تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عمران خان! میانوالی پیاسا ہے ——– ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

by Editor2 09/01/2019
written by Editor2 09/01/2019
151

بر لبِ سڑک ’’آغاز حدود ضلع میانوالی‘‘ کا بورڈ کراس کرتے ہی آپ تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے پنجاب کے ایک یکسر مختلف علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔ سڑک پر رواں دواں اور ہوٹلوں پر سستاتے ہوئے ٹرک آرٹ کے شاہکار نمونے آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ میانوالی شہر سے ذرا پہلے سڑک ملتان کی طرف مڑتی ہے، تھورا آگے جاکر ریت کے ٹیلے اور ٹبے ہیں۔ ہر چند یہ روہی چولستان کی طرح کا صحرا نہیں ہے لیکن یہاں آپ کو صحرائی زندگی کے سارے رنگ نظر آتے ہیں۔ یہاں سے ایک بغلی سڑک چشمہ بیراج کی طرف جاتی ہے اور کنڈل سے ہوتی ہوئی صوبہ خیبر پختون خواہ میں داخل ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف آپ میانوالی شہر سے نکلتے ہیں تو دائیں طرف ایک چھوٹا پہاڑی سلسہ کالا باغ تک آپ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہاں دریائے سندھ کا طویل پُل ہے جس کے نیچے شیر دریا دھاڑتا ہے۔ دائیں طرف انگریز کا بنایا ہوا لوہے کا پل ہے جو دور سے یوں نظر آتا ہے جیسے کسی نے دریا کے اوپر پرکار سے قوسیں لگا دی ہوں۔ بائیں طرف تاحد نگاہ شیر دریا کا پانی جو آگے جا کر سات حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہ علاقہ ’’کچہ‘‘ کہلاتا ہے جو کبھی ڈاکوئوں، مفروروں اور اشتہاری مجرموں کی محفوظ پناہ گاہ ہوتا تھا مگر اب یہاں امن ہے۔ کالاباغ کے مقام سے سڑک جنوب کی طرف مڑتی ہے اور اس کے ساتھ پہاڑی سلسلہ بھی بل کھاتا ہے۔ یہ نسبتاً خشک اور چھوٹے پہاڑ ہیں۔ ان کی دوسری طرف خیبر پختون خواہ کا ضلع کرک ہے اور اس طرف پہاڑوں کے دامن میں پشتون قبائل آباد ہیں جن کی نسبت سے اس علاقے کو خٹک بیلٹ کہا جاتا ہے جب کہ میدانی علاقے میں نیازی قبائل کی اجارہ داری ہے۔

یہاں کا روایتی لباس ’’پٹکا‘‘ (پگ)، کرتاور ’’منجھلا‘‘ (تہ بند) ہے لیکن یہ پٹکا اور منجھلا پنجاب کے روایتی لباس سے مختلف ہوتا ہے۔ کئی گز لمبے کلف لگے کپڑے کو بل دے کر کافی بڑی پگ تیار کی جاتی ہے ۔اسی طرح ’’منجھلا‘‘ بھی کئی گز کپڑے پر مشتمل ہوتا ہے۔ (معلوم نہیں بزرگ اسے سنبھالتے کیسے ہیں؟) رنگ عموماََ سفید ہوتا ہے۔ اب روایتی لباس پہننے والے بزرگ بھی خال خال رہ گئے ہیں۔ اب یہ لباس شادی بیاہ یا عید تہوار پر ہی نظر آتا ہے۔ سردیوں میں یہاں کے لوگوں کا لباس یکسر بدل جاتا ہے۔ پکول (گول اونی ٹوپی) اور گرم چادر آپ کو ہر طرف نظر آتی ہے۔ یہاں بولی جانے والی زبان کا ڈکشن سرائیکی کے بہت قریب ہے جب کہ لہجہ اور مزاج پشتو کے قریب ہے۔ یہاں کا موسم شدید ہوتا ہے۔ گرمیوں میں بلا کی گرمی پڑتی ہے اور سرما میں شدید سردی۔ موسموں کی طرح یہاں کے لوگوں کا مزاج بھی شدید ہے۔ پر خلوص ،ملنسار اور فراخ دل بھی اور ضدی، اکھڑ اور انا کے مارے ہوئے بھی۔ یہ لوگ فوک موسیقی کے دلدادہ ہیں۔ یہاں بیسیوں مقامی فنکار ہیں جن کا ہر ایک گانا لوگوں کو از بر ہوتا ہے۔ یہ لوگ شادیوں اور خوشی کے دیگر موقعوں پر گاتے ہیں، ناچتے ہیں لیکن اچانک بھڑک اٹھتے ہیں۔ معمولی بات پر بندوقیں نکلتی ہیں اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر قتل بھی ہوتے ہیں۔ طبیعت میں عجیب استغنا ہے، روزگار کے مواقع کم ہیں۔ فصل کے دنوں میں جی توڑ کر محنت کرتے ہیں اور باقی سال چائے کے ہوٹلوں پر گپ شپ میںگزار دیتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی آزادی ہے۔ انھوں نے کبھی کسی جاگیردار کی غلامی قبول نہیں کی۔ نواب آف کالاباغ اور عیسیٰ خیل کے خوانین کی عمل داری بھی ان کے اپنے مزارعوں اور ملازموں تک محدود رہی۔ اس لیے یہ لوگ ہمیشہ کسی دبائو کے بغیر اپنی مرضی سے ووٹ دیتے ہیں۔

یہ میرا جنم بھوم ہے لیکن اس کوچہء دلدار سے دور ہوئے مدت ہو گئی ہے۔ سال میں ایک بار رخت سفر باندھتا ہوں تو منیر نیازی کے الفاظ راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں:

واپس نہ جا کہ تیرے شہر میں منیر
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا

لیکن اس شہر میں میری کچھ نیم سلگتی ہوئی محبتیں ہیں۔ آبائی گھر میں لکڑی کے ستون کے ساتھ لٹکتی ہوئی ایک سیاہ لالٹین ہے جس کی روشنی میں میں نے پہلی بار میر، غالب اور فراز کو پڑھا تھا۔ کیکر اور ٹاہلی کے کچھ درخت ہیں جن کی چھائوں شکر دوپہروں میں مجھے بلاتی ہے۔ ایک ریلوے سٹیشن کا کھنڈر ہے جس کی اُکھڑی ہوئی اینٹوں سے لپٹ کر میرا بچپن سسکیاں لیتا ہے، دعائوں سے بھری ہوئی کچھ بوسیدہ جھولیاں اور کچھ بوڑھی آنکھیں ہیں جو میرا رستہ تکتی ہیں اور کچھ بچپن کے یار ہیں جن کے ساتھ گزری ہوئی چند ساعتیں عمرِ رواں کا حاصل محسوس ہوتی ہیں۔

میری ایک بزرگ جن کی عمر اسی(۸۰) سال کے قریب ہے کہنے لگیں: ’’پہلے تو ووٹوں والے (امیدوار) ووٹوں (الیکشن) کے بعد کچھ نہیں مانگتے تھے، یہ تو اب پیسے بھی مانگ رہا ہے‘‘۔ (عالمگیریت کا جن کیبل ٹی وی نیٹ ورک کی مدد سے ان بوڑھوں کی پر سکون زندگی میں بھی نقب لگا چکا ہے، ان کا اشارہ ڈیم فند کے لیے ٹی وی پر چلنے والے وزیر اعظم کے اشتہار کی طرف تھا)۔ میں نے بہت سادہ لفظوں میں انھیں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح اور ڈیم کی اہمیت کے بارے میں بتایا ۔ وہ فیس بُک کی ’’دانشور‘‘ نہیں ہیں اس لیے فوراََ میری بات سمجھ گئیں لیکن دھیمے اور قدرے اداس لہجے میں کہنے لگیں: ’’مگر ہم تو اب بھی پانی کو ترس رہے ہیں‘‘۔ یہ ہماری وہ بزرگ نسل ہے جن کا بچپن، لڑکپن اور جوانی دور دراز ’’ٹوبھوں‘‘ سے پانی لاتے گزری ہے اور آج اسی (۸۰) سال کی مسافت کے بعد بھی یہ صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ ان کی بات سچ تھی۔ میں تین دن وہاں رہا اور تینوں دن واٹر سپلائی بند رہی۔

 یہ بات تو عمران خان کو بھی معلوم ہوگی کہ میانوالی کے لوگ محبت کرتے ہیں غلامی نہیں۔

پانی یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے حالاں کہ شیر دریا یہاں سے گزرتا ہے جس کا پانی سردیوں میں بھی ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے۔ چشمہ ایٹمی پاور پلانٹ اور قبول خیل یورینیم افزودگی پلانٹ یہاں سے بہت قریب ہیں۔ شاید زیر زمین پانی میں یورینیم کی مقدار زیادہ ہے یا کسی اور دھات کی، اس لیے یہاں کا زیر زمین پانی قابل استعمال نہیں مگر لوگ صدیوں سے یہی پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ پہلے گردوں کی بیماری بہت عام تھی اب دل کے امراض اور ہڈیوں کی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اب ان لوگوں کو وزیر اعظم عمران خان سے امید ہے کہ یہی ان کا حلقہء انتخاب بھی ہے۔ یہ لوگ عمران خان سے والہانہ محبت کرتے ہیں، وہ تینوں بار اسی حلقے سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان لوگوں نے عمران خان کو پہلی بار تب منتخب کیا جب اس کی پارٹی پورے ملک میں صرف ایک سیٹ نکال پائی تھی۔ ان لوگوں کو تب بھی معلوم تھا ان کا نمائندہ اپوزیشن میں بیٹھے گا اور ان کے لیے کچھ نہیں کر سکے گا لیکن انھوں نے پرواہ نہیں کیا۔ لیکن اب تو ان کا نمائندہ ملک کا وزیر اعظم ہے۔ عمران خان گلیوں اور نالیوں کی سیاست نہیں کرتا۔ وہ بڑے ایشوز کی سیاست کرتا ہے۔ وہ نئے پاکستان اور ریاست مدینہ کی بات کرتا ہے، لوگ اس کے لیے دعا گو ہیں لیکن اسے اپنے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے دُکھوں کا مداوا بھی کرنا ہو گا ورنہ یہ بات تو عمران خان کو بھی معلوم ہوگی کہ میانوالی کے لوگ محبت کرتے ہیں غلامی نہیں۔

Facebook Comments Box
featuredIKIran Khan MianwaliMianwaliPTIRiver Indusپاکستان تحریک انصافپہاولپورپیپلز پارٹیجنوبی پنجابدریائے سندھڈاکٹر اورنگ زیب نیازیسرائیکیصحرا تھرعمران خانملتانمیانوالیمیانوالی پیاساوزیر اعظم پاکستانوزیر اعظم پاکستان عمران خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
وقوفِ لمحات ادب اور چٹکلا بازی —— محمد امتیاز احمد
next post
نیا تماشہ ——- ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.