تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسماجیکالم

نہیں کا مسئلہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرحان کامرانی

by Editor2 16/07/2019
written by Editor2 16/07/2019
85

ہم نہ جانے دن میں کتنی مرتبہ لفظ ”نہیں“ استعمال کرتے ہیں مگر نفی اور اثبات کے باہمی تعلق اور لفظ ”نہیں“ کے مسائل سے آگاہ نہیں۔ لفظ ”نہیں“ اگر تنہا ہو تو ایک خلاء، ایک سناٹا، ایک بھیانک خاموشی پیدا کرتا ہے، اس کے بعد اثبات آئے تو یہ سناٹا ختم ہوتا ہے۔ کلمہ طیبہ کے اول حصے پر غور کیجئے، ”لا“۔ یہ ”لا“ ہر قسم کے تصور کو مٹا دیتا ہے مگر اگلے حصے میں ”الا“ یعنی ”سوائے“ آ کر خلاء کو پر کر دیتا ہے، سناٹے کو مٹا دیتا ہے۔ مگر کیا صرف ”لا“، صرف ”نہیں“ وجود رکھ سکتا ہے؟ انسانی تاریخ کا مطالعہ اس بات کا جواب ”نہیں“ میں دیتا ہے۔ ہر جگہ، ہر تاریخی موڑ پر”نہیں“ کے بعد اثبات آیا ہے۔ اگر کچھ ”نہیں“ ہو گا تو لازماً کچھ ”ہو گا“۔ ”ہاں“ کا”نہیں“پر انحصار نہیں۔ ”ہاں“ تو تنہا رہ سکتا ہے مگر ”نہیں“ تو بس ”ہاں“ کے نہ ہونے کا نام ہے۔ یعنی ”نہیں“ کا اپنا وجود ہی نہیں۔ وہ بس ”ہاں“ کے عدم کو ظاہر کرتا ہے۔

بہت سے افراد ہر جملہ، ہر بات ”نہیں“ سے شروع کرتے ہیں۔ ان کے پاس آپ کے ہر جملے، ہر خیال، ہر تجربے کے لئے محض تردید ہی ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں کہ یار فلاں شے تو بہت اچھی ہے تو جواب آتا ہے ”نہیں۔ فلاں شے تو اس سے بھی بہتر ہے۔ “ آپ کہتے ہیں کہ ”فلاں شے بہت بری ہے“ تو جواب آتا ہے ”نہیں، فلاں شے تو اس سے بھی بری ہے“ یا ”نہیں، وہ شے تو بہت اچھی ہے۔ “

”نہیں“ نہ اپنی نہاد میں اچھا ہے نہ ہی برا۔ اس کی قدر بس اس سے ہی متعین ہوتی ہے کہ اس کے بعد ہاں کس چیز کے لئے آتا ہے۔

یہ پورا منظر نامہ دراصل ایک شدید نوع کے عدم تحفظ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ”نہیں“ والے دراصل اپنی طرف آنے والے ہر خیال کو کرکٹ بال کی طرح سمجھتے ہیں جو ان کی وکٹ اڑانے آ رہی ہے۔ اب یہ اپنا ”نہیں“کا بلا سنبھال کر ہر آنے والے خیال پر چھکا مارنا چاہتے ہیں، رن بنانا چاہتے ہیں۔ یہ دراصل قلعہ بند ذہن ہے جو اپنے وجود کے باہر موجود دنیا کے ہر خیال کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ یہ ذہن اگر بہت بڑی جست لگائے گا تو ہر شے پر ہاں ہاں کرنے لگے گا۔ اس ذہنی منظر نامے میں یا تو قلعہ بندی ہے یا شکست ہے، دوسری کوئی صورت نہیں۔

خیالات کے رد و قبول کے اس عمل میں دراصل وہ انسان سب سے مناسب ذہن کو ظاہر کرتا ہے جو ہر خیال کا تجزیہ کر سکنے کی اہلیت رکھتا ہو اور خیالات کا ڈی این ای (DNA) ٹیسٹ کرنا جانتا ہو۔ جن افراد کو تاریخ انسانی نے جینئس قرار دیا ہے ان میں ایک بڑی اہم صلاحیت مشترک تھی اور وہ تھی ایک مربوط فلسفہ۔ جینئس ایک ایسا ذہن رکھتا ہے کہ جس سے وہ اپنی حیات اور کائنات کی تشریحات کرنے کی اور ایسی تشریحات کرنے کی جن میں باہم تضاد نہ ہو، اہلیت رکھتا ہے۔ جینئس نہ تو مجسم”نہیں“ہوا کرتا ہے نہ ہی مجسم اثبات۔ وہ ایک فکری نظام کے ذریعے ”ہاں“ یا”نہیں“کرتا ہے۔ اس کے برخلاف جب ہر چیز کو بغیر سمجھے نفی در نفی کا چکر چل رہا ہو تو مطلب یہ ہے کہ دراصل اپنی انا کے بت کا اثبات ہو رہا ہے اور یہ”نہیں نہیں“دراصل غیر محفوظ اور لولی لنگڑی انا کی پرستش کا ورد ہے۔

”نہیں“ نہ اپنی نہاد میں اچھا ہے نہ ہی برا۔ اس کی قدر بس اس سے ہی متعین ہوتی ہے کہ اس کے بعد ہاں کس چیز کے لئے آتا ہے۔ ”لا“ کے بعد ”الا“ آنا چاہئے ورنہ لا اتنا بڑا خلاء پیدا کرتا ہے کہ وہ نفی کا گیت گانے والے کو نگل لیتا ہے۔ خیالات سے بھاگنے میں خیر نہیں، ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کر کے ان کے کباڑ کو پھینک کر کارآمد کو خود میں جذب کرنے میں ہی فلاح ہے۔ آئیے کوئی اصولِ فکر اختیار کریں اور پھر نفی یا اثبات کریں۔ نہ مطلق نفی نہ مطلق اثبات۔ خودی کی نفی، حق کا اثبات۔ خود کی نفی، خدا کا اثبات۔

Facebook Comments Box
DNADNA Testانستانخلاءڈی این اےڈی این اے ٹیسٹفکری نظامفلاسفیفلسفہفلسفہ کی تعلیمقبوللاءلفظ نہیںنہیں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
ایک بوسے کا گناہ —– شاہین کاظمی
next post
حمایت علی شاعر : تحمل اور تجسس کے احساس کا شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا محمد تبسم

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.