تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینکالمکھیل

پاکستان بھارت کا میچ اور بے پیادوں کی اوقات —– خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 20/06/2019
written by دانش ڈیسک 20/06/2019
201

کرکٹ ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ پاکستان بمقابلہ بھارت سولہ جون کو طے ہوا تواس اعلان کے ساتھ ہی سرحد کے دونوں طرف انتظار، جذبات اور ہیجان کا ایک عجب امتزاج دیکھنے میں نظر آنے لگا۔ اچھی بات یہ رہی کہ یہ میچ برصغیر سے باہر منعقد ہوا ورنہ اپنے لوگوں کے سامنے کھیلتے ہوئے دونوں ٹیموں پر بہت سا اضافی دباو بھی رہتا۔ بھارت اپنے ازلی دشمن کو ایک بار پھر ورلڈ کپ میں ہرا کر نہ صرف اپنی روایت برقرار رکھنے کی خواہش کے ساتھ میدان میں اترا بلکہ اب تو انتہا پسند بھارت کی ٹیم مسلمانوں اور بھی پاکستانی مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتری تھی۔ دوسری طرف پاکستان کے جذباتی لوگوں کی دعاوں اور تسبیحات میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی آتی چلی گی اور میچ کی ہر گیند کھیل کو کفر اور اسلام کی جنگ میں بدلتی رہی۔ اصل زمینی حقائق تو اس سے بہت زیادہ سخت اور مایوس کن تھے لیکن نرم لہجے اور کم سے کم الفاظ میں بس اتنا ہی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ خیرسے میڈیا والے میچ پر اپنے گرم تبصروں کے ساتھ مہنگے ترین اشتہارات دکھانے میں لگے رہے اور ورلڈ کپ کے اس مہنگے ترین اور سب سے زیادہ ناظرین والے میچ کے فیصلے سے بہت پہلے ہی لوگوں نے اپنے اپنے طور پر فیصلے سنانے شروع کر دئیے تھے۔ اپنی قومی ٹیم کے لیے طنز، گالیاں، مذاق اور مشورے تو ایسے بانٹے گئے کہ حیرت ہونے لگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اتنے ہی سادہ دل ہیں کہ لوگ ہمارا بے دردی سے استعمال کریں یا پھر جذبات کے ہاتھوں عقل بیچ کھائی ہے اور اب تماشہ گاہ میں خود تماشہ بننے کو تیار ہیں۔ نہیں سمجھے۔۔۔ تو کچھ سوالوں کے جواب سوچیں۔

سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین آخری کرکٹ سیریز کب ہوئی تھی؟ یہ بات تو اب اتنی پرانی ہو چکی ہے کہ سوچنے کے بجائے گوگل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین گزشتہ ایک عشرے سے کوئی کرکٹ سیریز کیوں نہیں ہوئی؟ عام سا جواب یہی ہے کہ انتہا پسند بھارت کا کرکٹ بورڈ اور سیاست دان ایسی کوئی سیریز نہیں ہونے دے رہے۔ لیکن پھر اگلا سوال یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ کی تو چلو منطق کسی نہ کسی طرح سمجھ لیں گے لیکن سیاست دانوں کا ایسی کسی سیریز میں کیا نفع یا نقصان ہے؟ تو اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ایک اور آسان سا سوال یہ بھی ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ اور سیاست دان جب دو ملکی سیریز کھیلنے کے حق میں نہیں تو ورلڈ کپ میں بھارت کیوں اور کس لیے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے میدان میں موجود تھا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت ورلڈ کپ میں کھیل سکتے ہیں اور ایشیا کپ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آسکتے ہیں تو پھر آخر ایک دوسرے کے ملک میں کھیلنے میں کیا پریشانی ہے؟ افسوس کی بات تو یہ بھی رہی کہ میچ شروع ہونے سے پہلے ہی لوگوں نے ذہن بنایا ہوا تھا اور فتوی تیار تھے۔ ہماری ایک اکثریت پہلے ہی مایوس اور نا امید تھی لیکن پھر بھی امید اور ناامیدی کے بیچ ایک پنڈولم کی طرح لٹک رہے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جیسے دنیا اب پہلے جیسی سیدھی سادی نہیں رہی ویسے ہی کرکٹ بھی اب بائیس کھلاڑیوں اور دو امپائروں کا کھیل نہیں رہ گیا۔ دعائیں، تسبیحات، سٹہ اور جوا تو پرانی بات ہوئی، اب کھیل کا پیسہ اور پیسے کا سارا کھیل رہ گیا ہے۔ کرکٹ کے سب سے بڑے میچ کو دیکھانے، اس میچ کے اربوں روپے کے اشتہارات، میدان میں اور ویسے عام بازاروں میں اس روز کروڑوں روپے کی کرکٹ مصنوعات کی فروخت ۔۔۔ یہ سب اس لیے کیوں کہ پاکستان اور بھارت ایک عرصے کے بعد ایک دوسرے کے مقابل آ ئے تھے۔ کاروباری افراد اس انتظاراور جذبات کو قیمت اور منافع میں بدلنے کا ہنر خوب جانتے ہیں کیونکہ کھیل اب میدانوں سے نکل کر سیاست کے ایوانوں سے ہوتا ہوا معیشت کے دلانوں اور میناروں تک جا پہنچا ہے، جس کے بعد کھلاڑی میدان میں کھیلے نہ کھیلے لیکن ناظرین ٹی وی اسکرینوں کے سامنے کسی کے ہاتھوں میں ضرور کھیل رہے ہوتے ہیں کیونکہ قومی جذبات کا معاملہ جو ہوتا ہے اور اسی حماقت میں ہم دوسروں کے کاروباری منافع کی وجہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ آئی سی سی، اشتہاری کمپنیاں اور مصنوعات والے سب کچھ کما کر لے جاتے ہیں اور سرحد کے دونوں طرف کے جذباتی لو گ میچ کے بعد رات ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہوئے سو جاتے ہیں۔

کھیل اب میدانوں سے نکل کر سیاست کے ایوانوں سے ہوتا ہوا معیشت کے دلانوں اور میناروں تک جا پہنچا ہے، جس کے بعد کھلاڑی میدان میں کھیلے نہ کھیلے لیکن ناظرین ٹی وی اسکرینوں کے سامنے کسی کے ہاتھوں میں ضرور کھیل رہے ہوتے ہیں

یقینا کوئی ایک آدھ شخص سوچ بچار کے بعد دور کی یہ کوڑی بھی لائے گا کہ اگر یہ سارا کھیل پیسے کا ہے تو پاکستان اور بھارت کے مابین سیریز سے بھی تو دونوں ملک اچھا خاصا کما سکتے ہیں، پھر یہ دونوں کیوں نہیں کھیلتے؟ یہ سوال کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک ایسے خطہ زمین سے ہیں جہاں اپنے مخالفوں پر ایف آئی آر درج کروانے کے لیے اپنے پیاروں کے پاوں اور پیٹ میں خود گولی ماری جاتی ہے۔ جہاں مخالفوں کے دروازے پر پولیس بلانے کے لیے اپنے گھر پر خود فائرنگ کرنا ایک عام سی بات ہے۔ ویسے ہی بھارت کی طرف سے پاکستان میں کرکٹ کے احیاء، ترقی کو روکنے اور کرکٹ بورڈ کی آمدنی پر ڈاکا ڈالنے کے لیے اپنے ساتھ دشمنی بھی ضروری ہو گئی ہے اور دونوں ممالک کے مابین کسی بھی سیریز کے نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ بھی ہے۔ یہ سیاست دان اور تبصرہ نگار بھلا اس عالمی سازش میں کیا مونگ پھلیاں بیچتے ہیں؟ لیکن اس میں پاکستان کرکٹ بورڈ، عوام اور سیاست دانوں کے سیاہ کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد خود پاکستان کو تماشہ بنانے میں ساری قوم کا ہاتھ رہاہے۔ حالیہ دنوں میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں بھی سری لنکن ٹیم کے کھلاڑیوں پر حملے ہوئے لیکن وہاں کے کرکٹ بورڈز، حکومت اور عوام کے بہترین ردعمل اور معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت نے نہ صرف انہیں ان حملوں کے بعد مزید باوقار بنایا بلکہ کسی بھی طرح کی پابندی سے بھی محفوظ رکھا۔ ہمارا کرکٹ بورڈ خود اپنے کھلاڑیوں کو صرف الزامات پر ہی نہ صرف ٹیم سے باہر کرنے بلکہ سزاوں کے لیے دوسروں کے حوالے کرنے میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے سیاست دان سندھ میں سندھ فیسٹیول کروا سکتے ہیں، اجرک ٹوپی کے میلے کروا سکتے ہیں لیکن پورے سندھ میں کہیں کرکٹ نہیں کروا سکتے۔ پنجاب والے گنیز ورلڈ ریکارڈ بنانے اور پنجاب فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کا سہرا اپنے سر سجانے کو تیار رہتے ہیں لیکن بین الاقوامی کرکٹ کے انعقاد کے وقت سیکورٹی خدشات لاحق ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ ہمارے محب الوطن عوام کے ہاتھ میں جب سے سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم آیا ہے، حب الوطنی کہیں تیل لینے چلی گئی ہے کہ سوائے چودہ اگست اور چھے ستمبر، ہمیں اپنے ملک کی یاد ہی نہیں آتی۔ کبھی کسی شخص نے اپنے ملک کی ایک اچھی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہم اپنی ٹیم کی خامیاں پر اتھارٹی ہیں اور ہمیں ۱۹۴۷ء؁ میں کھیلنے جانے والے میچ کی غلطیاں اور خامیاں بھی یاد ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اپنی ہی ٹیم میں کیڑے نکالنا ہمارا محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔۔۔ اسی وجہ سے بھارت سوا ارب بھارتی اور گیارہ کروڑ پاکستانیوں کی حمایت کے ساتھ میدان میں موجودتھا جبکہ پاکستانی ٹیم کے لیے دعائیں کرنے والے صرف چند لاکھ پاکستانی تھے، باقیوں کو پہلے ہی یقین تھاکہ۔۔۔۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ کرکٹ کے کھیل کی عالمی سیاست دیکھتے ہوئے ہمارے اٹھائے گئے سوالوں کے بارے سوچتے ہوئے کسی بھی میچ پر اپنے تبصروں اور تنقید کا جائزہ لیں۔۔۔ آپ تو پیادے کی اوقات بھی نہیں رکھتے تو پھر اتنا جذباتی ہونے کی کوئی وجہ۔۔۔ کھیل کو کھیل سمجھ کر دیکھیںکہ آپ کے اختیار میں بس اتنا ہی ہے،کیونکہ اسے سیاست اور معیشت سے جوڑنے والے خود آپ کا استعمال بہتر انداز میں کرنا جانتے ہیں۔۔۔ تو پھر تبصروں، شرطوںاور جذبات کے بجائے اپنی اوقات میں رہیں کہ آپ بے پیادہ ہیں۔

Facebook Comments Box
Cricketپاک بھارت میچکرکٹکرکٹ کھیلکرکٹ ورلڈ کپ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
یوسفی کا مزاح اور ان کا المیہ شعور —— عزیز ابن الحسن
next post
بوسہ ——— گلِ رخ کاظمی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.