تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

میرا ہاتھ ریموٹ کے بٹن دباتے تھک گیا ہے —– قاسم یعقوب

by قاسم یعقوب 11/06/2019
written by قاسم یعقوب 11/06/2019
104

میرے ہاتھ میں ریموٹ ہے اور میں ایسے چینل کی تلاش میں ہوں جہاں مجھے امن و آشتی کی ہریالی نظر آئے جہاں راہ گیر، راہ داریوں میں کھلے پھولوں پر راہ چلتے باتیں کرتے ملیں، جہاں زندگی آسمان سے گرتی برف کی طرح اُجلی اورچاند کی طرح ٹھنڈی ملے مگر افسوس میرا ہاتھ ریموٹ کے بٹن دباتے تھک گیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اشفاق احمد نے کتنی آسانی سے کہہ کے اپنا کام نپٹا دیا تھا کہ اس قوم کو پڑھے لکھوں نے تباہ کیا ہے۔ کیا اس میں صداقت بھی ہے یا محض یہ ایک ’’دانش بھری‘‘ حکایت ہے۔

کمبوڈیا کا حکمران ’’پول پارٹ‘‘ کتنا سفاک اور نااہل تھا۔ جس نے اپنے دورِ اقتدارکو پہلے طویل جدوجہد کے بعد ملک کی قسمت سنوارنے کے بہانے حاصل کیامگر ظلم و بربریت کامرکزبنادیا۔ جس نے عالمی بھوک کے امتیازات ناقص غذائیت، ملیریا، متعدی امراض اور قحط جیسی صفات کو اپنے شہریوں کے لیے دریا دل کی طرح نوازا۔ ’’پول پاٹ‘‘ 1920 میں پیدا ہُوا۔ اس نے بدھ خانقاہوں اور رومن کیتھولک سکولوں میں تعلیم پائی مگر مذہبی فکر نے اُس کو گداز نہ کیا بلکہ وہ عجیب طرح کا ظالم شخص بنتا گیا۔ فرانس میں جا کر کمبوڈین قوم پرستوں کے ساتھ مل کر اپنے ملک کمبوڈیا میں انقلاب لانے کا منصوبہ ساز بن گیا۔ 1953میں وطن واپس آ کر وہ بارہ سال تک’’ کمبوڈین کیمونسٹ پارٹی‘‘ کی تشکیل کر تا رہا اور بالاخر1975ء میں اُس نے ’’لون نال‘‘ کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا اور یوں اُس کا ایک خواب تو پورا ہوگیا۔ مگر اُس کی یہ ساری جدوجہد کس لیے تھی؟ اسی سفاکی و بربریت کے لیے؟ اسی بھوک کی تعلیم کے لیے؟ اور اسی امن و آشتی کے قتل عام کے لیے؟ ’’پول پاٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے دانستہ ملک بھر میں خودکشی کی تحریک چلا دی تھی۔ اپنے ہی ملک کی ایک چوتھائی آبادی کو قتل کروادیا۔ اُس کی تنظیم ’’کھیمروج‘‘ کے کارکن اُس کی حکم کی تعمیل ایک پیغمبر کے احکام کی طرح کرتے۔ وہ اپنے خلاف اُٹھنے والی مزاحمتوں کو کچلنا جانتا تھا۔ مگر ظلم آخر کتنی دیر قائم رہ سکتا ہے۔ یوں ویت نام کی مداخلت سے اس ظالم حکمران سے نجات مل گئی۔ ویت نام کی فوجیں جب کمبوڈیا میں داخل ہوئیں تو یہ اپنی قوم اور تنظیم کو چھوڑ کر بھاگ گیااور اسی روپوشی کی حالت میں 1997میں دل کے دورے کی وجہ سے مر گیا۔

میں کبھی کبھار ’’پول پاٹ‘‘ کو اپنے ملک کے تناظر میں دیکھتا ہوں تو مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ ہمارے حاکم تو اتنے ظالم نہیں تھے اور نہ ہی کسی حاکم نے اتنی تگ و دو کر کے اقتدار حاصل کیا ہے۔ کبھی کوئی ملٹری کے سہارے آدھمکا ہے تو کوئی کسی کی ناہلی کے بہانے خود کو پیش کر کے اقتدار یا سیاست کے ایوانوں میں پہنچ گیا ہے۔ کمبوڈیا اور پاکستان کے حالات میں بہت فرق ہے مگر افراتفری اور نفاق کا منظر نامہ تقریباً ملتا جلتا ہے۔ یہاں بھی بھوک بڑھ رہی ہے۔ نفاق گھر گھر منتقل ہو رہا ہے اور کٹی لاشوں نے قوم کے ہر فرد کویوں بے حس کر دیا ہے کہ کسی تبدیلی کا پیش خیمہ اندر سے بنتا نظر نہیں آتا۔ مگر کچھ فرق بھی ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ظلم و بربریت یا قتل و سفاکی کی بجائے ’’بے حسی‘‘ جیسی کیفیت کو اپنے اوپر طاری کر لیا ہے۔ یہ’’بے حسی‘‘ جسم سے نکلنے والے خون کی طرح بن گئی ہے جس نے بدن کو اتنا لاغر کر دیا کہ اب اتنا لہو بھی موجود نہیں کہ لمبا سانس کھینچا جا سکے۔ مجھے اس ’’بے حسی‘‘ اور غیر ذمے داری کا ادراک روزانہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات سے ہوتا ہے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ میں خود بھی ’’بے حسی‘‘ کی کسی اوپر والی سطح پر پہنچ گیا ہوں۔ روز کا حساب روز شام تک ادا کر کے اگلے دن کے لیے نکلو۔ ’’رات گئی___بات گئی‘‘ ہم روزانہ کتنے ہی سانحات سے گزرتے ہیں مگر رات ختم ہوتے ہی وہ واقعہ اپنی ’’وقعت‘‘ کھو دیتا ہے اس لیے نہیں کہ ہم میں دم نہیں کہ اُس کے لیے نوحہ گری کر سکیں بلکہ اگلے دن کا سانحہ ہمارا استقبال کرنے کو کھڑا ملتا ہے۔

زندگی کش اور زندگی آموز لمحات! ہم نے انہی دو انتہائوں کے درمیان گھومتے رہنا ہے۔ کیوں کہ ہم بے حس ہو چکے ہیں۔ زندگی ہمیں بلاتی ہے تو موت کی دروازے پہ دستک ہو جاتی ہے۔ پھر موت کے منہ سے زندگی کشید کرنے کے جتن شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم ’’بے حسی‘‘ کی اس سطح پر ہیں جہاں ایسے واقعات محض ’’باتیں‘‘ رہ جاتی ہیں۔ آئے روز لاشوں کے انبار سرِ راہ پڑے ہمارے اجتماعی قومی تشخص پر طعنہ زن نظر آتے ہیں مگر ہم ’’بے حس‘‘ اپنی آنکھیں بند کر کے گزر جانے میں ہی آفیت محسوس کرتے ہیں۔ فرقوں، نظریوں اور انایت کے بھرم پر گولیوں سے چھلنی لاشے بھی پکار کر قومی غیرت کی عدم دستیابی کا واویلا مچا رہے ہیں مگر کیا کیا جائے !کیوں نہ خاموش ہو کر اپنے زندہ اور سلامت جسم کا ورد کیا۔

ہم اس صورتِ حال کا شکار کوئی ایک دم نہیں ہوئے۔ ہمارے درمیان کوئی ’’پول پاٹ‘‘ نہیں تھا جو کئی سال ’’کھیمروج‘‘ پارٹی پر کام کرتا رہا ہوں اور ایک دم تباہی کے دہانے کھول گیا ہو۔ ہم سب نے ایک ایک کر کے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اب اس گنجل کو کھولنا کوئی آسان نہیں۔ تعلیم پر توجہ دی جائے گی تو صحت ہاتھ سے جاتی ہے۔ سڑکیں تک ہم پوری نہیں بنا سکے۔ ماس ٹرانزٹ اب کہیں جا کے ہمارے ملک میں بچھا ہے۔ جب کہ دنیا میں اسّی کی دہائی میں یہ سہولتیں موجود تھیں۔ ہمارے دیہات ابھی تک پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ بجلی نہیں پوری۔ دریاؤں میں پانی ہے مگر ڈیمز نہیں۔ پہاڑوں میں سونا پڑا ہے مگر ہمارے پاس وہ ’’عینک‘‘ نہیں جس سے ہم اُسے پہچان سکیں۔ دہشت گردی، بھوک، معیشت، صوبائیت، کرپشن، فرقہ واریت، بیرونی مداخلت، کھلے بارڈرز، بیروزگاری اور پھر سب سے بڑھ کر بہ حیثیت قوم اخلاقی گراوٹ____ یہ مسائل ایک دم پیدا نہیں ہوئے، دہائیوں سے ہم ان کو ’’گنجل‘‘ کرتے آئے ہیں اور اب دھاگہ دھاگہ کھول رہے ہیں۔ ایک دھاگہ کھلتا ہے تو چار اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک دم نہیں بنی اور نہ ہی اس میں صرف سیاست دان ہی شامل تھے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ، ہماری طاقت ور اشرافیہ، تعلیم یافتہ، اساتذہ، انجینئر، جج اور ہم عام لوگ بھی اس میں شامل رہے ہیں۔ اشفاق احمد کہتے رہے کہ اس ملک کو پڑھے لکھے لوگوں نے نقصان پہنچایا۔ سچ مانیے کہ اس تباہی میں حصہ پوری قوم نے ڈالاہے۔ کیا دانش ور اورکیا حاکم، کسی نے بھی رُک کر مجموعی حالات کا جائزہ لے کر منظر نامہ بدلنے کا نہ سوچااور حالات اب کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہے۔ آئیے اب سب اپنی اپنے تئیں اس ذمے داری کو اٹھائیں اور کوئی راہ نکالیں۔ ورنہ دیر ہو جانے کا بہانہ تو ہمارے پاس ہے ہی___

Facebook Comments Box
بے حس قومبے حسیپاکستانی قومقاسم یعقوب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
قاسم یعقوب

previous post
جملے بازی کی تکلیف ——- عزیز ابن الحسن
next post
ننواتے اور جرگہ ——- جاوید حسین آفریدی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.