تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینفلمکلچر، آرٹ

راجکمار ہیرانی کا سنجو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر فرحان کامرانی

by Editor2 02/08/2018
written by Editor2 02/08/2018
120

راجکمار ہیرانی کی فلم ’’منا بھائی ایم بی ابی ایس‘‘ کو یاد کیجیے۔ فلم کا ہیرو ’منا‘ ایک غنڈا ہے مگرایک اچھا انسان ہے۔ فلم کا ولن ’ڈاکٹر استھانا‘ بھی اندر سے ایک اچھا انسان ہی ہے۔ استھانا کی بیٹی ’ڈاکٹر سمن‘ بھی اچھی ہے۔ منا کا باپ بھی اچھا انسان ہے اور منا کی ماتاجی بھی۔ ’سرکٹ‘ بھی اچھا انسان ہے، ’ظہیر‘ بھی اچھا ہے، جھاڑو دینے والا’ مقصود‘ بھی اچھا ہے، ’چلکٹ‘ بھی اچھا ہے اور ’ڈاکٹر رستم‘ بھی اچھا انسان ہے۔ الغرض سب کے سب کردار ہی ’’بھلے لوگ‘‘ ہیں۔ یہ راجکمار کی فلموں کا اصول ہے کہ سب اچھے انسان ہیں بس کچھ انسان تھوڑے بھٹکے ہوئے ہیں۔ مگر ہیرانی کی فلموں میں بھٹکے ہوئے انسان بھٹکتے کیوں ہیں؟

ڈاکٹر استھانا تکبر کی وجہ سے بھٹکا ہوا ہے،’ لکی سنگھ‘ لالچ کی وجہ سے بھٹکا ہوا ہے، ’کھرانا صاحب‘ ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور بٹک مہاراج اور تیسوی جی (دونوں ایک ہی کردار ہیں، ذرا غور سے تو دیکھیے) یہ بھی لالچ کی وجہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں موجود خوف کو استعمال کرتے ہوئے پیسے بنا رہے ہیں۔

خاص طور پر فلم ’’پی کے‘‘ میں ہیرانی بالکل ’حضرت‘ کارل مارکس کی زبان بولنے لگتا ہے جب اُس کے کردار کہتے ہیں کہ ’’ڈر ہے تواندھ وشواش‘‘ ہے‘‘۔ ’’دھرم کھیل ڈر کا ہے‘‘۔ ’’تو ڈرتا بہت ہے دیکھ ہاتھ میں انگلیاں کم ہیں انگوٹھیاں زیادہ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اب سارے منظم مذاہب ہیرانی صاحب کے لئے لوگوں کو تفریق کرنے کے بہانے بن جاتے ہیں اور اس تفریق کے گورکھ دھندے کے ساتھ ہیرانی جی کو بٹک مہاراج، تیسوی جی جیسے لوگ بھی اس دھندے سے کروڑوں روپے بناتے مل جاتے ہیں۔

چلیے آپ کہہ لیجیے کہ ہیرانی جی کی خدا سے کوئی لڑائی نہیں، وہ تو صرف محض زمین کے ’’منیجروں‘‘ سے ناراض ہیں مگر سنیے یہ فلم منا بھائی کا ظہیر کیا کہہ رہا ہے:

’’ارے یہ تو ظاہر ہے کہ خدا کیا چاہتا ہے۔ دو دن دو دن کا وقت دیا ہے مجھے؟ دو دن میں نمٹ جائے گا سب کچھ؟ بہن کی شادی کرانی ہے، ماں کو حج کرانا ہے، دو دن‘‘۔

پھر وہ شکوہ کرتا ہے کہـ:

’’میں شراب نہیں پیتا، کبھی کسی لڑکی کو ہاتھ نہیں لگایا تو میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟‘‘

یہاں سے ایک کلیہ برآمد ہوتا ہے۔ ذرا غور سے سنیے راجکمار ہیرانی جی کیا کہنا چاہتے ہیں۔

’’اچھے لوگوں کے ساتھ اچھا ہونا چاہیے اور برے لوگوں کے ساتھ برا‘‘۔

فلم ’تھری ایڈیٹس‘ میں جب زخمی ’راجو رستوگی‘ کو اُس کے دوست اسپتال لے کر جا رہے ہیں تواس موقع پر ایک گانا ہے۔ چلیے مل کر سنتے ہیں۔

چاہے تجھ کو رب بلا لے
ہم نہ رب سے ڈرنے والے

اتنا ہی سن لینا کافی ہے، یعنی اچھوں کے ساتھ اچھا ہونا چاہیے، خدا وہ ہے جو اچھوں کے ساتھ اچھا کرتا ہے اور اگر وہ اچھا نہیں کرتا تو ہم اسے ایسا نہیں کرنے دیں گے بلکہ ’’جانے نہیں دیں گے تجھے، جانے نہیں دیں گے تجھے‘‘۔

’’پی کے‘‘ ہیرو تو ان دین دھرم کے گورکھ دھندے میں ایسا الجھتا ہے کہ ہر ہر دھرم کو ایک ساتھ اختیار کر لیتا ہے۔ وہ محرم میں زنجیری ماتم کر رہا ہے، بیتسمہ لے رہا ہے، لوٹتا ہوا مندر تک جا رہا ہے، الغرض سب کچھ کر رہا ہے مگر آخر میں تیسوی جی سے مناظرے میں کہتا ہے۔

’’دراصل دو بھگوان ہیں ایک وہ جس نے ہم کو بنایا ہے اور جس کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے اور ایک وہ جو تم نے بنایا ہے، جو تم نے بنایا ہے وہ بالکل تمہارے ہی جیسا ہے۔‘‘

یہ بات بھی کہتے ہوئے بھی ’پی کے ‘کے منہ سے کارل مارکس، فرائیڈ اور نٹشے وغیرہ بول رہے ہیں۔
"Men created God in his image”

یہ بات دراصل اساطیر میں مرقوم اس جملے کہ ’’خدا نے آدمی کو اپنے عکس کے مطابق بنایا‘‘ کا لامذہب جواب ہے۔ مگر ہیرانی جی کا ’پی کے‘ یہ بھی تو کہہ رہا ہے کہ ’’ایک وہ بھگوان ہے کہ جس نے ہم کو بنایا ہے مگر ا س کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے‘‘۔ یعنی اگر کوئی خدا ہے تو بقول ہیرانی جی ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یعنی سارے اساطیر، سارے صحیفے، سارے ادیان سب کو اس جملے نے رد کر دیا۔ مگر کچھ دیوتا تو ہیرانی جی کی فلموں میں بھی نظر آتے ہیں۔ جی ہاں، منا ایک دیوتا ہے۔ یہاںظہیر اور ڈاکٹر رستم کے جملے یاد کیجیے:

’’منا تم گاڈ ہو‘‘۔

پھر گاندھی جی ایک خدا بن کر ابھرتے ہیں جو منا کی حق کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ پھر تھری ا یڈیٹس کا ہیرو ’رینچو‘ایک دیوتا بن جاتا ہے جو کرامات اور چمتکار ظاہر کرتا ہے۔ پھر’پی کے‘ ایک دیوتا ہے۔ جی ہاں ذرا غور سے اسے دیکھئے، وہ دلوں کے حال جان لیتا ہے، بچھڑوں کو ملا دیتا ہے، بھٹکے ہوئوں کو راہ پر لے آتا ہے۔

’پی کے‘ تک کی ہیرانی کی دنیا دلچسپ ہونے کے باوجود بے حد رومانی اور غیر حقیقی تھی۔ یہ رومانیت کا وہ درجہ تھا کہ جس میں غنڈوں میں اوتار تراشے جاتے۔ ’’ہر انسان اچھا ہے اور اچھے کے ساتھ اچھا ہی ہو گا۔‘‘ یہ راجکمار ہیرانی کا منترہ تھا۔ ایسا منترہ جو اس کی ہر ہر تخلیق میں جھلکتا تھا، وہ آسمانی خدا سے شاید اسی لئے ناراض تھا کہ اسے زمین پر اس منترے کے خلاف بھی چیزیں نظر آتی تھیں اور ہیرانی کو سب سے زیادہ یہ کھلتا کہ خدا کے نام پر زمین پر وہ ہوتا ہے جو اسے غلط معلوم ہوتا۔ ہیرانی کی بچکانہ رجائیت نے ا س کی فلموں میں زندگی کا ایک بے حد’یک رخا‘‘ تصور پیش کیا۔ رومانویت میں ہوتا ہی یہی ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کو حق و باطل کا ایک امتزاج تصور کر ہی نہیں پاتا بلکہ وہ انسانوں کو خالص اچھے اور خالص برے میں بانٹنے لگتا ہے۔ اور ہیرانی رومانوی بھی ادھا تھا۔ اس کے یہاں خالص باطل تھا ہی نہیں۔ اس کے یہاں تو بس خالص حق یا حق سے تھوڑے بھٹکتے ہوئے لوگ ہیں۔ مگر پھر راجکمار ہیرانی نے بڑی ہمت کا کام کیا۔ اس نے اپنے اس نظریات، تصورات کے قلعے سے باہر قدم رکھا اور اداکار سنجے دت کی زندگی بیان کرنے کی ٹھانی۔

راجکمار ہیرانی نے بڑی ہمت کا کام کیا۔ اس نے اپنے اس نظریات، تصورات کے قلعے سے باہر قدم رکھا اور اداکار سنجے دت کی زندگی بیان کرنے کی ٹھانی۔

سنجے جو ایک بگڑا رئیس زادہ ہے، جو عادی نشئی ہے، ایک جنسی بے راہ رو ہے، بلکہ مبینہ طور پر دہشت گرد بھی۔ مگر ہر ہر سابقہ فلم کی طرح اب ہیرانی کے اس ہیرو کی لڑائی کسی ’’اسٹیٹس کو‘‘ سے نہیں ہے بلکہ اب لڑائی اپنے آپ سے ہے۔ یہ وہ لڑائی ہے جس سے اب تک ہیرانی کا پالا نہیں پڑا تھا۔ یہ وہ جنگ ہے کہ جو جنگ عظیم سے بھی مشکل ہے مگر سنجو اپنی تمام تر کمزوریوں، لغزشوں کے باوجود بھی پرکشش ہے کیونکہ وہ آدمی ہے، دیوتا نہیں ہے، اوتار نہیں ہے، سنت، راہب یا مسیحا نہیں ہے۔

یہ ایک باپ اور بیٹے کی محبت کی داستان ہے۔ باپ جو بیٹے کو سدھارنا چاہتا ہے مگر یہ بھی مانتا ہے کہ بیٹے کو اپنی لڑائیاں خود ہی لڑنی ہوں گی۔ وہ بیٹے کے لئے اپنی جان قربان کر سکتا ہے، وہ ہر جگہ اپنے بیٹے کو ہمت دیتا ہے، راہ دکھاتا ہے مگر اس کا اصرار ہے کہ بیٹے کو اپنی لڑائیاں خود ہی لڑنی ہوں گی۔ یہ کرشن جی اور ارجن کا تعلق ہے۔ مہا بھارت میں درج ہے کہ ارجن کے سوتیلے بھائی کرشن جی سے ہتھیار اور فوجیں لے گئے۔ ارجن کرشن جی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے اپنے سوتیلوں سے جنگ درپیش ہے، آپ میری مدد کیجئے۔ کرشن جی ارجن سے فرماتے ہیں کہ میں ہتھیار تو دے چکا، ہاں تم چاہو تو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں مگر میں ہتھیار نہیں اٹھائوں گا۔

لڑائی ارجن کو ہی لڑنی ہے، لڑائی ارجن ہی لڑتا ہے، لڑائی ارجن ہی جیتتا ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جس میں راجکمار ہیرانی اب قدم رکھ دیا ہے۔ کئی مقامات پر وہ لڑکھڑاتا ہے اور ’’اچھی دنیا، اچھے لوگ‘‘ کی عینک لگانے کی کوشش کرتا ہے مگر چلیے نئے راستے پر اتنا لڑکھڑانا تو جائز ہی ہے۔

ٹوٹی شمشیریں تو کیا؟
پھوٹی تقدیریں تو کیا؟
ٹوٹی شمشیروں سے ہی
کر ہر میدان فتح
کر ہر میدان فتح

واقعی خارج کی دنیا میں ہی ٹکرائو، تضاد، لڑائی دکھانے والے ہیرانی کا باطن کے میدان کی طرف، اندر کی لڑائی کی طرف تھوڑا سا مڑ جانا بھی بڑی بات ہے۔ کیونکہ بہرحال ہیرانی کے فن میں ایک نوع کی سچائی ہمیشہ سے ہے۔ یہی سچائی اس کے فن کو قابل توجہ بناتی ہے اور ہماری دعا ہے کہ آسان ’’اچھی اچھی‘‘ دنیا اور بچکانہ رجائیت سے نکل کر وہ واقعی اسی پٹری پر چلتا رہے اور ٹوٹی شمشیروں سے ہی اس کا فاتح بن جائے۔ مبارک ہو کہ ہیرانی اب رومانویت سے حقیقت پسندی کی دنیا میں قدم رکھ رہا ہے۔ یہ اس کی بڑی فتح ہے کیونکہ بنے بنائے سانچے توڑنا آسان کام نہیں۔

http://https://www.youtube.com/watch?v=1J76wN0TPI4

Facebook Comments Box
دھرمدھرم کھیل ڈر کا ہےراجکمار ہیرانی کا سنجورنبیر کپورسنجو باباسنجے دتعامر خانفلمفلم انڈسٹریکارل مارکسمذاہب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
نطشے کا مرزاغالب کو خط —– اظہر وقار
next post
مزاجی ڈائٹنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تہامی بشر علوی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.