تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

لمحہ فکریہ : پاکستان کے موجودہ حالات کا تاریخی تجزیہ (۲) —- محمد خان قلندر

by دانش ڈیسک 02/07/2019
written by دانش ڈیسک 02/07/2019
71

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کریں

ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ماضی کے حقائق کا بے لاگ تجزیہ کرنے کی بجائے اس کے لا یعنی اسباب و علل کا ذکر لے آتے ہیں۔ چونکہ یوں ہوا تھا کیونکہ یہ نہیں ہوا تھا۔ جو ہونا تھا ہو چکا۔جو ہوا اسے بیان کریں۔تو اس کے نتائج اور اثرات جو آج بھگت رہے ہیں ان پر توجہ مرتکز کرتے اس دلدل سے نکلنے کی صورت پر غور کرنا چاہیئے۔

جنرل ایوب خان نے ڈی کیڈ آف پراگرس یا ترقی کا عشرہ منانے کی سنگین غلطی کی۔ جتنے بھی کام ہوئے۔صنعت کے ادارے بنے۔ ڈیم بنائے گئے۔ درجنوں کارپوریشن قائم ہوئیں یا اور پراجیکٹ لگے۔ان کے فوائد کاغذوں میں بہت زیادہ تھے لیکن زمینی حقائق میں نقصانات بھی کم نہ تھے۔
نوبل تجربہ کار اور معزز سیاست دان متروک ہو چکے تھے۔ نئی پود سیاست کو بطور پیشہ اختیار کر چکی تھی، مطمع نظر کسی بھی جائز۔ناجائز طریقے سے اقتدار میں آنا اور منفعت کمانا تھا۔ فوج میں پہلے مارشل لا میں ڈیوٹی کرنے والوں کی اکثریت کو واپس نہی لیا گیا تھا انہیں کارپوریشن اور دیگر اداروں میں عہدے دیئے گئے۔ 1965 کی جنگ کے فوجی پہلو سے قطع نظر سیاست میں مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو نمودار ہو گئے۔
دفاع وطن کی ڈیوٹی کرتے جان قربان کرنے والا غیر مسلم پاکستانی بھی شہید کے درجے پر فائز ہوتا ہے۔

بھارت میں اس وقت بسنے والے مسلمانوں کی تعداد پاکستان کے مسلمانوں کے قریب برابر تھی۔ جنرل ایوب خان نے ریڈیو پر پہلی بار کلمہ طیبہ پڑھ کے خطاب میں اعلان جنگ کیا۔ کیا یہ جنگ واقعی کُفر اور اسلام کی جنگ تھی یا دو پڑوسی ملکوں میں جغرافیائی تنازعہ کی جنگ تھی؟

فیلڈ مارشل کا خطاب کیا جنگی فتوحات پر ملا تھا ؟ یا جنرل یحیی کے کمانڈر انچیف بننے کے باوجود فوج کی کمان اپنے پاس رکھنے کا شاخسانہ تھا !
چند نمائشی اقدامات جو مذہب کے نام پر کئے گئے انہوں نے مذہبی سیاسی جماعتوں کو ملکی سیاست میں پاؤں جمانے کا موقع فراہم کیا تھا یا نہیں؟
ملک کی آئینی اساس پر نظریہ اور قراداد مقاصد کو سرنامہ کرنے کی داغ بیل کیا ملکی سیاسی وحدت کے لئے مفید ثابت ہوئ؟

جنرل یحیی نے الیکشن کرانے سے پہلے ون یونٹ اور دیگر مطالبات اس خوش فہمی میں مانے کہ اس کا اقتدار قائم رہے گا لیکن وہ اس بات کا ادراک نہ کر سکے کہ فوج کے رینک اور فائل کسی نئی جنگ کے لئے تیار نہی کئے گئے اور عوام میں مجیب کے چھ نکات اور بھٹو کا سوشلزم۔ روٹی کپڑا اور مکان مقبول ہو گئے۔

بھٹو صاحب کی مقبولیت پنجاب اور رورل سندھ میں عروج پر گئی لیکن بلوچستان۔ کے پی اور کراچی میں مذہبی سیاسی جماعتیں مضبوط ہو گئیں، بطور مارشل ایڈمنسٹریٹر نیشنلائز ہوئے اداروں کو چلانے کے لئے لیٹرل انٹری سے افسری شاہی جو پہلے ہی مجہول ہو چکی تھی وہ بھی پروفیشنل سے منفعت کوش ہو گئی۔ بھٹو کا اندوہناک انجام سیاست کی کمزوری کی بدترین مثال ہے۔

ستر کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے نوجوان اور نئے لوگ منتخب ہو کے آئے۔ لیکن آئین سازی میں مذہبی سیاسی جماعتوں سے سمجھوتہ زہر قاتل تھا۔ آئین منظور ہونے کے بعد اسی رات کو ترامیم ہوئیں۔ حیات شیرپاؤ کے حادثے کے بعد کے پی اور بلوچستان کی حکومت برخاست ہوئ۔ بلوچستان میں بدامنی کی لہر پیدا ہوئی۔

حیرانی کی بات ہے کہ بھٹو جیسا ذہین اور فطین لیڈر بھی محلاتی سازش اور جنرل ضیا کو نہ بھانپ سکا کیا اس کے گرد موجود لوگ اس سے مخلص نہ تھے۔ یقینی طور پر منفعت پسند سیاسی عناصر ایسے ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا پبلک سے ڈس کنکٹ کیوں ہوتا ہے۔ دوسرا ہمارے عوامی نمائندے حکومت اور عوام میں ربط اور رابطہ کیوں نہی قائم رکھ سکتے؟

جنرل ایوب کو اگر زمینی حالات کا ادراک ہوتا تو وہ اپنی ترقی کی اصلیت جاننے کے لئے الیکشن کال کرتے زیادہ سے زیادہ ان کی جماعت الیکشن ہار جاتی۔ وہ اپوزیشن میں بیٹھ جاتے یا سیاست چھوڑ کے عزت سے گھر بیٹھ جاتے !
لیکن ان کے پروردہ سیاسی خادم اپنی پوزیشن چھوڑنے کا سوچ بھی نہی سکتے تھے۔
بھٹو صاحب کے ساتھ اگر مخلص سیاسی کارکن ہوتے تو وہ ان کو معیشت کی اکھاڑ پچھاڑ کے نقصانات سے آگاہ کرتے تو ہمارے سیاسی بندوبست میں یہ خودکار تصحیح کا عمل کیوں ناپید ہے؟

سیاست اگر آکوپیشن ہو یعنی آپ کا یہ کاروبار نہیں بلکہ آپ کی پاس زندگی کی ضروریات پوری ہیں اہلیت اور فرصت ہے تو آپ خدمت خلق اور عوام کی فلاح کے لئے ہم خیال اور اپنے جیسے افراد کو جمع کر کے سوسائیٹی کے مسائل کو لسٹ کرتے ہیں باہمی مشاورت سے ان کے حل تجویز کرتے اس کو پروگرام کی شکل دیتے ہیں مینیفسٹو بناتے ہیں اس کے حصول کے لئے پارٹی بنا کے اصول و ضوابط کے مطابق رائے عامہ ہموار کرتے ہیں۔
الیکشن میں جاتے ہیں جتنا اقتدار میں حصہ ملتا ہے اس کی مطابق اپنے پروگرام پر اجتماعی دانش سے عمل کرتے ہیں۔ کیا کوئ جماعت یا پارٹی اس طرح گراس روٹ سے وجود میں آئ ہے۔ نہیں ناں۔

یہاں شخصیات پارٹی بناتی آئی ہیں ایوب خان نے پہلے اقتدار پر قبضہ کیا۔ بعد میں کنونشن لیگ بنائی۔ بھٹو صاحب نے اقتدار سے علحدگی اختیار کی۔ ایوب خان کو اقتدار سے ہٹانے کی مہم جوئ کے لئے پارٹی بنائی۔
تو جو لوگ سیاست میں 67-77 تک فعال تھے وہ ان کے فالور تھے یا مخالف۔
ملکی مسائل کیا تھے۔ عوام کی کیا ضروریات تھیں انہیں کیا چاہیئے تھا اس کا فیصلہ بھی ان شخصیات کے ہاتھ تھا، عوام نمائندے ان کے طفیل بنے ہوئے تھے جس کو ٹکٹ ملا یا جو نامزد ہوا تھا۔
یہ ہے وہ ڈس کنکٹ جس کا حتمی شاخسانہ ستتر میں سامنے آیا۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکمران اپنی عوام سے زیادہ،، دوست ممالک،، سے ذاتی مراسم میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ممالک کے باہمی تعلقات انکی تجارتی اور سفارتی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں۔ خارجہ پالیسی بھی ملکی مفاد کے مطابق ہونی چاہیئے لیکن ہم ایوب خان کے دور میں انکی امریکہ یاترا کی آؤ بھگت ان کے شخصی رعب اور دبدبے کی مرہون منت سمجھتے ہیں جبکہ امریکہ کو اس خطے میں روس کے مقابل ہمیشہ ہماری اعانت کی ضرورت رہتی ہے۔

اس زمانے میں ترکی اور ایران آر سی ڈی کے بینر تلے ہمارے مسلم برادر تھے۔بھٹو صاحب کی عالمی اسلامی کانفرنس بھی ان کی ذاتی مشہوری اور قابلیت کے ساتھ بنگلہ دیش تسلیم کرنے کی کاوش تھی۔
کوئ سربراہ مملکت دوسرے ملک کے دورے پے جائے تو ہر ملک روایتی سفارتی پروٹوکول سے خیرمقدم کرتا ہے
سفارت کاری فارن آفس کی فیلڈ ہے لیکن ہم یہاں شخصیت پرستی کے اتنے غلام ہیں کہ کوئ سودی قرضہ ملنے پر بھی حکمران کی جے جے کار کرتے ہیں۔ جہاں ایوب خان کے ترقیاتی پروگرام نے ہمیں 480 PL کے تحت امریکی گندم کھلائ وہاں بھٹو صاحب کی روٹی نے ہمیں راشن ڈپو پر لائن میں کھڑا رکھا۔۔
بنیادی جمہوریت کی پیداوار نے اگلے مرحلے میں بھٹو صاحب کے ستتر کے الیکشن میں دھاندلی ڈرامے سے انہیں تختہ دار پے پہنچا دیا۔ غلطی کس کی تھی؟

جب جبر کی حکومت ہو گی نواب آف کالا باغ جیسے جابر کو پورا مغربی پاکستان حوالے رہے گا اور ملک کے صدر کے خلاف ایوب۔۔۔ ہائے ہائے کے نعرے لگائے جائیں گے۔ دلائ کیمپ اور ایف ایس ایف بنائ جائے گی بھینس چوری کے مقدمے پر کوہلو جیل بھیجا جائے گا تو بیس روپے من آٹا کی صدا بلند ہو گی۔ عزت دار کی عزت اچھالی جائے گی غریب سے روٹی چھین کے اسے نفرت کی خوراک دی جائے اور عوامی نمائندے اپنی سیٹ بچانے اور اگلی بار ٹکٹ لینے کے لئے واہ واہ کرنے والے ہوں تو ان کی اگلی نسل ان سے بدتر آئے گی۔
ٹیکس کون دے گا جب سرکاری بنک اور کارپوریشن اربوں کے قرضے دیں گے اور معاف کر دیں گے۔
جب سرکاری محکمے اپنے منظور نظر لوگوں کو نوکری دینے کے لئے بنائے جائیں۔ جب وفاق میں ایک صوبے کو فوقیت ہو گی۔ تو حکمران کیسے دامن بچا پائیں گے؟

پارلیمانی جمہوریت میں شخصی حکومت نہی چلتی۔ ایوب خان اور بھٹو کے ادوار میں سیاست سے شرافت بھی نکل گئی.۔

اس تحریر کا اگلا حصہ اس لنک پہ

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اپنا راگ ————- نیلم ملک
next post
’’مجاہد انجینئر‘‘ اور خواہشات کا ٹکراؤ —— فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.