تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالممذہبی

پاکستانی لبرلز: بھان متی کا کنبہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اورنگ زیب نیازی

by Editor2 29/07/2019
written by Editor2 29/07/2019
137

ما بعد 9/11 صورت حال نے تیسری دنیا کو بالعموم اور پاکستانی سماج کو بالخصوص ایک اور طر ح کے سنگین فکری بحران سے دو چار کیا۔ مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کو ایسا عروج ملا کی مدرسوں، مسجدوں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دفتروں اور گلی محلوں سے کافر کافر کے نعرے بلند ہونے لگے، خون کی ایسی چاٹ لگی کہ ستر ہزار جانیں نگل کر بھی یہ عفریت شانت نہ ہو سکا۔

چاہیے تو یہ تھا کہ اس کا راستہ روکنے کے لیے کسی مناسب اور متبادل فکر کو پروان چڑھایا جاتا لیکن طنز و تضحیک اور نفرت کا جو رویہ اختیار کیا گیا وہ سماج کی جڑوں کو مزید کھوکھلا کر گیا۔ مذہب اور مذہبی شخصیات کی تضحیک، فوج کو گالی دینا، گاندھی کو قائد اعظم سے بڑا لیڈر کہنا، مولانا آزاد کی پیش گوئی کا ذکر کرنا (چاہے مولانا کی کسی کتاب کو آج تک ہاتھ لگا کر بھی نہ دیکھا ہو) اور نظریہ پاکستان کے نام پر زیر لب مسکرا کر خود کو روشن خیال ثابت کرنا ایک گروہ کے نزدیک فیشن ٹھہرا۔ عورتوں کی ننگی تصویریں اور ’’سنی لیون کا فگر‘‘، ’’ایام حیض میں مباشرت‘‘ اور ’’یار تیری ماں بڑی سیکسی ہے‘‘ جیسے موضوعات پر مضامین شایع کرنے کو آزادیء اظہار اور سماج کی فکری خدمت قرار دیا گیا۔ دلیل یہ پیش کی کہ یہ سب رد عمل کی نفسیات کا شاخسانہ ہے۔ اگر آپ کا عمل کسی دوسرے کے عمل کا رد عمل ہے تو اسی اصول کے عین مطابق دوسرے کا کوئی عمل بھی آپ کے عمل کا رد عمل ٹھہرے گا۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کی سوال اور مکالمے کی راہیں مسدود ہو گئیں۔

تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے اور اپنی اپنی مرضی کا سچ بولتے ہوئے دانشور یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ تاریخ آپ کی فیس بک کا سٹیٹس نہیں ہے کہ جسے جب چاہا ڈیلیٹ کر دیا۔ تاریخ دریا کے بہتے دھارے کی طرح ہوتی ہے، آپ اسے درمیان میں سے پکڑ کر الگ نہیں کر سکتے۔

سوال کی اجازت نہ ملنے کا ڈھنڈورا تو بہت پیٹا گیالیکن سوال کرنے کا حق صرف اپنے لیے محفوظ سمجھا گیایعنی یہ حق صرف مجھے حاصل ہو کہ میں مخالف مکتب فکر پر سوال اُٹھا سکوں، میرے نظریات پر کوئی سوال نہ اُٹھائے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان جب آزادیء اظہار اور انسانی حقوق کے علم بردار دانشور سے سوال کرتا ہے تو اسے یہ کہہ کر فوراََ بلاک کر دیا جاتا ہے کہ ’’ابے سالے جا تو پہلے اپنے باپ کا پتا کر‘‘۔ اور جب وہ نوجوان اس گفتگو کا سکرین شاٹ لے کر فیس بک پر اپ لوڈکر دیتا ہے تو اگلے روز دانشور اس اقرار کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں کہ میں نے اب تک اختلاف کرنے والے صرف دس لو گوں کو ان فرینڈ یا بلاک کیا ہے۔ کسی کمزور لمحے میں خود راقم نے یہ سوال اُٹھا دیا کہ اگر ملالہ اور عافیہ صدیقی کا واقعہ 1981ء میں پیش آتا تو نوبیل پرائز کسے ملتا؟اُن شیریں لبوں سے گالیوں کی ایک بوچھاڑ انباکس میں موصول ہوئی اور پھر لائن ہمیشہ کے لیے کٹ گئی۔

تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے اور اپنی اپنی مرضی کا سچ بولتے ہوئے دانشور یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ تاریخ آپ کی فیس بک کا سٹیٹس نہیں ہے کہ جسے جب چاہا ڈیلیٹ کر دیا۔ تاریخ دریا کے بہتے دھارے کی طرح ہوتی ہے، آپ اسے درمیان میں سے پکڑ کر الگ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے؟ اس روشن حقیقت سے کون کافر انکار کر سکتا ہے۔ پاکستان کا ایسا کون سا زندہ یا مردہ یا شہید لیڈر ہے جس نے اپنی سیاسی زندگی کے کسی مقام پر اسٹبلشمنٹ کا سہارا نہیں لیا؟ لیکن اپنی محبوب ہستیوں کو مقدس اور ناپسندیدہ کو مطعون کر کے خود کو جمہوریت پسند کہلانے کا حوصلہ بھی خدا کسی کسی کو دیتا ہے۔ کل رات ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گیریژن گالف ایند کنٹری کلب جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک اجنبیت اور خوف کا احساس ہوتا رہا۔ واپسی پر فورٹریس سٹیڈیم کا پُل اترتے ہی یوں لگا جیسے اپنی دنیا میں واپس آگیا ہوں۔

یہ ایک سچ ہے۔ ایک سچ اور بھی ہے۔ کچھ دن پہلے سیر کے لیے شمالی علاقہ جات کی طرف جانا ہوا تو میں بہ طور خاص اپر دیر میں اس مقام پر گیا جہاں میرے قبیلے کے ایک مرد مجاہد میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کو دھشت گردوں نے حملہ کر کے شہید کر دیا تھا۔ میں نے وہاں موجود اپنے دوستوں، سرکاری اہلکاروں اور مقامی لوگوں سے پوچھا، خود بھی بہت ڈھونڈا لیکن مجھے وہاں کسی ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی کا سراغ نہیں ملا، جس کے لیے زمین پر قبضہ کرنے وہ یہاں آیا تھا۔ وہ یہاں زمینوں پر قبضہ کرنے نہیں، ستر ہزار پاکستاینوں کے قاتلوں کا پیچھا کرتے آیا تھا۔ یہاں تو کیا، اس کے آبائی علاقے میانوالی میں بھی اس کی اتنی جائیداد نہیں جتنی آصف زرداری اور نواز شریف کے نامی اور بے نامی کھاتوں میں لکھی ہے۔ ایک مذہب بیزار فکشن نگار نے ہمارے ایک دوست کو شہیدوں کی حمایت میں لکھنے پر گالیوں سے نوازا۔ اگلے روز اس دوست نے فیس بک پر ایک مختصر تحریر میں اپنے چھوٹے، ستائیس سالہ نوجوان بھائی کی شہادت کا واقعہ لکھا۔ اس نے لکھا کہ جب قومی پرچم میں لپٹی شہید کی میت گھر لائی گئی تو ماں نے بیٹے کا چہرہ دیکھنے سے یہ کہہ کر انکار دیا کہ میرا بیٹا وطن پر قربان ہوا ہے، میں نے آخری بار اس کا اُٹھا ہوا سر دیکھا تھا، میری آنکھوںمیں وہی تصویر رہنے دو، میں اس کا جھکا ہوا سر نہیں دیکھ سکتی۔ یہ لفظ ماں اور دھرتی ماں سے محبت کرنے والوں کا کلیجہ چیر گئے، یہ مختصر تحریر اس بد ذات کے پورے ناول پر خاک ڈال گئی۔

دہشت گردی ہر صورت میں قابل مذمت اور قابل نفرت عمل ہے۔ مذہب کے نام پر مسجدوں میں خود کش دھماکے کرنا بھی دہشت گردی ہے اور قومیت کے نام پر لوگوں کو بسوں سے اتار کر مار دینا بھی دہشت گردی ہی کہلائے گا۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں چودہ بے گناہ افراد کے قتل کو درست عمل اور بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر چودہ پنجابیوں کے قتل کو انسانی حقوق کی جنگ کہنے کا حوصلہ کوئی لبرل دانشور ہی کر سکتا ہے، ایک زندہ ضمیر انسان نہیں۔ اس ملک میں مذہب کے نام پر جو فساد برپا ہوا اس میں مذہب بیزار شدت پسندوں کا حصہ، مذہبی شدت پسندوں سے کچھ کم نہیں ہے۔ یہ بات آپ کو کچھ عجیب لگے گی لیکن سنجیدگی سے غور کرنے کے قابل ہے۔ مولانا خادم رضوی جمعہ جمعہ آٹھ دن کا قصہ ہے۔ بجا کہ اس کے درپردہ کوئی خفیہ ہاتھ بھی تھا لیکن یہ ممکن نہیں کہ لاہور کی ایک چھوٹی سی مسجد کے امام کو کوئی اُٹھائے اور چند روز میں اسے اتنا طاقت ور بنا دے کہ اس کی ایک کال پر دو گھنٹوں میں پورا ملک بند ہو جائے۔

اس کے پیچھے چلنے والوں میں ایک غم و غصہ پہلے سے موجود تھا، جس کے اظہار کا انھیں موقع نہیں مل رہا تھا۔ ہر معلول کی ایک علت ہوتی ہے۔ کوئی واقعہ خود بخود رو نما نہیں ہوتا، اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور موجود ہوتی ہے۔ ذرا یاد کیجیے! خادم رضوی کے سامنے آنے سے پہلے سوشل میڈیا پر ’’موچی‘‘ اور ’’بھینسا‘‘ نمودار ہوئے اور نبی محترم ﷺ کی ذات پر رکیک حملے کیے۔ ان کے اس عمل کو آزادیء اظہار کے نام پر حمایت دینے والے کون دانشور تھے؟ دانشوروں نے فیس بک کے چوراہے میں وہ وہ جملے اُچھالے کہ خدا کی پناہ! فساد کے ڈر سے دہرایا بھی نہیں جا سکتا۔ مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے۔ کوئی بھی مذہب اختیار کرنا یا بالکل نہ کرنا آپ کا حق ہے لیکن کسی دوسرے مذہب یا پیغمبر کی تضحیک آپ کا حق نہیں ہے۔ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے آسٹریا کی خاتون کی سزا یہ کہہ کر برقرار رکھی کہ کسی دوسرے مذہب کے پیغمبر کی تضحیک آزادیء اظہار نہیں بلکہ باعثِ فساد ہے۔

عرفان صدیقی کی ہتھکڑی پر اس کے مخالف مکتب فکر کا واویلا دراصل بغضِ معاویہ کا شاخسانہ ہے ورنہ کچھ عرصہ پیشتر ہتھکڑی تو ایک اور صحافی شاہد مسعود کو بھی لگائی گئی تھی۔

حد تو یہ ہے کہ ماضی کے ترقی پسند، سوشلسٹ اور کمیونسٹ نیو لبرل ازم کی چھتری تلے سرمایہ دارانہ جمہوریت کا راگ درباری الاپ رہے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، روشن خیالی کے نام پر پرویز مشرف کی آمریت کو خوش آمدید کہنے والے کون تھے؟ جب وردی اترنے کے بعد اقتدار پر مشرف کی گرفت کمزور ہوئی تو اچانک یاد آیا کہ پرویز مشرف تو ایک آمر ہے، اس نے آئین کو پامال کیا ہے تب آصف زرداری کو جمہوریت کی علامت بنا کر مفادات کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے گئے، اگلی باری پیپلز پارٹی اندرون سندھ تک محدود ہو گئی تو بد ترین آمریت کی پیداوار نواز شریف جمہوریت کا استعارہ بن گیا کیونکہ وہ ’’دیالو‘‘ مشہور ہے اور بُرے دنوں کے ساتھیوں کو یاد رکھتا ہے۔

تازہ ترین واقعہ عرفان صدیقی کی گرفتاری ہے۔ معمولی جرم میں گرفتاری اور ہتھکڑی پہنانا قابل مذمت ہے کہ اس طرح انتقامی کارروائی کا تاثر اُبھرتا ہے ورنہ رُول آف لاء اور اکراس دی بورڈ احتساب کی گردان تو ہم نے مذکورہ دانشوروں سے ہی سُنی تھی۔ عرفان صدیقی ایک لکھاری کی حیثیت میں محترم ہیں ورنہ کون نہیں جانتا کہ انھوں نے جو قلم لہرا کر تصویر بنوائی یہی قلم طالبان کے قصیدے لکھتا رہا ہے اور یہی قلم ہے جو اس ملک میں خوشامد اور مفاد پرستی کی علامت ہے۔

کسی کو ہتھکڑی لگانا قابل مذمت ہے کہ ہتھکڑی انسانوں کے لیے نہیں وحشی درندوں کے لیے ایجاد ہوئی تھی۔ عرفان صدیقی کی ہتھکڑی پر اس کے مخالف مکتب فکر کا واویلا دراصل بغضِ معاویہ کا شاخسانہ ہے ورنہ کچھ عرصہ پیشتر ہتھکڑی تو ایک اور صحافی شاہد مسعود کو بھی لگائی گئی تھی۔ عرفان صدیقی اور اوریا مقبول جان ایک ہی مکتب فکر کے نمائندے ہیں۔ اب سوال یہ ہے اگر کل کو خدانخواستہ اوریا مقبول جان کو بھی ہتھکڑی لگائی گئی تو کیا انسانی حقوق کے علمبردار ہمارے دانشور اس کے حق میں فی یوم چالیس کالم لکھیں گے؟

Facebook Comments Box
9/11Desi LiberalsfeaturedLiberalsPakistani Liberalsآئی ایس آئیاپر دیرامریکہپاک فوجپاکستانپاکستانی معاشرہترقی پسندسماجسوشلسٹسی آئی اےشمالی علاقہ جاتشہباز شریفطالبانفورٹریس سٹیڈیمقائد اعظمکمیونسٹگاندھیگیریژن گالف ایند کنٹری کلبمنی لانڈرنگمیانوالیمیجر جنرل ثناء اللہ نیازینواز شریفنیو لبرل ازم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
مولانا شاہ احمد نورانی: وہ ہمارے تابوت میں آخری کیل ٹھونک گئے — احمد حاطب
next post
مسئلہ کشمیر اور ممکنہ حل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاوید حسین آفریدی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.