مشورہ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سرخ سلام : کامریڈ جام ساقی کی یاد میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہد اعوان
Facebook Comments Box
Ajmal KhattakANPfeaturedاجمل خٹکاے این پیپختون دانشورپختون شاعردا غیرت چُغہسرخپوش راہنمافاروق عادل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ٹیبلٹ اور ہمارے بچے: کچھ سوچئے —– غزالہ خالد
next post
استعارا یا فراریت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد الیاس بابر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.