تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلم و ادبکالممزاح

میں ایک ویڈنگ فوٹوگرافر ھوں: تعزیت کا شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ شوکت نیازی

by دانش ڈیسک 08/09/2018
written by دانش ڈیسک 08/09/2018
103

کسی بھی فن میں دسترس اور کمال کا حصول ایک مشکل اور تکلیف دہ امر ہے۔ اگرچہ یہ بات ایک اور بحث کی متقاضی ہے کہ کیا فوٹو گرافی ایک فن ہے یا نہیں۔ میں بہت سے ایسے البرٹ آئین سٹائینوں کو جانتا ہوں جن کے مطابق فوٹو گرافی محض کیمرے کو آنکھ سے لگانا اور ایک بٹن دبانے کا نام ہے۔ ان کے بقول فوٹو گرافر کا کام صرف کیمرہ اور لینز خریدنا یا کسی سے مانگنا یا چوری کرنا ہے باقی کام نیکون یا کینن کمپنی سر انجام دیتی ہیں۔

بہرحال فن ہے یا تکنیک، فوٹوگرافی کی بہت سی اصناف ہیں۔ لینڈ سکیپ، پورٹریٹ، سٹریٹ، فوٹوجرنلزم، سٹل لائف، آرکیٹیکچرل، پراڈکٹ، میکرو وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کی اپنی اپنی خصوصیات اور ضروریات ہیں۔ ان اصناف میں کام کرنے والے تمام فوٹوگرافر یہ مانتے ہیں کہ انہی کی صنف مشکل ترین ہے۔ لینڈسکیپ فوٹو گرافروں کو اپنا مال و اسباب اٹھائے پہاڑوں، صحراؤں میں میلوں چلنا پڑتا ہے۔ پورٹریٹ فوٹو گرافرز کو لدّھڑ جیسے چہرے کو گریگری پیک میں بدلنا پڑتا ہے۔ فوٹو جرنلزم کا شوقین فوٹو گرافر سڑک کے کنارے کچرے کے ڈھیر میں ایک کہانی تلاش کرنے کی کوشش میں سرگرداں رہتا ہے۔ پراڈکٹ شوٹ کرنے والا فوٹو گرافر بچوں کے پیمپر کی تصویر کھینچ کراسے معاشرتی ترقی اور تنزّلی کا ایک اشاریہ قرار دیتا ہے۔ سٹریٹ فوٹو گرافر گلیوں کوچوں میں میلے کچیلے بچوں اور جھرّیوں والے چہروں کے حامل بزرگوں کی تصاویر میں زندگی کی معصومیت اور اس کی بے ثباتی پیش کرتے ہیں۔ حتّیٰ کہ قریب سے گزرنے والی مکھی مار کر، یا اپنے بچوں کے بستے سے رنگین پنسل نکال کر ان کی میکرو بنانےوالے بھی اپنے فن کو ہی دنیا بھر میں یکتا و یگانہ جانتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ یہ سب اصناف مشکل اور دقّت طلب ہیں۔ لیکن میرے مطابق ان سب میں ایک ہی صنف ہے جسے صنف ِنازک کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ صنف ِ نازک اس لئے کہ اس کام میں آپ اپنی جان، اپنا مال و متاع سب کچھ لٹا دیں تو بھی آپ سے خوش کوئی نہیں ہو گا۔ یہ فن ہے ویڈنگ فوٹو گرافی کا اور اور مجھے انتہائی بوجھل دل سے کہنا پڑتا ہے کہ میں ایک ویڈنگ فوٹو گرافر ہوں۔

یہ وہ کام ہے جسے شروع کرنےسے پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو سازوسامان کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ لینڈ سکیپ والا فوٹوگرافر ایک وائڈ اینگل اٹھاتا ہے اور کام پر نکل اٹھتا ہے۔ سٹریٹ اور فوٹوجرنلزم والا ایک 28 ایم ایم یا زیادہ سے زیادہ 80 ایم ایم لگائے گا اور کام چالو۔ پورٹریٹ کے لئے 50 ایم ایم یا 105 ایم ایم۔ میکرو والا تو ان سب سے سکھی ہے۔ کوئی بھی لینز باڈی سے اتاریں اور اوندھے منہ ماؤنٹ کے ساتھ تھام لیں اور بہترین میکرو لینز مفت میں تیار۔ مجھے کسی ویڈنگ کی شوٹ کے لئے صرف سامان کے لئے کیری ڈبہ کرانا پڑتا ہے۔

مقررہ وقت سے ایک آدھ گھنٹہ پہلے شادی ہال میں پہنچتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ جمعدارجھاڑو لگا رہے ہیں۔ شادی کی تقریب پی ایچ ڈی پروفیسروں کی ہو یا ان پڑھ جاہلوں کی، وقت پر پہنچنے اور وقت پر رسومات ختم کرنے کے خلاف تو جانو جیسے کوئی فتویٰ لگا ہے۔ دو گھنٹے بعد میزبان اور تین گھنٹے بعد مہمان یوں پہنچتے ہیں جیسے انسانیت پر احسانِ عظیم کیا ہو۔ میں اتنی دیرمیں اپناسامان تیار کرتا ہوں۔ ایک باڈی پر وائڈ اینگل لگاتا ہوں، دوسری پر 50 ایم ایم یا 105 اور تیسری پر 200-80 بلرَ والا لینز فٹ کرتا ہوں۔ ایک فلیش پر باؤنس کارڈ اور دوسری پر گیری فونگ کا ڈفیوزر باکس لگاتا ہوں۔ سٹیڈی کیم کٹ پہنتاہوں اور قریب لگے آئینے میں اپنا جائزہ لیتا ہوں۔ یوں لگتا ہے جیسے پنجاب پولیس کا کوئی جوان لاٹھی چارج کے لئے تیار ہو۔ کچھ عرصہ قبل میں ڈرون کیمرہ بھی استعمال کیا کرتا تھا لیکن جب سے مہمانوں کے بچوں نے بِد کے چھواروں سے تاک تاک کر نشانے لگانا شروع کیا میں نے اس کا استعمال بند کر دیا۔

لیجئے اب ہلکی ہلکی رونق ہونے لگی ہے۔ ویڈیو والا اندر داخل ہوتا ہے اور مجھے یوں دیکھتا ہے جیسے میں کو ئی پلید جانور ہوں جس کے چھوُنے سے وہ بھشٹ ہو جائے گا۔ اس کا روّیہ اس وقت انتہائی مناسب دکھائی دیتا ہے جب ہال میں دوسری سائڈ والا ویڈنگ فوٹوگرافر داخل ہوتاہے۔ اگر میری خدمات دلہن کی جانب سے حاصل کی گئی ہیں تو یقین مانئے دنیا بھر میں میرا سب سے بڑا دشمن دولہا کی جانب سے بلایا گیا ویڈنگ فوٹوگرافر ہے۔ وہ مجھ سے اتنی ہی محبت اور انس سے پیش آئے گا جیسے میں نے اس کی بھینس بمعہ بچھڑا چوری کر لی ہو۔ اور اگر میں نیکون اور وہ کینن لئے پھرتا ہے تو پھر ہم دونوں آگ و خون کے دریا بہنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ اگلے دو تین گھنٹوں میں میرا کام ویڈنگ فوٹوگرافی کم اور رگبی یا امریکن فٹبال کا میچ زیادہ دکھائی دے گا۔

خاندان کے جس شخص نے میری خدمات حاصل کی ہیں اس سے خاندان کے اہم اور چیدہ چیدہ افراد بشمول پھوپھیاں، خالائیں، ماموں اورچچا کی شناخت ضروری ابتدائی اقدام ہے۔ چند روز بعد جب دولہا دلہن ہنی مون پر مری میں مال روڈ پر عروسی لباس کے ساتھ جاگر ز پہنے چہل قدمی کر رہے ہوں گے تو خاندان میں پہلا فساد اسی بات پر برپا ہو گا کہ پھوپھی زینب کی آٹھ تصویریں آئیں ہیں جبکہ خالہ زرینہ کی سات۔ جب تک دلہن ہال میں داخل نہیں ہوتی میں یونہی ادھر ادھر تصویریں کھینچتے رہتا ہوں۔ خاندان کے تمام وی آئی پیز کی مناسب تعداد میں اور اچھی روشنی میں تصاویر جزو ِناگزیر ہیں کیونکہ یہی گنجے ادھڑے اکھڑے عمر رسیدہ مرد اور موٹی میک اپ زدہ بوسیدہ عورتیں میرے ممکنہ آئندہ گاہک ہیں۔ اپنی جمالیاتی حِس کو تسکین دینے کے لئے چند ایسی حسین لڑکیوں کی تصاویر بھی بناتا ہوں جن کے بارے کوئی ہدایات نہ ملی تھیں۔ اگر میں خاموشی سے تصویربنا لوں تو ٹھیک لیکن اگر لڑکی کو کیمرے کا اپنی جانب رخ ہونے کا احساس ہو جائے تو اچھی بھلی خوبصورت حسینہ یکایک بطخ جیسا منہ بنا لیتی ہے۔ اس دوران میں بد تمیز بچوں سےاپنے کیمرے بچاتا تصویریں کھینچتا ہوں۔ سٹیڈی کیم کٹ کو دیکھتے ہی اچھے خاصے مبینّہ طور پر تعلیم یافتہ بزرگ بھی رہ نہیں سکتے، "او بھائی، یہ کیا پہن رکھا ہے؟” جی تو چاہتا ہے کہوں، "چچا، آپ بھی تو بتائیے آپ نے یہ کیا پہن رکھا ہے؟” لیکن کریں روزی روٹی کا معاملہ ہے۔ روزی سے ابھی ملاقات نہیں ہوئی اس لئے اس کے بغیر تو رہ سکتا ہوں روٹی کے بغیر نہیں۔

بہرحال دلہن داخل ہوتی ہے۔ یکایک سارا ہال اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ صرف روشنی کی ایک تیز شعاع دلہن کے چہرے پر پڑتی ہے اور دلہن تاریک رات میں چودھویں کے چاند کی مانند چمکنے لگتی ہے۔ میں اور میرا رقیبِ رُو سیاہ دونوں لپک لپک کر مختلف زاوئیوں سے تصویریں بناتے ہیں۔ سامنے سے، پہلو سے، زمیں پر بیٹھ کر، زمیں پر لیٹ کر، کبھی دائیں جھک کر اور کبھی بائیں، کبھی قلابازی لگا کر۔ ۔ ۔ ہر زاوئیے سے تصویریں لیتا ہوں حتیٰ کہ ارد گردکے لوگ ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ دلہن قریب آتی ہے تو تیز روشنی میں دکھائی دیتا ہے کہ 75 ہزار کا میک اپ اتر جائے تو دلہن چاند کم اور مریخ زیادہ دکھائی دے گی۔ ایک لمحے کے لئے مجھے دولہا پر ترس آتا ہے۔

اب ایک اور مصیبت برپا ہوتی ہے۔ دلہن کو یوں سنبھال سنبھال کر سٹیج پر چڑھایا اور صوفےپر بٹھایا جاتا ہے جیسے کانچ کی گڑیا ہو۔ دولہا بھی یوں احتیاط اور ادب و احترام کا مظاہرہ کرتا ہے جیسے چھ لاکھ کے ڈیزائینر عروسی لباس میں لپٹا قرآن شریف اس کے پہلو میں لا رکھا ہو۔ چند مہینوں بعد یہی دلہن گھر میں فرش پر پوچا لگا رہی ہو گی اور دولہا صوفے پر دراز کرکٹ کا میچ دیکھ رہا ہوگا۔ اب خاندان کے گروپ بنیں گے۔ یکایک ہم دونوں فوٹوگرافروں اور ویڈیو والے کے گرد موبائیل فون سے تصویریں بنانے والے درجنوں بچے عورتیں اور لڑکے لڑکیوں کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ ان میں لا محالہ ایک نہ ایک ڈی ایس ایل آر والا ضرور ہوتا ہے جو مجھے یوں حقارت سے دیکھتا ہے جیسے میں نے اسے اسلام آباد ایکسپریس وے پر اوور ٹیک کیا ھو۔ کچھ بچے جن کے والدین کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہوتی، سٹیج پر چڑھ جاتے ہیں اور ایک سرے سے دوسرے کنارے تک چہل قدمی کرتے ہیں۔ میں پہلے تو انہیں پچکارتا ہوں اور پھر موقع ملنے پر آنکھ بچا کر زور سے چٹکی بھرتا ہوں۔ بچہ رونے لگتا ہے تو میں زور سے کہتا ہوں، "یہ پالا سا بچہ کس کا ہے؟ اپنی ممیّ کو ڈھونڈ رہا ہے؟” میں ایک تصویر کھینچتا ہوں اور چار فلیشیں مارتا ہوں۔

خاندان اور دیگر احباب کے گروپ تمام ہوتے ہیں تو سب کو نانا، نانی، داد ا، دادی یاد آتے ہیں۔ پھر انہیں کھینچ گھسیٹ کر سٹیج پر چڑھایا جاتا ہے۔ ابھی یہ سب اپنے اپنے منہ میں اپنی نقلی بتیسیاں سنبھال ہی رہے ہوتے ہیں کہ کھانا لگنے کا اعلان ہو جاتا ہے۔ دلہا دلہن اور ان کے لئے اپنی نیک تمناؤں کو بھول کر سب لوگ کھانے کی میزوں کی جانب لپکتے ہیں۔ اس دوران میں اپنا بلر والا کیمرہ سنبھالتا ہوں اور دلہن کے لباس اور اس کے تمام زیورات کی تصاویر بناتا ہوں۔ مہندی لگے ہاتھ پاؤں، ہاتھ میں تھاما پرس، ماتھے پر لٹکا جھومر، کانوں میں آویزاں جھمکے۔ ۔ ۔ ایسی تصاویر بعد ازاں کام آتی ہیں۔ کل کلاں اگر کسی ایسی دلہن سے مڈ بھیڑ ہو جائے جس کے پاؤں مور جیسے ہوں تو اپنی ہارڈ ڈرائیو میں موجود پرانی تصاویر سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ دولہا پر کام قدرے کم درکار ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کھینچ تان کر فوٹوشاپ میں دولہے کے کمرے کو واپس انسانی کمر کی صورت میں لانا پڑتا ہے۔ یا دولہا کی تارکول والی تازہ سڑک کی مانند چہرے کی کھال کو کسی نومولود بچے کی نرم و نازک گلابی کھال کی میں بدلنا ہوتا ہے۔ کلیریٹی سلائیڈر فل بائیں جانب اور شیڈوز سلائیڈر فل دائیں جانب۔

اللہ خوش رکھے شاباش شریف کو کہ اس نے شادیوں کی تقریبات پر وقت کی پابندی لگا ڈالی ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے فجرکی اذان تک جاری شادیاں تو میں نے خود دیکھی ہیں۔ اب رات دس بجے شادی ہال یوں خالی ہوتے ہیں جیسے کسی نے بم کی اطلاع پہنچا ئی ہو۔

یہ نہ جانئے گا کہ شادی کی تقریب ختم ہوتے ہی میرا کام ختم ہو گیا۔ ابھی تین چار راتیں گھر یا سٹوڈیو میں فوٹوشاپ پر لگیں گی۔ سی ڈی، ڈی وی ڈی اور البمز بنیں گی۔ اور پھر بیسیوں ٹیلی فون کالوں اور درجنوں چکر لگانے کے بعد کام کی ادائیگی ہو گی۔ مزید برآں مندرجہ بالا شادی کی تقریب ایک درمیانے طبقے سے متعلق تھی۔ امیروں کبیروں کے مزید چونچلے ہوتے ہیں۔ مثلاً شادی کی تقریب سے پہلے کسی باغ میں، کسی آثار قدیمہ کے مقام پر، کسی قلعے یا مزار کے قریب یا فائیو سٹار ہوٹل کی لابی یا سوئیمنگ پول کے کنارے ایک اور فوٹو شوٹ ہوتاہے۔ کہتے ہیں فوٹو شوٹ بہترین انتقام ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جب دولہا اور دلہن کو جی بھر کے احمقانہ اور چھچھورے انداز میں کھڑا کر کے تصاویر بنا تا ہوں۔ یہ تصاویر صرف تین مواقع پر استعمال ہوتی ہیں۔ شادی کے بعد صرف ایک مرتبہ جب دولہا دولہن دوستوں کو دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں ”لوک ہاؤ کوُل واز دیٹ؟“ دوسری مرتبہ چند سال بعد جب وہ دونوں بیزاری سے کہتے ہیں، ”تم منع کر دیتے نا، تمہیں ہی بہت شوق چرایا تھا۔ “ اور تیسری مرتبہ جب ہم فوٹوگرافر اکٹھے ہوتے ہیں اور دوستانہ مقابلہ کرتے ہیں کہ کس نے ”دی موسٹ ایڈیاٹیک فوٹوشوٹ“ کیا تھا۔ ایسے ہی وقت میں قسم کھاتا ہوں کہ ویڈنگ فوٹوگرافی چھوڑ دوں گا لیکن کیا کریں پھر کسی کا امیدوں اور امنگوں بھرا فون آتا ہے اور میں اپنا آئی پیڈ اٹھاتا ہوں اور کہتا ہوں، "جی محترمہ، آئی ہیو جسٹ دی رائیٹ آئیڈیاز فار یور سپیشل ڈے۔ اپنا ایڈریس لکھوائیے، میں ابھی پہنچا۔”

Facebook Comments Box
featuredدلہادلہنشادیشادی کی تصاویرفوٹوفوٹوگرافر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
معاشی انقلاب کا امپریشن —- لالہ صحرائی
next post
دانش ـــ اردو کی معیاری اور سنجیدہ ویب گاہ —- ہمایوں مجاہد تارڑ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.