تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینتنقیدعلم و ادب

محمد حسن عسکری کی خاکہ نگاری ——– سلیم احمد

by Editor2 26/03/2019
written by Editor2 26/03/2019
186

عسکری صاحب کو پوری طرح سمجھنا ہو تو ان کے یہ خاکے پڑھنے بھی ضروری ہیں۔ یعنی بطور ایک ناکام تجربے کے۔ عسکری صاحب ادیب کی حیثیت سے کتنے بڑے ہیں، اس کا ڈھونڈورا پیٹتے میری ساری عمر گزری ہے لیکن عسکری صاحب کے خاکے تو مجھے بھی کم زور لگے۔ حالاں کہ یہ خاکے میں نے ہی فرمائش کر کے ان سے لکھوائے تھے بلکہ انہیں مجبور کیا تھا۔ خود عسکری صاحب کو بھی احساس تھا کہ یہ کام ان کے لیے سخت ہے۔ چناں چہ جتنی معذرتیں انہوں نے ان خاکوں کے بارے میں کی ہیں، اپنی کسی تحریر کے بارے میں نہیں کیں۔ کبھی کہتے کیا لکھوں، میری کسی سے ملاقات ہی نہیں ہے۔ کبھی کہتے کہ تم شرطیں ایسی لگاتے ہو کہ میرے لیے لکھنا اور مشکل ہو جاتا ہے۔ بہر حال عسکری، عسکری تھے اور عسکری جیسے لوگوں کی ناکامی کو سمجھنا بھی ایک کام ہے۔ ایک ایسا کام جس کے بغیر ان کی کامیابی کو سمجھنا بھی مشکل بن جاتا ہے۔

اظہار جذبات کے معنی ہیں دوسروں کو اپنے اندر دخیل ہونے کا موقع دینا اور خود دوسروں کے اندر دخیل ہونا۔

خاکہ نگاری میں عسکری صاحب کی ناکامی ان کی شخصیت کے ایک گہرے المیے سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ جذبات کے اظہار سے ڈرتے تھے بلکہ شاید یہ ماننا بھی نا پسند کرتے تھے کہ ان میں جذبات جیسی کوئی چیز موجود ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان میں جذبات موجود نہیں تھے بلکہ اس کے برعکس یہ کہتا ہوں جیسے جذبات عسکری میں موجود تھے ویسے شاید ہی کسی ادیب میں ہوں۔ مگر وہ ان جذبات کے اظہار کو عامیانہ سمجھتے تھے۔ وہ انہیں ایسے چھپاتے تھے جسے لوگ اپنی کم زوریوں کو چھپاتے ہیں۔ ایک ایسے سپاہی کی طرح جو زخموں سے چور ہو مگر اپنے زخم کسی کو دکھانا نہ چاہتا ہو اور اسی لیے اپنی زرہ نہ اتارے۔ عسکری صاحب کی پوری زندگی یہ زرہ پوشی میں گزر گئی۔ وہ اتنے خود دار تھے کہ کسی کے آگے اپنے زخموں کا اظہار تو بڑی بات ہے، تنہائی میں بھی کراہنا نہیں چاہتے تھے۔ جذبات کے ذریعے ہم خود کو دوسروں کے سامنے برہنہ کر دیتے ہیں۔ دوسروں کو اپنی کمزوری میں شریک کر لیتے ہیں۔ دوسروں کے سامنے خود کو اس طرح کھول دیتے ہیں کہ وہ چاہیں تو ہمارے زخموں پر مرہم رکھ دیں اور چاہیں تو اور زخم لگا دیں۔ اظہار جذبات کے معنی ہیں دوسروں کو اپنے اندر دخیل ہونے کا موقع دینا اور خود دوسروں کے اندر دخیل ہونا۔ عسکری صاحب ان دونوں چیزوں سے بچنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ غالب کی طرح اپنی حقیقت آپ بن جائیں:

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

لیکن اپنی اس کوشش میں وہ غالب سے آگے نکل گئے تھے۔ غالب کو ’’دوسروں‘‘ کا اتنا احساس کبھی نہیں ہو سکا جتنا عسکری کو تھا۔ عسکری دوسروں سے اتنا کٹے تھے کہ دوسروں سے رشتہ جوڑنا ان کا سب سے بڑا روحانی مسئلہ بن گیا تھا۔ یہی ان کی میر پرستی کا راز تھا۔ تعلق کی نفی کرتے کرتے وہ تعلق کی پکار بن گئے تھے۔ بیگانگی کی راہ پر چلتے چلتے اس منزل پر پہنچ گئے تھے جہاں درد آشنائی زندگی کا سرمایہ بن جاتی ہے لیکن وہ اپنی زندگی میں ’’جڑنے‘‘ کی بجائے ’’بچنے‘‘ کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اور اس کی انہیں بہت بڑی قیمت دینی پڑی۔ اس کی وجہ سے دوسروں کو بھی ان سے ’’جڑنے‘‘ میں بہت دقت پیش آتی تھی۔ جس طرح عسکری صاحب دوسروں کے سامنے کھلنا نہیں چاہتے تھے، اس طرح دوسرے بھی ان کے سامنے آ کر خود کو چھپانے لگتے تھے۔ عسکری صاحب نے جو راستہ دوسروں کے لیے بند کیا تھا دوسرے بھی ان کے لیے وہ راستہ بند کر دیتے تھے۔ چناں چہ عسکری صاحب کو کبھی منٹو سے یہ شکایت ہوتی ہے کہ وہ انہیں ’’احترام‘‘ کے پردے میں خود سے دور رکھتا ہے اور کبھی عصمت سے یہ شکایت ہوتی ہے کہ وہ ’’بزرگ‘‘ بن کر ستا جاتی ہیں۔ حالاں کہ عصمت ہی کا خاکہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ عصمت جب بزرگی سے نیچے اتر کر عسکری سے رشتہ جوڑنا چاہتی ہیں تو عسکری ’’جی ہاں‘‘ کہہ کر اس کا امکان ختم کر دیتے ہیں۔ عسکری کی ’’جی ہاں‘‘ ہم جیسوں کی ’’جی نہیں‘‘ سے بہت زیادہ ہول ناک ہے۔

ہم اندر سے خالی ہیں مگر چوں کہ ہمارے اندر کا خلا ایک ناقابلِ برداشت چیز ہے اس لیے ہم اسے جھوٹے جذبات سے پُر کرتے ہیں۔

عسکری صاحب ’’جی ہاں‘‘ کہتے تھے اور مطلب ’’جی نہیں‘‘ ہوتا تھا۔ لیکن خاکہ نگاری کا فن ’’جی ہاں‘‘ کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔ خاکہ نگار جب ’’جی ہاں‘‘ کہتا ہے تو جس کا خاکہ لکھنا ہے اس سے اپنے تعلق کا اثبات کرتا ہے۔ یہ تعلق مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی تھی۔ محبت اور نفرت تعلق ہی کی دو صورتیں ہیں۔ خاکہ نگار ان کے بغیر اپنے فن کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اسے سب سے پہلے یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ جس کا خاکہ لکھ رہا ہے، اسے محبت یا نفرت کے قابل سمجھتا ہے۔ یعنی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس نے اس کے وجود کو گہرائی میں متاثر کیا ہے۔ اپنے وجود کی گہرائیوں میں یہ سچا تعلق پیدا کرنا ایک انتہائی دشوار کام ہے۔ خاکہ نگار کے لیے ضروری ہے کہ اس کارِ دشوار کو آسان بنائے۔ عسکری کے لیے خاکہ نگاری اس لیے ممکن نہیں تھی کہ اول تو وہ تعلق پیدا کرنے سے ڈرتے تھے۔ دوسرے تعلق پیدا ہو جاتا تھا تو اس کے اظہار سے خوف کھاتے تھے کیوں کہ ہر تعلق بہر حال ایک رسک ہے، عسکری یہ رسک لینے سے گھبراتے تھے۔ تا ہم جب ان کے اندر کا فن کار جاگتا ہے تو وہ تعلق کی ایک ایسی منزل پر پہنچ جاتے ہیں جس کا آپ خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ یہ تعلق ہی منٹو جیسا خاکہ لکھواتا ہے۔

جذبات کی طرف عسکری صاحب کا جو رویہ ہے، اس کی شخصی وجوہات جو کچھ بھی ہوں لیکن اس کا کچھ تعلق ہمارے ماحول سے بھی ہے۔ عسکری اپنی بے پناہ بصیرت کی بنا پر جانتے تھے کہ ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ جذبات سے خالی ہے۔ اس عہد میں سچا جذبہ معدوم ہو گیا ہے اور اس کی جگہ ایک جھوٹی جذباتیت نے لے لی ہے۔ ہم ہنسیں یا روئیں، ہماری ہنسی سچی ہوتی ہے نہ ہمارا رونا۔ ہم خوشی یا غم کی حقیقی کیفیت کو محسوس کرنے کے ناقابل ہو گئے ہیں۔ ہم اندر سے خالی ہیں مگر چوں کہ ہمارے اندر کا خلا ایک ناقابلِ برداشت چیز ہے اس لیے ہم اسے جھوٹے جذبات سے پُر کرتے ہیں۔ لارنس نے عہدِ جدید کی اس کیفیت کا تجزیہ اپنے مضامین میں بہت گہرائی سے کیا ہے۔ عسکری نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ عہدِ حاضر کی انسانیت کے تاریک باطن میں ایک جنگ بہت شدت سے جاری ہے۔ جذبے کی بازیافت کی جنگ اور انسانیت کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ جذبے کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ عسکری چوں کہ اس حقیقت کو جانتے ہیں، اس لیے جذباتیت سے بچنا ان کا ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس سے بچ کر وہ سچے جذبے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ جذباتیت کی ہر شکل سے چوکنا رہا جائے۔ عسکری اس کوشش میں دوسروں پر تو شک کرتے ہی ہیں لیکن خود تشکیکی ان کی شخصیت میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے تا ہم ان کی روحانی جدوجہد کا حاصل یہ ہے کہ وہ زندگی میں دو چار بار سچا جذبہ محسوس کر لیتے ہیں، مثلاً منٹو کی موت پر۔ ایسا ہی ایک جذبہ انہیں قیامِ پاکستان کے موقعے پر محسوس ہوتا ہے۔ یہ سچا جذبہ کس طرح بولتا ہے، اسے ہم جھوٹی آوازوں میں اسی وقت پہچان سکتے ہیں جب ہم نے خود بھی کوئی سچا جذبہ محسوس کیا ہو لیکن اگر ہم ان دو واقعات سے متعلق دوسروں کی تحریریں پڑھیں تو ان کے جذباتی اتھلے پن کا احساس ہمیں عسکری کے جذبے کی شناخت کے قابل بنا سکتا ہے۔

عسکری کے ان خاکوں میں آپ کو جو بھی کم زوریاں نظر آئیں لیکن بہر حال یہ عسکری کے خاکے ہیں اور عسکری جیسا ادیب اپنے کم زور سے کم زور اظہار میں بھی کچھ ایسی باتیں ظاہر کر دیتا ہے جو دوسروں کے بس میں نہیں ہوتیں۔ ان میں آپ کو عسکری کی بصیرت کی جھلکیاں ضرور نظر آئیں گی۔ جہاں تہاں وہ ایسی بات کہہ دیں گے جو آپ کو چونکا دے اور ان کے ’’پھیکے پن‘‘ میں جس کا ذکر خود بار بار عسکری صاحب نے کیا ہے، آپ کو کراری نثر کا مزہ ضرور آئے گا۔ ویسے ان خاکوں کی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے، یہ ہمیں بہر حال یہ ضرور بتاتے ہیں کہ عسکری صاحب نے اپنے بعض ہم عصروں کو کس نگاہ سے دیکھا۔ ان خاکوں میں ایک اندر سے انتہائی تنہا آدمی دوسروں کے ساتھ چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور آپ دیکھتے ہیں کہ لیے دیے رہنے کی تمام کوششوں کے باوجود اس کا دل کس طرح دھڑک رہا ہے۔

یہ بھی دیکھئے: عسکری کا شعورِِ نثر —– عزیز ابن الحسن

 

 

Facebook Comments Box
ادب نامہادبی بیٹھکاردو ادبحسن عکسریسلیم احمدشاعریعسکریغالبمحمد حسن عسکری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
فلم لال کبوتر کے کاسٹ کاروں سے انٹرویو ——– خرم سہیل
next post
’’اقبال: وجود زن اور تصویر کائنات‘‘ ایک تجزیہ ——– اعجاز الحق اعجاز

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.