تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

کراچی، بارش اور موت: روئیے زار زار کیا —- صبیغ ضو

by دانش ڈیسک 18/08/2019
written by دانش ڈیسک 18/08/2019
78

وہ بجلی کے پول کے بالکل قریب پڑے تھے۔
رسہ پکڑو رسہ۔ ۔ "وحشت بھرا جملہ۔ ۔ ۔

لیکن اس خوبصورت جوان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس موٹے بانس کو پکڑ سکتا۔ بائیک اوندھی پڑی تھی۔ ایک جوان کیچڑ بھرے اس بارش کے دریا میں اوندھے منہ بے جان پڑا تھا۔ دوسرے کا جسد خاکی بھی مکمل اس غلاظت بھرے پانی کے اندر۔ ۔ ۔ ۔ صرف بازو باہر تھے۔ اور تیسرا نہایت بے بسی کے ساتھ زیست سے جسم کا تعلق قائم رکھنے کی کوشش میں تھا۔ ۔ اس نے بانس کو بےجان ہاتھوں سے تھاما، لیکن وہ لکڑی بھی سانسوں کی ڈور کی طرح اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔ اس نے مرنے سے پہلے ساتھی کی شرٹ کو پکڑتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی تھی۔ اور پھر پھر ٹوٹی ہوئی سانسوں کے درمیان کرب بھرے جملے اس کے بے دم ہوتے وجود نے سنے تھے۔ "اس میں بھی سانس نہیں یار” افففف کیسا وحشت و بے بسی سے بھرا لہجہ تھا۔ ۔

بارش کے کیچڑ بھرے پانی میں اس بجلی کے پول سے لٹکتی تاروں میں دوڑتا خطرناک کرنٹ اب پانی میں بھی تیر رہا تھا۔ ۔
اففف۔ ۔ ۔ یا میرے اللہ۔ اس وڈیو کو دیکھ کر میں نے نے اپنے وجود میں کیسی خوفناک سرسراہٹ محسوس کی۔ ۔ ۔ ۔ بیان نہیں کر سکتی۔ آنسو اور سسکیوں پر میرا اختیار نہیں تھا۔ مجھے یکدم بارش سے وحشت ہونے لگی۔ جانے بارش کے قہر نے ان کی جان لی تھی۔ ۔ ۔ یا سفاک انتظامیہ کی بے حسی نے۔ ۔ ۔ کیا بد قسمتی ہے کہ بارش کی چند بوندیں پڑنے کے بعد بارش کو ترستے اہل کراچی آیت کریمہ کا ورد اور بارش رکنے کی دعائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ شدید بارشوں کی پیشنگوئی کے بعد انتظامیہ نے جگہ جگہ دعائیہ کیمپ لگانے کے علاوہ ہنگامی طور پر کوئی عملی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟؟؟
آخر انسانی جان اتنی ارزاں کیوں ہے؟؟

میرے بڑے بھائی عید سے ایک دن پہلے گھر والوں کے ساتھ عید کرنے کے لئے پنڈی سے کراچی آ رہے تھے۔ گاڑی لیٹ ہو جانے کی وجہ سے رات ڈھائی بجے سہراب گوٹھ سے پوری رات پیدل سفر کر کے گھر پہنچے۔ گرج چمک کے ساتھ شدید بارش جاری تھی۔ بھائی سمیت ہم نے وہ رات کس اذیت میں گزاری، اس کا اندازہ شاید ہی کوئی لگا سکے۔ کہیں گھٹنوں تک کہیں اس سے اوپر پانی جمع تھا۔ کسی درخت سے ایک شاخ توڑ کر کر ساتھ رکھی۔ اس گندے پانی کے دریا میں چلتے ہوئے گٹر وغیرہ چیک کرنے کے لیے وہ شاخ کام آتی رہی۔ اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، رب کریم نے میرے بھائی کو محفوظ رکھا۔

بارش نے کئی اکلوتے چشم وچراغ نگل لئے اور انتظامیہ کے پتھر دلوں پر دراڑ تک نہیں آئی۔ اب تک کئی جگہوں پر بارش کا پانی جمع ہے۔ جگہ جگہ پہلے بھی کچراکنڈی کم نہیں تھی کہ اب جانوروں کی آلائشیں بھی۔ ۔ ۔ ۔ گھر سے نکلنا ایک عذاب ہی ہے۔ ایسے بدبو کے بھبھکے نتھنوں تک پہنچتے ہیں کہ آنتیں کھایا پیا اگل دینے کو بیتاب ہو جاتی ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ دیکھا۔ ۔ ایبٹ آباد کے رہائشی تھے۔ عید سے ایک دن پہلے گھر کا دروازہ بجا۔ ۔ آنے والوں نے پوچھا کیا آپ قربانی کر رہے ہیں؟
بقول ان کے پہلے تو وہ سمجھے کہ یہ کھالیں سمیٹنے کے لیے پوچھتے پھر رہے، خیر جھجکتے ہوئے اعتراف کیا کہ جی قربانی کر رہے ہیں۔ ۔ انہیں ایک بڑا سا شاپر پکڑا گیا کہ جناب آلائشیں آپ اس میں ڈال کر گھر کے دروازے کی باہر رکھ دیں ہمارا عملہ آکر لے جائے گا۔

افسوس کراچی کے نصیب میں کبھی ایسا نظم و ضبط نہیں آسکتا۔ ۔ ۔ بے ہنگم ٹریفک، ٹوٹی ادھوری سڑکیں اور جگہ جگہ کچرے کی بھرمار۔ ۔ ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم کراچی کی شہری بھی اپنے گھروں کو صاف رکھنے کا خیال تو رکھتے ہیں۔ لیکن اپنے گھر کا گند ہم سڑکوں پر ڈال آتے ہیں۔ ۔ ۔ سفر کے دوران کچھ بھی کھاتے ہوئے ریپر سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔ اورذرا شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ ۔ یہاں کے رہائشیوں کو بھی شائد تربیت کی ضرورت ہے۔ اور یہاں کی انتظامیہ کی تو بالخصوص۔ ۔ ۔ ۔

خدارا سڑکوں کا انتظام بہتر کیا جائے اور کے الیکٹرک کو ان کی زمیداری ڈنڈے کے زور پر سمجھائی جائے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے مانتے بھی نہیں۔ اس بارش میں کتنے ہی قتل کر چکی۔ ۔ ۔ اور آگے بھی صورتحال ویسی ہی وحشت زدہ کرنے والی ہے۔
ایسا نہ ہو کہ پانی کی قلت کا شکار اہل کراچی خوف سے آئندہ بارش کے نہ ہونے کی دعا کرتے رہیں۔

Facebook Comments Box
کچرا کنڈیکراچیکراچی بارشکراچی عیدکراچی کچراکے الیکٹرک
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مطالعہ پاکستان کی مذہب آلودگی —— لالہ صحرائی
next post
حلال کو حرام سے جدا رکھیں —– سعدیہ کیانی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.