تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

دا گریٹ گیم ، شہباز شریف اور لڈن جعفری ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرحان شبیر

by دانش ڈیسک 26/09/2018
written by دانش ڈیسک 26/09/2018
84

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف صاحب نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سوال کیا کہ "حکومت بتائے کے کہ چینی وزیر خارجہ کا شایان شان استقبال کیوں نہیں کیا گیا”

پہلی بات تو یہ ہے کہ خدا کی قسم” گرو اپ مین ” دنیا کے لیڈر اب برگر کی ٹیبل پر کیفوں میں بیٹھ کر معاہدے کر رہے ہیں نا کہ بینڈ باجے بجا کر اور ستر ستر کھانوں کی ڈشز بنوا کر۔

دوسری بات یہ کہ اپوزیشن لیڈر اس بات کا جواب دیں کہ اب تک سعودی عرب کیوں نہں آیا تھا سی پیک میں یا پاکستان میں اس طرح کی کسی بڑی سرمایہ کاری؟

آخر کیا وجہ تھی کہ سعودی حکمرانوں نے اب تک سی پیک میں شمولیت نہیں کی اور اب اچانک "عمران خان” کے وزیر اعظم بنتے ہی سعودی عرب ایک ہی دورے میں بے تابانہ پاکستان کے ساتھ تیسرے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر اس پراجیکٹ میں شامل ہو گیا۔ اور ٹھک سے دس ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ بھی گوادر میں آئل سٹی پراجیکٹ میں کرنے کا اعلان کر دیا۔

کیوں میاں نواز شریف کے دور میں سعودی عرب، پاکستان کے ساتھ اس طرح کے اسٹریٹجک معاہدے میں شامل نہیں ہوا اور اب کیسے چین اور پاکستان کے ساتھ سی پیک کے دفاع کی لڑی میں تیسرے اتحادی کے طور پر جڑ گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا سعودیہ اچانک ہی کود پڑا میدان میں یا سعودیہ پہلے بھی اس پراجیکٹ میں شامل ہو سکتا تھا لیکن اسے شامل ہونے نہیں دیا جا رہا تھا۔

کیا سعودی حکمرانوں کو میاں صاحب پر اعتبار نہی تھا یا جان بوجھ کر سعودی عرب اور خلیجی حکمرانوں کو دور کیا گیا پاکستان سے  اور ایک ایک کر کے یہ ممالک بھارت کی گود میں جا کر بیٹھنے لگے۔

سوال یہ ہے کہ جو سعودی عرب ایک دورے میں دس ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ کا معاہدہ کر سکتا ہے اس سعودی عرب نے ہمارے محترم اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے دس سالہ پنجاب کے دور حکومت میں ایک ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری کیوں نہیں کی۔

سوال یہ ہے کہ کیا سعودیہ اچانک ہی کود پڑا میدان میں یا سعودیہ پہلے بھی اس پراجیکٹ میں شامل ہو سکتا تھا لیکن اسے شامل ہونے نہیں دیا جا رہا تھا۔

ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے سعودی عرب انتظار میں تھا کہ دور شریفانہ ختم ہو اور وہ بھی سی پیک میں شامل ہو کر اپنی کاروباری فوائد سے لیکر سیکیورٹی اور ساورنٹی کو یقینی بنائے۔

مڈل ایسٹ میں امریکی جنگوں نے جس طرح سے ایک ایک کر کے مسلمان ممالک کو تباہ کیا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ عراق، لیبیا، شام کا انجام سب کے سامنے یے ۔ اس تباہی سے اب تک جو ملک بھی بچا ہوا ہے وہ اپنی سیکیورٹی خدشات کا شکار ہے ۔ سعودیہ ہو یا ایران، لبنان ہو یا ترکی اور یا پھر ہمارے خطے میں افغانستان یا پاکستان۔ سب ہی شام کی صورتحال پر نظریں گاڑے بیٹھے ہیں کہ

کس کے گھر جائیگا طوفان بلا اسکے بعد

اس میں کوئی شک نہی کہ مڈل ایسٹ کی تباہی میں جہاں اسرائیل اور امریکی مفادات شامل ہیں وہیں اس بد نصیب خطے کے عربی اور عجمی حکمرانوں کی آپس کی چپقلشوں، خاندانی بادشاہتوں کے مفادات، عرب شہزادوں کی عیاشیاں اور ڈیفنس سے غفلت، عربی اور ایرانی تفاخر پرستی اور شیعہ سنی ڈیوائڈ کا ہی اصل کردار ہے۔

ایران میں ڈاکڑ مصدق کے انقلاب کے خلاف امریکی سی آئی نے تقریباً دو سالوں میں ہی انقلاب کو چلتا کر دیا تھا اور دوبارہ سے رضا شاہ پہلوی کو تخت پر بٹھا دیا تھا ۔ شاہ فیصل نے تیل کا ہتھیار استعمال کیا تو اسے اس کے بھتیجے کے ہاتھوں قتل کروا دیا گیا ۔ یہاں ذولفقار علی بھٹو نے اسلامی ممالک کو مجتمع کرنے، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے اور سوشلسٹ بلاک کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کی تو اسکے خلاف سی آئی اے کے ڈالروں کی بارش سے نو ستاروں کا محاذ کھڑا کر کے تختہ دار تک پہنچا دیا گیا۔

عراق سے صدام حسین، لیبیا کے معمر قذافی کو ہماری آنکھوں کے سامنے جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈہ وار کے ذریعے اڑا کر رکھ دیا اور کوئی مسلم ملک کچھ نا کر سکا۔ مڈل ایسٹ سمیت ہماری اپنی تاریخ امریکی سی آئی ٹائپ رجیم چینج جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

اور اس وقت بھی مڈل ایسٹ میں رجیم چینجز کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ دو ہزار پانچ اور چھ میں امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل، کرنل رالف پیٹر کے نقشوں کا بڑا چرچہ ہوا تھا۔ جس میں مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ کے امریکی منصوبے کا انکشاف ہوا تھا۔ یہ نقشے ان دنوں امریکی وار کالجز میں وار ڈاکٹرائن کے طور پر پڑھائے جانا شروع ہوئے تھے۔ جس میں مڈل ایسٹ کو شیعہ، سنی کرد اور دیگر چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کاٹ کر اسرائیل کی سرحدوں میں توسیع کر کے سعودی عرب تک کا آدھا حصہ شامل کر دیا جائے حتی کہ مسجد نبوی کو چھوڑ کر مدینے کا کافی علاقہ بھی اس گریٹر اسرائیل کا حصہ ہو گا اور سعودی عرب کے پاس صرف مقامات مقدسہ رہ جائیں گے۔

ایران، ترکی، شام کے کرد علاقوں کو کاٹ کر دی نیشن ہڈ کی بنیاد پر ایک ریاست کھڑی کی جائیگی تاکہ بعد میں شکر گزار کرد ریاست کو مظبوط کر کے ان علاقوں کو مستقل علاقائی تنازعات میں الجھایا رکھا جا سکے اور کوئی بھی آئل کی پائپ لائن تین چار ملکوں سے گھوم گھام کر چین کو تیل نا پہنچا دے  اور آپسی تجارت کے لئیے بھی کوئی ٹریڈ روٹ کبھی نا قائم ہو سکے۔

یہ بھی پڑیے: چینی ایفیکٹ، پاک بھارت تعلقات اور دانشور ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرحان شبیر

جس وقت ان نقشوں کا چرچا ہوا تو پاکستان میں بھی ان پر بات ہوئی تھی کیونکہ ان نقشوں میں پاکستان کی بھی ری اسٹرکچرنگ کا پلان تھا۔ جسکے تحت پاکستان کو کاٹ پیٹ کر پنجاب اور سندھ تک محدود کرنا تھا جبکہ بلوچستان کو فری بلوچستان اور صوبہ سرحد کو افغانستان میں شامل کرنا تھا ۔ اس وقت بھی ہمارے لبڑل سیکولر دانشوروں نے ان نقشوں پر بات کرنے والوں کو کانسپیریسی تھیوریسٹ کا ٹائٹل دے دیا تھا۔ افغان جنگ میں پاکستان کو جھونکنے والے مشرف کے امریکی منصوبے میں رنگ بھرنے کی ان کوششوں پر تنقید کرنے والوں کو ان دنوں غیرت بریگیڈ، غیرت بریگیڈ کے القاب سے نوازتا تھا جیسے آج آپ فوج کے کسی ایک کام کی تعریف کر دیں تو بوٹ پالیشئیے کا لقب مل جاتا ہے۔

اس تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دورے میں پاکستان کی طرف سے مقامات مقدسہ کے ہر صورت میں تحفظ کا واشگاف اعلان سمجھ آتا ہے  اور یہ سب اتنی رضامندی کے ساتھ کہ جس وقت عمران خان سعودی حکمرانوں کے ساتھ تھے تو پاکستان کے آرمی چیف چین کے حکمرانوں کے ساتھ۔ یعنی سعودیہ کا تحفظ اب پاکستان ہی نہیں چین بھی کریگا۔

یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ اس سے امریکی مفادات کو کتنا بڑا دھچکہ پہنچا ہے اور گریٹ گیم کیسے پلٹتی نظر آرہی ہے اور یہ پاکستانی ریاست کی کچھ ہی سالوں سے اختیار کی گئی نو مور کی پالیسی ہے جسکو وزیر اعظم عمران نے بھی یہ کہہ کر اور مضبوط کیا کہ اب پاکستان کسی اور کی جنگ نہیں لڑیگا۔ اسی کی تو جھلاہٹ ہے کہ امریکی ہاتھی بدمست ہو کر تباہی کے در پے ہو گیا ہے اور اسکا پٹھو بھارت اپنی اوقات سے باہر ہو رہا ہے۔

خیر ہے انشاء اللہ پاکستان اس کرائسس سے بھی نکل آئیگا۔ لیکن کیا میں شہباز شریف یہ بتائیں گے کہ کیوں سعودی عرب سی عرب ایک دم سے سی پیک کا حصہ بن گیا اور انکے دور میں کیوں نہیں بنا اور اگر اس وقت ملٹری رکاوٹ تھی تو اب کیوں نہیں ہے۔

کیا میاں شہباز شریف یا میاں نواز شریف ان سوالات کے جواب دینا پسند کرینگے یا قوم لڈن جعفری جیسے مورخوں پر تکیہ کرتی رہے۔

Facebook Comments Box
افغانستانامریکہایرانبھارتپاک بھارتپاکستانپانیچائنہسعودی عربسی پیکسی پیک گیم چینجرشامعراقعمران خانگریٹر اسرائیلمکہ شریفنواز شریفہندوستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پانی پر عدل۔ بر صغیر میں امن قائم کرنے کا واحد طریقہ (قسط ۔ ۱) ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان
next post
پیار کا پہلا شہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ قدسیہ جبیں

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.