تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

آزادی اظہار رائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ زین الحسن

by دانش ڈیسک 23/01/2019
written by دانش ڈیسک 23/01/2019
102

کسی بھی معاشرے کی ترقی اور اس کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے، مگر رائے کی آزادی خواہ وہ کسی عوامی جگہ پر ہو یا نجی سطح پر؛ سیاسی یا کاروباری مقاصد کے لیے ہو یا فلم، کتابوں تصاویر اور تقاریر کی صورت میں ٹی وی اور سوشل میڈیا پر؛ ہر صورت میں یہ یقیناً معاشرے کی بقاء، اس میں امن کے قیام اور اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے، اس میں بسنے والے ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ لیکن ایک خاص نظریے، ثقافت، مذہب اور پیشے کے فرد کے لیے اس ”رائے” کا معیار کیا ہے اور جو کچھ وہ سوچتا، سمجھتا یا جانتا ہے اس کی ترویج میں وہ کس حد تک خود مختار ہے، اس کا احاطہ کرنا بھی بہت ضروری ہے، ورنہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں آج دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ یقیناً اس معاملے میں کسی خاص ضابطے یا اصول کے فقدان کا ہی نتیجہ ہے۔ ذیل میں آزادی اظہار رائے کے منفی و مثبت اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے اور مزید اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کیسے حقیقی معنوں میں اسے ہر ممکنہ حد تک مفید بنایا جا سکتا ہے۔ روم و فارس میں قیصر و کسریٰ کا اثر و رسوخ اور اقتدار اس بنیاد پر قائم تھا کہ ان کے حکم اور طریقہ کار کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز خاموش کر دی جائے؛ عرب میں ‘بت’ خدا مانے جاتے تھے کیوں کہ کسی میں بھی ان کی بے بسی اور لوگوں کی بے وقوفی پر آواز اٹھانے کی ہمت نہیں تھی؛

یورپ میں پادری ”کوپرنکس” کو پھانسی لگا دیتے تھے تا کہ ان کی کہی ہوئی بات کوئی رد نہ کر سکے؛ وقت کے امام اندھیر کوٹھریوں میں قید کر دیے جاتے تا کہ ظالم حکمران اپنے تاج و تخت کو بچا سکیں۔ ‘پھر چاہے’ خدا ایک ہے” کہنے پر برما میں لاکھوں مسلمانوں کو انہی کے گھروں سے بے دردی سے نکال دیا جائے یا ”خدا نہیں ہے” کہنے والوں کو کلیساؤں میں سرِ عام سزا دی جائے؛ کبھی رنگ، کبھی نسل، کہیں ثقافت تو کہیں مذہب، کبھی امیر اور غریب کی تمیز تو کبھی عوام اور حکمران میں طاقت کے فرق کی بنا پر ”رائے کی آزادی” ہمیشہ سے کئی پابندیوں کا شکار رہی ہے۔ لہذا دنیا کے دو مختلف حصوں میں اس کے حق میں ہونے والی جد و جہد کے نتائج میں دو مختلف تہذیبوں کی بنیاد پڑی جس میں سے ایک نے ناخداؤ ں کے خلاف آواز اٹھائی اور انسانیت کو غلامی سے نجات دلا کر خالقِ کائنات کی پہچان کروائی، جس نے ہر عمل اور ہر قدم پر رہنمائی کا وعدہ کیا اور اپنے بتائے اصول و ضوابط کی پیروی کو زندگی کے مقصد کے حصول کا ذریعہ بنایا۔ تو دوسری طرف ”آزادی” کی ایسی تحریک اٹھی جس نے صحیح اور غلط کے تمام معیار بدل دیے۔

’’ہمیں پہلے تولو پھر بولو” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ”الفرقان” کی تعلیم کو سامنے رکھنا ہو گا، جس نے اپنے جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج دے کر ثابت کیا ہے کہ بات کرنا حرام نہیں جب تک وہ ادب، تہذیب اور دلیل کے دائرے سے باہر نہ ہو

 

لوگ کلیسا کی غلامی اور ظلم و ستم کے خلاف اٹھے تو سہی مگر جلد ہی اپنے نفس کے غلام بن گئے اور زندگی کے تمام معاملات اپنی خواہشات کے تابع کر دیے اور یوں آج کے مغربی اور مشرقی اور خصوصی طور پر اسلامی اور غیر اسلامی معاشرے کی بنیاد پڑی، جو کئی معمالات میں ایک دوسرے کے مخالف سوچتے ہیں اور مختلف سمتوں پر محوِ سفر ہیں۔ نتیجتاً ایک کی آزادی اظہار کا استعمال دوسرے کی آزادی پر براہ راست حملہ ہوتا ہے، جو اکثر معاملات میں شدت اختیار کر جاتا ہے۔ دنیا میں ”رائے کی آزادی” کے نتائج انہی رائج تصوّرات کا نتیجہ ہیں۔ دوسری طرف وہ چند نمایاں اصول جو تقریباً ہر جگہ یکساں طور پر اپنائے جاتے ہیں، وہ بھی زیادہ تر طاقت ور کے ہاتھ کا کھلونا محسوس ہوتے ہیں۔ چاہے پھر ریاستی معاملات ہوں یا ایک شخص کے انفرادی تعلقات، ہر کوئی اس آزادی کے سائے میں اپنے مفاد نکالنے کی تگ و دو میں ملتا ہے اور نتیجتاً بدامنی اور عدم برداشت کی فضا دنیا میں چاروں طرف موجود ہے۔ کوئی بھی اپنے اندر جھانکنا نہیں چاہتا اور بضد ہے کہ صرف اس کی سنی اور مانی جائے۔ یہاں تک کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں دوسرے لوگوں کے عقائد اور نظریات کی پروا بھی نہیں کی جاتی اور ان کی قبولیت تو بعید بلکہ ان کی آواز کو تھما دینے کی بھی ہر ممکنہ کوشش ہوتی ہے۔ لہذا اسی حقیقت کے پیشِ نظر ہمیں لاکھوں مسلمان حرمتِ پیغمرﷺ میں کبھی ڈنمارک میں خاکوں پر تو کبھی ہالینڈ میں نازیبا الفاظ کے استعمال کے خلاف احتجاج کرتے ملتے ہیں؛ کبھی انسانی حقوق کے پاسدار بیلجیئم میں ہزاروں یہودیوں کے قتل عام پر بات کرنے پر بھی پابندی لگاتے ہے؛

تو کبھی کشمیر میں ”ہم آزاد ہیں” کے نعروں پر اظہار رائے کا محافط ہونے کے دعویٰ دار بھارت کی طرف سے شیلنگ ملتی ہے؛ کبھی ہزاروں عیسائیوں کو آزاد سوچ کے حامل کوریا میں فقط مختلف مذہب ہونے کے باعث بے وجہ عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے تو کبھی امن و امان کے رکھوالے امریکا میں پردے اور آزان پر پابندی لگتی ہے؛ تو کبھی”’اسلام ضابطہ حیات ہے” کی پیروکار اسلامی ریاستیں سعودیہ اور پاکستان اپنے ہی شہریوں کی سوچ اور خیال کو اپنی مرضی کا پابند کرتی ہیں۔ اس طرح انفرادی سطح پر بھی لوگ ایک دوسرے کا مزاق اڑانے، اس کی تزلیل کرنے، اس کو نیچا دکھانے کو بھی آزادی اظہار رائے کے زمرے میں ہی لے کر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ میڈیا بھی اس سارے صورتحال میں فقط منفی سوچ کو پھیلانے، واقعات کو غلط ملط کرنے اور ہر شعبے پر بے جا تنقید کو ہی فقط آزادی اظہار رائے گردانتا ہے اور اسی طرح آج کے دور میں سوشل میڈیا پر آئے دن کسی نہ کسی مسئلے کو حقائق کو اس حد تک بگاڑ دیا جاتا ہے کہ اصل مسئلہ اجھل ہو جاتا ہے۔ مختصراً رائے کی آزادی کے تصور اور اس کی عملی اثرات میں مختلف تناظر میں بہت دوری موجود ہے، جس کے باعث مثبت نتائج برآمد نہیں ہو پا رہے۔ لہذا آج ہمیں اپنے رویے درست کرنے ہوں گے اور آزادی اظہار رائے میں بھی اعتدال کو اپنانا ہو گا۔ ”پہلے تولو پھر بولو” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ”الفرقان” کی تعلیم کو سامنے رکھنا ہو گا، جس نے اپنے جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج دے کر ثابت کیا ہے کہ بات کرنا حرام نہیں جب تک وہ ادب، تہذیب اور دلیل کے دائرے سے باہر نہ ہو اور جب تک ہم ایک دوسرے کے اس بنیادی حق کو تسلیم نہیں کرتے کسی مثبت تبدیی کا سوال ہی ممکن نہیں۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: ”اے عمرو! تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد جنا تھا۔”

Facebook Comments Box
آزادیآزادی اظہار رائےاسلاماظہار رائےالفرقانتہذیبغلامیکلیسامعاشرہیورپ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے —– ڈاکٹر سعدیہ بشیر
next post
امریکا، اقلیتی آزادی اور پاکستان: حقیقت تو مختلف ہے ——— فرحان کامرانی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.