تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

الیکشن ۲۰۱۸: دو اہم تبدیلیاں —– عمیر فاروق

by دانش ڈیسک 04/08/2018
written by دانش ڈیسک 04/08/2018
60

الیکشن ۲۰۱۸ پاکستان کی تاریخ کے رخ کا دھارا موڑ دینے والا الیکشن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پرانی سیاسی اشرافیہ خوف اور غم کی شدت سے بے حال ہے، ایسا پہلے کبھی کسی الیکشن کے نتیجہ میں دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کی تہہ میں دو بڑی تبدیلیاں موجود ہیں۔

پہلی تبدیلی کا تعلق روایتی سیاست اور اس کی اجارہ دار سیاسی اشرافیہ سے ہے۔
پاکستان کی نظریاتی اور عملی سیاست کی بنیادیں پچاس کی دہائی میں ڈالی گئیں اس کے بعد عملی اور نظریاتی جمود ہی رہا سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے مختصر سے عہد کے۔
ہمارے آج موجود تمام سیاسی نظریات، مذہبی، لسانی یا دیگر اسی دہائی میں مدون ہوئے اس کے سیاسی نعرہ جات، سلوگن، چورن، پھکیاں سبھی اسی عہد کی پیداوار ہیں اس کے بعد دانشور بھی کاپی پیسٹ کرکے ہی کام چلاتے رہے پرانے چورن نئے لیبل سے بیچتے رہے۔
عوامی مسائل یا قومی مفادات اس نظریاتی سیاست کے نزدیک فضول اور قابل استہزا موضوع تھا یہ اپنے خودساختہ نظریات کی دنیا میں جی رہے تھے۔
دوسری طرف نواز کی ن لیگ ایک مختلف سیاسی ماڈل تھا انکا نظریہ طاقت اور بذریعہ طاقت ذاتی مفادات کا حصول تھا۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے وہ کسی سے بھی ہاتھ ملانے کو تیار تھے اور ایسا کرتے بھی رہے وقت پڑنے پہ اسٹیبلشمنٹ یا عالمی اسٹیبلشمنٹ، دایاں یا بایاں بازو سبھی سے حسب توفیق ہاتھ ملایا۔
لیکن تمام روایتی سیاسی اشرافیہ ایک نکتے پہ متحد تھی کہ عوامی مسائل اور قومی مفادات فضول موضوع ہے اور عوام کی حیثیت ان کے نزدیک ایک بےوقوف جانور سے زیادہ نہ تھی جسے زیادہ سے زیادہ بےوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرنا ہی سیاست کی معراج ٹھہری۔

الیکشن ۲۰۱۸ کے نتائج نے اس روایتی سیاست اور سیاسی اشرافیہ کو بستر مرگ پہ آ لٹایا ہے اور یہی انکی ہذیان کی حد تک پہنچی کوئی تلخی کا باعث ہے۔
مزید براں کے پی کے نتائج نے ان پہ لرزہ طاری کیا ہوا ہے۔ یہ وہ صوبہ تھا جہاں کی عوام حکمران پارٹی کو روایتی طور پہ مسترد کرتی آئی لیکن اس دفعہ حکمران جماعت کلین سوئیپ کرگئی۔

تو کیا اس کا مطلب ہے کہ روایتی سیاست اپنی تدفین کی تیاری کرلے؟ اس کا دور ہی بیت چکا، کیا اگلے الیکشن میں یہ نتائج ملک گیر پیمانہ پہ دہرائے جائیں گے؟ اگر ایسا ہے تو روایتی سیاست واقعی دفن ہوچکی اس کے دن گنے جاچکے۔
لیکن خطرہ صرف یہاں تک محدود نہیں، عمران بے لاگ احتساب کا نعرہ لگا کر حکومت میں آیا ہے یہاں کوئی ایسی وجہ موجود نہیں کہ اب وہ اس پہ عمل کیوں نہ کرے کیونکہ روایتی سیاسی اشرافیہ پورے طور سے کرپشن میں لتھڑی ہونے کے ساتھ ساتھ عمران کی بدترین مخالف بھی تھی تو انکے بے رحم احتساب سے وہ نہ صرف عوام کی نظر میں توقیر حاصل کرتا ہے بلکہ اپنے بدترین مخالفین سے بھی نجات حاصل کرتا ہے۔ آنے والے دنوں کا یہ منظرنامہ ان کے خوف اور غم و غصہ کی بنیاد ہے۔

رونما ہونے والی دوسری اہم تبدیلی امریکی رویہ کی ہے۔ ان کے غم و غصہ کی وجوہات سمجھنا مشکل نہیں۔ وہ مشرف کے آخری ایام میں ایک سٹریٹیجک فیصلہ کرچکے تھے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کونڈا لیزا رائس اور ڈک چینی اس منصوبہ کے خالق تھے بش جونیئر کے عہد میں کہ امریکہ کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو خیرباد کہہ کر پاکستانی سیاسی اشرافیہ اور میڈیا کے ساتھ اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ ہماری موقع پرست سیاسی اشرافیہ نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور امریکیوں نے میڈیا میں بھی اپنے ترجمان بھرتی کئے تب سے نت نئے بیانیہ جات سننے کو ملے جنکو سن کر اب تو کان پک گئے ہیں۔
یہ امریکی فیصلہ اس مفروضہ پہ قائم تھا کہ پاکستانی سیاست میں دو مین سٹریم پارٹیاں ہی حکومت کرتی رہیں گی لہذا ان میں سے ہی باری باری جیتنے والے گھوڑے پہ شرط لگائی جائے اور اس کے ذریعے سسٹم کے اندر رہ کر اپنی مرضی کے فیصلہ جات مسلط کرائے جائیں۔ انہیں مقامی سطح پہ صرف اسٹیبلشمنٹ اپنے راستے کی رکاوٹ نظر آتی تھی لہذا ان کے کرائے کے دانشور زور و شور سے ڈھول پیٹتے رہے کہ سیاست کا مقصد عوامی مسائل کا حل اور قومی مفادات کا حصول نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی ہر سطح پہ مخالفت ہی ہے۔

امریکی پریشانی کا منبع یہ ہے کہ انکے سٹریٹجک فیصلہ کو شہ مات ہوچکی اور ان کے ایجاد کردہ بیانیہ جات بھی دفن جمہوریت یا سسٹم کے اندر ایسے مقامی گماشتے ہی موجود نہیں جو ان کے آلہ کار بن سکیں تو جمہوریت کی غیر مشروط حمایت چہ معنی دارد؟؟
کم سے کم پاکستان کی حد تک۔

لہذا آنے والے دنوں میں وہ پاکستانی جمہوریت کو بھی اسی بندوق کی نال سے دیکھیں گے جس بندوق کی نال سے پہلے صرف اسٹیبلشمنٹ کو دیکھ رہے تھے۔
امریکی رویہ اپنے جلو میں نئے چیلنجز لے کر آنے والا ہے۔ کرپٹ پاکستانی سیاسی اشرافیہ اپنے آخری دور میں مکمل طور پہ مقامی امریکی گماشتہ کا کردار ادا کررہی تھی وہ اپنے بچاؤ کے لئے ہر حد پھلانگ لے گی اپنے غیرملکی سرپرستوں کی طرف بھی یتیمانہ نظروں سے دیکھے گی۔ لیکن خود امریکی کیا سٹریٹیجی اختیار کرتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

ایک بات طے ہے کہ خود اپنی صفائی کے عمل سے گزر کر سسٹم اور جمہوریت مزید طاقتور ہوکر نکلے گی اور عوامی حمایت اس کی پشت پہ ہوگی تو ہر چیلنج سے نمٹنا نسبتاً آسان ہوجائے گا۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اعتراف: سیاستدان کی ’’تبدیلی‘‘ —- طاہر علی خان
next post
رنگت، موٹاپا، قد اور حسن کی محرومیاں —– ارشد محمود ملک

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.