تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

میڈیا کی پراڈکٹس اور مصعوم احمد — اسد احمد

by دانش ڈیسک 26/10/2018
written by دانش ڈیسک 26/10/2018
75

کارپوریٹ میڈیا کا بنیادی مقصد سرمایے کا حصول ہے۔ ورقی اور برقی میڈیا کے شبانہ روز مساعی جمیلہ اس مقدس فریضے کے لیے ہیں۔ میڈیا ایک خاص تہذیب کو پروان چڑھانے کے لیے ہر قسم کا مقامی ذائقہ پیش کرتا ہے۔ اس خاص تہذیب کے پچھے جو بنیادی اصول کافرما ہے وہ سرمایے کا حصول ہے، سرمایے اور طاقت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس وقت سرمایہ داری نظام کا بیشتر دار ومدار میڈیا پر ہے۔ سرمایہ دارنہ تہذیب جس قسم کے اقدار کی تبلیغ کرتی ہے، اس میں میڈیا کے کردار بہت خطیر ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ جمع کرنا گویا بنیاد کی حثیت رکھتا ہے۔ تاہم دنیا کے چند بڑے میڈیا گروپس اس کام میں لگے ہوئے ہیں، ان کی اجارہ داری ہے جو بھی چاہیں، کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ یہ اتنے طاقت ور اور تناور ہوچکے ہیں کہ اب بڑی بڑی قوتیں ان کے نقوشِ راہ پر چلنے کے لیے مجبور ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ برقی میڈیا پر اس مقصد کے لیے کیا کیا مسخراپن نہیں کیا جاتا۔ پسِ چلمن ایک ہی مقصد کارفرما ہے اور وہ ہے ”ریٹنگ”۔ اس عظیم مقصد کے لیے کسی کی پگڑی اچھالنی پڑے، کسی کی عزت کو زیر و زبر کردے، کسی کو خود کشی کو مجبور کردے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میڈیا ایسی غیر ضروری چیزوں میں دلچسپی نہیں لیتا اس کا اپنے واحد مقصد کے لیے جو بھی مناسب ہوگا کرے گا۔ اقدار، عزت نفس، خاندان یہ سب اس کے مقاصد سے خارج ہیں۔ ”ریٹنگ” کے لیے سکینڈلز بنانا، رائی کو پہاڑ بنا دینا، مذہبی تنازعات کو ٹاک شوز کی زنیت بنا دینا، مسخروں اور اوباشوں کو ‘دانشوری کی منسد پر بیٹھا دینا تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایے کا حصول ممکن ہوسکے۔

مشہور ماہر لسانیات اور سیاسیات نوم چومسکی نے اپنی کتاب “The political Economy of Mass Media” میں بھی میڈیا کا بنیادی مقصد سرمایے کا حصول بتایا ہے۔ خبر کو کس انداز سے سنسنی بنا کر پیش کیا جائے تاکہ مذکورہ مقصد حاصل ہوجائے۔ یعنی اس کے جو مقصدِ اولین ہے وہ سرمایہ اور مالی منفعت ہے۔

مذہبی مسائل کا جواب مولوی بھی دیتا ہے اور ادکارہ بھی لیکن آخر میں ذائقہ اداکارہ کا رہ جاتا ہے

میڈیا پر ہر چیز ایک commodity بن جاتی ہے عورت ہو مولوی ہو بچہ ہو، اس میں کوئی تفریق نہیں۔ مقصد اولین تو اس کا حصولِ سرمایہ ہی ہے، اس کی خاطر اس کو کسی کی شخصیت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس بازار میں سب سے مہنگا بکنے والا product عورت ہے۔ مولوی اور اداکارہ ایک ہی نشت میں بیٹھے ہوتے ہیں مذہبی مسائل کا جواب مولوی بھی دیتا ہے اور ادکارہ بھی لیکن آخر میں ذائقہ اداکارہ کا رہ جاتا ہے، مولوی بے چارہ اوجھل ہوجاتا ہے۔ یہ پراڈکٹ اتنا بکتا ہے اور اس کے consumers اس قدر زیادہ ہیں کہ پچھلی سردیوں میں ایک بڑے اخبار میں قوم کے نام ایک پیغام چھپا، جس میں قوم بتایا گیا کہ: گیس ہیٹر صحت کے ٹھیک نہیں ہے، اس سے گریز کریں۔” اور ساتھ ہی ایک "خوب رو” کی تصویر بھی نصب کی تھی، جس کا پیغام کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی ربط نظر نھیں آرہا تھا لیکن پھر بھی یہ تکلیف اٹھانی پڑی کہ مارکیٹ میں یہی سکہ چلتا ہے۔

آمدم برسرِ مطلب!
میڈیا میں ایک ہی چیز قبول کی جاتی ہے کہ کسی کو بطورِ پراڈکٹ کے پیش کرے اور اپنا مقصد حاصل کرلے۔ اس مقصد کے لیے مسخرے، عورتیں، اور دیگر commodities کا استعمال تو کافی پہلے سے ہورہا تھا لیکن اب اس حرس و حوس کے لیے معصوم بچوں کو بھی لایا جارہا ہے۔ چند ہفتے پہلے سوشلستان پر کراچی سے ایک تین سالہ پختون بچے، احمد، کی ویڈیو کافی پھیل گئ۔ جس کو سکول میں کوئی استانی غصہ دلا رہی ہے اور وہ حقیقت میں غصہ بھی ہوئے جارہا ہے۔ اب استانی اگر خود کو محظوظ کرانے کے لیے ایسی حرکتیں کریں تو اور کس سے شکوہ کیا جائے!

عام طور پر ماں باپ یا بڑے بچوں کو خوامخواہ غصہ دلا کر لطف کا سامان کرتے ہیں۔ یہ رویہ بہت عام ہے۔ انفرادی سطح پر اس پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کرنے سے بچے کی شخصیت پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔ تاہم اس ویڈیو کے بعد اس بچے کو میڈیا پر لایا گیا تاکہ پوری قوم اس محظوظ ہوسکے۔ بار بار اس کو غصہ دلایا جارہا ہے اور سب قہقہے لگا کر لطف اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ اگر تین سال میں اس کے غصہ کی یہ حالت ہے اور ایک خاص انتظام کے ساتھ اس رویے کی مسلسل پرورش ہورہی ہو تو جب یہ بڑا ہوجائے گا تو اس کی شخصیت کیسی ہوگی؟ کن نفسیاتی عوارض کا شکار رہے گا؟

دیکھنے میں تو یہ بہت معمولی واقعہ ہے لیکن درحقیقت یہی اس قوم کا اصلی چہرہ ہے۔ حیرت ان کے والدین پر ہے جو اس کو میڈیا کے قتل گاہ میں بھیج کر اپنے بچے کو جھنجھنا بنا کر پیش کیا۔

Facebook Comments Box
AdvertismentFemale Modelاحمد غصہاشتہاراشتہار سازیخواتینخواتین کا استعمالمیڈیا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پیسہ اہم ہے یا فیملی ‎۔۔۔۔۔۔۔ بشارت حمید
next post
امریکہ میں لابنگ کیسے ہوتی ہے؟ پال فنڈلے کی کتاب "They Dare To Speak Out”

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.