تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

سماج میں طاقت کا تصور ابھی تک قائم ہے —- قاسم یعقوب

by قاسم یعقوب 27/07/2019
written by قاسم یعقوب 27/07/2019
170

دنیا کی قدیم تہذیبوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ سماج ہمیشہ سے کم از کم دو بڑے حصوں میں تقسیم رہا ہے۔ ایک طبقہ طاقت ور اور اشرافیہ کا جب کہ دوسرا طبقہ محکوم اور مجبور یا ایسے افراد پر مشتمل ہے جو طاقت یا ذرائع پیداوار پر دسترس نہیں رکھتے تھے۔ سماج کی مجموعی’ تخلیقیت‘ بنیادی طور پر انھی دو طبقوں کی حرکات پر مشتمل ہوتی۔ ایک طبقہ اپنی طاقت اور’’ اشرافیائی‘‘ اقدار کو قائم رکھنے کی کوشش میں رہتا جب کہ دوسرا طبقہ اپنی موجودہ حیثیت کو تبدیل کر کے اشرافیائی اقدار میں تبدیل کرنا چاہ رہا ہوتا۔ یوں دونوں طبقے بلواسطہ یا بلا واسطہ اپنی اپنی حیثیتوں کو بدلنے یا قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے۔ یہود خود کو خدا کی سب سے بہتر مخلوق سمجھتے تھے؛ ان کی کتاب ’’تلمود‘‘ کے مطابق اہلِ یہود زمین کی سب سے بہتر مخلوق ہیں اور ان جیسا کوئی اور انسان یہاں موجود نہیں لہٰذا ان کی برابری کا کسی کو حق نہیں۔ اسی تفریق کی بنیاد پر وہ دوسروں کو حقارت سے دیکھتے۔ رومن ایمپائر نے بھی سماج کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا؛ ایک طبقہ طاقت ور یا اشرافیہ کا تھا جسے جرائم کی سزا بھی ممنوع تھی، جب کہ دوسرے طبقے کو معمولی جرائم میں سزائیں دی جاتی تھیں۔ ہندو سماج میں بھی طبقات موجود رہے۔ ہندو سماج کی مذہبی کتاب’ منوا سمرتی‘ کے مطابق ،ہندو سماج میں ’’منو شاستر‘‘ جیسا قانون موجود تھا جس کی رو سے’’برہمن‘‘ برہما یعنی خدا کے سر سے پیدا ہوئے ہیں، اس لیے یہ طبقہ خدا کا خاص طبقہ ہیں، ان کو مذہبی رہبری کا فطری حق موجود ہے۔ اس کے بعد ’’چھتریوں‘‘ کا طبقہ آتا جو برہما(خدا) کے سینے سے پیدا ہونے کا دعویٰ کرتے۔ چھتری کو کام جنگی مہمات تھا ، یہ طبقہ لڑنے میں مہارت رکھتا اور اپنے دوسرے کمزور طبقات کو قتل کرنے کا فطری حق رکھتا۔ ہندو سماج میں’’پر ویش‘‘ کاطبقہ بھی موجود تھا جو برہما کی کمر سے پیدا ہوئے تھے۔ ان کا کام کھیتی باڑی کرنا اور تجارت تھا۔ یہ طبقہ بھی کسی نہ کسی طرح سماج کی ضرورت بنا رہتا۔ سب سے گھٹیا طبقہ ’’ شودر‘‘جو برہما کے پاؤں سے پیدا ہوئے تھے۔ اس طبقے کا کام مذکورہ بالا تمام طبقات کی خدمت گزاری کرنا یا محکومی تھا۔ (ایسا خوفناک طبقاتی نظام دنیا بھر کے سماجوں میں موجود نہیں تھا)

بنیادی طور پر سماج میں طبقوں کی تقسیم ہمیشہ رہی ہے۔ سماج میں بہت سی تبدیلیاں آتی رہیں مگر سب سے خوف ناک تبدیلی ذہنی اشرافیائی طاقت کے حصول کی تبدیلی تھی، انسان نے خود کو کسی طبقے کے حصار میں لپیٹنے کی بجائے، ذہنی طور پر دوسروں کو غلام یا محکوم بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ یہ ’تبدیلی‘ جدید انسان کا المیہ تھا۔ مذاہب اور جدید انسان کے قوانین نے طبقوں کو ختم کرنے میں اہم کردار کیا مگر انسان کی لاکھوں برسوں کی تربیت نے اسے جنگلی سماج سے مہذب سماج میں منتقل ہونے سے روکے رکھا ہے۔ ابھی تک ہم ذہنی طور پر طاقت اور اشرافیائی اقدار کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔

نئے انسان نے سب سے پہلے یہ نتائج اخذ کیے ہیں کہ انسان سماج میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے ، ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتا ہے؛ اس لیے کوئی بہتر ، طاقت ور یا ایک دوسرے کاحاکم یا آقا نہیں اور نہ ہی کوئی شخص ، قوم یا گروہ رزیل، گھٹیا یا کم تر ہے۔ انسانی صلاحیتوںیا ذرائع پیدوار کی دسترس رکھنے سے ایک طبقہ یا شخص دوسرے شخص یا طبقے سے بہتر یا اعلیٰ تصور نہیں ہوگا۔ بلکہ سماج میں گھٹیا یا کم تر اور اعلیٰ یا طاقت ور کا تصور ہی غلط تصور ہے۔ نئے انسان نے یہ تصور دیا ہے کہ ہم سب سماج میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کرتے ہیں، کسی کے ساتھ(With) کام کرنا اور کسی کے لیے(For) کام کرنے میں فرق ہے۔ عموماً سماج میں ایک طبقہ یاشخص (پیداواری نقطۂ نظر سے) جب کسی دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تو کسی ایک طبقے یا کسی ایک شخص کی حیثیت برتر اور دوسرے کی ماتحت ہوسکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک طبقہ یا شخص، دوسرے طبقے یا شخص کا آقا یا طاقت رکھنے کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ چوں کہ ہم صدیوں سے اس تربیت سے گزرتے آئے ہیں اس لیے ہماری تاریخ کا ناگزیر حصہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ’’برہما اور شودر‘‘ کی تقسیم کو قائم رکھیں۔ چناں چہ اس طرح فورا ً سماج میں طبقاتی تقسیم در آتی ہے۔ ایک طبقہ دوسرے کو گھٹیا سمجھنا شروع کر دیتا ہے، یا ایک شخص دوسرے دوسرے کے لیے طاقت ور اور حاکم کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور وہ تمام وقوع پذیر ہونا شروع ہو جاتا ہے جو ایک طاقت ور کمزور کے ساتھ کر سکتا ہے۔

سماج میں رہتے ہوئے ہم اپنے اردگرد اس رویے کو بہت محسوس کر سکتے ہیں۔ ایک طاقت ور جب اپنی طاقت کے دائرے میں آنے والے کسی دوسرے شخص یا طبقے کو اپنی طاقت کا احساس دلاتا ہے تو لامحالہ ایک تقسیم خود بخود قائم ہو جاتی ہے جسے اشرافیائی اختیار کی تقسیم کہیں گے۔ عموماً ہمارے ذہنوں میں ہوتا ہے کہ شاید اختیار یا طاقت چند خاص افراد تک محدود ہے اور باقی پورا سماج اختیار یا طاقت سے محروم ہے۔ لہٰذا طاقت ور یا اختیار رکھنے والا ہی جواب دہ ہے۔ اصل میں سماج میں طبقات کی تعریف بدل گئی ہے۔ اب سماج ان طبقوں پر مشتمل نہیں جو برہمو یا چھتری یا شودرجیسے طبقوں پر مشتمل سماج تھا؛ اب ہر شخص ایک طبقہ بھی اورسماج کاجزو (Component)یا فرد بھی۔ ہر شخص کی ایک رعیت ہے جس کا وہ جواب دہ ہے۔ صرف طاقت ور پولیس آفیسر یا طاقت کی حکمرانی کرنے والا طبقہ یا فرد ہی سماج کا طاقت ور یا حاکم طبقہ نہیں مانا جاتا، اب ہر شخص کی ایک ’رعیت‘ کا تصور عام ہو گیا ہے۔ رسول کریم ؐنے فرمایا ہے:

’’ خبردار تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے اور تم سے ہر شخص کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا، لہٰذا امام یعنی سربراہ مملکت وحکومت جو لوگوں کا نگہبان ہے اس کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی، مرد جو اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس کو اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اس کو ان کے حقوق کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی اور غلام مرد جو اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اس کو اس کے مال کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی لہٰذا آگاہ رہو! تم میں سے ہر ایک شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔ ‘‘ (بخاری ومسلم)

یہ کوئی معمولی فلسفۂ سماج نہیں، اسے لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ طبقوں کی تقسیم کو مکمل ختم کیا جانا چاہیے۔ ہر فرد طاقت رکھتا ہے اور وہ اپنی طاقت کا جواب دہ ہے۔ جس شخص کے پاس ’رعیت‘ کا تصور ’’رعایا‘‘ والا ہے، اس سے طاقت کو چھینا جانا چاہیے، کسی کو بھی کسی دوسرے کی توہین یا اُس پر حاکمیت کا لائسنس حاصل نہیں۔ ہر فرد یا طبقہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ طاقت ور یہ خیال کرتا ہے کہ شاید اُس کا محکوم اس کے لیے کام کررہا ہے۔ حالاں کہ ہر شخص سماج کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے اور بلواسطہ وہ اپنے لیے کام کررہا ہوتا ہے۔ ہم کسی دوسرے کے لیے نہیں دوسروں کے ساتھ مل کر اپنے لیے کام کرتے ہیں۔ اس تصور کوعام کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments Box
featuredqasim yaqoobسماجطاقتطاقت کی حکمرانیطاقتورطاقتور طبقاتقاسم یعقوب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
قاسم یعقوب

previous post
پسندیدہ شخصیت کا سحر —- فوزیہ قریشی
next post
کتب خانہ سلیمانیہ، استنبول —- محمد احمد رضا

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.