تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسماجیعلم و ادبکالم

خود نالائقی —– راو جاوید کا انشائیہ

by دانش ڈیسک 04/06/2019
written by دانش ڈیسک 04/06/2019
72

خؤد ستائش، خود پرستی اور خود اذیتی کی طرح سے خود نالائقی بھی ایک عمل ہے۔ بڑے ہی لائق و قابل لوگ ایسے عوامل سے اکثر گزرتے ہیں۔ لیکن افسوس ہم پر جنہیں اس راہ سے گزرتے ہوئے دہائیاں بیت گئی ہیں۔ نالائق نہیں لیکن خود کو نالائق ثابت کرتے ہیں۔ کام کرنے کے قابل ہیں اور حالات کے جبر تلے تمام کام کرجاتے ہیں لیکن روز مرہ کے معاملات میں خود کو درست رکھ کر کام نہیں کرسکتے یا کم از کم مکمل کام نہیں کرسکتے۔ ذاتی کاموں میں جہاں تہاں کوشش کریں گے کر گزریں گے لیکن جیسے ہی اجتماعی کاموں کا ذکر آئیگا، فورا” الٹی چھلانگ لگائیں گے۔ غلط رستہ اپنائیں گے۔ درست طریقہ کار سے کم از کم دور ہی رہیں گے۔ پھر سب سے بڑا المیہ یہ کہ ایک دفعہ کی ٹھوکر بعد دوسرے خطرے اور ٹھوکر نیاز بیگ، دونوں سے بچیں گے۔ تاعمر پہلو بچائیں گے، جیسے چھوٹے بچے جلتے توے سے دور ہی رہتے ہیں۔ (بچیوں کی مجبوری ہوتی ہے)۔ پھر دوسرے تجربے سے پہلے ہی ضروری ہے کہ خود کو عضوِ معطل بنایا جائے اور خود ہی کو نالائق ثابت کیا جائے۔ اگر آپ ایسا نہ کرسکیں ت معاشرہ آپکو خود نالائقی پر مجبور کرتا رہتا ہے۔ آپکی پچھلی تمام نالائقیوں کی یاد دہانی تاعمر کراتا رہتا ہے۔ ساتھ میں یہ ضروری ہے کہ بچوں کو نالائق بتلایا جائے اور تمام معاشرے کو جمود کا شکار بنایا جائے۔ اس کے بعد یہ حتمی فرمان جاری کردیا جائے کہ یہ معاشرہ بانجھ تھا۔ اس کیساتھ ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا۔

مشرف سے قبل یہی معاشرہ تھا اور یہیں تھا۔ اب عمران کے ساتھ تبدیلی امنڈتی چلی آرہی ہے۔ لیکن یہی سماج تھا۔ ایسی ہی صلاحیتیں تھیں۔ انہی سے کام لیکر اریب قریب کے تمام معاشروں نے وہ کچھ کردکھایا جسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ نہیں ہونا تو مسلم معاشروں کے اندر سے کچھ بھی نہیں ہونا۔ ایران نے پچھلے دنوں ایف 5 طیارہ بنایا۔ یہ جنگِ عظیم دوم کا سا جہاز ہے۔ سبحان اللہ۔ پاکستان کو چھوڑیئے لیکن باقی مسلم ممالک ایسا بھی نہیں بناسکے۔ ایسے جہازوں کیساتھ یہ امید ہے کہ ہم امریکی ایف 35 کیساتھ ٹکرا جائیں گے۔ ماشاء اللہ و سبحان اللہ۔ ایف 35 گریں گے، ضرور گریں گے، لیکن اس سے ہمارے چڑی باز کبھی داد نہیں وصول سکتے۔ اس کے علاوہ باقی معاملات میں بھی وہیں کے وہیں ہیں جہاں سے چلے تھے۔ جب کبھی غنیم کیساتھ مقابلہ بازی میں دو قدم آگے بڑھتے ہیں تو ساتھ والا ہمیں چار قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ خود کبھ چار قدم آگے نہیں بڑھتا۔ یہ کس کے حکم سے ہے؟ تہذیب یہی سکھلاتی ہے۔

خود نالائقی کی ایک حد ہے۔ لیکن ہمارے یہاں نہیں ہوتی۔ جب تک خود نالائقوں کو اہلِ حرفت سے پوری طرح سے پالا نہ پڑے، اور اہلِ ہمت کی جانب سے مکمل شکست کا سامنا نہ ہو، یہ سوئے رہیں گے۔ جیسے کبھی جاگے ہی نہیں تھے۔ نوابانِ عالم، طرم خانانِ دوراں، شاہانِ شہِ زماں کسی کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ جب کچھ نہیں کرتے تو کچھ نہیں کرتے لیکن لیٹے میں نعرہء مستانہ ضرور بلند کرتے ہیں۔ ارے مدِ مقابل۔ ۔ ۔ تمہارا حال ہم پوری طرح سمجھتے ہیں اور تمہیں کیا تمہارے باپ دادا کو بھی ہم نے سیدھا کیا تھا۔

کون انہیں آگے بڑھاتا ہے؟ کون انکی چابی گھماتا ہے؟ لیکن کون ایسا کرسکتا ہے؟ خود سے تو کبھی ایسا نہ ہؤا۔ مسلم ممالک کے تمام ایچ پیچ تو ڈھیلے کرڈالے ہیں۔ لیکن ساتھ میں کچھ نئے عوامل بھی ضرور وارد ہوئے ہیں۔ ایک تو ہر ایک خود کو بالکل درست اور باقی تمام کو بالکل غلط قرار دینے میں طاق ہوگیا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ مشاق و لائق و مطمئن۔ دوسرے کو غلط سمجھنے ہی نہیں ایسا قرار دینے میں یقین کامل حاصل ہوچکا ہے۔

 دوسرا یہ یقین کہ ہم ہی جیتں گے۔ کل ہی ہارے۔ ایک میدان میں بھی، دوسرے میں بھی اور تیسرے میں بھی، پھر اوپر تلے بغیر وقفے و توقف کے۔ ہرانے والے نے ہمسائے کے بالک کو بھی آپکے خلاف کیا تھا اور وہ ابھی تک خلاف ہی چلاآرہا ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے اگلے میدان کی تیاری نہیں کی۔ لیکن مقابلے کی تاریخ ہم دے چکے ہیں۔ اب تیاری کیلئے خود سے کچھ ہونا ناممکن ہے اور ہم تیاری نہ کررہے ہیں اور نہ ہی کوئی تیاری کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ بھائی خدا کیلئے کچھ کیجیئے۔ واللہ کچھ ہاتھ پاؤں ہلایئے اور کچھ کام کرنے دیجیئے۔ خود سے ہونے والے عوامل میں بھی کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑتا ہے۔

ہمارے دادا قائد عظیم تھے۔ انہوں نے اپنے دادا قائد کے بغیر سب کچھ سمجھا اور کردکھایا۔ اجی تسلیم آپ اور آپ کے دادا قائد تو عظیم تھے لیکن آپ کی اولاد کا کیا ہوگا جنہوں نے آپکے ہاتھوں پرورش پائی۔ آپ کے ہمسائے کا کیا بنے گا جہاں سے آپکا تعارف تمام دنیا میں جاتا ہے۔ جنابِ من آپکے شہر کی دھوم تمام دنیا میں ہے۔ کون اس کا نام اندھیروں سے اجالے گا۔ آپ زندہ باد ہیں لیکن آپ کے بعد مردنی چھانے والی ہے۔ آپ کے کارناموں کے نتیجے میں وہ تمام احساسات و انکشافات و تنویرات دنیا بھر میں منتقل ہوئی ہیں جہاں سے بارہا دنیا نے فائدہ اٹھایا اور اب وہ شجرِ ممنوعہ ہیں۔ مزید کیلیئے وہ ہماری راہ تک رہے ہیں۔ آخر پابندیوں کیلئے کچھ بنیاد چاہیئے ہوتی ہے۔ آپ نے فراہم کروادی۔ اب مزید کیلئے خدارا رحم کیجیئے۔ دنیا مزید پابندیوں کی روادار نہیں۔ مزید ایسی شہادتیں فراہم مت کروایئے۔ وگرنہ یہ دنیا اور نہ ہی ہمارے ممالک بچیں گے۔ یہ پابندستان بن جائیگا۔

ہمارے چند محترمینِ عظام کام کرنے پر تیار ہوئے ہیں، یہ معجزے سے ذرا ہی کم ہے۔ لیکن خدا جانے انہیں کب دوبارہ سے بریک لگ جائے۔ ابھی کچھ کام کیا ہے۔ بھلے الٹی سمت سے کیا اور ابھی تک کئے جارہے ہیں، لیکن کچھ کررہے ہیں۔ خطرہ ہے کہ اس سے بھی باز نہ آجائیں۔ کون انہیں دوبارہ سے سٹارٹ کریگا۔ خود آغازی کا تو عمل تھا ہی نہیں۔ ہمیش دھکاغاز رہے ہیں۔ لیکن کسی کو کام کرتا دیکھ کر یقینا روکنے میں طاق ہیں۔

یہ خود نالائقی ہمہ صفت ہے۔ ہم کوئی کام کسی پر نہیں چھوڑتے۔ تمام کام خود ہی کرنا ہیں۔ دوسرے کا کام بھی پسند نہیں۔ دخل بھی پسند نہیں۔ ایسے میں خدا جانے کیسے بہتری ہوگی۔ کون بہتری کرپائیگا اور کیسے کرپائے گا۔
 کسی بھی کام کے خود سے ہوجانے پر غصے میں آجاتے ہیں۔ یہ کیسے خود سے ہوگیا۔ کل ہمسائے کا بچہ کھڑے کھڑے ہنس پڑا۔ یہ خود سے کیوں ہنس لیا۔ پرسوں ایک صاحب نے خود سے گلی میں سے بکھرے پلاسٹک کے تھیلے اٹھا دیئے۔ اسے کس نے اجازت دی۔ جی ہاں۔ ہمارے سیانوں کے ہاں اچھے کام کیلئے اجازت ضروری ہے۔ اس کیلئے گلی کے تھانیدار سے پوچھنا پڑے گا۔ ایک صاحب نے کسی کو اسلام کی ایک کتاب دیدی۔ یہ صاحب نیکی کی دعوت دے ہے ہیں۔ یقینا کچھ مشکوک معاملہ ہے۔ جب تک مکمل پوچھ پرتیت نہ ہوجائے، اچھا کام ہمیش غلط ہوگا۔ لیکن غلط کام کی بے تحاشا مثالیں ہیں اور اسکی توجیہات بھی ہیں۔ الٹے ہاتھ سے آنا درست ہے جب تک حادثہ نہ ہوجائے یا پولیس والا نہ پکڑ لے۔ کم تولنے کی مکمل اجازت ہے۔ جو نہیں تولتا، اس کیلئے مسائل ہیں۔ انکے مخالف کو پورا تول دینے والا سازشی ہے۔ شیشی سمیت مکمل وزن آدھ کلو ہے۔ بہت سمجھایا کہ بھائی خالص سامان کا وزن آدھ کلو ہونا چاہیئے۔ اب جب تک محکمہ میں پیشی نہیں ہوجائے گی، تب تک اطمینان نہیں ہوگا۔

تمام راستے بند کرنا اور کام خراب کرنا بھی ہم پر ختم ہے۔ جہاں رہتے ہیں، وہ گلی ہی بند ہے۔ جس راستے سے گزریں گے، وہاں ٹریفک جام ہوگا۔ جب یہ شہر کے مئیر بنیں گے تو ملک میں سے جمہوریت ختم اور مارشل لاء ہوگا لیکن جب یہ ایم پی ہوگئے تو بلدیاتی نظام کبھی نہیں آئیگا۔ جب یہ ہنسیں گے تو باقی روئیں گے۔ یہ شرط ہے۔ یہ جب روئیں گے تو باقی ہنس بھی نہیں سکتے۔ خدارا ایسی کیسی شخصیت ہوئی۔ اب انہیں دیکھ کر یہی رواج عام ہورہا ہے۔ بالکل الٹ۔ ضرورت کے عین الٹ۔ پانی ٹھیک آرہا تھا۔ ارے یہ صاف پانی کیوں آرہا ہے۔ اگلے دن سے خراب۔ بدبودار اور متعفن۔ یہ گلی صاف ستھری ہے؟ ارے یہ کیوں۔ آخر کو محکمے والے آگئے۔ یہ گلی دوبارہ بنے گی۔ اب وہ اکھاڑ گئے ہیں۔ تعمیر خدا جانے کب ہوگی۔

ملک کا ملک اکھاڑ چھوڑا ہے۔ بنانے نہیں دے رہے۔ تمام نظام الٹا کر رکھ دیا ہے لیکن سمجھنے اور سمجھانے کا نام ہی نہیں۔ لوگ بیروزگار ہوئے جاتے ہیں لیکن روزگار کیلئے نئے کام کا بندوبست نہیں۔ پھر جہاں خود سے روزگار ملنا شروع ہوجائے وہاں پکڑ دھکڑ شروع کردیتے ہیں۔ ارے خدارا لوگوں کا ستیاناس ہوجائیگا۔ لیکن بس ایک سوئی کے نکے سے داخل ہوں تو ہوں وگرنہ درستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اجی آپ نے کام شروع کیا ہے تو ہماری شامت آگئی ہے۔ خدارا پھر سے سوجائیے۔ خود شبی طاری کیجیئے۔ خود نومی کے عادی ہوجایئے۔ جب غلط کام کرنا ہو تو خود نالائقی طاری کیجیئے۔ خدا کیلیئے۔

بڑے صاحب سے گزارش کی تھی۔ جہاں تک پہلے والوں نے چھوڑا تھا، جہاں باقی قوم پہنچ گئئ تھی، اس سے آگے شروع کرلیں۔ آپ کے پاس سو طریقے ہیں۔ لیکن جناب مکمل اکھاڑیں گے۔ مکمل اکھاڑ ہوگی۔ مکمل اکھاڑ میں خدا جانے ایک دہائی صرف ہوگی یا دو۔ یا اس سے بھی زیادہ۔ مکمل خالی کرنا شرط ہے۔ ایسے ایسے آزمائشی نسخے ہیں، جنہیں آزما کر یقین کرلیتے ہیں کہ ابھی تک اکھاڑ مکمل نہیں ہوئی۔ یہ تمام آزمائشی نسخے جب تک آزمائے جائیں گے، یہی نتیجہ نکلے گا۔ نہ آزمائشی نسخے ختم ہونگے اور نہ ہی درست جواب آئیگا۔ بس خدا جانے کب یہ قصہ ختم ہوگا کہ کام شروع ہو۔ اب اگر انکے نسخے وہی ہیں، تو جب تک یہ رہیں گے، تب تک یہی سلسلہ رہیگا۔ خدا انہیں لے جائے تو نیا کام شروع ہو۔ نئی نسل صفر سے شروع کریگی؟ یا خدایا۔ رحم۔ کچھ تو بنیاد فراہم کریں۔

یہ خود نالائقی ہمہ صفت ہے۔ ہم کوئی کام کسی پر نہیں چھوڑتے۔ تمام کام خود ہی کرنا ہیں۔ دوسرے کا کام بھی پسند نہیں۔ دخل بھی پسند نہیں۔ ایسے میں خدا جانے کیسے بہتری ہوگی۔ کون بہتری کرپائیگا اور کیسے کرپائے گا۔ جلد یا بدیر کچھ نہ کچھ حل تو نکلے گا۔ لیکن تب تک ہما شما کہاں ہونگے۔

Facebook Comments Box
خود نالائقیسستنالائقنالائق قومنالائقی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایوب ——– رشید احمد صدیقی
next post
’’کشمکش‘‘  ایک تاریخی دستاویز ——- غازی سہیل خان

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.