تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

رنگت، موٹاپا، قد اور حسن کی محرومیاں —– ارشد محمود ملک

by دانش ڈیسک 05/08/2018
written by دانش ڈیسک 05/08/2018
73

ہم میں ہر کسی کو کوئی نہ کوئی احساس محرومی (کمتری) لاحق رہتا ہے۔ ایسا احساس ہونا چاہئیے یا نہیں یہ بحث طلب ہے۔ مالک و محکوم کا ایک رشتہ ہے اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر شخص کمزور ہے محروم ہے۔ ہمیں ہر لحظہ اپنی کمزوری اور مالک کی بڑائی کا احساس رہنا چاہئیے مگر یہ کبھی بھی ناشکری کی حد تک نہیں جانا چاہئیے۔ پاکستان میں ناشکری کی حدوں کو چھوتا یہ احساس قومی سطح پر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے اور انفرادی سطح پر بھی۔

پاکستان کے تین طاقتور ترین عہدیداران مطمئن نظر نہیں آتے۔ ایک کو اپنے ادارے کی کمانڈ کے علاوہ پالیسی سازی کا اختیار چاہئیے۔ دوسرے کو کو انصاف مہیا کرنے سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرنے میں دلچسپی رہتی ہے۔ وزیراعظم بھی پالیسی سازی کے بجائے ’’اگلی مرتبہ حکومت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے‘‘ کی منصوبہ بندی میں اپنا وقت مکمل کر دیتا ہے۔ یہ بظاہر ریاستی امور ہیں اور ان کا فرد سے تعلق نہیں بنتا مگر ریاست محض فیصلے ہی نہیں کرتی بلکہ وہ سماجی ماحول کی پرورش کرتی ہے۔ اس مضمون میں انفرادی سطح پر پائی جانے والی محرومیوں سے متعلق چند باتیں عرض کرتا ہوں۔ زیادہ تر محرومیاں خود ساختہ ہوتی ہیں یا پھر معاشرے کی دین ہیں۔ مگر کچھ محرومیوں کا مداوا ممکن نہیں۔ ایسے محروم طبقات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں اور ایک الگ ہی دنیا میں دم توڑ دیتے ہیں۔

گوری رنگت کو جہاں حسن کی علامت سمجھا جاتا ہے وہاں سانولی رنگت چاہے کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو حسن کے دیسی معیار پر پورا نہیں اتر سکتی۔ لڑکیاں تو اس مسئلے کو زیادہ ہی حساس لیتی ہیں۔ سانولی رنگت آنے والے دور کی فکر میں باقاعدہ کالی ہو جاتی ہے۔ کیا یہ مسئلہ واقعی اہم ہے؟ کیا گورا رنگ ہی تمام اچھائیوں کی جڑ ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے کہ نہیں۔ رنگت ہمیں محض کسی محفل میں بطور انٹری پاس متعارف کرا سکتی ہے۔ پائیداری خود اعتمادی اور کردار کی بلندی کو ہی حاصل ہے۔ افریقی اور جنوبی ہندوستان کی کالی اور سانولی خواتین وسطی ایشیا میں بھرپور اعتماد کے ساتھ ملازمت اور کاروبار کرتی ہیں۔ رنگت ان کے پیشہ ورانہ امور میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ ایسے کسی مسئلے میں سب سے پہلے خوف کو شکست دینی سیکھنی چاہئیے۔ جس روز خود سے جیت جائیں اس دن سے لے کر معاشرہ خود شکست تسلیم کر لے گا۔ اپنے حسن کو خود سے محسوس نہ کرنا بھی زیادتی ہے۔

موٹاپا پہلے پہل صحتمندی کی علامت سمجھا جاتا تھا مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ مرد و خواتین یکساں طور پر اس سے ہراساں معلوم ہوتے ہیں۔ بعض لوگ جو تھوڑے سے موٹے ہو کر زیادہ پرکشش محسوس ہو سکتے ہیں وہ بھی زمانے کی دیکھا دیکھی ڈائیٹنگ کی مشقت میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ چونکہ زیادہ تر ڈائٹنگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہی شروع کر دی جاتی ہے جو آگے چل کر کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ موٹاپا کا فیصلہ نہ ہی ہمیں خود کرنا چاہئیے اور نہ ہی دوستوں کو یہ حق دیا جا سکتا۔ بلکہ جب تک ڈاکٹر ہمارے وزن کو موٹاپا نہ کہہ دیں ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم آنے والے ازدواجی تعلقات (رشتہ) کو لے کر جتنا فکر مند رہتے ہیں ان کی کامیابی یا ناکامی میں ایسے عوامل آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ ہلکی ورزش، نیند اور کھانے میں توازن بھی تب تک ہمارے جسم کو متوازن نہیں بنا سکتا جب تک ہماری سوچ شکر گزاری والی نہیں ہو گی۔ غیر ضروری توجہ ذہنی اذیت کا باعث بنتی ہے۔

عورتوں میں نسوانی حسن کی کمی (یہ محض قیاس بھی ہو سکتی ہے) اور پرکشش نہ ہونے کا مغالطہ اور مردوں میں جنسی کمزوری کا احساس بھی ہمارے معاشرے کا عمومی حصہ ہیں۔ حالانکہ نوے فیصد خواتین پرکشش ہوتی ہیں اور اتنے ہی فیصدی مرد بھی جنسی طور پر صحت مند ہوتے ہیں۔ بس خوداعتمادی کا فقدان اور غیر اخلاقی لٹریچر اس احساس کو قوت پہنچاتا ہے۔ مناسب وقت پر شادی ایسے احساس کی تدفین کا سب سے بہترین علاج ہے۔

پست قامت ہونا بھی احساس محرومی پیدا کرتا ہے۔ لوگوں کا منفی رویہ اور ہزاروں طرح کے دئیے گئے نام اس احساس کو مزید پختہ کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا تعلق سوچ سے زیادہ حقیقت سے ہوتا ہے۔ بہت سے ایسے کام جو عام آدمی کر سکتا ہے ان میں یہ جسمانی ساخت رکاوٹ بنتی ہے۔ اگر ہم میں سے کسی شخص کی روزمرہ مصروفیات میں خلل نہیں آتا تو وہ پست قامت نہیں ہے بلکہ اس کے احساس کا تعلق سوچ سے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بھرپور زندگی نہیں گزارنی چاہئیے۔ بس خوف کو شکست دیجئے لوگوں کا سامنا پورے اعتماد سے کیجئیے یہ کمی یا کمزوری آپ کی طاقت بن جائے گی۔

مخنث یا ہیجڑے ہمارے معاشرے کے محروم ہی نہیں بلکہ مظلوم طبقے کے لوگ ہیں۔ ان کی یہ کمی یا کمزوری لاعلاج ہے۔ یہاں سوچ بدلنے سے حالات نہیں بدل سکتے۔ ان کی محنت زندگی کی رونق نہیں لوٹا سکتی۔ جب محرومی کا عالم یہ ہو تو اس وقت ان افراد سے زیادہ ذمہ داری معاشرے اور ریاست پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کے لئے باعزت زندگی گزارنے کا بندوبست کریں۔ ابھی تک تو انہیں ہم انسان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ باعزت زندگی تو شاید اگلہ مرحلہ ہے۔ ہمیں اپنے اجتماعی رویے پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔ میں پہلے جس دفتر میں کام کرتا تھا وہاں فلپائن سے ایک مخنث ریسٹورنٹ کی فرینچائز پر سیلز مین تھا۔ انتہا کا محنتی و مستعد ہر گاہک پر نظر۔ اس نے بتایا کہ وہ گریجویٹ ہے اور بہترین روزگار کا حامل ہے۔ وہ اکیلا ہی نہیں بیسیوں لوگ فلپائن میں اس کی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے حالات قابل رحم تھے مگر اب بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تربیت نے ایک الگ ہی ورک فورس پیدا کر دی ہے۔ میڈیا میں میک اپ آرٹسٹ، ہئیر ڈریسر، میوزک انڈسٹری کے ہنر مند آرٹ کالجز میں ایک بڑا حصہ اس جیسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ اس نے جب پوچھا کہ پاکستان میں میری برادری کے لوگ کیسے رہتے ہیں تو میں فقط اتنا کہہ سکا کہ رقص کرتے ہیں خوشیاں بانٹتے ہیں۔ اس نے جب یہ کہا کہ خوشیاں بانٹنے والوں کے غم شمار نہیں ہوتے کیا وہ بھی خوش ہیں تو میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ یہ جواب مجھ سمیت میرے معاشرے، میری ریاست کے پاس بھی نہیں ہے۔

Facebook Comments Box
پستہ قدچھوٹا قدخواجہ سراقدگورا رنگمحرومیاںمخنثموٹاموٹاپانسوانی حسنہیجڑے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
الیکشن ۲۰۱۸: دو اہم تبدیلیاں —– عمیر فاروق
next post
بدلتے رستے: فیض، شیخ ایاز اور جمال نقوی — عزیز ابن الحسن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.