تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آرٹآرٹتازہ ترینجمالیاتفنونکالمکلچرکلچر، آرٹ

آرٹ، کرافٹ، زندگی، معاشرہ اور مذھب کی بحث ۔۔۔۔۔۔۔۔ معارز انصاری، سجاد خالد

by دانش ڈیسک 13/09/2018
written by دانش ڈیسک 13/09/2018
139

آرٹ انسانی تجربے کا ایک عالمگیر پہلو ہے۔ دنیا میں ایسی کوئی معلوم سوسائٹی نہیں جہاں آرٹ نا پایا جاتا ہو یا پسند نا کیا جاتا ہو۔ حتی کہ جن معاشروں میں جینا بھی دشوار ہو وہاں بھی آرٹ اپنی مختلف شکلوں میں رواں دواں ہوتا ہے۔ ہر سوسائٹی میں لوگ اپنی جسمانی بقا سے ماورا ہو کر تخلیقی اظہار کی مخصوص شکلوں کو جنم دیتے رہتے ہیں اور اس کیلئے حس جمالیات بشمول تخیل، ہنر اور انداز سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔

ان تخلیقی سرگرمیوں کو آرٹ کہا جاتا ہے۔ انسان کے تخلیقی اظہار (Artistic expression) کے شواہد ہمیں جدید انسانی نسل کی شروعات (35 سے 70 ہزار سال پہلے) سے مل رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ Neanderthals (وسط ہجری انسان، پتھر کے زمانے کے لوگ) پہلے انسان تھے جنہوں نے مذہبی رسومات کے ذریعے تخلیقی اظہار کی شروعات کی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تخلیقی اظہار نسل انسان کی بنیادی جہت ہے۔

جیسے کہ ہمارے ہاں مجسمہ سازی، موسیقی، عکس سازی، رقص، نقاشی، عمارت سازی، خطاطی، شاعری، نثر نگاری، نعت گوئی، قراءت، جلد سازی، ظروف سازی، کڑھائی، مہندی کی نقاشی، علاقائی رقص، پُتلی تماشے اور آرٹ کی دیگر بیسیوں صورتیں موجود ہیں جنہیں ہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گویا براڈ پرسپیکٹو میں بات کی جائے تو آرٹ مذہبی رسومات سے لیکر سماجی تصورات، کھیل سے لیکر ایجادات اور اوزار سے لیکر ساز تک انسانی زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

آرٹ انسانی معاشرے کے باقی اجزا کی طرح ایکسچینج بھی ہوتا رہتا ہے اور یہ کرافٹ کے تبادلے کی صورت میں ہوتا ہے۔

آرٹ بنیادی طور پر ایک جمالیاتی احساس ہے جس کا اظہار کرافٹ کی صورت میں ہوتا ہے۔ کرافٹ کو آرٹ کی quantifiable state یا application of aesthetic principle کہا جاسکتا ہے۔ یعنی کہ ایک آرٹسٹ کے تخیل میں بہت سے منتشر خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ اپنے ہنر اور انداز کی مدد سے ان خیالات کو ترتیب دے کر کرافٹ (مخصوص شکل) میں ڈھالتا ہے۔ وہ مخصوص شکل کوئی تصویر، مجسمہ، نثر، شعر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تخلیق کے ساتھ کاریگری/ مہارت بھی ضروری ہے، اناڑی ہیرے کو کوڑی کا اور کاریگر معمولی پتھر کو انمول بنا سکتا ہے۔ مہارت مشق سے، مشق تکرار سے اور تکرار نقل ہی ہے۔

یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ آرٹ صرف وہی ہے جس میں تخلیقی قوت شامل ہو یا پھر محض نقالی بھی کوئی تخلیقی کام ہے جیسے کہ ایک مصور سکریچ سے مونا لیزا کا پورٹریٹ بناتا ہے اور دوسرا مصور اسی مونا لیزا کے پورٹریٹ کو دیکھ کر خالص اسی کی نقل بناتا ہے۔ لیکن قوت تخلیق جو کہ آرٹ کی روح ہے اس کا اظہار کس پورٹریٹ میں زیادہ ہے، اوریجنل یا پھر نقل شدہ؟

جدید دور میں آرٹ اور کرافٹ میں امتیاز کی بنیاد مہارت کی جگہ تخلیقی جوہر کو رکھ دیا گیا جس سے تخلیقی عمل کا ایک محدود تصور سامنے آیا جس نے انسان کو اوریجنیلٹی کے تقدس میں جکڑ لیا اور وہ اپنی انفرادیت میں کھو کر رہ گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تہذیب میں کوئی بھی چیز عدم سے وجود میں نہیں آتی۔ اسی طرح آرٹ کا آغاز بھی نقل ہی سے ہوتا ہے کوئی بھی آرٹسٹ مہارت حاصل کرنے کیلئے نقل سے شروعات کرتا ہے جسے ہم نقل کہتے ہیں دراصل انسپاریشن کی انتہا ہے۔ اور یہی نقل کرتے کرتے ہر مزاج اپنے فطری تنوع کی وجہ سے خود بخود نئی صورتیں تخلیق کرتا ہے۔

مونا لیزا کے تخلیق کار لیونارڈو نے نقل سے حاصل ہونے والی مہارت استعمال کرتے ہوئے فن پارے میں اپنا سبجیکٹ رکھا جبکہ دوسرے نے خود سپردگی، تعلیم اور خراجِ عقیدت جیسے بہت سے جذبات کے زیرِ اثر اس کو دوبارہ بنایا۔ اس سرگرمی سے اسے استاد سے تعلق محسوس ہؤا۔ اس نے باریک بینی سے استاد کی سٹروکس، تکنیک، سرشاری اور وارفتگی کا مطالعہ کیا۔ اس پریکٹس کے باوجود یہ دو الگ فنپارے ہیں۔ ایک سبجیکٹ کی عکاسی کرتا ہے اور دوسرا فنپارہ کے اندر پوشیدہ راز دریافت کرتا ہے۔ اب مونا لیزا کی پینٹنگ ایک کرافٹ کا درجہ حاصل کر چکی ہے جس کا کریڈٹ لیونارڈو کے ساتھ ساتھ اس کے چاہنے والوں کو بھی جاتا ہے۔

اگر اب لیونارڈو کسی کو مونا لیزا پینٹ کرتے دیکھ لے تو اسے افسوس ہو کہ اس نے کیوں ان تاثرات کو بنانے پر برسوں صرف کر دہے۔ وہ اسے چند دنوں میں بنا لے گا کیونکہ اجتماعی دانش نے مونا لیزا کو ایک مربوط سائنسی عمل جیسا بنا ڈالا ہے جو دہرایا جا سکتا ہے۔ یہاں مجھے غلط العام اشعار بھی یاد آ رہے ہیں جو اصل شعر سے زیادہ بامعنی، سادہ، رواں اور مقبول ہیں۔ اس لیے کہ ان میں اجتماعی دانش بھی شامل ہو گئی ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تخلیق کے ساتھ کاریگری/ مہارت بھی ضروری ہے، اناڑی ہیرے کو کوڑی کا اور کاریگر معمولی پتھر کو انمول بنا سکتا ہے۔ مہارت مشق سے، مشق تکرار سے اور تکرار نقل ہی ہے۔

Facebook Comments Box
featuredآرٹآرٹسٹتخلیقی فنجمالیاتجمالیاتی آرٹفن مصوریکرافٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تعلیمی نصاب میں جنسی تعلیم کی ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یحییٰ
next post
علم اور عمل میں دوری ۔۔۔۔۔۔۔۔ رضوان عباس

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.