تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

نیا تماشہ ——- ڈاکٹر فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 09/01/2019
written by دانش ڈیسک 09/01/2019
181

سینما کی عمارتوں میں ہم کو ایک چیز بڑی عجیب لگتی ہے اور وہ یہ کہ کسی سینما میں ہمیشہ کے لئے ایک ہی فلم لگ کر نہیں رہ جاتی۔ اخبار میں پڑھا تھا کہ ممبئی میں ایک مراٹھا مندر نام کا سینما ہے جس میں ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ سالوں سے لگی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسا یہ واحد سینما ہے اور ہم عام سینماؤں کی بات کر رہے ہیں۔

مگر سوچئے کہ جب بھی کوئی فلم سینما پر لگتی ہے تو کس شان سے لگتی ہے۔ جیسے یہ فلم تو بس تہلکہ ہی مچا دے گی۔ ہمیں یاد ہے آج سے تقریباً ایک دہائی قبل جب سپّی کی بنائی ہوئی ’’چاندنی چوک ٹو چائنہ‘‘ ریلیز ہونے والی تھی تو ہر طرف ایسی دھوم تھی کہ جی بس یہ فلم آئے گی اور پھر بس یہی فلم ہو گی اور کچھ ہو گا ہی نہیں مگر بدقسمتی سے اس فلم کے پریمیئر کو ہی اکثر افراد آدھا چھوڑ کر چلے گئے۔ ہر فلم کا حال یہ ہو یہ ضروری نہیں مگر یہ طے ہے کہ ہر فلم اترتی ضرور ہے چاہے وہ ’’شعلے‘‘ یا ’’ٹائی ٹینک‘‘ ہی کیوں نہ ہو۔

سیاسی منظر نامہ بھی سینما ہی کی طرح ہوتا ہے، زیادہ دور نہیں محض 2006ء کو ذہن میں لائیے۔ تب جنرل پرویز مشرف کا اقتدار تھا۔ کسی کا دیا مشرف کے سامنے نہ جلتا تھا۔ تب میدان سیاست میں چوہدری شجاعت حسین سب سے مضبوط کھلاڑی تھے۔ تب ایم کیو ایم کا سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ سارے ہی ذرائع ابلاغ الطاف حسین کا ذکر یا تو احترام سے کرتے یا نہ کرتے۔ ہر سمت الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے لوگوں کی ٹانگیں کانپتی تھیں۔ تب متحدہ مجلس عمل بھی ایک غالب سیاسی جماعت تھی، ان کے پاس صوبہ سرحد کی حکومت تھی اور مشرف اور امریکی پالیسیوں کے خلاف وہ ایک توانا آواز کے طور پر نظر آئے تھے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ اقتدار اور اختیار کے چکر سے باہر تھے اور ذرائع ابلاغ بھی ان جماعتوں کو گھاس نہ ڈالتے تھے۔

اس دور میں یوں لگتا تھا کہ مشرف کا اقتدار ہمیشہ ہی قائم رہے گا۔ تب لگتا تھا کہ عالمی سیاست پر امریکا ہمیشہ ہی غالب رہے گا۔ تب لگتا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کا زوال ممکن ہی نہیں۔ متحدہ سے ٹوٹ کر کوئی جماعت بنے یہ ممکن ہی نہیں اور اب دوبارہ متحدہ اور اسٹیبلشمنٹ میں جھگڑا ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔ مگر وقت گزرنا تھا گزر گیا۔ اب مشرف ایک، ناقابل ذکر مضحکہ خیز کردار بن چکا ہے۔ الطاف حسین ایک ’ماضی‘ اور ایم کیو ایم ایک ’کھنڈر‘۔ امریکا کا سورج غروب ہو رہا ہے، چوہدری شجاعت اس کا 5 فیصد بھی نہیں جو وہ پہلے تھے۔ یہ سب فلمیں اتر چکیں، پرانی ہو چکیں۔ آج ان کو کوئی پوچھتا بھی نہیں مگر جب ان سب کا یہ حال ہوا تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان کا کیا ہو گا جو ابھی خود کو تقریباً خدا ہی تصور کر بیٹھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وقت جب مشرف اور الطاف حسین کا نہ ہوا تو عمران خان اور آج کے دیگر حکمرانوں کا کیوں ہو گا؟

آج سے دس سال بعد یقیناًدنیا بدل چکی ہو گی، منظر بدل چکا ہو گا، فلم اتر چکی ہو گی اور نئی فلم لگ چکی ہو گی، کوئی نیا تماشہ مقبول ہو گا۔

دور قدیم کے بادشاہ اس حقیقت سے واقف تھے۔ اسی لئے ان کو یہ خیال اکثر ستایا کرتا تھا کہ ان کو تاریخ کس نام سے یاد رکھے گی۔ یہ سوال بادشاہوں سے بڑے بڑے کام کروا لیتا۔ یہی سوال تھا کہ جس نے سلطان سلیمان عالی شان القانونی سے ویانا کا محاصرہ کروایا۔ اسی خیال نے شاہ جہاں سے تاج محل بنوایا، اسی خیال نے سلمان بن عبدالملک بن مروان بن حکم سے ہسپانیہ فتح کروایا۔ مگر اب کے حکمرانوں کا تو ایسا کوئی Ambition بھی نہیں، جمہوری و غیر جمہوری۔ ۔ آج کے سب ہی حاکم بڑی حد تک ڈسپوزایبل ریزر Disposable razors کے علاوہ کچھ نہیں۔ آج ہیں، کل نہ ہوں گے. نہ ان کا نام ہو گا نہ ان کا کوئی نشان۔ یہ تو بس آج کا تماشہ ہے، کل کوئی اور تماشہ ہو گا، کوئی نیا تماشہ ہو گا۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عمران خان! میانوالی پیاسا ہے ——– ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی
next post
تھر کا مسئلہ اور تجاویز ——– لالہ صحرائی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.