تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
منتخب کالم

رکھ بابل گھر اپنا، دھی چلی بگانے دیس

by ویب ڈیسک 24/02/2017
written by ویب ڈیسک 24/02/2017
121

ساڈا چڑیاں دا چنبا وے بابلا
اساں اْڈ جاناں‘ اساں اْڈ جاناں
جتھے کھیڈے گْڈیاں پٹولے
جند اج اوسے گھر وِچ ڈولے
میرے درد سنے اج کون وے
امبڑی‘ بابل‘ ویر پئے تکدے
جاندی واری سلام گذاراں
تیرے قسمت دے نال میل وے
ساڈا چڑیاں دا چنبا وے بابلا اساں اڈ جاناں۔ والد محترم کو ہم سے بچھڑے دس برس ہو گئے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے وہ یہیں کہیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کا سپاہی ڈیفنس لاہور فیز نائن میں اپنی اراضی میں مدفن ہے۔ والدہ بھی ان کے پہلو میں آرام فرما رہی ہیں۔ ڈیفنس لاہور بہت پھیل چکا ہے۔ والد کی زرعی اراضی بھی ڈیفنس سوسائٹی نے لے لی ہے۔ جو آج فیز نائن بنا دیا گیا ہے۔ لاہور کینٹ آرے بازار سے بھٹہ چوک سے بیدیاں روڈ پر موضع لدڑ سے آگے موضع ٹھیٹھر کے سامنے آباد رہا ہے۔ اس گائوں میں والد کی اراضی ہے جس میں والد نے فارم ہائوس بنایا اور یہاں روحانی محافل کا اہتمام کیا جاتا۔ اسی روحانی مرکز میں والدین کی وصیت کے مطابق آخری آرام گاہ بنا دی گئی جس کے اطراف ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹی کا فیز نائن بن چکا ہے۔ والدین کی قبور زندہ ہوتی ہیں۔ جب زیارت کرو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملاقات ہو گئی۔ ہمارا مرشد خانہ ہمارے والدین کا مرقد ہے۔ بابل نے پردیس بیاہ دیا لیکن وطن اور اپنے دل سے رخصت نہ کر سکے۔ ساڈھا چڑیاں دا چنبا اے‘ بابلا اساں اڈ جاناں۔۔۔۔۔
باپ اور بیٹی کا رشتہ دنیا کا خوبصورت ترین رشتہ ہے۔ کیونکہ اس رشتہ میں کائنات کی خوبصورتی کا ہر رنگ موجود ہے‘ موسم جیسی سختی‘ ہواؤں جیسی نرمی اور پھولوں جیسا خلوص اور خوبصورتی۔ اس رشتے کی خوبصورتی کو وجاحت سے بیان کرنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت فاطمہؓ کی ذات اقدس کو بطور نمونہ پیش کیا۔ ماں کا جواب نہیں اور باپ کا نعمل البدل نہیں۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے انسان کو ان دو نعمتوں سے نواز کر بندے کو ایثار اور قربانی کا مفہوم سمجھا دیا۔ یہ وہ رشتے ہیں جو آخرت میں بھی ساتھ ہوں گے۔ روزِ قیامت انسان انہی رشتوں سے پکارا جائے گا۔ ماں باپ کے چہروں کو دیکھنا زیارت کعبہ کے مترادف ہے۔ نافرمان اولاد خواہ پیغمبروں کی ہو‘ آزمائش ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے نافرمان بیٹے کو غرق کر دیا اور اس کی معافی کے لئے اپنے مقرب پیغمبرکی گزارش کو بھی مسترد کر دیا۔ بیٹا اپنے باپ کا مان ہوتا ہے‘ اس کی طاقت اس کی پہچان ہوتا ہے‘ اس کی دنیا و آخرت کی نجات ہوتا ہے مگر نافرمان اولاد باپ کو عمر سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر تین اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، اول نیک اعمال کر جائے دوم ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں سوم نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔‘‘ تیسرا عمل جس کا ثواب ملتا رہے‘ جب تک یہ لڑکا دنیا میں زندہ رہے گا، اس کی نیکیوں کا ثواب اس کے ماں باپ کو ملتا رہے گا اور اپنے ماں باپ کے حق میں دعائیں کرے گا۔ لڑکے کے لئے صدقہ جاریہ کی خاص تاکید فرمائی گئی ہے کہ لڑکی شوہر کے حقوق کی پابند ہے جبکہ لڑکا وراثت میں بھی زیادہ کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ مرد مضبوط ہوتا ہے مگر فولادی اعصاب کا مالک مرد بھی جب باپ بن جائے تو بچے کی معمولی سی تکلیف پر ٹوٹ جاتا ہے ۔
جانتا ہوں اک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر گیا تھا وہ مگر رویا نہیں۔۔۔۔۔۔
باپ اور بیٹی کی محبت سمندر سے زیادہ گہری ہوتی ہے، خاموش اور طاقتور۔ اور بیٹے کی محبت رگوں میں دوڑتا لہو ہے۔ ہمارے ابا جان ہمہ وقت خدمت خلق میں مصروف رہتے۔ کبھی والدہ کہتیں کہ آپ لوگوں کے دکھ سکھ سنتے ہوئے تھکتے نہیں تو فرماتے کہ یہ پریشان حال مجبور لوگ کہاں جائیں۔ اس زمانے میں ہر کسی کو اپنی پڑی ہے۔ خود غرض زمانہ ہے۔ خون سفید ہو گئے ہیں۔ ہر کوئی اپنے ’’کاکے کھڈا‘‘ رہا ہے۔ رشتے ایک دوسرے کی حق تلفی کر رہے ہیں۔ والدین کے گستاخ ہو گئے ہیں۔ نافرمان ہو رہے ہیں۔ اللہ کے بندوں کی خدمت ہم پر فرض ہے۔ بندوں کے اندر چھپا شیطان نظر انداز کر دیا کرو اور آخری وقت تک کوشش کیا کرو کہ وہ بندہ سدھر جائے۔ ہم نے اپنے والد کو کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں دیکھا۔ کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔ کسی سے حسد نہیں کیا۔ کسی کے خلاف کینہ یا بغض نہیں رکھا۔ درگزر کی دولت سے مالا مال تھے۔ کبھی کسی سے نفرت نہیں کی۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ جھوٹے‘ بے ایمان اور منافق لوگوں پر غصہ آیا بھی تو عارضی۔ غریبوں اور حاجت مندوں کے لئے بے حد حساس تھے۔ گھر آتے ہوئے راستے میں کوئی چھابڑی والا مل جاتا تو گاڑی سے اتر کر اس سے پھل خریدتے۔ اس کے ساتھ گپ شپ لگاتے۔ فرماتے کہ سجی سجائی دکانوں سے تو سب ہی خریداری کرتے ہیں، ان غریب چھابڑی والوں سے بھی خریدنا چاہئے۔ عقیدتمندوں کے بارے میں کہا کرتے ’’چکی میں آٹا پستا ہے لیکن کچھ دانے چکی کے ساتھ لگے رہ جاتے ہیں۔ وہ نہیں پستے۔‘‘ یعنی جو ساتھ لگے رہ جاتے ہیں وہی حقیقی عقیدت مند ہوتے ہیں۔ باپ کے مقام دعا کا ادراک ہو جائے توکوئی بیٹا اپنے باپ سے گستاخی کی ہمت نہ کر ے۔’’باپ‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے اور یہ تین لفظوں کا مجموعہ ہے یعنی ’’ب‘‘ سے برکت و بزرگی والا … ’’الف‘‘ سے اساس واصل اور آبیاری والا… اور ’’پ‘‘ سے پیار و محبت والفت کے مجموعے کا نام ’’باپ‘‘ ہے۔ اگر باپ کی عظمت کا پاس کرتے ہوئے اس کی اطاعت‘ فرمان برداری ،خدمت اورتعظیم کرکے اس کی رضاحاصل کی جائے تو اللہ پاک کی طرف سے ہمیں دین ودنیا کی کامیابیاں‘ سعادتیں اورجنت ایسی نعمتیں مل سکتی ہیں۔ ماں باپ سی نعمت کوئی دنیا میں نہیں ہے حاصل ہو یہ نعمت تو جہاں خْلدِ بریں ہے۔ والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں، اگر کسی کویہ نعمت حاصل ہے اور وہ اْن کی خدمت واِطاعت کر رہا ہے تو وہ بڑا سعادت مند اور اللہ کا محبوب بندہ ہے۔ والدین کے مرقد پر قدموں کی سمت بیٹھے یہ چند سطور لکھنے کی جسارت کی ہے۔ اور پھر پردیس سدھار جانا ہے۔۔۔ ساڈھا چڑیاں دا چنبا اے بابلا اساں اڈ جاناں۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
امریکہ کا جنگی جُنون اور دنیا کا مستقبل ۔ ادریس آزاد
next post
مگر اقبال اور نہیں آیا کرتے۔۔۔ –عائشہ غازی

Related Posts

سامراجی مداخلت کی تاریخ — ترجمہ و تحقیق: محمد...

11/08/2022

عرب سپرنگ : سیکولرز و لبرلز نے تبدیلی...

19/01/2021

مسلمان شہریوں کی بے ریاستی اور مودی میکرون...

05/11/2020

صدر میکرون : فرنچ مسلم دشمنی کی تاریخ...

27/10/2020

بیماری، علاج اور ڈاکٹر: خوف کی مارکیٹنگ ——–...

29/11/2019

علم نفسیات کی کلینک سے آزادی —- فرحان...

19/11/2019

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.