تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

ہیرا منڈی کے کباب اور روبینہ سے گپ شپ —– سمیع احمد کلیا

by دانش ڈیسک 23/04/2019
written by دانش ڈیسک 23/04/2019
135

آدھی رات کا وقت ہے بھوک نے آن ستایا ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور طبیعت بھی کچھ آوارہ گردی پرمائل ہے. ہیرا منڈی کے کبابوں کے چٹخارے سن سن کے کان پک گۓ تھے سوچا کیوں نہ پھر کباب ہی کھائے جائیں سو ہم ہیرا منڈی پہنچ گۓ، بازار حسن کی تنگ گلیوں میں ابھی دن کا آغاز ہوا ہے۔ جہاں باقی دنیا سو رہی ہے وہیں ہیرا منڈی میں دکانیں سجائی جا رہی ہیں۔

فضا میں پھیلتی دھیمی دھیمی موسیقی، جگہ جگہ کبابوں کی خوشبو، خوبصورت ملبوس زیب ِ تن کیے محرابی بالکونیوں پر کھڑی لڑکیاں دل کو لبھا رہی تھیں. علاقے میں پھولوں کی دکانیں جا بجا ہیں۔ رقص کرنے یا جسم فروشی کے پیشے سے منسلک خواتین کے لیے پھول لے کر جانا یہاں کا دستور ہے۔ مغل دور حکومت میں قائم کیا گیا یہ علاقہ موسیقاروں اور رقاصاؤں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ تب یہاں جسم فروشی نہیں ہوتی تھی۔ تاہم یہاں کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ اس بازار کا اصل روپ اب بگڑگیا ہے۔

ہیرا منڈی کا اولین نام شاہی محلہ تھا۔ اسے بعد میں ہیرا منڈی، بازارِ حسن اور ریڈ لائٹ سٹریٹ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ ہیرا منڈی کا قیام پندرہویں صدی میں مغل دورِ حکومت میں عمل میں آیا۔ یہاں مغل بادشاہ اپنے شہزادوں کو ثقافت، تہذیب، اٹھک بیٹھک، یہاں تک کہ کھانا کھانے کے آداب سکھانے بھیجا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ رعایا موسیقی سے محظوظ ہونے یہاں کا رُخ کرتی تھی۔ پھر جب اٹھارویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت آئی، تو مہاراجہ کے منھ بولے بیٹے ہیرا سنگھ نے شاہی محلہ میں ایک حویلی تعمیر کی۔ یوں ہیرا سنگھ کی مناسبت سے شاہی محلہ کا نام “ہیرا منڈی” پڑ گیا۔

میں چونکہ ہیرا منڈی کے بازاروں اور تنگ گلیوں سے واقف نہیں تھا احتیاطی طور تھانہ ٹِبیّ سٹی سے ایک عدد پولیس کانسٹیبل کو بھی ساتھ لے لیا مقصد یہ تھا کہ راستہ بھی پتہ چل جاۓ اور وقت بھی اچھا کٹ جائے.خوش قسمتی سے کانسٹیبل بھی ٹِبیّ تھانہ کا رہائشی تھا اور وہ اپنے اندر ایک معلومات کا خزانہ تھا جب اسے یہ پتہ چلا کہ میں اوکاڑہ سے ہوں تو کہنے لگا سر آہیں آپ کو ایک اوکاڑہ کی خوبصورت رقاصہ سے ملواؤں اب اس نے یہ کام چھوڑ کر بچوں کو پڑھانا شروع کیا ہوا ہے روبینہ جو اپنی نوعمری میں اوکاڑہ سے یہاں آئی تھی سے ڈھیروں باتیں ہوئیں وہ پھر کھبی سہی دلچسب بات یہ تھی کے روبینہ نے بی -اے کر رکھا ہے اور تاریخ کی کتابیں پرھنے کی شوقین ہے

روبینہ نے بتایا، طوائفیں نہ صرف خوبصورت ہوتی تھیں بلکہ رقص و موسیقی اور شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں۔ اور خود کو منوانے کے لیے وہ اپنی یہ تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتی تھیں۔ ہیرا منڈی کا کردار برطانوی راج کے بعد تبدیل ہوا جب برطانوی حکمرانوں نے اسے اپنے فوجیوں کے لیے جسم فروشی کے اڈوں میں بدلنا شروع کیا۔ مزید تبدیلی تب آئی جب اسّی کے عشرے میں پاکستانی حکومت نے یہاں اخلاقی اور مذہبی بنیادوں پر پابندیاں لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ما حاصل یہ کہ طوائفوں نے جسم فروش کا پیشہ اختیار کر لیا ہے۔ یہاں اب کوئی رقاصہ نہیں رہی۔

ہیرا منڈی میں دو طرح کے لوگ اکثریت میں ہیں۔ ایک کنجر طبقہ ہے۔ اس طبقہ کی عورتیں ناچ گانے سے جڑی ہوئی ہیں۔ دوسرا طبقہ میراثیوں کا ہے۔ یہ کنجر طبقہ کی عورتوں کو موسیقی اور ناچنے کی تربیت دیتے ہیں۔ چاہے کنجر طبقہ کی خواتین جسم فروشی نہ بھی کریں تو بھی انہیں طوائف ہی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ موسیقاروں اور میوزک کی شاپس کی وجہ سے بہت شہرت کا حامل تھا آج کے دور میں استاد طافو شامل ہیں جن کی ساری فیملی آج بھی بھاٹی گیٹ میں رہائش پذیر ہے۔ استاد برکت علی خان، فتح علی خان اور امانت علی خان بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ گانے والی خواتین جن میں فریدہ خانم اور نور جہان بھی شامل تھیں جنہوں نے استاد سے تربیت حاصل کی۔ پرانے زمانے میں قحبہ خانے پر گانے کا ایک مشہور سٹائل غزل گائیکی تھا۔ یہ زیادہ تجرباتی اور لچکدار سٹائل تھا جو ٹھمری سے ایک قدم آگے تھا۔ اگر آپ وہ گھنگرو ڈانس دیکھنا اور غزل سننا چاہیں تو آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔

جب ضیاالحق نے ان سب چیزوں پر پابندی لگائی تو علاقہ میں ایک معاشی قحط پیدا ہو گیا۔ مکان مالک جو کنجروں سے 5000 ماہانہ کرایہ لیتے تھے اب ان کو وقت پر پیسے نہیں ملتے تھے کیونکہ کنجر کمیونٹی کا معاشی سلسلہ بہت آہستہ اور کمزور ہو گیا تھا۔ جب جوتے بنانے والے تاجروں نے زیادہ کرایہ کی پیش کش کی تو مالک مکانوں کو اپنے کرایہ داروں کو زبردستی رخصت کرنا پڑا۔ ایک تیسری اور سب سے مشکل آپشن بھی موجود تھی، یہ چیز سستے داموں جسم فروشی تھی۔ لیکن چونکہ کنجر خاندان کی لڑکیاں فنکاری جانتی تھیں اس لیے انہیں فلم انڈسٹری کا رخ کرنا پڑا۔ باقی لوگ مشہور سنگر بن گئے۔ جو زیادہ مہارت اور ٹیلٹ نہیں رکھتے تھے انہیں علاقہ چھوڑ کر جانا پڑا۔

ہیرا منڈی سے تعلق رکھنے والے تمام آرٹسٹ اور موسیقار ریڈ لائٹ ایریا پر آنے والی موت پر ماتم کناں ہیں۔ جہاں پہلے سے تربیت یافتہ لوگوں کو کوئی نہ کوئی موقع مل جاتا تھا وہیں کچھ نئے موسیقار اور ڈانسر بھی ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ پرانے لوگ ان نئے ابھرتے چہروں کو الزام دیتے ہیں کہ انہوں نے آرٹ کی قیمت گھٹا دی ہے۔ مثال کے طور پرروبینہ جب نئی خواتین ڈانسر کے بارے میں بات کرتی ہیں تو ان کی آواز بھرا جاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں: ہمیں بڑے بڑے موسیقاروں نے تربیت دی تھی اور ہم نے ان کی ہر سر اور تال کو سٹڈی کیا تھا۔ ہم ان سروں کے مطابق حرکت کرتے تھے۔ ہم اپنے قدموں سے پیسے کماتے تھے۔ آج کی یہ دو نمبری ڈانسر لڑکیاں فحش ڈانس کر کے پیسے کماتی ہیں۔

روبینہ کوسلام کر کے اجازت لی اور کبابوں والے کے پاس پہنچے، کبابوں کا قصہ باقی آوارگی پھر سہی
(میرے لئے تمام خواتین قابل عزت ہیں تحریر میں مجبورن خواتین کے لئے وہ الفاظ استعمال کرنے پڑے جو اس وقت اس علاقے میں رائج ہیں )
مصنف سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس۔ اب پنجاب پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: ہیرا منڈی سے منٹو پارک تک : فاروق بھٹی
Facebook Comments Box
Heera MandiRed Light Area Lahoreبازار حسن لاہورٹبی گلیجسم فروشیچکلہطوائفقحبہ خانہکنجرکنجریہیرا منڈی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عمران خان: ‎وہ فرشتہ ہے نہ ساحر —— اظہار الحق
next post
سرمایہ داری نظام — چالبازی تیرا نام ۔۔۔۔ شاہ برہمن

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.