تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسفرنامہسماجیعلم و ادبکالم

ایک غیر ملکی سیاح کا "سفر نامہ لاہور” — قسط: 4 —– عطاء الحق قاسمی

by Editor2 11/11/2018
written by Editor2 11/11/2018
101

جینے کا قرینہ
میرے نزدیک لاہوریوں کی شخصیت کا خوبصورت پہلو یہ ہے کہ ان کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ کے پھول کھلے رہتے ہیں میں نے انہیں کبھی منہ بسورے نہیں دیکھا وہ ہمیشہ ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں، چنانچہ وہ اپنی اس قومی خصوصیت کو بڑے سے بڑے سانحے پر بھی بر قرار رکھتے ہیں۔ میں نے یہاں کے ایک اخبار میں کسی بڑے المیے پر ایک احتجاجی جلوس کی تصویر دیکھی جس کے نیچے یہ کیپشن درج تھا کہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے عوام اپنے غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور تصویر میں جو لوگ نظر آرہے تھے ان میں سے پیشتر کیمرے کی طرف منہ کر کے ہنس رہے تھے جس قوم کے افراد بڑے سے بڑے صدمے کو یوں ہنسی خوشی برداشت کرنے کا قرینہ جانتے ہوں اسے کبھی زوال نہیں آسکتا۔

نظریاتی جھگڑا
ایلوس پر یسلے اتنا مقبول فنکار تھا کہ ایک بار وہ اپنی سفید کار با ہر کھڑی کر کے شا پنگ کے لئے ایک دکان میں گیا اور جب وہ واپس آیا تو اس کی پرستار لڑ کیوں نے اس کی سفید کار چوم چوم کر لپ اسٹک سے سر خ کر دی تھی میں نے یہ واقعہ دوران گفتگو یہاں کے ایک مقبول فنکار کو سنایا تو اس نے بتایا کے یہاں بھی فنکاروں سے ان کے پرستار کی محبت کا یہی عالم ہے چنانچہ اس ضمن میں اس نے اپنا حوالہ دیا اور بتایا کہ ایک بار وہ اپنی سر خ کار باہر کھڑی کر کے شا پنگ کے لئے ایک دکان میں گیا اور جب وہ واپس آیا تو اس کے پرستاروں نے اس کی سر خ کار کھر چ کر سفید کر دی تھی۔ ممکن ہے یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا ہو مگر یہ فن کار اس واقعہ سے جو نتیجہ اخذ کرنا چاہتا تھا میں اس سے متفق نہیں ہوں کہ میرے خیال میں یہاں بھی لوگ فنکاروں کی پوری طرح قدر کرتے ہیں۔ ممکن ہے یہ واقعہ کسی نظریاتی گر وہ کے غیظ و غضب کے نتیجے میں عمل میں آیا ہو کیونکہ یہاں کسی کے سر خ یا سبز ہونے کا اندازہ اس کی کار سر خ یا سبز ہو نے سے لگایا جاتا ہے۔

قائد سے والہانہ محبت
یہاں کے لوگ اپنے عظیم قائد مسٹر جناح سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ اپنی اس عقیدت کے اظہار کے طور پر انہوں نے ایک رو پے سے لے کر سو رو پے کے کرنسی نوٹ پر قائد کی تصویر چھاپ رکھی ہے اور وہ قائد کی تصویروں والے ان کرنسی نوٹوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں چنانچہ انہیں اس کے حصول کے لئے پانی کی طرح ایک دوسرے کا خون بہاتے دیکھا ہے۔

ایک روشن پہلو
لاہور والوں کی زند گی کا ایک اور پہلو مجھے بہت روشن لگا اور وہ ان کا ایک دوسرے کے لئے زبردست گرم جو شی اور محبت کا جذبہ ہے۔ اپنےاس جذبہ کو برقرار اور مستحکم رکھنے کے لئے وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ میں نے متعدد بار دیکھا اس نے ہارن بجا کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر ان دونوں نے بے پناہ ٹریفک کے باوجود اپنی کاروں کو وہیں بریک لگائی اور دروازہ کھول کر سٹرک کے بیچ ایک دوسرے سے بغلگیر ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں، میں نے بعض اوقات بہت ہولناک حاد ثے بھی ہوتے دیکھے۔ پیچھے آنے والے لوگوں کو بڑبڑاتے بھی دیکھا، مگر لاہورئیے ان چیزوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ افسوس ہم لوگ ان جذبوں سے محروم ہوتے جا رہتے ہیں۔

صحافت کی آزادی
اپنے دورہ لاہور کے دوران میں نے ایک صحافی سے آزادی صحافت کے بارے میں بات کی تو اس نے کہا اللہ کا فضل ہے پاکستان میں صحافیوں کو بہت سہولتیں حا صل ہیں۔ میں نے اس کی تفصیل پو چھی تو اس نے بتا یا کہ ہمیں ریلوے ٹکٹ میں ساتھ فیصد تک رعایت دی گئی تھی پی آئی اے وا لے پچاس فی صد رعایت دیتے ہیں۔ سینما کی ٹکٹ میں بھی خاصی رعایت ہے بلکہ اس کے فری پاس بآسانی مل جاتے ہیں۔ اس کے علا وہ حکومت کا ہے گا ہے مختلف رہائشی سکیموں میں ہمیں پلاٹ الاٹ کرتی رہتی ہے۔ نیز صحافیوں کے لئے غیر ملکی دوروں کا انتظام بھی کیا جاتا ہے غر ض یہ کہ اللہ کا فضل ہے ہمارے ہاں صحافت بہت آزاد ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ
تا ہم اس صحافی کی ان با توں سے میری تسلی نہیں ہوئی، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان میں صحافیوں کی معاشی حالت بھی تسلی بخش نہیں ہے ان میں سے بیشتر تو تنگی تر شی میں بھی گزا رہ کر لیتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں اخبار کے علا وہ بھی کوئی نہ کوئی دھندا کرنا پڑتا ہے چنانچہ کوئی فیکٹری چلاتا ہے کسی نے پریس لگا یا ہوا ہے اور کوئی ٹھیکیداری کرتا اور کوئی اپنے پیشے کی حدود ہی میں رہنے کے خیال سے شائع ہو نے وا لی خبریں اپنے اخبار میں دے دیتا ہے اور باقی سی آئی دی وا لوں کو دیتا ہے۔

کیش کی وصولی
لاہور کے بینکوں میں کیش کی وصولی کے دو طریقے ہیں۔ ایک چیک دے کر دوسرا کیشیر کو پستول دکھا کر دوسرا عوام میں زیادہ مقبول ہے کیونکہ یہاں کے بینکوں میں چیک دے کر رقم کیش کرانے میں خاصا وقت لگتا ہے۔

غربت کی ایک مثال
پاکستان میں غر بت اور افلاس بہت زیادہ ہے۔ اتنی سا ئنسی ترقی کے باوجود ہزاروں لوگ درختوں کی چھال کھا کر گزارہ کرتے ہیں۔ یہ میں کوئی سنی سنائی بات نہیں کر رہا بلکہ اس طرح کے بیسیوں مناظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ لاہور میں قیام کے دو ران میں روزانہ ایک قریبی پارک میں صبح کی سیر کے لئے جایا کرتا تھا۔ وہاں میں نے بے شمار لوگوں کو دیکھا کہ وہ کسی درخت کی ایک شا خ کا ٹکڑا منہ میں ڈ ال کر چبا نے کی کو شش کر رہے ہیں۔ ایک مقامی دوست سے میں نے اس کا ذکر کیا تو اس نے ملک میں پائی جا نے وا لی غر بت پر پر دہ ڈالنے کے لئے کہا کہ یہ لوگ درخت کی شاخ نہیں کھا رہے بلکہ اس سے مسواک (ٹوتھ پیسٹ ) کر رہے تھے۔ یہ سن کر میں مصلحتاً خاموش ہو گیا ورنہ مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا کیونکہ میں نے صبح کی سیر کے دور ان کئی لوگ ایسے بھی دیکھے تھے جو ہاتھ میں پکڑی ہوئی آدھی سے زیادہ شا خ کھا چکے تھے اور باقی بس تھوڑی سی رہ گئی تھی۔

ایک انڈ و پاک مشاعرہ
میں نے یہاں ایک انڈ و پاک مشاعرے میں بھی شرکت کی جس میں پاکستان کے علاوہ بھارت کے بہت سے شعرا نے بھی اپنا کلام سنایا جس سے مجھے احساس ہوا کہ دونوں ملکوں میں ثقافتی تعاون روز افزوں ہے تاہم مشاعرے کے بعد جب میں نے اپنے اس دوست کے سامنے (جو مجھے یہاں لایا تھا) متذکرہ خیال کا اظہار کیا تو وہ بہت ہنسا اور اس نے کہا یہ جو تم مختلف شاعروں کے ناموں کے آ خر میں امروہوی، مراد آبادی، جالندھری، لکھنوی، دہلوی اور امرتسری وغیرہ کے الفاظ سن رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ یہ شعراء اس مشاعرے میں شرکت کے لئے انڈیا سے آئے ہیں تو معاملہ یوں نہیں ہے دراصل ان شعرا ء نے دہلوی اور لکھنوی وغیرہ کے الفا ظ یونہی شو شا کے لیے اپنے ساتھ ٹانکے ہوئے ہیں، ورنہ یہ سب پاکستانی ہیں اور ۱۹۴۷ء میں بھا رت سے مستقلاً ہجرت کر کے یہیں آباد ہو چکے ہیں۔

ناک چھدوانا، دانت نکلوانا
لاہور اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں لڑ کیاں اپنے کان اور ناک چھدواتی ہیں۔ لاہور کے ایک مشہور تجارتی مرکز با نو بازار میں سے گزرتے ہوئے میں نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا، ایک بہت خوبصورت لڑکی اپنای ناک چھدوا رہی تھی اور مارے درد کے آنسو اس کی آنکھ سے بہہ کر خاموشی سے اس کے رخساروں پر پھیلتے جا رہے تھے۔ مجھے یہ منظر دیکھ کر کوفت ہوئی مگر میرا گائیڈ اچا نک کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ میں نے اس بے موقع ہنسی کی وجہ پو چھی تو اس نے دکان میں آویزاں ایک تختی کی عبا رت کا تر جمہ مجھے سنا یا۔ اس تختی پر لکھا تھا یہاں ناک اور کان بغیر درد کے چھیدے جاتے ہیں اس سے مجھے یاد آیا کہ یہاں ٹرینوں اور بسوں میں کئی لوگ انگشت شہادت (دائیں ہاتھ کی انگوٹھے کے ساتھ وا لی انگلی) سے بغیر درد کے دانت بھی نکالتے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ یہ منظر بھی دیکھا تھا آخر میں دانت نکلوا نے وا لے نے تنگ آ کر دانت نکالنے والے کے دانت نکال دیئے تھے۔

ایک مہم جو نوجوان
یہ جس بانو با زار کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے یہ با زار بالکل نہیں ہے۔ بلکہ ایک تنگ سی گلی ہے جس میں سے گزرنا محال ہو جاتا ہے اور اس میں عموماً خواتین ہی شا پنگ کے لئے آتی ہیں جن میں سے بیشتر نے یہاں کی روایت کے مطابق چوٹیاں (بالوں کو بل دے کر باندھنا ) کی ہوتی ہیں تا ہم میں نے چند نو جوانوں کو بھی یہاں گھومتے دیکھا لیکن میں نے اُنہیں خریداری کرتے نہیں پا یا۔ بس وہ عور توں کے ہجوم میں سے اپنا راستہ بناتے ہوئے گزرتے چلے جاتے تھے۔ یہ غالباً مہم جو نو جو ان اور یہاں چوٹیاں سر کرنے کے لئے آتے ہیں۔

اولادِ نرینہ کے لئے منت
یہاں کے لوگ اپنی مرادیں پو ری کرنے کے لئے منت مانتے ہیں اور ان میں سے بعض منتیں بہت عجیب ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی کے ہاں اولادِ نرینہ نہ ہو تو وہ منت مانتا ہے کہ لڑ کے کی پیدائش سے لے کر اس کے سات سال کی عمر میں پہنچنے تک وہ اپنے اس لاڈلے بیٹے کو مانگے تانگے کے کپڑے پہنائے گا۔ ایک روز میرا گزر پرانے کپڑوں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ لنڈا بازار سے ہوا تو میں نے یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو دیکھا۔ یقیناً ان سب نے اولادِ نرینہ کے لئے منت مانی ہو گی جو پوری ہو گئی چنانچہ اب وہ وہاں دھڑا دھڑا پنے لا ڈلے کے لئے جوٹھے کپڑے خر ید نے میں مشغول تھے۔

ہر بار خلا پیدا ہونا
لاہور میں میری موجودگی کے دوران کئی مشہور شخصیتوں کا انتقال ہوا۔ میں نے اخباروں میں مختلف لوگوں کے بیان پڑھے جن میں ہر مرنے والے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ مرحوم کے انتقال سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ درا صل یہ مشرقی لوگ الفاظ کے معاملے میں بہت فیاض واقع ہوئے ہیں ورنہ ان میں سے ایک آدھ مرحوم ضر ور ایسا بھی ہو گا جس کی موت سے کوئی خلا پُر ہو گیا ہو گا مگر یہاں کسی مرحوم کے بارے میں ایسی بات کہنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

اسی مر گئے آن ؟
قیام لاہور کے دوران میری ملاقات عاشقوں کے ایک گروہ سے بھی ہوئی انہوں نے یہ ملاقات کسی وفد کی صورت میں نہیں کی بلکہ مجھے ان سے انفرادی ملاقاتوں کا موقع ملا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کو اپنی جگہ منفرد خصوصیات کا مالک پایا۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور خاصی کسمپری کی زند گی بسر کرتے ہیں۔ ان کےرستے کی سب سے بڑی رکاوٹ محبوبہ کے اہل خاندان اور ان سے بھی زیادہ اہل محلہ ہیں۔ اہل محلہ اپنے محلے میں کسی دوسرے محلے کے عاشق کے داخلے کو پسند نہیں کر تے، اس سلسلے میں ان کا کہنا یہ ہے کہ ’’اسی مر گئے آں‘‘؟ میں نے کئی لوگوں سے اس جملے کی رمزیت در یافت کی مگر تمامتر تشریح کے با و جود میں پوری طرح اس جملے کی تہہ تک پہنچ سکا۔ یقیناً اس کا کوئی کلچرل پس منظر ہو گا۔

جاری ہے۔۔۔

اس مضمون کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Facebook Comments Box
آزادی صحافتایک انڈ و پاک مشاعرہایلوس پریسلےپاکستانی صحافتٹھیکیداریدھنداصحافیصحافیوں کا حالفیکٹریقائد پاکستانمعاشرتی احوالمعاشی حال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
ایک غیر ملکی سیاح کا "سفر نامہ لاہور” — قسط: 3 —– عطاء الحق قاسمی
next post
ایک غیر ملکی سیاح کا "سفر نامہ لاہور” — قسط: 5 —– عطاء الحق قاسمی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.