تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

سوجاؤ ! صبح اسکول جانا ہے — فواد رضا

by دانش ڈیسک 29/08/2018
written by دانش ڈیسک 29/08/2018
106

آج کے ماں باپ پریشان ہیں کہ ان کے نازوں کے پالے بچے جیسے ہی بڑے ہوتے ہیں، انہیں احمق سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور کسی حد تک ان کے لیے دل میں برائی بھی رکھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بچوں کے اس رویے کا پہلا سبب اسکول ہے، ہم عموماً تین سال کی عمر تک بچے کو اپنی محفوظ پناہوں میں رکھتے ہیں اور اس کے بعد اسکول کے حوالے کردیتے ہیں۔ آپ اپنی دانست میں انتہائی مہنگا اسکول اور مہربان ٹیچر کا بندوبست کرلیں لیکن بچے کے ذہن میں یہ بات نقش ہوجاتی ہے کہ ماں باپ نے اس کی خواہش پر اسکول بھیجنے کی اپنی ضد کو ترجیح دی اور یہ کہ اسکول ہی وہ شے ہے جو اس کے اور ماں باپ کے بیچ میں آگیا۔

اب یہاں سے دو باتیں ہوتی ہیں، ایک یہ کہ بچہ ضدی ہوگا اور وہ اپنے والدین سے لڑائی جھگڑے پر اترے گا، یہاں والدین الزام اسکول کے سر دھر دیں گے کہ ہمارا بچہ تو ایسا نہیں تھا، اسکول جاکر خراب ہوا ہے۔ دوئم اگر اساتذہ مہربان اور سمجھدار نہ ہوئے تو بچہ تعلیم سے بھی جائےگا کہ اسے پڑھائی اور اسکول بوجھ لگیں گے۔

باپ ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ بچے کی عمر میں تین کا ہندسہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے، یہ عموماً وہ وقت ہوتا ہے کہ جب شہری والدین ایک بچے کو اسکول روانہ کرکے دوسرے کی منصوبہ بندی میں جت جاتے ہیں، بے شک کیجئے لیکن یاد رکھیں کہ اس وقت آپ کے بچے کو آپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آپ کی آغوش کی جنتوں میں رہنے والے پھول اب دنیا کا سامنا کررہے ہیں، انہیں اچھے ٹیچر بھی مل سکتے ہیں اور برے بھی، اچھے دوست بھی ملیں گے اور برے بھی۔ ۔ ۔ آپ اگر اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں تو آپ کو ایک ماہرِ نفسیات کے روپ میں ڈھلنا ہوگا۔

اسکول کے وین ڈرائیور اور گارڈ سے لے کر ٹیچر اور اپنے بچے کے دوستوں تک سب پر نظر رکھیں، ان کے ساتھ روزانہ چند منٹ صرف کریں، ان سے بات کریں اور انہیں جانچیں، اگر کوئی منفی بات نظر آئے تو اس کا سدباب کریں یا پھر رپورٹ کریں۔

مثال کےطور پر اگر آپ کا بچہ کوئی نا مناسب لفظ یا رویے کا اظہار کرتا ہے تو آپ کے ذہن میں گھنٹیاں بج اٹھنی چاہیے، لیکن رکیں! ابھی ردعمل دینے کے بجائے بات کوئی درگزر کریں اور اپنے بچے کو کسی او ربات میں لگائیں، کچھ دیر بعد بچہ یہ بات بھول چکا ہوگا، اب باتوں ہی باتوں میں جانیں کہ یہ بات اس نے کس سے اور کن حالات میں سیکھی۔ بچے معصوم ہوتے ہیں آرام سے بتادیتے ہیں۔ یاد رکھیں آپ روز اسکول میں جھگڑا نہیں کرسکتے لیکن اس کی نشاندہی ضرور کرسکتے ہیں کہ فلاں بچہ یا فلاں استاد ان منفی عادات کا حامل ہے۔

اب اس تحریر کی پہلی بات کی جانب واپس پلٹتے ہیں، ایسا کیا کیا جائے کہ بچےاپنے والدین کو غلط نہ سمجھیں اور اسکول کو بھی با آسانی قبول کرلیں۔ کیونکہ میں کوئی ماہرِ تعلیم نہیں ہوں سو ممکن ہے کہ میرا یہ فارمولہ غلط ہو لیکن بہر حال میرے پاس یہی ایک راستہ ہے۔ میری اپنی بیٹی مونٹ میں ہے اور میں نے اپنی شریکِ حیات اور دیگرِ اہل خانہ کو سختی سے منع کیا ہوا ہے کہ کوئی اس سے نہ پوچھے کہ اسکول میں کیا پڑھایا گیا ہے؟ ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ اسکول میں آج کون سا کھیل کھیلا؟، کس کارٹون کی ڈرائنگ میں کلر کیے اور سب سے اہم کہ اسکول میں موجود جانوروں اور پرندوں کے کیا حال ہیں؟

یہ بھی ملاحظہ کریں:  بچوں کی تعلیم و تربیت: سب اچھا نہیں (قسطِ 1) — ہمایوں مجاہد تارڑ

 

اب آپ یہ کہیں گے کہ ہر اسکول میں یہ سہولیات میسر نہیں، تو اپنے بچے کے اسکول جایے اور وہاں موجود سہولیات اور مثبت چیزوں کا جائزہ لیجئے۔ میری والدہ سندھ کے ایک سرکاری اسکول میں پریپ کی ٹیچر ہیں لہذا میں جانتا ہوں کہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی ٹیچرز کے پاس کچھ ایسی چیزں ضرور ہوتی ہیں جو اپنے آپ میں کشش پیدا کرتی ہیں، حد یہ ہے کہ اسکول کے دروازے پر بیٹھا آوارہ کتا بھی آپ کے بچے کے لیے اسکول کو پسندیدہ جگہ بنا سکتا ہے اگر آپ روز اسے پچکاریں گے تو آپ اپنے بچے کو کہہ سکتے ہیں کہ چلو ’وہ ڈوگی تمہارا انتظار کررہا ہوگا‘۔

ایک بات اور ہے کہ کبھی بھی اسکول کو اپنے بچے کی سابقہ مصروفیات کے آڑے مت لائیں، جیسے کہ کارٹون مت دیکھو صبح اسکول جانا ہے، ٹھنڈی کھٹی چیزیں مت کھاؤ صبح اسکول جانا ہے طبعیت خراب ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ بچے کو ان باتوں سے روکیں لیکن مناسب طریقے سے، کسی اور چیز میں لگا کر۔ تب ہی آپ کا بچہ آسانی سے اس تبدیلی کو قبول کرپائے گا۔

Facebook Comments Box
featuredایجوکیشنبچوں کی تعلیمبچےتعلیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مشرقی عورت —- فوزیہ قریشی
next post
زبیدہ —– ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.