تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیعلمیکالم

مولانا آزاد کا تاریخ میں حقیقی کردار و مقام —– ملک آفتاب اعوان

by دانش ڈیسک 25/02/2019
written by دانش ڈیسک 25/02/2019
121

جب ہم انگریزی ادب کے طالبِ علم تھے تو ہماری ایک استانی نے ایک پتے کی بات بتائی تھی۔ وہ کہتی تھیں کہ اگر کسی کہانی میں یا ڈرامے میں کسی کردار کی اہمیت کا اندازہ لگانا ہو تو تصور کرو کہ اس کہانی یا پلاٹ میں اگر یہ کردار نہ ہو تو کہانی یا ڈرامے کے انجام پر کیا فرق پڑے گا۔ اگر کردار کی عدم موجودگی میں کہانی کے انجام یا رخ میں تبدیلی آئے تو وہ کردار ایک اہم کردار ہے۔ اور اگر اس کی عدم موجودگی میں کہانی کے انجام یا رخ میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو وہ ایک بھرتی کا کردار ہے جو مصنف نے خواہ مخواہ کہانی میں ڈال دیا ہے۔

بعد میں جب ہماری دلچسپی ادب سے زیادہ سیاست میں ہو گئی تو یہی فارمولا ہم کسی تحریک یا کسی دور میں کسی سیاستدان کی اہمیت کو جانچنے کے لئے استعمال کرنے لگے۔ آپ اس کو یوں سمجھیں کہ محترم سعد رفیق صاحب مسلم لیگ کے ایک اہم رہنما سمجھے جاتے ہیں اور جناب نواز شریف صاحب کے بہت قریبی ساتھی گنے جاتے ہیں۔ جیل بھی جا چکے ہیں۔ اخباروں میں ان کے بیانات کو جگہ بھی ملتی ہے۔ بظاہر آج کے دور کے ایک اہم سیاست دان شمار ہوتے ہیں۔ مگر ذرا تصور کریں کہ محترم سعد رفیق کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ تو کیا مسلم لیگ کی اور نواز شریف کی کہانی میں کوئی خاص فرق پڑتا؟ کیا نواز شریف وزیر اعظم نہ بن پاتے۔ کیا وہ ملک بدر نہ ہوتے۔ کیا وہ دوسری اور تیسری بار وزیر اعظم نہ بن سکتے۔ ان پر پانامہ کیس چلتا یا نہ چلتا۔ میرا خیال ہے میری طرح آپ بھی ان سوالوں کے جواب نہ میں ہی دیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر محترم سعد رفیق جتنے بھی نمایاں ہوں، مسلم لیگ کی داستان اور نواز شریف کی کہانی میں ان کا کردار غیر اہم ہے۔ مگر یہی بات چودھری نثار کے بارے میں نہیں کی جا سکتی۔ نواز شریف کی داستان میں کئی ایسے موڑ ہیں جہاں چودھری نثار نہ ہوتے تو شاید آج داستان مختلف ہوتی۔ پرویز مشرف کی بطور آرمی چیف تعیناتی میں ان کا کردار اس کا ثبوت ہے۔ یہی بات پی ٹی آئی کی تحریک میں جہانگیر ترین کے بارے میں کہی جا سکتی ہے کہ وہ اگر نہ ہوتے تو شاید آج منظر مختلف ہوتا۔ مگر دوسری طرف نعیم الحق چاہے جتنے بھی نمایاں ہوں، ان کے ہونے نہ ہونے سے آج پی ٹی ائی جہاں ہے اس پر کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔

یہ لمبی تمھید باندھنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ آجکل مولانا ابوالکلام آزاد کے مقام اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں ان کی پیشن گوئیوں پر کافی بحث چھڑی رہتی ہے۔ ایک مخصوص طبقہ اکثر پاکستان کے مستقبل کے بارے میں ان کی ہولناک پیشن گوئیاں دہرا کر ان کو عظیم وژنری اور مسلم لیگ کے قائدین کو کوتاہ بیں اور عاقبت نا اندیش ثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ تو خیال آیا کہ تحریک آزادی میں ان کے کردار اور پھر ان کی پیشن گوئیوں کی اہمیت پر ذرا غور کرلیا جائے۔

کیا کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ اگر مولانا آزاد نہ ہوتے تو تحریک آزادی پر کیا فرق پڑتا؟

تحریک آزادی میں اگر کسی لیڈر کے کردار کی اہمیت کو جانچنا ہو تو ذرا تصور کیجئے کہ وہ نہ ہوتے تو صورتِ حال کیا ہوتی۔ علامہ اقبال نہ ہوتے تو تصورِ پاکستان کہاں سے آتا۔ قائد اعظم نہ ہوتے تو اس کو تکمیل تک کون پہنچاتا۔ رحمت علی نہ ہوتے تو پاکستان کا نام کہاں سے آتا۔ حسین شہید سہروردی اور مولوی فضل حق شیر بنگال نہ ہوتے تو بنگال میں تحریک کون چلاتا۔ اور تو اور سکندر حیات نہ ہوتے تو پنجاب میں یونییسٹ پارٹی کی حکومت مسلم لیگ کی حکومت میں کیسے تبدیل ہوتی۔ مولانا محمد علی جوہر نہ ہوتے تو تحریک خلافت جیسی بے سروپا تحریک چلا کر مسلمانوں کو یہ یقین کون دلاتا کہ ان کا اور ہندوؤں کا اتحاد نا ممکن ہے۔ اگر دوسری طرف کے لیڈروں کو دیکھا جائے تو نہرو اور گاندھی کو تو چھوڑئیے کہ وہ تو نمایاں ترین لیڈر تھے اور ہر جگہ ان کا اہم کردار تھا۔ اگر سردار ولبھ بھائی پٹیل نہ ہوتے تو کانگریس کی تنگ نظری کیسے واضح ہوتی۔ سبھاش چندر بوس نہ ہوتے تو انگریز اتنا جلدی گھبراتے کیسے۔ حتیٰ کہ اگر سردار تارا سنگھ نہ ہوتے تو آج پنجاب کی شکل مختلف ہوتی۔ کیا کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ اگر مولانا آزاد نہ ہوتے تو تحریک آزادی پر کیا فرق پڑتا؟ میں کوئی تاریخ کا عالم نہیں اور شاید اسی لئے اپنے محدود مطالعے کی وجہ سے میں ایک بھی موقع ایسا تلاش نہیں کر سکا جہاں مولانا ابوالکلام آزاد کے کسی قدم، کسی تجویز، کسی تقریر یا کسی حکمت عملی کی وجہ سے برِصغیر کی تحریک آزادی نے کوئی اہم یا کوئی غیر اہم موڑ ہی لیا ہو۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ مولانا شاید کانگریس میں ایک مسلمان عالم اور مقرر ہونے کی وجہ سے سعد رفیق اور نعیم الحق صاحبان کی طرح نمایاں ضرور تھے مگر ان کا کردار کافی حد تک غیر اہم تھا اور یہ بات اس وقت کے مسلمانانِ برصغیر بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اس لئے پاکستان کی مخالفت کو لے کر مولانا کے بار بار شور مچانے پر مسلمانوں کی اکثریت نے کان دھرنے سے بالکل انکار کیا اور انہیں بری طرح مسترد کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی مخالفت کرنے والے مسلمان علماء کے قافلے کے سالار بھی وہ نہ تھے۔ یہ مقام مولانا حسین احمد مدنیؒ کو حاصل تھا۔ اب اُس دور کے ایک غیر اہم سیاست دان کو لے کر اس کا مقابلہ ایک ایسے شخص سے کرنے کی کوشش کرنا، جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا اور دنیا کے نقشے پر ایک بالکل نئی مملکت ابھار دی، ایک دانشورانہ بد دیانتی کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم پاکستانی بلے باز حسین طلعت کا مقابلہ ویرات کوہلی سے کرنے کی کوشش کریں۔ ایک ایسا شخص جس کو اپنی زندگی میں مسلمانوں کی اکثریت نے قطعاً اہمیت نہیں دی، وہ آج ہمارے لئے قابل تقلید کیوں کر ہو سکتا ہے۔

مولانا کی ہندوستان کے ایک سیکولر تشخص کے بارے میں جو امیدیں تھیں وہ راکھ کا ڈھیر بن کر ان کی کوتاہ بینی اور کم فہمی کا ماتم کر رہی ہیں۔

آب آئیے مولانا کی پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئیوں کی طرف۔ حسن نثار صاحب کو تو آپ سب نے پڑھ ہی رکھا ہو گا۔ موجودہ طرزِ جمھوریت سے ان کی ناپسندیدگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس کو لے کر وہ پاکستانی سیاست کے بارے میں کئی پیشن گوئیاں بھی کرتے رہتے ہیں– جو اکثر درست بھی ہو جاتی ہیں۔ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ ان پیشن گوئیوں کو لے کر جمھوریت کو بالکل مسترد کر دیا جائے؟ یا یہ کہ حسن نثار صاحب کی چند کامیاب پیشن گوئیوں کی بناء پر جمھوریت کو ایک ناکام طرزِ حکومت قرار دیا جائے؟ بات یہ ہے کہ ہر تحریک اور بڑی تبدیلی کے کچھ مختصر المدتی نتائج ہوتے ہیں اور کچھ طویل مدتی۔ کم نظر مختصر مدتی نتائج کو مد نظر رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔ جبکہ وژنری اور عظیم لوگ مختصر مدتی مسائل سے آگے بڑھ کر طویل مدتی مقاصد کو مدِ نظر رکھتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں جب جمھوریت قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے تو وہی مسائل پیش آتے ہیں جن کی حسن نثار صاحب اور ان جیسے بہت سے لوگ پیشن گوئیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر اس کا حل یہ نہیں کہ ان پیشن گوئیوں سے گھبرا کی جمھوریت کی بِساط لپیٹ دی جائے یا اس تجربے کو ناکام قرار دیا جائے۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ طویل مدت میں جمھوریت ہی بہترین حل ہے۔ اسی طرح مولانا آزاد کی پیشن گوئیوں کو بھی اگر دیکھا جائے تو وہ ایسے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں جو کہ پاکستان جیسے بالکل نئے ملک کے قیام کے بعد لازماً پیش آنے تھے۔ جبکہ قائد اعظم اور ان کے شرکاء کی نظر بنیادی ایشوز پر تھی اور ان مسائل پر تھی جو متحدہ ہندوستان میں ہمیشہ رہنے تھے آج تقسیم برِصغیر کے ستر سال بعد بھی موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں اور کشمیریوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ قائد اعظم کی دور بینی اور بنیادی مسائل کے بہتر ادارک کا بیّن ثبوت ہے۔ جبکہ پاکستان کی تخلیق کی صورت میں جن مسائل کی نشاندہی مولانا کرتے ہیں ان کے ختم ہونے کے امکانات ضرور موجود ہیں۔

قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں کے جو خدشات تھے وہ ستر سال بعد آج ایک بدصورت حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ ہندوستان میں جو جنونیت سر چڑھ کر بول رہی ہے اور ٹی وی چینلز پر ناچ رہی ہے

دراصل کچھ حلقے جنہوں نے پاکستان کو کبھی بھی ذہنی طور پر قبول نہیں کیا تھا انہیں مولانا کے غیر مصدقہ اور تاریخی طور پر مشکوک انٹرویوز کی صورت میں ایک ایسی ڈھال میسر آئی ہے جس کی آڑ میں وہ اپنی خواہشات کو بزبان آزادؔ آزادی سے بیان کر پاتے ہیں۔ محترم مشتاق احمد یوسفی نے آبِ گم میں ایک خان صاحب کا ذکر کیا ہے کہ موصوف اپنے تمام اقوال سے شیخ سعدی کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں لگتا تھا کہ اگر انہوں نے کہا کہ یہ میری رائے ہے تو اس پر کوئی کان نہیں دھرے گا۔ اس لئے وہ اپنی باتوں کو شیخ سعدی کے اقوال بنا کر پیش کرتے تھے۔ بعینہٖ یہی صورتِ حال ہمارے دانشواران کی ہے جو کہ اپنی خواہشات کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ فلاں موقعے پر مولانا نے یہ کہا تھا اور ڈھمکاں موقعے پر مولانا نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ میں ایک بار پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اگر پیشن گوئیوں کی بنیاد پر ہی بڑائی کا تعین ہونا ہے تو ناسٹر ڈیمس مولانا آزاد سے اور حسن نثار نواز شریف اور بے نظیر بھٹو سے بڑے لیڈر ہیں۔ جناب تجزیہ نگار اور لیڈر میں فرق کرنا سیکھیں اور تجزیہ نگار بھی وہ چنیں جس کے تجزیئے غیر جانب دارانہ ہوں نہ کہ وہ جو کسی چوٹ کھائے کالم نگار کی طرح الحذر الحذر کرتا نئی مملکت کی ناکامیوں کی پیشن گوئی نما دعائیں کرتا پھرے۔ تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں کے جو خدشات تھے وہ ستر سال بعد آج ایک بدصورت حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ ہندوستان میں جو جنونیت سر چڑھ کر بول رہی ہے اور ٹی وی چینلز پر ناچ رہی ہے وہ قائد اعظم کی دور بینی اور قوموں کی نفسیات کی سمجھ بوجھ کا واضح ثبوت ہے جب کہ مولانا کی ہندوستان کے ایک سیکولر تشخص کے بارے میں جو امیدیں تھیں وہ راکھ کا ڈھیر بن کر ان کی کوتاہ بینی اور کم فہمی کا ماتم کر رہی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کہ مولانا آزاد ایک عالم تھے بلکہ بہت اچھے عالم تھے اچھے مقرر تھے اور ان خصوصیات کی وجہ سے اپنے زمانے میں مشہور تھے۔ مگر بطور تحریک آزادی کے لیڈر ان کا درجہ اوسط سے بھی کافی نیچے ہے۔ کیوں کہ ان کا تحریک میں کنٹری بیوشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کی غیر مصدقہ انٹرویوز میں کی گئی پیشن گوئیاں بھی ان کو کوئی بڑا لیڈر نہیں بلکہ ایک اوسط درجے کا تجزیہ کار ہی ثابت کرسکتی ہیں جو کہ دوسری مملکت کے بارے میں تو پیشن گوئیاں کر رہا تھا مگر اپنے آس پاس لگی ہوئی آگ سے بے خبر تھا۔ اور ہاں بطور ادیب ان کو جو مقام ہے اس پر میں تو تبصرہ کر نہیں سکتا کیوں کہ میں اس قابل ہی نہیں مگر دلچسپی رکھنے والے محترم مشتاق احمد یوسفی کا ان کی جناتی نثر پر تبصرہ پڑھ کر ضرور لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے گا:  مولانا آزاد بارے تین دعووں کی حقیقت : محمد عبدہ

Facebook Comments Box
Molana Azadآزادمولانا ابولکلام آزادمولانا آزاد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
رومی کی مغرب میں مقبولیت اور رومی عصر —- اعجاز الحق اعجاز
next post
گوروارجن دیو، شاہجہاں کی بیٹی اور شوکت خانم —- مستنصر حسین تارڑ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.