تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

سرمایہ دارانہ نظام اور انقلاب کے چھیچھڑے —– نعمان کاکا خیل

by دانش ڈیسک 04/12/2018
written by دانش ڈیسک 04/12/2018
139

(نوٹ: سمجھنے کے لئے تحریر کو مکمل پڑھنا شرطِ اؤل ہے)

آمریت کا سورج غروب ہونے بعد ہمارے ہاں کچھ دہائیوں سےجمہوری طرز حکومت کے ذریعے انقلاب لانے کی خاطر ہر دور کے اندر کچھ خاص نعرے متعارف کرائے گئے جس کے ذریعے عوام کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ان نعروں کا ساتھ دیا گیا تو حقیقی انقلاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہو نے کی گارنٹی ہم دیں گے۔ یہ نعرے کبھی “روٹی، کپڑا اور مکان” کی شکل میں بلند ہوئے تو کہیں پر عدل و انصاف کی بالادستی اور کرپشن کی بیخ کنی کا نقارہ بجانے کی شکل میں سامنے آئے۔ یہ نعرے کامیاب کس حد تک ہوئے اور ان کے ناکامی کے اسباب کیاتھے؟ یہ سوالات اور ان کے جوابات ایک الگ موضوع ہے۔ لیکن ہر انقلابی نعرے کے اندر ایک چیز یکساں تھی کہ اقتدار میں آنے کے لئے اپنے نظریات کا سودا کرنا پڑا اور جس کا اعتراف ان انقلابی کاروانوں کے ناخداوؤں نے کھلے عام واضح طور پر مختلف مواقع پر صراحتاً کیا۔ اور جس کا اس انقلابی جماعت کا ہر ہر شخص مکمل طور پر قائل ہے۔

موجودہ انقلابی نظام کے سالارِ انقلاب کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ بائیس سال محنت کے بعد ان کو محسوس ہوا کہ نظریات کے اوپر ثابت قدمی دکھانے سے شائد اس جنم میں اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونا ناممکن ہو لہٰذا سرمایہ داروں کے ٹولے اور پہلے سے آزمودہ سقراطوں وبقراطوں کو دوبارہ اپنا رفیق جماعت بنانا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد جن جن موقعوں پر اپنے نظریات کے اوپر پاوں رکھ کر ترقی کے جو زینے چڑھے گئے وہ سب کے سامنے ہیں۔ کہیں پر “قاتل “کہلانے والی جماعتوں کی منتیں کرنی پڑیں تو کہیں پر پارٹیوں سے فارغ شدہ حضرات کو ہیلی کاپٹر میں لا کر دوبارہ منایا گیا۔
ملکی مفاد میںیہ بات قطعًا غلط نہیں ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے لیکن دوسری جماعتوں کے ان اقدامات کو بھی سراہا جائے نا کہ ان کو بدنام کرکے غدار ملت کے القابات سے نواز کر سولی چڑھانے کی تیاریاں کی جائیں۔
حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ ملک کے غریب باسیوں کے مستقبل کا فیصلہ اور ان کے احساسات کو سمجھنے کے لئے ٹھنڈے ایوانوں میں بیٹھ کر دور سے خبر گیری کی جاتی ہے۔ یاپھر منرل واٹر پی کر بلوچستان کی خشک سالی پر بحث کی جاتی ہے۔ لندن، امارات اور سوئٹزرلینڈ میں اربوں روپے کی جائیدادوں اور کاروباروں کامالک یہ طبقہ کیا جانے کہ غربت کیا چیز ہے یا بے روزگاری کس بلا نام ہے؟

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک یہ طبقہ ملک کی پالیسی وضع کرنے کا مالک رہے گا تب تک پسے ہوئے طبقے کا ترجمان نظام ایک خواب ہی رہےگا اورکسی انقلاب کی امید رکھنا سادگی کے علاوہ کچھ نہیں۔ جب تک نظریات کو ضرورت اور مفادات کے بھینٹ چڑھایا جائے گاتب تک انقلابی ب نعرہ ایک سیاسی نعرے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ سوال یہ اٹھے گاکہ پھر کس کا انتخاب کیا جائے؟ ملک کے اندر ایسی جماعتیں اب بھی موجود ہیں جن کے دامن کرپشن کی آلودگی سے پاک ہیں۔ جہاں ایک مٹی کے گھر میں رہنے والا بھی سالارِ جماعت کی ذمہ داری سنبھالنے کا اہل ہوتا ہے۔ جہاں موروثی سیاست دور دور تک نظر نہیں آتی۔ جو بغیر اقتدار میں آئے ہوئے کئی فلاحی اداروں کے روح رواں ہیں۔ جہاں میرٹ کی بالادستی ہے اور ہوائی نعروں کی بجائے اور اہل ٹیم کی تیاری ہمہ وقت زیر نظر رہتی۔ ہاں البتہ وہ ہماری پسندیدہ اس لئے شائد نہیں کہ وہ اپنےنظریات کا سودا کرنے کے لئےتیار نہیں۔ وہ اپنے انتخابی مہم میں سرمایہ کاروں کے اوپر منحصر نہیں ہیں۔ ہمیں جذباتی تقریریں اور شیخ چلی کی کہانیاں چاہییں جس معیار پر وہ پورا نہیں اترتے۔ تھوڑا سا سوچنے پر اس جماعت کی پہچان بہ آسانی ہو جائے گی لیکن اسکو ہم قبول کرنے لئے تیار نہیں۔

Facebook Comments Box
انقلابسرمایہ دارانہ نظام
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ابراہیم اور ردابہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مطربہ شیخ کا افسانہ
next post
اور سندھ بہتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عبداللہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.