تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیفلمکالمکلچر، آرٹ

لال کبوتر: پاکستان میں پیرلل سینما کی واپسی ——– خرم سہیل

by خرم سہیل 26/03/2019
written by خرم سہیل 26/03/2019
208

1947 میں قیامِ پاکستان کے ٹھیک ایک سال بعد 1948 میں پہلی پاکستانی فلم ’’تیری یاد‘‘ ریلیز ہوئی اور عہدِ موجود تک اس کمرشل سینما کا سفر کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے، لیکن پاکستانی پیررل سینما کے ابتدائی آثار 60 اور 70 کی دہائی میں ملتے ہیں، اس کے بعد یہ سینما کہیں گمشدہ ہوگیا۔ نئی صدی کے آغاز تک آتے آتے معدودے چند فلمیں بنیں، جن کے ذریعے اس قسم کے سینما کے ہونے کا احساس ہوا، مگر وہ کوششیں ناتواں اور تشنہ تھیں۔

ماضی قریب میں یہ سلسلہ ٹوٹتا اور جڑتا رہا، مگر پیررل سینما کی کوئی توانا آواز نہ اُبھر سکی۔ اب 2019 میں’’فلم لال کبوتر‘‘ کو دیکھ کر یہ محسوس ہوا ہے کہ ہمارے گمشدہ پیررل سینما کی واپسی ہو سکتی ہے۔ پاکستانی سینما کے اس نئے دور میں یہ پیررل سینما کی پہلی طاقت ور آواز ہے، جس میں لال کبوتر کی اُڑان اپنی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

ٹریلر
اس فلم کا ٹریلر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے انڈین فلموں کی نمائش پاکستان میں روک دی گئی۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں بدیسی زبان ہمیشہ فلم بینوں کے درمیان فاصلہ رکھتی ہے، اب بچ گئیں پاکستانی فلمیں تو موجودہ دور کا منظرنامہ کمرشل سینما سے لبریز ہے، ایسے میں کسی کو توقع نہیں تھی، اس کمرشل سینما کے ہجوم سے ایک فلم اس طرح مختلف رنگوں کے ساتھ منظر عام پر آئے گی۔ ٹریلر نے ایک ناقابل یقین کیفیت میں مبتلا کر دیا، ایک توانا احساس پیدا ہونے کے باوجود میں نے یہی کہا کہ صرف ٹریلر دیکھ کر یقین نہیں کیا جاسکتا اور اگر فلم کے ہدایت کار نے دھوکہ نہ دیا، تو یہ فلم پاکستان میں پیررل سینما کے نئے دور کا آغاز ہوگی اور پھر فلم کی ریلیز پر یہ بات ثابت بھی ہوگئی۔ اب فلم آپ کے سامنے ہے، آپ خود اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ میری بات میں کہاں تک صداقت ہے۔

کہانی
اس کہانی کی حتمی تشکیل میں پروڈیوسرز، ڈائریکٹر کے علاوہ کئی افراد شامل ہیں، جنہوں نے کہانی کو مختلف رُخ سے تخلیق کیا، پھر اس کا فائنل اسکرین پلے علی عباس نقوی نے لکھا۔ اس کہانی میں مقام کراچی اور وقت موجودہ ہے۔ ایک طرف مقتول صحافی کی بیوی اپنے شوہر کے قاتلوں کو تلاش کر رہی ہے، دوسری طرف ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے، جو کراچی سے دبئی جانا چاہتا ہے، دونوں مرکزی کردار بالترتیب آگے بڑھتے ہوئے آپس میں ٹکرا جاتے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ انڈر ورلڈ لینڈ مافیاکے کارندے، کرائے کے قاتل، رشوت خور پولیس افسر اور دیگر ذیلی کردار ایک کے بعد ایک ایک کرکے کہانی میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں، اس کہانی کی خوبصورتی یہی ہے کہ کہانی میں آنے والا ہر موڑ کلائمکس لگتا ہے، مگر پھرپتہ چلتاہے، وہ بھی کلائمکس نہیں ہے۔

اس تیز رفتار ردھم کی کہانی میں ناظرین کو سوچنے کا وقت نہیں دیا گیا، اس تجسس بھری جرم کی کہانی میں کراچی شہر کی راتیں جاگتی ہوئی سانس لے رہی ہیں، جس میں اس شہر کے اصل مجرموں کا چہرہ بھی باآسانی دیکھا جاسکتا ہے، یہ کہانی نہیں ایک ایف آئی آرہے جس کو اسکرین کے پردے پر کاٹا گیا ہے۔ اس فلم کے اختتام پر بہت سارے کرداروں کی بپتا کو جان بوجھ کر تشنہ چھوڑ دیا گیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر کہانی ناظرین کو ان کے گھر تک چھوڑنے جائے، یہی اس فلمی کہانی کی خوبی ہے، یہ کہانی بہت دنوں تک سینما سے نکلنے کے بعد بھی آپ کے ساتھ رہے گی، کیونکہ یہ آپ کے شہر کی ان کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے، جو وقوع پذیر تو ہوئی، لیکن اسے کسی نے بیان نہیں کیا، یہ خاموشی کی جھیل میں تخلیق کا پہلا پتھر ہے، اس لیے آواز زور دار ہے، یقین نہ آئے تو اسکرین کے پردے پر اس کہانی کو سن کر دیکھیے۔

فلم سازی و ہدایت کاری
اس کے فلم ساز ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ اور ہونہار بہن بھائی ہانیہ چیمہ اور کامل چیمہ ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے دونوں فلم سازوں کی یہ پہلی فلم ہے، جس میں انہوں نے کراچی شہر کو موضوع بنایا ہے۔ کم بجٹ کے ساتھ ایک اچھی فلم پروڈیوس کرنے میں کامیاب رہے، جبکہ اس فلم کے ہدایت کار کمال خان ہیں، جن کا تعلق کراچی سے ہے اور ان کی شہرت میوزک ویڈیوز ڈائریکٹرکے طور پر ہے، یہ ان کے کیرئیر کی پہلی فیچر فلم ہے، جس میں انہوں نے خود کو ایک اچھا ہدایت کار منوالیا ہے۔ تخلیقی اور تکنیکی دونوں پہلوئوں سے کوئی حصہ ادھورا نہیں رہنے دیا، نہ ہی کوئی جھول پیدا ہونے دیا، برق رفتار اندازمیں فلمائی گئی فلم دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے ہر اداکار سے بھرپور انداز میں کام لیا ہے۔ ان کے ساتھ ان کی ٹیم نے لوکیشنز، فریمنگ، لائٹس، گرافکس، سائونڈ، بیک گرائونڈ میوزک اور دیگر پہلوئوں سے اپنی گرفت ڈھیلی نہیں پڑنے دی، باتیں کرنے کی بجائے عملی طور پر کرکے دکھایا کہ ایک اچھی فلم کیا ہوتی ہے۔ ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی کے طور پر مواعظمی اور آرٹ ڈائریکشن میں سید مہدی زیدی کا کام بھی انتہائی متاثرکن اور دل کو چھو لینے والا ہے۔

اداکاری و موسیقی
پاکستانی ڈراموں سے شہرت حاصل کرنے والے باشعور اور منجھی ہوئی اداکارہ منشا پاشا نے مرکزی کردار نبھایا، جس میں وہ بہت حد تک کامیاب رہی ہیں، جبکہ ان کے ساتھ مرکزی کردار میں علی احمد اکبر ہیں، جن کا پس منظر تھیٹر، ٹیلی وژن اور فلم تینوں کا ہے، اپنے کردار میں انہوں نے اس مہارت کا کرشمہ عملی طور پر کر دکھایا ہے، فلم کے دیگر دو بڑے کرداروں میں راشد فاروقی اور سلیم معراج ہیں، دونوں کی اداکاری میں تھیٹر گھلا ہوا ہے، اس فلم میں بے شک ایسے ہی اداکاروں کی ضرورت تھی، اس کے ساتھ سونے پہ سہاگہ نیشنل کیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس سے وابستہ متعدد وہ فنکار ہیں، جن کی تربیت تو تھیٹر کی ہے، لیکن انہوں نے بڑی اسکرین پر اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے فلم بینوں کو حیران کر دیا ہے، ان میں سرفہرست اکبراسلام، میثم نقوی ، سعد فرید آفریدی، ارسلان، حماد صدیق، حسن، کلیم غوری، جمیل، شبانہ اور دیگر شامل ہیں۔ تھیٹر میں انہیں وہ شناخت مل سکے گی یا نہیں لیکن اسکرین کا پردہ ان کے مستقبل کی روشنی سے منور ہے۔

اس فلم کے موسیقار طحہٰ ملک ہیں، جنہوں نے چار گیت کمپوز کیے ہیں، جن میں لال کبوتر، جگارٹ و دیگر شامل ہیں۔ صنم ماروی، مائی داہی، جبار عباس، زویا وساجی، طحہٰ ملک ہیں، جبکہ صابر ظفر، سلمان خٹک، طحہٰ ملک اور عثمان خالد بٹ نے گیت لکھے ہیں۔ تمام گیت اپنی جگہ متاثرکن ہیں اور ان میں کہانی کے مطابق مطلوبہ کیفیات محسوس کی جاسکتی ہیں۔ فلم کا بیک گرائونڈ میوزک دانیال حیات نے دیا ہے، جو روحیل حیات کے صاحب زادے ہیں۔ انہوں نے اپنی بساط میں کہانی کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے موسیقی ترتیب دی ہے، جوکانوں کو بری نہیں محسوس ہوئی۔

فلم لال کبوتر کے کاسٹ کاروں سے خرم سہیل کا انٹرویو اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

حرف آخر
پاکستانی معاشرے کو اپنے پیررل سینما کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے سماج کے گھنائونے چہرے کو بے نقاب کیا جائے اور ساتھ ساتھ اصلاح کا کام بھی، جو کام کبھی ہمارے فلم ساز اور ادیب و شاعر کیا کرتے تھے۔ اب بھی اس کی ضرورت ہے، لیکن تخلیق کار خاموش ہے، جو کام کر رہے ہیں، ان کی توجہ کمرشل اہداف پر ہے، پیسہ ضرور کمائیں مگر باشعور فنکار اسی طرح معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اس فلم کی پوری ٹیم اس کامیاب کوشش پر مبارک باد کی مستحق ہے، اس طرح کی فلمیں پاکستان میں پیررل سینما کی واپسی میں کلیدی کردار نبھائیں گی۔

Facebook Comments Box
featuredLaal KabootarPakistani Filmپاکستانی فلمپاکستانی فلم انڈسٹریپاکستانی فلم لال کبوترفلم لال کبوترفلم لال کبوتر ڈائریکٹرکامل چیمہلال کبوترلال کبوتر پروڈیوسرزلال کبوتر ہیرولال کبوتر ہیرونہانیہ چیمہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خرم سہیل

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

previous post
چانکیہ اور چندر گپت موریہ: ہمارے یا تمھارے —– ملک آفتاب اعوان
next post
فلم لال کبوتر کے کاسٹ کاروں سے انٹرویو ——– خرم سہیل

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.