تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمعلم و ادبکتابوں پر تبصرےنایاب کتب

ایسٹ انڈیا کمپنی اور مذہب (۱) ——– تلخیص و ترجمہ: صابر علی

by دانش ڈیسک 18/05/2019
written by دانش ڈیسک 18/05/2019
183

The East India Company and Religion: 1698-1858, by Penelope Carson

یہ مضمون مذکورہ بالا کتاب کی مترجم تلخیص ہے۔ میں نے ترجمہ کو ترجمہ ہی رہنے دیا ہے، تشریح نہیں کی یعنی تلخیص میرے الفاظ میں نہیں بلکہ کتاب کے منتخب جملے اور پیرے ہی ترجمہ کیے گئے ہیں۔ امید ہے دانش کے قارئین اسے مفید پائیں گے۔ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیجئے۔ مترجم


ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ کی ہندوستان پر تجارت و حکومت اور کمپنی اور مذہب کی کہانی مشنری کے کردار کے بغیر ادھوری ہے۔ مشنریوں کے متعلق پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا ہندوستان جانا بہتر تھا یا نہیں۔ تاہم اس سوال سے یہ سوال لازماً پیدا ہو گاکہ ایسٹ انڈیا کمپنی یا برطانیہ بھی ہندوستان کیوں گیا۔ مشنری مرد و خواتین تو اس لیے ہندوستان آئے کہ اگر ہندوستانیوں کو عیسائیت کی تعلیمات نہ پہنچائی گئیں یعنی عیسائی نہ بنایا گیا تو وہ روحانی اور مادی طور پر ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ ایونجلیکل فرقہ یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ اگر وہ خدا کا کلام پوری دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے تو خداوند ان سے اس بارے میں باز پرس کرے گا۔ مشنریوں نے ہندوستان میں بہت تکالیف اٹھائیں، بیماریاں جھیلیں، مر گئے اور بیوی بچوں سے بچھڑ گئے۔ انہوں نے کمپنی اور حکومت سے لڑائی لڑی کہ عیسائیت پھیلانے کا بہترین طریقہ کون سا ہے۔ ان مشنریوں نے خاص طور پر ہندوستانی مذاہب کو حقارت سے دیکھا، حکومتی تعاون او رسماجی تبدیلی کے لیے وسیع تر کوششیں کیں اور اس سلسلے میں خود بھی بڑی نفرت کمائی۔

تاہم مشنریوں نے بہت سے ہندوستانیوں کے حالات میں یقیناً بہتری پیدا کی۔ یہ لوگ ہندوستانیوں کے انصاف کے لیے لڑے، انہیں طبی امداد فراہم کی، ان کی ایجوکیشن اور تربیت کا انتظام کیا اور غریبوں کے لیے لڑے۔ غالب اور طاقت ور گروہوں کی مشنریوں سے دشمنی ناگزیر اور فطری تھی کیوں کہ کمپنی اور تاجِ برطانیہ نہیں چاہتے تھے کہ عیسائیت کے فروغ کی وجہ سے سماجی تبدیلی آئے یا معاشرتی انتشار پیدا ہو۔ تاہم برطانیہ کے برعکس ہندوستان میں مذہب اور سماج باہم یوں پیوست تھے کہ مذہب اور سماج کے مابین کوئی واضح حدبندی کرنا ممکن نہیں تھا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے نزدیک اگر مذہب پوری زندگی پر حاوی نہیں تو یہ زندگی میں کوئی بامعنی حیثیت نہیں رکھتا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ ہندوستانی مذاہب اور معاشرتی روایات میں دخل اندازی خطرناک ثابت ہو گی۔ اس لیے کمپنی نے شروع میں مذہب کے متعلق کوئی پالیسی اختیار نہ کی۔ تاہم جب کمپنی نے اپنے مفادات کے تحفظ اور دفاع کے لیے ہندوستانی سپاہی بھرتی کرنے شروع کیے تو اسے مذہبی معاملات پر پالیسی بنانے کی ضرورت پیش آئی۔ یہ سپاہی مکمل طور پر کمپنی کے تابع تھے لیکن ان کے عقیدے پر کوئی بات نہ کی جاتی۔ کمپنی جانتی تھی کہ ہندوستان میں کمپنی کا وجود اور بقا ہندوستانی سپاہیوں کی وفاداری اور برطانیہ کی طاقت پر یقین رکھنے پر منحصر ہے۔ اس لیے ہندوستانی مذاہب پر بات کر کے سپاہیوں کو ناراض کرنا سختی سے منع تھا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی زندگی کی پہلی صدی میں عیسائیت کے لیے کوئی خدمت سرانجام نہ دی۔ پادری ہمفرے نے کمپنی پر سخت قسم کے اعتراضات کیے۔ ان اعتراضات کی بنا پر ایک صدی بعد جب 1698ء میں کمپنی کو نیا چارٹر ملا تو اس میں مذہبی شق کا اضافہ کیا گیا۔ اس شق کی رو سے کمپنی پر لازم تھا کہ پانچ سو ٹن والے جہاز میں ایک پادری ضرور ساتھ جائے گا۔ ان پادریوں کا فریضہ یہ تھا کہ کمپنی کے ملازمین کو مذہبی تعلیمات دیں اور ساتھ ہی ساتھ ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ کی کوشش بھی کریں۔ یہ قانون پارلیمنٹ نے پاس کیا تھا لیکن کمپنی نے اس پر عمل نہیں کیا۔ کمپنی نے جہازوں پر پادری سوار کرنے سے گریز کیا اور قانونی گرفت سے بچنے کے لیے جہازوں کا وزن ہمیشہ کم رکھا۔ کمپنی نے اپنے خرچے سے کوئی چرچ نہ بنایا، جو چرچ بنے وہ انفرادی طور پر نجی چندے سے بنائے گئے تھے۔ 1712ء میں کمپنی کے ڈائریکٹرز نے کمپنی کو ہدایت کی کہ کمپنی کے غلاموں اور ملازمین کو پروٹسٹنٹ ازم کی تعلیمات دینے کے لیے پادریوں کا بندوبست کیا جائے۔ ڈائریکٹرز کی طرف سے رومن کیتھولک عیسائیت سے بچنے کی تلقین تھی لیکن کمپنی نے اس معاملے میں بھی انحراف کیا اور جہاں ناگزیر ہوا وہاں کیتھولک اور جرمن لوتھر پادریوں کی خدمات حاصل کیں۔

کیتھولک پادری رکھنا کمپنی کی مجبوری تھی کیوں کہ بمبئی پریذیڈنسی میں زیادہ تر عیسائی کیتھولک تھے۔ کمپنی کے افسر کوشش کرتے تھے کہ یورپیوں میں سے بھی کسی کو عیسائی نہ بنایا جائے۔ کیھتولک مشنریوں کو کمپنی کے علاقوں میں رہنے کے لیے کمپنی اجازت لینا پڑتی اور حلف دینا پڑتا کہ وہ کمپنی کے احکامات کی خلاف ورزی نہ کریں گے۔ 1715ء میں کمپنی کو علم ہوا کہ پرتگیزی پادری ہندوؤں سے مل کر برطانویوں کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ کمپنی کے ڈائریکٹرز ویٹی کن پہنچے اور 1720ء میں پرتگیزی پادریوں پر ہندوستان میں پابندی لگ گئی۔ بعد ازاں سازش کے خوف سے رومن کیتھولک پادری رکھنے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ کارملائٹ پادریوں کا اعلیٰ عہدے دار خود ہندوستان آیا اور کمپنی کو حلف دیا کہ وہ کمنپی اور حکومت کے مفادات کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے اور سرتوڑ کوشش کریں گے کہ عیسائی افراد کمپنی کے وفادار رہیں۔ کمپنی پادریوں سے فرداً فرداً یہ حلف لیتی کہ وہ کمپنی گورنرز کے ہر حکم کی اطاعت کریں گے۔

کمپنی مذہب کے معاملے میں اتنی محتاط تھی کہ 1744ء میں ڈائریکٹرز کی طرف سے ہدایات دی گئیں کہ چرچ کو ریاست سے آزاد کبھی نہ چھوڑا جائے اور نہ ہی فرانسیسیوں کو معاملات میں دخیل کیا جائے۔ اسی طرح کیتھولک ازم کو کمزور کرنے کے لیے پروٹسٹنٹ ازم کی حوصلہ افزائی کی جاتی لیکن عملی مجبوریوں کی بنا پر کھلم کھلا کیتھولک ازم کی مخالفت نہ کی جاتی۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک مشنری دونوں ہی شکایت کرتے کہ کمپنی ان کے کام میں معاونت اور حمایت نہیں کر رہی۔

1750ء کے بعد کمپنی مشنریوں کی مالی معاونت پر راضی ہو گئی لیکن شرط یہ تھی کہ کمپنی ملازمین ان کے کام سے مطمئن ہوں۔ رابرٹ کلائیو نے اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے 1758ء میں عیسائی پادری رکھا۔ اس پادری نے اپنے ذاتی اخراجات سے کلکتہ میں یورپی اور ہندوستانی لڑکوں کے لیے سکول اور چرچ تعمیر کیا جس کا نام اولڈ مشن چرچ تھا۔ کیتھولک ازم کے پاس افرادی قوت کم تھی اس لیے ہندوستان میں پروٹسٹنٹ فرقہ زیادہ فروغ پایا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کمپنی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر مشنری ہندوستان میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ کمپنی جس کسی کو بھی چاہتی غیرمناسب یا غیرموزوں قرار دے کر واپس بھیج سکتی تھی۔ جرمن لوتھرین مشنری مناسب سمجھے جاتے کیوں کہ انہیں ڈینش اور برٹش شاہی خاندانوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ کمپنی ہندوستان میں ان کے رویے سے بہت خوش تھی۔ مشنریوں کی موجودگی کمپنی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی کیوں کہ اس سے کمپنی کے معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام پانے لگے۔ مشنریوں نے اپنے اخراجات پر ہسپتال اور سکول تعمیر کیے تھے۔

پروٹسٹنٹ مشنریوں کے لیے بھی سب سے بڑا مسئلہ فنڈنگ تھا۔ 1771ء میں ان مشنریوں نے کمپنی سے درخواست کی اور فنڈنگ طلبی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشنری کمپنی کے لیے مفید خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ان کے کام کی وجہ سے ہندوستانی اور یورپی عیسائیت کے ذریعے متحد ہو جائیں گے تو کیتھولک ازم کے خلاف لڑنے میں بھی سہولت ہو گی اور کمپنی سے وفاداری بھی مستحکم ہو گی۔ ان کی طویل درخواست اور التجاؤں پر کمپنی 500 پگوڈا دینے پر راضی ہو گئی۔

جہاں تک ہندوستان کے مقامی مذاہب کا تعلق ہے، کمپنی نے ہمیشہ ٹالرینس کا اصول اپنایا یعنی مقامی مذاہب میں دخل اندازی سے گریز کیا۔ تاہم جب کمپنی مقتدر اعلیٰ اور حاکم بنی تو اس کی پالیسی تبدیل ہو گئی لیکن اپنے اقتدار کو جواز دینے کے لیے مداخلت کم سے کم سطح تک رکھی گئی۔ گنے چنے یورپیوں اور ہندوستانی سپاہیوں کی معمولی فوج کے بل بوتے پر لاکھوں ہندوستانیوں پر حکومت کرنا ممکن نہ تھا اس لیے مذہبی عدم مداخلت کی افادی اہمیت مسلم تھی۔ کمپنی نے اپنا کنٹرول دیرپا اور مضبوط رکھنے کے لیے ریاستی ڈھانچوں میں ہندومت اور اسلام دونوں کو راضی رکھا۔ مذہبی تہواروں، عبادت گاہوں اور مذہبی طور پر مقدس مقامات اور زیارت گاہوں کا احترام کیا جاتا اور انہیں ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا بلکہ مالی تعاون بھی کیا جاتا۔ اس سرپرستی کے بدلے میں کمپنی کو جواز اور وفاداری حاصل ہوتی رہی۔ گایا اور دیوگڑھ مندروں پر کمپنی کے کلیکٹر یاترا چندہ اکٹھا کرتے جس بنا پر برطانیہ میں کمپنی پر الزامات لگے کہ بت پرستی کو فروغ دینے میں شریک ہے۔ دل چسپ یہ کہ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک اپنے لیے تو کمپنی سے ٹالرینس مانگتے لیکن ہندوستانیوں کے لیے کہتے کہ ان پر عیسائی قوانین نافذ کیے جائیں۔

1770ء سے کمپنی کے عام ملازمین ہندوستان سے دولت مند بن کر جب برطانیہ پہنچے تو وہاں جاگیردار اور سیاست دان بن گئے۔ 1790ء تک پارلیمنٹ کے نواب ارکان کی تعداد 45 ہو چکی تھی۔ اس پر کمپنی پر کرپشن کی بحث شدت پکڑ گئی۔ وہاں کے دانش ور کہنے لگے کہ ہم پر ایشیائی دولت کی بارش ہوئی ہے اور ہم پر ایشیائی عیش و عشرت کی بوچھار ہی نہیں ہوئی بلکہ خدشہ ہے کہ ایشیائی طرزِ حکومت بھی ساتھ ہی چلا آیا ہے۔ ان لوگوں کے تحفظات ہندوستانیوں کے لیے نہ تھے بلکہ یہ تھے کہ برطانیہ کے مہذب اور شریف پارلیمانی نواب ایشیائی حکمرانوں کی طرح بدعنوان اور مطلق العنان بن جائیں گے۔

پلاسی کی جنگ کے بعد کمپنی کا کنٹرول بڑھنے لگا اور 1765ء میں شاہ عالم ثانی نے کمپنی کو بنگال کے دیوانی حقوق عطا کیے جس سے کمپنی حاکم اور تاجر بن گئی۔ مدراس اور بمبئی کے ساتھ ساتھ بنگال، بہار اور اڑیسہ بھی کمپنی کے کنٹرول میں آ گیا تھا۔ پارلیمنٹ میں کمپنی کی کرپشن اور دیگر معاملات پر بحث طوالت اختیار کرنے لگی۔ 1772ء میں کمپنی پر مالی بحران آیا تو بینک آف انگلینڈ نے قرض دے کر اسے بچایا کیوں کہ خدشہ تھا کہ کمپنی ختم ہوئی تو پورا کریڈٹ سسٹم بیٹھ جائے گا۔ تاجِ برطانیہ نے کمپنی پر کنٹرول سخت کرنے کی کوشش کی لیکن امریکا سے جنگ کی وجہ سے خاطرخواہ توجہ نہ دی جا سکی۔ 1783ء میں امریکی کالونیاں ہاتھ سے نکل گئیں، فرانس جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے تھا اور آئرلینڈ بھی مشکلات پیدا کر رہا تھا اور بے روزگاری عام تھی۔ خدشات پیدا ہوئے کہ برطانوی سلطنت انہدام کے کنارے کھڑی ہے۔ مذہبی طبقے نے تبلیغ شروع کر دی کہ یہ زوال مذہب سے دوری کی وجہ سے ہے اور مذہب کا احیا ہی اس زوال سے بچا سکتا ہے۔ ریاستی اور عوامی سطح پر عیسائیت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی گئی۔ کمپنی کے ملازم چارلس گرانٹ نے تجویز دی کہ ہندوستان میں بھی عیسائیت کو فروغ دیا جائے۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ پڑھیے۔

Facebook Comments Box
featuredPenelope Carsonایسٹ انڈیا کمپنی اور مذہبصابر علی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عمران سے حکمران تک —— رقیہ اکبر
next post
سوشل میڈیا پر ناقابل فہم غیر اخلاقی رویہ سے کیسے نپٹا جائے —- قانون فہم

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.