تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عمران خان: خدشات، تحفظات اور توقعات — ارشد محمود

by دانش ڈیسک 18/08/2018
written by دانش ڈیسک 18/08/2018
83

پاکستان پر سے غیر یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں۔ عمران خان صاحب ملک کے بائیسویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ تحفظات، بدگمانیاں، مینڈیٹ کی چوری اور طاقتور طبقوں کی پشت پناہی کا الزام اپنی جگہ، یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ تین انتخابات بروقت ہوئے ہیں اور انتقال اقتدار سویلینز سے سویلینز کے سپرد ہو رہا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ سویلین ابھی بھی محض اقتدار تک رسائی حاصل کر سکے ہیں۔ اور اب بھی طاقت کا سر چشمہ کوئی اور حلقے سمجھے جاتے ہیں۔ موجودہ انتخابات سے ایک توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان میں ووٹ کا معیار کارکردگی طے ہو گا۔ اور لوگ تین بڑی جماعتوں کی صوبائی حکومتوں کے خلاف یا حمایت میں نکل پڑیں گے مگر ویسا ہوا نہیں یا ہونے نہیں دیا گیا۔ انتخابات ختم نبوت، کرپشن اور غداری جیسے نعروں پر لڑا گیا جنہیں کسی سائنسی یا ٹھوس بنیادوں پر جانچا نہیں جا سکتا۔ خاکم بدہن اس ماحول میں ہوئے انتخابات کی کوکھ سے استحکام کے بجائے ہیجان ہی جنم لے سکتا ہے۔ مگر ناامیدی گناہ ہے کو مانتے ہوئے پرامید رہنے میں عافیت ہے۔

عمران خان صاحب کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ ان کے ساتھ جو لوگ والہانہ طور پر کھڑے رہے ہیں وہ تبدیلی کے طلبگار ہیں۔ انہیں پہلا دھچکا اس وقت لگا تھا جب دیگر جماعتوں کے روایتی اور الزامات شدہ سیاست دانوں نے تحریک انصاف کا رخ کیا۔ وہ خود کو تسلی دے کر کپتان کے ساتھ کھڑے رہے کہ ٹکٹس کا فیصلہ خان صاحب خود کریں گے۔ مگر ہم نے دیکھا کہ ان کے اس گمان کا بھی قتل عام ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے بیشتر ٹکٹس سیاسی مہاجرین کے نام رہے۔ اس کو بھی مشروط طور پر یوں قبول کیا گیا کہ انتخابات میں کامیابی ضروری ہے اور بطور پارٹی چئیرمین اور وزیراعظم پاکستان خان صاحب نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کون کیا کرے گا اور کیا نہیں کرے گا۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ شاید اب بھی انہیں مایوسی ہی ہو گی۔ بالخصوص پنجاب میں سپیکر کا انتخاب اور وزیراعلی کی نامزدگی حیران کن فیصلے کہے جا سکتے ہیں۔ وزیراعلی پنجاب کے حوالے سے تو یوں لگتا ہے کہ خان صاحب بھی لاعلم تھے اور اچانک کسی انکشاف نے انہیں ایسا کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ یہ فیصلہ اگر طاقتور طبقوں کی جانب سے مسلط کیا گیا ہے تو بھی اور اگر کسی روحانی رہنمائی کا نتیجہ ہے تب بھی تبدیلی کے تناظر میں اس کو بہتر سیاسی فیصلہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ عثمان بزدار کا تحریک انصاف سے رشتہ عدت سے بھی کم دنوں پر موقوف ہے۔

خان صاحب کرکٹ کے زمانے سے ہی دنیا گھوم آئے ہیں۔ ان کے لئے چکاچوند نئی نہیں ہے۔ انہیں غیر ضروری طور پر سادہ نظر آنے کی ضد ترک کرنا ہو گی۔ میڈیا ٹکرز اور سوشل میڈیا کے اسٹیٹس سے متاثر ہوتے رہے تو فیصلہ سازی کی قوت مزید کمزور پڑ جائے گی۔ جس اپوزیشن سے ان کا پالا پڑا ہے وہ بلیک میلنگ سے کمزور پڑنے والی نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن کے بیشتر امیدوار طاقتور حلقوں کی فون کالز اور نیب کی چھلنی سے گزر کر ایوان تک پہنچے ہیں۔ ایسے ہتھکنڈے ان کے اقتدار کے زمانے میں قابل قبول تھے مگر نئی حکومت میں یہی روش سیاسی انتقام کہلائے گی۔ خان صاحب پہلے ہی دن اپوزیشن کا شکار ہو گئے اور ایک تاریخی لمحے پر وہ تاریخی پیغام دینے میں ناکام رہے ہیں۔ لہذا کاسمیٹکس کہانیوں کے بجائے حقیقت پسندی کی جانب لوٹ آنا چاہئیے اور اپنے چاہنے والوں کو پیغام دیں کہ اپوزیشن اور حکومت کی ذمہ داریوں میں فرق ہوتا ہے۔ اور حکومتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غیر مقبول فیصلے کرنا ہوں گے۔ تبھی بہتر سمت کا تعین ممکن ہو سکے گا۔

وزیراعظم کہاں رہیں گے سے زیادہ اہم ہے کہ وزیراعظم کیا کریں گے۔ شاید ریکسن بھی وائیٹ ہاؤس میں رہے ہوں اور چرچل بھی وزیراعظم کی مختص رہائشگاہ میں رہے ہوں گے۔ مگر آج تاریخ ان کی رہائشگاہوں کا تذکرہ نہیں کرتی بلکہ ان کے اعمال ہی زیر بحث ہیں۔

شہباز شریف صاحب کل بہت سالوں بعد اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے ہیں وہ کچھ ماہ پہلے ایسا کر دیتے تو شاید کل وہ جہاں کھڑے تھے وہاں نہ ہوتے۔ بہرحال صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ مسلم لیگ کی بقا بھرپور اپوزیشن میں ہے۔ خواہ وہ اقتدار کے ذمہ داروں کی ہو یا اختیار والوں کی۔ جو کھونا تھا کھو دیا اب پانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ عوامی امنگوں کا اظہار ایوان اور ایوان سے باہر کھل کر کیا جائے۔ شہباز شریف صاحب، مریم نواز صاحبہ اور دیگر قیادت کے خواہشمند حضرات کو سمجھنا ہو گا کہ آپ میں سے کوئی بھی نواز شریف نہیں ہے کہ پنجاب کا وزیر اعلی اور وزیر اعظم ایک ہی خاندان سے ہو اور کوئی سوال نہیں اٹھائے گا۔ اس لئے سیاسی فیصلے کرنے سے قبل ان کے اثرات کا جائزہ لینا ہو گا۔

پیپلزپارٹی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعظم کے انتخاب سے لاتعلق رہی ہے ایک سیاسی جماعت کا یوں سیاسی عمل سے لاتعلق ہو جانا کوئی حوصلہ افزاء عمل نہیں کہا جا سکتا۔

Facebook Comments Box
Imran KhanNawaz Sharifعمران خاننئی حکومتنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
دس مرچیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شفیق زادہ
next post
تبدیلئ حالات کے چرچے اور تلخ ماضی —– عزیز ابن الحسن

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.