تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدشاعریعلم و ادبعلمیکالم

نثر اور نظم میں فرق اور نظم کی اقسام ۔۔۔۔۔۔۔۔ شمسہ نجم 

by دانش ڈیسک 19/09/2018
written by دانش ڈیسک 19/09/2018
144
جب کوئی ادیب اپنے تخلیقی ذہن میں موجزن خیالات کے ذخیرے کو قلم کا سہارا لے کر صفحہ قرطاس پر بکھیرتا ہے تو اسے نثر کہتے ہیں۔ جس میں بسا آہنگ اس کو دلچسپ اور خوبصورت بناتا ہے۔ لیکن جب ایک شاعر اپنے تخیل کے خوبصورت تانے بانے وزن اور بحر کی ایک لے میں سلجھے ہوئے تاروں کی صورت میں کہتا ہے تو ایک خوبصورت نظم تخلیق ہوتی ہے۔
نثر کے لیے کسی بحر کی ضرورت ہے نہ ردیف کی ۔ لیکن قلم کی روانی محاورات و استعارات کا چابکدستی سے استعمال، آہنگ اور اعلی تخیل تحریر کا حسن دوبالا کرتے ہیں۔ تحریر میں جتنی روانی اور زبان پر جتنا عبور ہو گا اس کے مطابق اسی قدر اعلی اور معیاری نثری تحریر سامنے آئے گی۔ اکثر نثر نگار اور نظم کے شعراء کے علاوہ ادب کے نقاد شاعرانہ نثر اور نثری شاعری میں امتیاز نہیں کر پاتے۔ جس کی وجہ سے نثری نظم تنازع کا شکار ہے۔
نثری ادب کی مختلف اصناف ہیں ناول افسانہ، مختصر افسانہ کہانی داستان آپ بیتی اور مائیکرو فکشن وغیرہ۔ اور ان اصناف میں نثر کا معیار ادیب کی قابلیت اور مزاج پر ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ تر موضوع اور کرداروں کا انتخاب نثر کی نظمیت اور موسیقیت میں کمی اور بیشی کا باعث ہوتا ہے۔
نظم میں وزن اور بحر ہوتی ہے سوائے نثری نظم کے۔ اور نظم میں وزن اور بحر کے علاوہ اس کی اقسام کے حساب سے دیگر لوازمات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ نظم کی اقسام ہیں پابند نظم، آزاد نظم، نظم معّریٰ، اور نثری نظم۔
آزاد نظم شاعری کی ایک بہت خوبصورت صنف ہے اس طرح کی نظموں کا ایک اپنا مزہ ہے۔ ان میں ترنم ہوتا ہے۔ اس نوع کی نظموں کو آزاد تو کہا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مادر پدر آزاد ہیں۔ ان نظموں میں بحر کی پابندی لازم ہے لیکن ردیف اور قافیہ کی قید نہیں ہے۔
پابند نظم، آزاد نظم اور نظم معّریٰ میں بحر کا استعمال ضروری ہے۔ موخرالذکر یعنی نثری نظم کی بعض بڑے شعرا یعنی اساتذہ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں۔ کیونکہ اس میں کوئی بحر سرے سے استعمال ہی نہیں کی جاتی۔ کیونکہ اکثر شعراء کے خیال میں یہ غیر شاعر افراد کے ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن درحقیقت نثری نظم اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ نثری نظم کی حیثیت پر بہت سے نقاد اور ادباء کی مختلف آراء ہیں۔ اس پر سیرِ حاصل تبصرے کی ضرورت ہے جو کہ بشرطِ حیات آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔
اب ذرا نظموں کی اقسام پر ایک نظر ڈال لی جائے :
پابند نظم :
پابند نظم میں وزن بحر ردیف اور قافیہ سب موجود ہوتا ہے یہ غزل کے اوزان پر کہی جا سکتی ہے لیکن اس کی سب اصناف میں غزل کی بحریں استعمال نہیں کی جا سکتیں۔ اس کی مختلف اصناف میں قصیدہ، مرثیہ، گیت، سانیٹ، پیروڈی، مثنوی، رباعی،  قطعہ، مسمط، مثلث، مخمس، مسدس، ترکیب بند، ترجیح بند، مثمن اور مستزاد وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے ان میں سے بیشتر کے بند میں مصرعوں کی تعداد میں فرق ہوتا ہے۔ رباعی کے لیے مخصوص بحروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں صرف گیت ایسا ہے جس کی کوئی خاص ہئیت نہیں ہے
آزاد نظم:
آزاد نظم شاعری کی ایک بہت خوبصورت صنف ہے اس طرح کی نظموں کا ایک اپنا مزہ ہے۔ ان میں ترنم ہوتا ہے۔ اس نوع کی نظموں کو آزاد تو کہا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مادر پدر آزاد ہیں۔ ان نظموں میں بحر کی پابندی لازم ہے لیکن ردیف اور قافیہ کی قید نہیں ہے۔ آزاد نظم میں اور نظم  معّریٰ میں بنیادی فرق وزن کا فرق ہے۔ آزاد نظم میں وزن کی کمی بیشی جائز ہے۔ مثلا اگر ایک بحر استعمال کی گئی ہے تو اس کے تمام ارکان ہر مصرعے میں استعمال کرنا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر فاعلاتن فاعلاتن فاعلن کی بحر ہے تو اس کے وزن میں ہر دوسرے مصرعے میں ارکان زیادہ یا کم کئے جاسکتے ہیں۔ جیسے کہ
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
فاعلاتن فاعلاتن
فاعلاتن  فاعلن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلنؔ
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن وغیرہ
بعض شعرا بحر میں تبدیلی کرتے ہیں اس میں بعض تو جدیدیت کے شوق میں کچھ نیا تخلیق کرنے کے شوق میں جان بوجھ کر بحر میں تبدیلی کرتے ہیں اور بعض غلطی سے بحروں پر کم عبور ہونے کے سبب اس غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ لیکن نظم کے ایک دو مصرعے میں بحر تبدیل کرنے کی گنجائش بہر حال بدرجہ اتم موجود ہے۔ گرچہ کہ یہ بحر بدلنے کا عمل قاری کی طبیعت پر گراں بلکہ ناگوار تاثر چھوڑتا ہے۔ اور مستحسن نہیں۔
نظم معّریٰ:
نظم معّریٰ انگریزی ادب سے اردو ادب میں آئی۔ معّریٰ کا مطلب ہے پاک صاف، خالی، آزاد، عریاں، خالص۔ لیکن یہ اسی حد تک پاک صاف یا آزاد ہے کہ اس میں ردیف اور قافیہ استعمال نہیں کیا جاتا لیکن بحر سے آزاد ہے نہ وزن سے۔ نظم معّریٰ میں تمام اشعار ہم وزن ہوتے ہیں اور شروع تا آخر ایک بحر میں ہوتے ہیں۔ اور ترنم میں ہوتے ہیں۔ ایک بحر میں اور ایک وزن سے مراد یہ ہے کہ جو بھی بحر پہلے مصرعے میں استعمال کی جائے اس میں کسی دوسرے مصرعے میں بھی کوئی کمی بیشی نہ کی جائے۔ اول تا آخر ایک ہی بحر ایک ہی وزن میں استمعال ہوتی ہے مثلا
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ( پہلا مصرعہ بلکہ ہر مصرعہ)
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن  (آخری مصرعہ)
ایک بحر ایک ہی وزن میں استعمال ہوتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ ردیف اور قافیہ کی پابندی نہیں کی جاتی۔ ہر مصرعہ الگ قافیہ ردیف میں ہوتا ہے لیکن پوری نظم اول تا آخر ایک موضوع سے جڑی ہوتی ہے۔ غزل کی طرح ہر شعر کا موضوع الگ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ حقیقت ہے کہ مطالعہ نثر اور شاعری دونوں کے لیے اہم ہے علم اور فکر کو بلندی حاصل ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں عمدہ تخلیقات جنم لیتی ہیں۔
 نظم معّریٰ میں ہر مصرعے میں وہی بحر استعمال ہوتی ہے جو کہ پہلے مصرعے میں استعمال کی گئی ہو۔ لیکن آزاد نظم کی طرح اس کے مصرعوں میں دوسری بحر کے دخول کی اجازت نہیں۔
نثری نظم:
جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا۔ نثری نظم کی بعض بڑے شعرا یعنی اساتذہ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بحر سرے سے استعمال ہی نہیں کی جاتی۔ ان کے نزدیک یہ غیر شاعر افراد کے ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن درحقیقت نثری نظم کا ایک اپنا وجود ہے۔ یہ اور بات ہے کہ نثری نظم سے نظم کے بنیادی تصور کو نقصان پہنچا کیونکہ نظم کی پہلے سے رائج سب اقسام وزن اور بحر یعنی عروض اور شعری آہنگ کی پابند تھیں۔ نثری نظم نے ان جملہ لوازمات کو دیوار سے لگا دیا۔ لیکن شعری اہنگ نثری نظم کا حصہ ہونا چاہیئے۔ اسی لیے اس مضمون میں دی ہوئی نثری نظم کی شرائط میں انہیں شامل کیا گیا ہے تاکہ نظم نظم رہے نثری خاکہ نہ بن کر رہ جائے۔
زیادہ تر جو افراد عروض نہیں جانتے لیکن شاعری کا شوق رکھتے ہیں وہ نثری نظم کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ قافیہ ردیف کی قید  کو ابلاغ کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں وہ عروض جانتے ہوئے بھی نثری نظم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف نئی صنف میں طبع آزمائی کے شوق میں ایسا کرتے ہیں۔ لیکن نثری نظم کے بھی کچھ اصول ہونے چاہیئں۔ یہاں کچھ اصول دیئے جا رہے ہیں۔ شاعری کے شوقین حضرات کم از کم ان اصولوں پر عمل کریں۔
1۔نثری نظم اول تا آخر ایک ہی موضوع پر رہے تو بہتر ہے۔ لیکن ہر دو صورتوں میں نظم کی زندگی برقرار رہے۔
2۔ کہیں کہیں ردیف کے استعمال سے نغمگی پیدا کی جائے۔
3۔ اول تا آخر نظم نظم محسوس ہو۔ یعنی نثم کا تاثر برقرار رہے بالکل نثری پیرہ گراف نہ لگنے لگے۔
4۔ نظم کا ہر مصرعہ دوسرے مصرعے سے جڑا ہو۔
آج کل تجرید کے شوق میں اور خود کو انٹلیکچوئیل ثابت کرنے کے چکر میں لوگ ایک جملے میں ایک بات کہتے ہیں اور دوسرے مصرعے میں دوسری۔ جن میں کوئی ربط نہیں ہوتا۔
کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا
بھان متی نے کنبہ جوڑا
اس طرح کی شاعری کرنے والوں کو پتہ ہونا چاہیئے کہ شاعری کے اساتذہ ہی نہیں بلکہ عام قاری بھی بے وقوف نہیں ہے۔
میں بنیادی طور پر نثری شاعری کے خلاف نہیں ہوں۔ لیکن نثری شاعری اس طرح کی ہونا چاہیئے کہ اگر اس کا ترجمہ کسی اور زبان میں کیا جائے تو ایک بامقصد تحریر سامنے آئے۔ شمس الرحمن فاروقی خطوط غالب اور آزادکی تحریروں کو نثری شاعری سے متشابہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن عمدہ نثر اور نثری نظم کو ایک سمجھنا درست نہیں۔ "اردو میں نثری نظم” نثری نظم پر عبدالسمیع صاحب کا ایم فل کا مقالہ ایک باضابطہ کتاب کا درجہ رکھتا ہے۔ اس مقالے میں انہوں نثری نظم کے فکری موضوعاتی اور فنی صورتحال پر روشنی ڈالی ہے۔ اور نثری نظم کو چار مختلف ابواب میں تقسیم کیا ہے:
باب اول نثری نظم کے نظری مباحث
باب دوم: نثری نظم کا آغاز
باب سوم: نثری نظم کی شعریات
باب چہارم: اردو میں نثری نظم
یہ ایک سیر حاصل مقالہ ہے جو نثری نظم کی حیثیت متعین کرنے میں معاون ہے۔ اسکا مطالعہ نثری نظم لکھنے والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یوں بھی اچھی کتب کا مطالعہ کرنا شعور کو پختگی عطا کرتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مطالعہ نثر اور شاعری دونوں کے لیے اہم ہے علم اور فکر کو بلندی حاصل ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں عمدہ تخلیقات جنم لیتی ہیں۔ امید ہے میرے اس مضمون سے نظم کے شعراء کو مدد ملے گی۔
میرے اس مضمون کا مقصد صرف نظم کی بہتری کی طرف پیش قدمی، نظم کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کرنے والوں  کی رہنمائی اور نئے شعراء کی مدد کا جذبہ ہے۔
Facebook Comments Box
ادبی تخلیقتخلیقی ادبنثری ادبنظم کی اقسام
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شہید رائے احمد خان کھرل ۔۔۔۔۔۔۔۔ لالہ صحرائی
next post
سوشل میڈیا کا مزید نسوانی بیان — سحرش عثمان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.