تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

خوف اور ترغیب کے اعصاب شکن دوراہے —— محمد مدثر احمد

by دانش ڈیسک 29/09/2018
written by دانش ڈیسک 29/09/2018
121

عمل کی زندگی کا ہر دوسرا قدم ایک دوراہے پر لاکھڑا کرتا ہے۔ وجود کے اندر ایک تصادم جاری رہتا ہے۔ بہت توڑ پھوڑ ہوتی رہتی ہے۔ انتخاب کا اعصاب شکن مرحلہ انتشار سے گذرتا ہے۔ انسان خوف اور ترغیب کی تحریک سے پہلے ہیجان کی مشکل میں پھنس جاتا ہے۔ کعبہ اور کلیسا کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ جواب نہیں ملتے۔ دو انتہائوں کے درمیان توازن کی دلیلیں گھڑی جاتی ہیں، پیش کی جاتی ہیں اور قبول یا رد ہوتی رہتی ہیں۔ جبلّی خواہشوں کی پیروی بڑی مُنہ زور دعوت رکھتی ہے۔ اس میں لطف، تحفظ اور تسخیر کا بھرپور احساس ملتا ہے۔ جائز ضرورت احسن طریقے سے پوری ہوتی ہے ناجائز ضرورتیں نا ممکن نہیں رہتیں۔ ماضی کی محرومیوں، حال کی ضرورتوں اور مستقبل کے منصوبوں میں ایک ربط بنتا ہے۔ اخلاقیات کی نفسیاتی ضرورت SELECTION اور ADJUSTMENT کے ساتھ برقرار رہتی ہے۔ کچھ باتوں کو بہر حال نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ کچھ چیزوں کو نئے معنی دینے پڑتے ہیں۔ ضرورت اور حالات کے مطابق اقدار میں مناسب ترامیم کی گنجائش نکال لی جاتی ہے۔ SELF PITINESS اور استحصال کا شکار ہونے کا احساس سودمند ثابت ہوتا ہے۔ اپنا سامنے کرنے میں دقّت پیش آ سکتی ہے اس لیے زیادہ مصروفیت پال لی جاتی ہے۔ فطری مزاحمت کے نتیجے میں گھبراہٹ یا GUILT کے مقامات آتے ہیں جس سے توجہ، سکون اور نیند متاثر ہو سکتے ہیں لیکن مناسب کوشش فوری دلیل اور آسان نیکی سے یہ مراحل طے ہو جاتے ہیں۔ تنائو کی کیفیت میں بہتری آ جاتی ہے اور اعتماد بحال ہونے کے ساتھ مزید خیالات اور منصوبے سامنے آتے ہیں۔ اپنی سہولت کے اخلاقی معیّار کی پیروی میں احساسِ گناہ کے بوجھ سے بتدریج آزادی ملنے لگتی ہے۔ یہاں سے مزید مواقع کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کارکردگی اور ترقی کا سفر تیزی سے جاری رہتا ہے۔ دوراہے کے دوسرے راستے پر اگر خوش قسمتی سے پائوں پڑ جائیں تو بے بسی اور شکست کا ابتدائی احساس استقبال کرتا ہے۔ مقابلے اور مسابقت کی فطری ضرورتیں شرمندہ کرتی ہیں۔ جائز خواہشیں سادگی اختیار کر لیتی ہیں۔ ناجائز خواہشیں وجود برقرار نہیں رکھ پاتیں۔ دیوار کے اُس پار دیکھنے کی عادت ایڑیاں اٹھانے پر اکساتی رہتی ہے۔ اس راستے پر قدم رک جانا یا اکھڑ جانا خارج از امکان نہیں۔ پتھّر بننے کا خوف نہ ہو تو راہی بار بار پیچھے مڑ کر دیکھے۔ تاریخ کے منتخب باب و اخلاقی نظریات اور غیر رسمی حوالوں سے موصول پیغامات ڈھارس بندھاتے ہیں۔ یقین کی محفوظ اور فیصلہ کن منزل تک پہنچنے سے پہلے اضطراب اور بے چینی اعصاب کو چھلنی کر دیتے ہیں۔ یقین اور کامیابی کا احساس حقیقت میں کیسا ہوتا ہے۔ مجھے اس کا براہِ راست تجربہ نہیں۔ یہ مقام قربانیوں اور ریاضتوں کے بغیر نصیب نہیں بن سکتا۔

دوراہے پر INDECISION کی کیفیت DUALITY یا SPLIT PEROSONALITY کے دور کو مختصر کرنا اشد ضروری ہوتا ہے۔ کوئی تو فیصلہ کر لینا چاہیے۔ فیصلہ سازی میں تاخیر شخصیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ اندرونی وجود کو پچک دیتی ہے۔ اہم معملات میں واضح رائے اور فوری فیصلہ ناگزیر ہوتا ہے۔

"A WRONG DESICION TAKEN ON TIME IS BETTER THAN DECISION NOT TAKEN”  اس مرحلے پر زرخیز دماغ اور Prudent  قسم کے لوگ کچھ Experiments اور Innovations کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ صحیح اور غلط کے درمیان ایک قابلِ عمل ایمانداری Workable Honesty کی صورت گری کی جاتی ہے۔ یہ Clever Honest یا Smart  Honest  اکثرPhysical dishonesty  کو بُرا لیکن Intellectual dishonesty کو خاص Rhetoric Situations میں نا صرف قابلِ قبول بلکہ عین ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کیفیت میں جتنا زیادہ وقت صرف ہو اتنا ہی جبلّی ضرورتوں کے راستے کے انتخاب کے امکانات بڑھتے رہتے ہیں۔

بانو قدسیہ نے لڑکیوں کی شرم و حیاء کی مختلف Stages اوراُن کی Categories کو دوپٹہ مختلف انداز میں اوڑھنے سے بیان کیا ہے۔ سر پر ڈوپٹہ اوڑھنے والی شانوں پر ڈوپٹہ رکھنے والی کو اپنے سے کم حیادار قرار دیتی ہے۔ شانوں پر دوپٹہ سجانے والی بغیر دوپٹہ والی کو کوس کر اپنے پردہ کے معیار سے مطمئن ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی ایمانداری کسی کے سر پر سجی رہتی ہے۔ کوئی اس کا بوجھ سر پر نہیں اٹھا سکتا تو یہ کاندھوں پر سرک آتی ہے۔ بہت سوں کے لیے اس کی سر اور کاندھے پر موجودگی غیر ضروری بوجھ ہوتی ہے۔ مکمل ایمانداری، ضروری ایمانداری، کافی ایمانداری یا تقریباً ایمانداری فرد کے انتحاب، معیار اور امتحان پر منحصر ہے۔

Facebook Comments Box
featuredآزمایشبدیبے ایمانیخوفدوراہاکردارلالچنیکی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مدینہ منورہ ٹریولنگ ٹپس ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظہیر تاج
next post
بھکاری پن: وباء، لت یا شوق؟ —- ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.