تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

افغان مہاجرین کا حقِ شہریت اور پاکستانی سیاست —- راو جاوید

by دانش ڈیسک 16/10/2018
written by دانش ڈیسک 16/10/2018
315

افغان قوم پشتون ولی کی روایت، حنفی فقہ اور آزاد قبائلی فطرت کیساتھ ایک گروہ دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان ایک مکمل قومی ریاست ہے۔ اسے جمہوریت، جناح کی قانون پسندی، اسلام اور اقبال کے علاوہ عالمی اثر و رسوخ کی حامل ایک قومی ریاست کہاجاتا ہے۔۔ افغانوں اور پاکستانیوں میں بہت سے واضح اختلافات ہیں۔ لیکن اسی کی دہائی نے دونوں کو مشترکہ دشمن کے خلاف اکٹھا کردیا۔ تب سے ابتک دشمن مشترک اور یہ اکٹھے چلے آرہے ہیں۔ تختِ لاہور کے رنجیت سنگھ کی حکومت سے قبل یہ دونوں ایک ہی حکمران کے ماتحت تھے۔ لیکن انگریز کے خلاف جدوجہد نے پنجابیوں کو مختلف حکومت اور انتہائی کمزور کردار کی جانب دھکیلا۔ تب سے ابتک "اٹک اُرار” والے پہلے کی مانند آزاد پنجابیان نہیں رہے۔ مصلحت کوش فطرت حقیقت سے دور کردیتی ہے۔

افغان روس جنگ نے پاکستان کو تاریخی موقع دیا۔ ہم صرف پنجابیان کی بجائے اسلامیان ہوگئے۔ لیکن کچھ بڑے ہی عظیم لوگوں نے ہمیں واپس مصلحت کوش کردیا ہے۔ ہمارے سمجھدار لوگ اس جانب دھکیلے جانے کا مطلب و مفہوم سمجھتے ہیں لیکن دریا مخالف تیراکی آسان نہیں۔ الزام لینا ہر ایک کا کام بھی نہیں۔ تند و تیز عالمی قانونی طوفان اور میڈیا کا آتش و آہن دونوں اکٹھے ایک ہی سمت بہہ رہے ہیں۔ ہم مجبور ہیں۔

ہمیں برطانیہ اور روس سے آزادی دلانے میں اہم کردار افغانوں کے سوا کسی کا نہ تھا۔ اب امریکہ جیسی عالمی طاقتوں اور خاص طور پر بڑے جنگی اتحادات کیساتھ کوئی بھی نہیں بھِڑ سکتا۔

پاکستان کے پشتون امریکہ کو رسد فراہم کرنے پر سلگ اٹھے تھے لیکن تیل کو آگ لال مسجد نے دکھائی۔ پھر کسی کو مڑ کر دیکھنے کا چارہ نہ تھا تاآنکہ فوج بیرکوں سے باہر آگئی۔ اسلامی شرعی سیاست سے کہیں زیادہ افغان سرزمین پر سے کافر اور اسکے سامان کی آمدو رفت مسئلہ تھے۔ اس مسئلے کے حل ہوتے ہی تمام حالات، الا ماشاء اللہ، درست ہوگئے۔ پاکستان کے اسلامی انقلابی اچھے دنوں کی یاد میں اب بھی کھوجاتے ہیں۔ لیکن میدان کا رنگ ہی بدل گیا ہے۔

پارلیمان کو اہم فیصلوں میں ضرورت سے زیادہ وقت لگے گا۔ لیکن حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے۔ افغان قوم 1972 سے مشکل میں ہے۔ مقتل میں گھری اور سماجی و سیاسی بھنور کے ساتھ مذھبی نظریات کی جنگ میں ڈوبنے کو ہے۔ اسکے تمام ہی افراد کو سرحدات سے واپس دھکیلنا انہیں مقتل کا پروانہ دینے کے مترادف ہوگا۔ یہ مشکل فیصلہ روز روز نہیں کیاجاسکے گا۔ قتل کا سہرا اپنے سر سجانا ہر ایک کا کام بھی نہیں۔ نجانے دوسرا مشرف اور تیسرا ٹونی بلئیر کب نمودار ہونگے۔ پاکستان میں رہنے والے بچوں عورتوں اور بوڑھوں کو افغانستان کے مقتل میں دھکیلنا سنگین جرم ہوگا۔ اس پر عالمی مقدمہ بھی قائم ہوسکتا ہے۔ اگر عالمی اداروں اور پاکستانی پارلیمان نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ایسا ہونا بعید بھی نہیں۔ پاکستان کے لسانیت پرست قومی رہنما جذبات میں ہیں۔ انہیں قومی و عالمی سیاست کی نیرنگی سمجھنا ہوگی۔ یہ علاقائی سیاست سے کہیں زیادہ اہم معاملہ ہے۔ افغانوں کیساتھ ہر ایک کو مشکل ہمسائیگی میسر آئی ہے۔ لیکن قومیں چھوٹے معاملات سے اونچا دیکھنے کر ہی زندہ رہتی ہیں۔

ہمیں برطانیہ اور روس سے آزادی دلانے میں اہم کردار افغانوں کے سوا کسی کا نہ تھا۔ اب امریکہ جیسی عالمی طاقتوں اور خاص طور پر بڑے جنگی اتحادات کیساتھ کوئی بھی نہیں بھِڑ سکتا۔ پاکستان کے ادارے بھی کھل کر سامنے نہیں آتے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم نے روس کیساتھ اعلانیہ جنگ نہیں کی۔ نہ ہی ہم نے ناٹو اور امریکہ کو للکارا۔ ایسے ہی ماضی میں بھی برطانیہ کیساتھ کھل کر جنگ نہیں لڑی جاسکی۔ افغانوں نے غیرمعمولی جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور بے تحاشا قربانی دی ہے۔ اسکی بنیاد اسلام اور قبائلی آزادی کا جذبہ تھا۔ دونوں جذبے اہم ہیں۔ قبائل کی سطح ہو یا اسلامی اخوت، ہم نے دونوں کو درست پیرائے میں نہیں دیکھا، نہ سمجھا۔ باقاعدہ تسلیم کرنا تو بہت دور کی کہانی ہے۔ دنیا نئے خطرات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ہمیں اصولوں اور کارکردگی کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا ہونگے۔ افغان اپنی کارکردگی اور اسلامی جذبے کے علاوہ آزادی جیسی اہم انسانی صفت کیساتھ متصف ہیں۔ معاشرتی اقدار انہیں مڑ کر دیکھنے اور مشکل سے بھاگ جانے کی اجازت نہیں دیتیں۔ کوئی بھی گروہ ایسی صفات سے متصف ہو تو اس کی قدر کرنا اور اس سے درست کام لینا ہمارا فرض ہے۔ پاکستان اپنی مشکلات سے تاحال نمٹ نہیں سکا۔ علاقائی توازن مزید بگڑ رہا ہے۔ تمام مسلم امہ مشکل ترین دور میں داخل ہورہی ہے۔ اسلامی اخوت کے تار و پود بکھر رہے ہیں۔ ایسے میں ماضی کی بنیاد پر فیصلے کرکے مستقبل میں درست منزل کا سراغ ڈھونڈا جاسکتا ہے۔

اگر آج ہم اپنی تہذیبات کو درست اصولوں اور کارکردگی کی بنیاد پر جانچ نہ پائے تو کل کو کسی کیلئے جدوجہد کے نشان باقی نہیں رہیں گے۔ قومیں اپنے راستے طے نہیں کرسکیں گی۔ پاکستان جیسی اصول پسند ریاست کو واضح رویہ رکھنا چاہیئے۔ سخت حالات میں درست فیصلے ہی کام آئیں گے۔ اپنے ہمسایوں کیساتھ اصولوں کی بنیاد پر دوستی اور اصولوں کی بنیاد پر دشمنی کی جائے۔ برابری کا پیمانہ بھی دیکھا جائے تو پاکستان زیرِ بار ہی ہے۔ ہمیں اب بھی عالمی طاقتوں کیساتھ مخاصمت آرائی درپیش ہوسکتی ہے۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
امتی ازماسوا بیگانہ ئی ۔ بر چراغِ مصطفیٰ پروانہ ئی
"کل مؤمن اخوۃ” اندر دلش – حریت سرمایہء آب و گلش

افغانوں کو حق دیا جائے۔ یہاں پیدا ہونے والے بچے پاکستانی ہیں۔ ہم کسی کو داخل ہونے سے روک سکتے ہیں۔ لیکن ایک دفع داخلے کی اجازت دینے کے بعد نکال باپر کرنا اور قانونِ قدرت کے خلاف عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

افغانوں کو حق دیا جائے۔ یہاں پیدا ہونے والے بچے پاکستانی ہیں۔ ہم کسی کو داخل ہونے سے روک سکتے ہیں۔ لیکن ایک دفع داخلے کی اجازت دینے کے بعد نکال باپر کرنا اور قانونِ قدرت کے خلاف عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ قدرت کے قوانین کے برخلاف فیصلوں سے معاشرہ غیرضروری شدت پسندی کی جانب مائل ہوگا۔ حقیقت پسندی اور اصول پرستی کی بجائے ذاتی و گروہی مفادات اہم ہوجاتے ہیں۔ بطور قوم ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ پاکستانی قومیت کو اصولوں پر استوار کیاجائے۔ اس دھرتی پر جنم لینے والا ہر بچہ پاکستانی ہے۔ دوسرا اصول اسلام ہے۔ کسی بھی بھی مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دارالاسلام میں داخلے کی درخواست دے سکے۔ اسلامی ریاست ایسے افراد کو داخلے کا حق دینے کی پابند ہے۔ اگر وہ کسی طرح داخل ہوجائیں تو انہیں نکالا نہیں جاسکتا۔ اگر ایسے گروہ اسلامی عقیدے کی وجہ سے ستائے گئے ہیں، تو انکا حق مزید مسلم ہوجاتا ہے۔ اس بناء پر افغان مزید حقدار ہوجائے ہیں۔

افغان حکومت ایک وقتی سیاسی بندوبست ہے۔ خود امریکہ اور اقوامِ متحدہ بہت سے فریقوں کیساتھ مذاکرات میں مشغول ہے۔ اس لئے یہ بندوبست عارضی ہے۔ افغان قوم اور موجودہ افغان حکومت میں فرق کیا جائے۔ دونوں کے مقاصد و اہداف ایک نہیں ہیں۔ افغان قوم وسیع ترین پسِ منظر میں مختلف مقاصد و اہداف کیساتھ زندگی گزارتی رہی ہے اور اب بھی گزارنا چاہتی ہے۔ موجودہ افغان حکومت کو وقتی سیاسی حالات میں تمام افغان قوم کا نمائندہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لئے چند جھڑپوں کو افغان قوم کیساتھ محاذ آرائی سے تشبیہہ نہیں دی جاسکتی۔ بہتر ہے کہ تمام افغان قوم کے مجموعی رویے کو سامنے رکھتے ہوئے افغانوں کو پاکستان کی شہریت دیدی جائے۔

آج حق دیکر ہم کل کو اپنے ہمسایوں سے ایسا ہی حق حاصل کرنے کے اہل ہونگے۔ کسی دوسرے کے لئے حقِ ہمسائگی ادا کروانے کی پوزیشن میں ہونگے۔ مسلمان ہمیشہ مشکل حالات میں رہتے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی نکالا جاتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر کئے جاتے ہیں اور کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ اگر ہم نے درست فیصلے کئے تو عالمی ادارے ہماری قربانی کو مثال کے طور پر پیش کریں گے۔ ہمیں وہسے بھی تمام دنیا میں ابھی اسلام پھیلانا ہے۔ اس کیلئے اچھی مثالیں قائم کرکے ہم اپنے لئے آسانی حاصل کرسکیں گے۔ لیکن اگر ہم نے اپنے ہی جیسے مسلمان بھائیوں کو دھکا دیا تو کل کلاں تمام مسلمانوں کو دنیا بھر سے دھکے ہی ملیں گے۔ علاوہ ازیں پاکستان مشکل جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ یہاں کی سیاسی صورتحال مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ کل کے درپیش مقابلات کا درست اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ ہمارے ہاتھ ہمیشہ کمزور اور پشت غیر محفوظ رہی ہے۔ اس لئے جنہوں نے ہمارے معاشرے میں تیس سال سے زائد عرصہ گزارا ہے، انہیں قبول کرنا آسان ہے اور فطرت کے قریب ترین بھی۔ علاقائی سیاست میں یہ دانشمندانہ اقدام ہوگا۔ کسی بھی فرد کے ماضی کو کھنگالے بغیر تمام افغان مہاجرین کو ایک سی شہریت دیکر ہم اپنی موجودہ مشکلات میں خاصی کمی کرپائیں گے۔ وگرنہ دفاعی امور میں ہم صرف آٹھ ارب ڈالر خرچ کرکے 900 ارب ڈالر والے امریکہ کیساتھ مقابلہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ درست فیصلے بہت سے اخراجات میں نمایاں کمی اور واضح برتری فراہم کریں گے۔ لیکن مختلف اللسان اور سیاست باز گروہوں کو ایک قوم بنائے رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ درست اور متفقانہ فیصلے تو ایک تحریک کی صورت میں مل کر مشکل حالات کا مقابلہ کرنے والے ہی کرتے ہیں۔ کم از کم ایک سی مشکلات سہتے ہوئے اپنے تجربات کے نتائج تو ایک سے رکھیئے۔ وگرنہ ہوسکتا ہے کہ لوگ ہمیں ایک جیسے انسان ماننے انکار کردیں۔ مبادا قوم اور نظریئے کا ذکر ہی مفقود ہوجائے۔

ادارہ کا مصنف کی راے سے متفق ہونا لازم نہیں۔

Facebook Comments Box
Afghan Refugeesfeaturedافغان مہاجرینافغان مہافافغانستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
الحاد کا چیلنج اور ہماری ذمہ داری ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی
next post
 ستارہ شناس —– پیر پگارا کا خاکہ، فاروق عادل کے قلم سے

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.