تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینسماجیکالم

میرا مال ، میرا مال‎ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بشارت حمید

by Editor2 18/10/2018
written by Editor2 18/10/2018
104

دنیا میں بسنے والے ہر انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے پیسے کی بہت اہمیت ہے۔ دنیا میں کچھ بھی فری نہیں ملتا البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسکی قیمت کوئی اور ادا کر رہا ہو۔ دوسری طرف ہر پیدا ہونے والا بچہ اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے کوئی بھی پیسہ اپنے ساتھ لے کر نہیں آتا۔ بچپن سے لے کر جوانی تک ماں باپ اسکے اخراجات اٹھاتے ہیں پھر وہ خود کمانے کے قابل ہوجاتا ہے لیکن ہر بچے کے ماں باپ وسائل کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ اس نے زمین کا نظم و نسق چلانے کیلئے انسانوں میں مختلف مدارج رکھے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کو ایک دوسرے سے منسلک کیا ہے۔ یہ ضروریات ہی ہیں جو امیر کی جیب سے پیسہ نکلوا کر غریب ہنر مند کے ہاتھ تک پہنچاتی ہیں۔

اگر کسی کو اللہ نے مال و دولت میں کشائش بخشی ہے تو اس میں انسان کا ذاتی کمال کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر انسان یہ سمجھے کہ میں نے یہ مال اپنی عقل اور سوجھ بوجھ سے کمایا ہے تو عقل کس کی عطا کردہ ہے۔ وہ اللہ ہی ہے جو جس کو چاہے عقل و فہم عطا کر دے اور جب چاہے کسی دماغی عارضے میں مبتلا کر کے اس کی یہ صلاحیت ختم کر دے۔ تو پھر انسان کا کمال کیا ہوا۔ اسے تو جو کچھ بھی ملا ہے خواہ جسمانی طاقت ہو، حسن ہو، جوانی ہو، مال و دولت ہو، اولاد ہو، عرض کچھ بھی ہو، سب کا سب اللہ کی عطا ہے۔ ان نعمتوں کو حاصل کرنے میں انسان کا اپنا کوئی کمال سرے سے ہے ہی نہیں۔

اگر اللہ کی عطا کردہ دولت سے انسان کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دے کسی کی پریشانی میں اس کی مدد کردے تو اس عمل کا احسان اس ضرورت مند پر چڑھانے کی بجائے یہ سوچ رکھنی چاہئے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے کسی کی مدد کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اگر کسی کو اللہ کے نام پر کچھ دیا ہے اور وہ لینے والا ہماری نظر میں مستحق نہیں تھا تو جس مال کے ہم مالک بن کر بیٹھے ہیں کیا ہم اس کے مستحق ہیں؟ ذرا تجزیہ کریں کیا فرق ہے ایک مل مالک اور ایک مسکین انسان میں، دونوں انسان ہیں، دونوں کو بھوک بھی لگتی ہے اور پیاس بھی، دونوں کو باتھ روم کی حاجت بھی ہوتی ہے اور رات کو نیند بھی آتی ہے، اسی طرح بے شمار معاملات میں یکسانیت مل جائے گی، کیا ہوا اگر اس دنیا میں اللہ نے اس مسکین کو تھوڑا مال عطا کیا ہے اور دوسرے کو زیادہ، اللہ جب چاہے دنوں کو الٹ دے اور آج کا مل مالک کل کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھرے۔

کوئی سائل آئے تو اسے ضرور کچھ نہ کچھ دینا چاہیئے کہ کون سا اپنے پلے سے دینا ہے یہ تو مالک کے دیئے ہوئے مال میں سے ہی دینا ہے۔

جب اکتوبر 2005 میں زلزلہ آیا اور ہزاروں لوگ متاثر ہوئے وہیں اس کا شکار ہونے والے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو چند لمحے قبل دوسروں کو صدقہ و خیرات دینے والوں میں شامل تھے لیکن چند سیکنڈ میں بازی الٹ گئی اور وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والوں کی صف میں آ گئے۔ انسان کے اندر مال جمع کرنے کی حرص بہت زیادہ ہے۔ کئی لوگ اگر اللہ کی راہ میں دینے کا احسان کر ہی لیں تو اسے بھولتے نہیں۔ البتہ اگر کوئی ان سے گن پوائنٹ پر کچھ چھین لے تو وہ برداشت ہو جاتا ہے۔

ایک حدیث مبارکہ میں ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال۔ اس کا مال تو وہ ہے جو کھا پی لیا یا پہن کر پرانا کر دیا اور یا پھر اللہ کی راہ میں دے دیا۔ باقی جو کچھ ہے وہ تو وارثوں کا ہے۔

باباجی اشفاق احمد صاحب کی بات یاد آ گئی کہ کوئی سائل آئے تو اسے ضرور کچھ نہ کچھ دینا چاہیئے کہ کون سا اپنے پلے سے دینا ہے یہ تو مالک کے دیئے ہوئے مال میں سے ہی دینا ہے۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال سے سائل اور محروم کا حق بخوشی ادا کرنا ہے یا اس کے استحقاق کے ثبوت لے کر اس پر احسان کرنا ہے

Facebook Comments Box
اشفاق احمدبابا جیصدقہ خیراتمالمال و دولت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
قرطبہ، لندن اور کہانی کچھ صدیوں کی — عبدالرّحمٰن قدیر
next post
سوزوکی لوگ ——– محمد مدثر احمد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.