تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

 محبت میں محبت کی کمی ہے —– فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 21/05/2019
written by دانش ڈیسک 21/05/2019
122

ہر سال ہی 14 فروری اپنے ساتھ عجیب مناظر لے کر آ جاتا ہے۔ سرخ گلابوں سے لے کر کیک تک اور پرفیوم سے لے کر مہنگے فونز تک ہر نوع کے تحائف کی بکری بڑھ جاتی ہے۔ اس دن جو کچھ ہوتا ہے اس کی تفصیلات میں جانا راقم ضروری نہیں سمجھتا اور شائد بہت سے ثقہ قسم کے لوگوں کے منہ کا مزہ بھی ان تفصیلات سے بگڑ جائے۔ بس قصہ مختصر یہ کہ اس دن ”حسب ذائقہ“ محبت کی جاتی ہے۔

مگر یہ تو ایک خاص دن ہے ورنہ ”محبت“ کرنے والے اکثر پارکنگ لاٹس، پارکوں اور کونے کھدروں میں نظر آ ہی جاتے ہیں۔ پھر دوستوں کے فلیٹ بھی اکثر و بیشتر کافی کام آ جاتے ہیں۔ اس ”محبت“ کی فضا میں پچھلے 15 سالوں میں بڑی ترقی ہوئی ہے۔ سماج کو فلموں، ڈراموں وغیرہ سے بنے بنائے سوچنے کے سانچے اور عمل کے نمونے مل جاتے ہیں۔ لڑکے لڑکیاں بڑی تیزی سے اور تجسس سے ہر نئی چیز کو سیکھ کر تجربے کرنے لگتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی سب تو محبت ہے، بقول سلم احمد…

لوگ کہہ دیتے ہیں ہوس کو بھی محبت
جیسے نام پڑ جائے مجاہد کسی بلوائی کا

مگر اس ”محبت“ کی ریل پیل میں محبت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے بلکہ کیا کیا ہو رہا ہے وہ اپنے اندر ایک عبرت کی داستان ہے۔ ایسی عبرت کی داستان جو کسی کو تو لکھنی ہے۔ چلئے لکھتے ہیں۔ عموماً لڑکے ہی لڑکیوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ پھر سماجی رابطے کی ویب سائٹوں کی برکت سے بڑی آسانی سے تعلق استوار ہوتا ہے، پھر اظہار محبت ہو جاتا ہے، لڑکے کو لگتا ہے اس نے ایک اہم قلعہ فتح کر لیا، لڑکی کو بھی لگتا ہے کہ اس کو بھی توجہ مل ہی گئی۔

اب یہ دونوں ہر وقت فون اور سماجی میڈیا کے مختلف ذرائع پر جڑے رہتے ہیں۔ عموماً لڑکیاں ہر وقت لڑکوں سے توجہ کی طالب رہتی ہیں جب کہ لڑکے ہر وقت ایک اور ہی دھن میں رہتے ہیں۔ لڑکیاں توجہ حاصل کرنے کے لئے یا اس محبت کے تصور کی وجہ سے جو میڈیا پر دیکھ دیکھ کر وہ پل رہی ہیں، لڑکوں کے مطالبات پورے کرنے لگتی ہیں اور یوں ہر چیز کا تجسس بڑی تیزی سے ختم ہو جاتا ہے۔ پھر شادی ہو بھی تو کوئی چارم، کوئی کشش، کوئی اسرار رشتے میں رہتا نہیں۔ محض بوریت، بے کیفی اور اکتاہٹ ان رشتوں میں شادی کے ایک آدھ ماہ بعد ہی جھلکنے لگتی ہے۔

مگر اکثر تو شادی تک ایسے رشتے پہنچنے پاتے ہی نہیں۔ رس چوس کھا کر عموماً بھنورا اڑ جاتا ہے۔ پھر جو سہرا لگا کر آتا ہے بے چارہ وہ اکثر شب زفاف کے بعد دل میں کئی سوالات لے کر کچھ تجربہ کار بڑے بھائیوں (جن سے اتنی بے تکلفی ہو) یا دوستوں کے پاس دوڑتا ہے مگر آج کل تو ہر چیز چھپانے کے اوزار بازار میں دستیاب ہی ہیں، پھر لوگ دل کو یہ سوچ کر بہلا لیتے ہیں کہ دنیا مکافات عمل کا نام ہے۔

مگر یہ سب تو شائد آج کل کی محبتوں کے سامنے کے، بڑے ظاہری قسم کے معاملات ہیں۔ بات تو یہ ہے کہ جو لوگ محبت کی قسمیں وعدے کرتے نہیں تھکتے، وہ کیسے ایک دوسرے سے بعد میں گھناتے رہتے ہیں۔ کیسے یہ محبت کے وعدے ہر معاشی دباؤ میں، ہر بیماری میں، ہر قسم کے بحران میں کھل کر سامنے آ جاتے ہیں؟

راقم ایک ایسی خاتون سے واقف ہے جو اپنی شادی کے بعد عرصے تک بچہ پیدا کرنے پر اس لئے تیار نہ تھیں کہ ان کے شوہر کی تنخواہ محض تیس ہزار تھی اور وہ سوچتی تھیں کہ ایسی صورت میں بچہ پیدا کرنے سے بہتر ہو گا کہ وہ طلاق لے لیں اور کسی بہتر معاشی حالت والے لڑکے کو تلاش کریں۔ یہ شادی بھی ماشاء اللہ محبت کی شادی تھی۔

ویسے بات شادی تک جاتی ہے تو بہت سے لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ یہ لوگ سوچتے ہیں کہ محبت اور شادی دو جدا چیزیں ہیں۔ ایسے لوگ سلیم احمد کے بقول عموماً ”آدھے دھڑ کے بھوت“ہوتے ہیں۔ ان”کسری“ شہزادوں اور شہزادیوں کے سر پر جو بھی سوار ہو، مگر بات یہ ہے کہ زندگی کو ٹکڑوں میں نہیں بانٹا جا سکتا، زندگی ایک اکائی کا نام ہے، اس اکائی میں خانے نہیں بنائے جا سکتے۔”محبت“ نہ تو فلٹریشن ہو سکتی ہے نہ محض چوما چاٹی۔ یہ جسم اور روح کی دوئی بھی وکٹورین عہد میں ہم اہل مشرق نے مغرب سے سیکھی ورنہ ہمارے یہاں تو روح اور جسم بھی جدا نہیں۔ محبت جسمانی، روحانی، جذباتی یا عقلی نہیں ہوتی۔ محبت بس محبت ہوتی ہے، یہ وہ وقت ہے جو قوت حیات بھی ہے اور انسان اور انسان، انسان اور کائنات کے سب سے خوبصورت رشتے کا نام بھی ہے۔ اور مجھے کہنے دیجئے کہ انسان اور خدا کا رشتہ بھی صرف محبت کا ہی ہے۔ اور جب محبت کے دعوؤں سے بھی محبت ختم ہو جائے تو کیا قیامت ہو گی؟ بقول شاہنواز فاروقی۔۔۔

جدائی سے بھی زیادہ جان لیوا۔۔۔محبت میں محبت کی کمی ہے
اور….
یہ عالم آتش ِدل کا
کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو
تو مشکل ہو!

حقیقت میں محبت مر رہی ہے، محبت مر چکی ہے اور اس کی لاش کی ممی بنا کر یہ سماج اس کی نمائش میں بڑے زوروں سے لگا ہے۔ یہ پھو ل، گل دستے، پرفیوم، یہ فیس بک، واٹس ایپ وغیرہ….

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں
بات کرنے کے بہانے ہیں بہت
آدمی کس سے مگر بات کرے؟
بات جب غایت غایات نہ ہو
اور تقریب ملاقات نہ ہو
آدمی سوچتا ہی سوچتا رہ جاتا ہے

(ن م راشد)

Facebook Comments Box
farhan kamraniفرحان کامرانیمحبت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
معیشت کی ناکامی: پروپیگنڈہ یا حقیقت —— عاصم چوہدری
next post
اسلم کولسری ——— شہزاد وریا

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.