تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

بیرمل کا نوحہ ——- ہارون وزیر

by دانش ڈیسک 14/06/2019
written by دانش ڈیسک 14/06/2019
101

دنیا میں بہت سی اقوام مختلف ممالک میں تقسیم ہیں جیسا کہ عرب، کشمیری، فارسی، پنجابی، ازبک، بلوچ اور اسی طرح دیگر بہت سی اقوام لیکن بیرمل کے لوگوں کی جو کہانی میں آج بیان کرنے لگا ہوں وہ ان سب سے مختلف اور دردناک ہے۔ بیرمل کی مثال اس درخت کی سی ہے جس کی جڑیں تو پاکستان میں ہیں لیکن اس کی شاخیں سرحد پار افغانستان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ بیرمل دراصل شمالی وزیرستان کا علاقہ ہے جو ڈیورنڈ لائن کے باعث دونوں ممالک میں منقسم ہے۔ یہ علاقہ انگور اڈہ سے لے کر لواڑہ دتہ خیل تک پھیلا ہوا ہے۔ اس انتہائی غیرمنصفانہ تقسیم کا شکار ایسے گھر بھی ہوئے ہیں جو آدھے افغانستان کی حدود میں ہیں اور آدھے پاکستان کی حدود میں۔ بیرمل کا ایک باپ جب اپنی جائیداد دو بیٹوں میں تقسیم کرتا ہے تو جائداد کی تقسیم کے باعث ایک بھائی افغانی بن جاتا ہے اور دوسرا پاکستانی۔ دونوں بھائیوں کے گھر ایک دوسرے کے اتنے نزدیک ہوتے ہیں کہ وٹا (پتھر) ماریں تو دوسرے گھر میں پہنچ جائے لیکن جب وہ ایک دوسرے کی خوشی یا غم میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو اس کیلئے سینکڑوں کلومیٹر کی مسافت طے کر کے جاتے ہیں۔ کبھی کبھار جب پاک افغان ٹینشن کے باعث بارڈر بند ہوجاتے ہیں تو چاہے سرحدی لکیر کے اس پار ایک بھائی کا جنازہ پڑا ہو، دوسرا بھائی اس جنازے کو دیکھ تو سکتا ہے لیکن اس میں شریک نہیں ہو سکتا۔

بیرمل کے لوگ اب بھی اس آس میں جی رہے ہیں کہ شاید یہ علاقہ پاکستان کو مل جائے۔ یا پاکستان اسے کسی نہ کسی طرح اپنے ملک میں شامل کرلے۔ اگرچہ سرحد پار بیرمل کے وزیر قبائل کے پاس بیک وقت پاکستانی اور افغانی شناختی کارڈز موجود ہیں یعنی ان کے پاس دوہری شہریت موجود ہے لیکن چونکہ ان کی بنیاد پاکستان کا وزیرستان ہے اسی لئے وہ پاکستان کو ہی اپنا گھر تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانی ان کو پاکستان کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ پچھلے کئی مہینوں سے افغان ملی اردو ان پر ظلم کے جو پہاڑ توڑ رہی ہے وہ بھی اسی بات کا نتیجہ ہے۔

بیرمل کے لوگوں کی کلائیوں پر بندھی گھڑیوں میں وقت بھی پاکستانی ہوتا ہے جب کسی ملی اردو والے کو ان کے ہاتھ پر بندھی گھڑیوں میں پاکستانی وقت نظر آتا ہے تو وہ ان کو کہتے ہیں کہ ہاتھ چاہیئے یا گھڑی۔ ظاہر ہے کون ہاتھ کٹوانا چاہتا ہے اسی لئے گھڑی اتار کر دے دیتے ہیں۔ پتہ ہے وہ گھڑی کے ساتھ کیا کرتے ہیں وہ اس گھڑی کو پتھروں سے مار مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ یہ ہے افغان ملی اردو کی نفرت کا عالم۔ بیرمل کے لوگ ایسی نفرت میں جی رہے ہیں۔ جانتے ہو بیرمل کے یہ لوگ کون ہیں؟ یہ اس قبیلے کے لوگ ہیں جن کی بہن کی شادی اگر کسی دوسرے قوم میں ہوجاتی ہے تو اس کے بچوں سے اس دوسری قوم کے لوگ اس ڈر کے مارے جھگڑا نہیں کرتے چے دا دا وزیرو خوریان دی (ان سے بچ کر رہو یہ وزیروں کے بھانجے ہیں)۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسے غیور لوگ آج اس غیر منصفانہ تقسیم کے باعث ایسی کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں۔

حکومت وقت سے درخواست ہے کہ جن کو آپ اپنا کہتے ہیں۔ جن کو آپ نے پاکستانی شناختی کارڈ دیا ہوا ہے۔ افغانستان میں رہ کر جن کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ برائے مہربانی ان کو اپنا سمجھیں۔ جس حد تک ممکن ہو ان کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔ ان لوگوں کو خصوصی درجہ دے کر ان کو انگور اڈہ اور لواڑہ دتہ خیل کراسنگ پر ان کو بلا روک ٹوک آنے جانے دیا جائے۔

اگر آپ کو ڈر ہے کہ ان کی آڑ میں افغانی گھس جائیں گے تو آپ کم سے کم ان کو تو آنے دیں جن کے شناختی کارڈز شواہ شمالی وزیرستان کے پتے پر آپ نے خود جاری کئے ہیں۔ اس طرح سے ان کو اپنائیت کا احساس دلائیے۔ ان کو جتائیں کہ ہم بھی آپ کو اپنا سمجھتے ہیں۔ ان کو اس شرمندگی سے بچائیں جو بارڈر بند ہونے کے باعث افغانی ان کو طعنے کی شکل میں دلاتے ہیں کہ دیکھ لو اپنا پاکستان جو آپ کو داخل بھی نہیں ہونے دے رہے ہیں۔

میری تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ میری آواز میں آواز ملا کر اس کو حکومت وقت تک پہنچانے میں میری مدد کریں۔ یہ بیرمل کے لوگوں کا قرض ہے ہم پر جو ہم نے چکانا ہے۔

Facebook Comments Box
beermalبیرملبیرمل قبایلپاک افغانفاٹاہارو وزیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قومی بجٹ بمقابلہ پرائیویٹ ملازمین —- لالہ صحرائی
next post
راستوں کا سفر (۲) —– فرح دیبا اکرم

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.