تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبعلمیکالم

سقراط اور حصول علم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عبد اللہ

by علی عبداللہ 01/08/2018
written by علی عبداللہ 01/08/2018
122

سقراط کو مغربی فلسفے کے بانیوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ جس نے اہل مغرب کو ایک جدید نظریے اور فلسفے سے روشناس کروایا اس کی کوئی باقاعدہ تصنیف موجود نہیں سوائے ارسطو کے جس نے سقراط کے نظریات کو پھیلایا۔

ایتھنز میں پیدا ہونے والا سقراط ایک سنگ تراش تھا اور بعد میں ایتھنز کی فوج میں بھی شامل رہا۔ سقراط نے عوام میں پھیلے گمراہ کن عقائد پر تنقید کی جو کہ معاشرے میں سرایت کر چکے تھے۔ سقراط مکالموں کی صورت عوام میں گفتگو کرتا تھا جس کا مقصد عوام کو ان گمراہ کن عقائد پر غور و فکر کی دعوت دینا ہوتا تھا۔ اس کے مکالمے کچھ یوں ہوتے؛

سوال: کیا دیوتا سب جانتے ہیں؟
جواب: جی ہاں! بالکل

سوال: لیکن بعض اوقات وہ کچھ معاملات سے غیر متفق بھی ہوتے ہیں۔
جواب: ہاں ایسا ہی ہے، وہ ہمیشہ لڑتے ہیں۔

سوال: یعنی وہ صحیح اور غلط کی کشمکش میں الجھے رہتے ہیں؟
جواب: جی میرا خیال تو یہی ہے۔

سوال: تو مطلب یہ ہوا کہ دیوتا ہر شے کے بارے میں علم نہیں رکھتے؟

سقراط کا خیال تھا کہ اچھائی یا برائی کوئی نفسی موضوعات نہیں بلکہ یہ ابدی تصورات ہیں _ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مسلسل خودشناسی کے ذریعے ان تصورات کو دریافت کریں۔ حکمت اور دانائی ہی انسان کو اخلاقیات کی حقیقی روح سے متعارف کرواتی ہیں۔ سقراط کے نزدیک کائنات میں واحد اچھائی علم اور جہالت واحد برائی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان کو علم کی تلاش کسی بھی قیمت پر جاری و ساری رکھنی چاہیے ورنہ جہالت اس کا مقدر بن کر عمر بھر اسے اندھیروں میں ہی بھٹکاتی رہے گی۔

سقراط کے نزدیک جسم اور روح دو مختلف چیزیں ہیں اور اگر جسم متروک کر دیا جائے روح کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ وہ کہیں اور چلی جائے گی۔ سقراط کی نظر میں نقصان صرف وہ ہوتا ہے جو آپکو روحانی طور پر متاثر کرے اور یہ صرف انسان کے اپنے غلط عمل کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ سقراط کے سامنے اسکے جرائم پر پانچ شرائط تھیں جن میں سے اس نے موت کو چنا تھا۔ پہلی قید، دوسری جلاوطنی، تیسری اپنے نظریات سے کنارہ کشی، چوتھی جرمانہ اور آخری موت۔

سقراط شخص تھا جس نے اپنی زندگی حکمت و دانائی کی کھوج اور انصاف و خوبصورتی جیسے تجریدی تصوارات کے حصول میں وقف کر کے آنے والی دنیا کو علم و حکمت کی نئی راہوں پر گامزن کیا۔

قید سقراط کے لیے ناقابل قبول تھی کیونکہ اسطرح اسے عمر بھر دوسروں کے تابع رہنا پڑتا۔ سقراط جو ایتھنز کو دل و جان سے چاہتا ہے، 70 سال کی عمر میں جلاوطنی کا تو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اسکا کہنا تھا کہ وہ کہیں اور بھی چلا جائے تب بھی لوگ اسے ڈھونڈ کر اسکی محفل میں بیٹھنے لگیں گے اور ان سے بچنے کے لیے اسے مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ چلتے رہنا پڑے گا۔

سقراط کے لیے علم و حکمت سے بھرپور مکالموں سے دستربردار ہو کر خاموشی کی زندگی گزارنا موت جیسا تھا۔ خاموش رہنے کا مطلب دیوتاؤں کی نافرمانی تھی۔ سقراط کے نزدیک علم ایک نیکی ہے اور لوگوں تک اسے پہنچانے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ان سے ان کے عقائد کے بارے سوال کیے جائیں تاکہ وہ جوابات کی تلاش میں زندگی کے نئے اسراروں سے پردہ ہٹا سکیں۔

سقراط کے پاس اتنی دولت بھی نہ تھی کہ وہ جرمانہ بھر کر آزاد ہو سکتا لہٰذا موت ہی ایک آخری صورت تھی جسے وہ چن سکتا تھا۔ کیونکہ سقراط سمجھتا تھا کہ خاموشی، جلاوطنی اور قید اسکی روح کو نقصان دیں گے اور وہ نہیں چاہتا کہ خود اپنی مرضی سے اپنی روح کو نقصان پہنچائے اور دیوتاؤں کو ناراض کرے۔

سقراط موت کو ایک امید سمجھتا تھا۔ ایسی امید کہ جس کے بعد اسکی روح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جائے گی۔ جہاں اسے وہ تمام خوشی اور دانائی مل سکے گی جو یہاں نہ مل سکی تھی۔ لہٰذا سقراط نے خود ہی اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پی لیا۔ سقراط کو مغربی تاریخ کا پہلا شہید دانشور تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے اپنی زندگی حکمت و دانائی کی کھوج اور انصاف و خوبصورتی جیسے تجریدی تصوارات کے حصول میں وقف کر کے آنے والی دنیا کو علم و حکمت کی نئی راہوں پر گامزن کیا۔

حقیقت کے متلاشی ارسطو اور سقراط کو پڑھنے میں عمر تو کھپا رہے ہیں مگر وہ ایک واضح اور حقیقی فلسفے کی جانب توجہ نہیں دیتے جو انہیں علم و حکمت کے ساتھ ساتھ اس کائنات سے بھی آشنا کرواتا ہے جسے سقراط عمر بھر کھوجتا رہا۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کو سائنسی مشاہدات کی بنا پر بہت سا علم حاصل ہوا ہے۔ فلیمنگ کی پنسلین ہو یا مارکونی کا ریڈیو معلومات جس ذریعے سے بھی حاصل ہوں وہ ہمارے علم میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کا تمام علم عملی مشاہدات کی بنا پر ہی حاصل ہوا؟ ہمارا جواب ہاں ہی ہو گا مگر سقراط کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حسیات کسی بھی صورت حقیقت کو نہیں سمیٹ سکتیں۔ روح اور بدن کے مابین ایک تقسیم ہے جس میں بدن کا علم حاصل کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ سقراط کے نزدیک جسم کا تعلق صرف مادی خوشی کے ساتھ ہے جیسے خوراک، جنسی ضروریات اور دولت وغیرہ۔ لہٰذا ان تمام وجوہات کی بنا پر بدن علم کے حصول میں ایک رکاوٹ ہے اور یہ کبھی بھی حقیقی علم سے آشنا نہیں کروا پاتا بالکل اسی طرح جیسے ایک ہی شے کو دو مختلف لوگ مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں اور ان کا مشاہدہ کبھی بھی یکساں نہیں ہوتا۔ سقراط کا کہنا ہے کہ انسان کو علم کے ذرائع کے لیے اپنی حسیات پر کبھی انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر انسان کی حسیات مختلف ہوتی ہیں۔ اس کے مطابق علم ایک ابدی ٹھوس اور کبھی نہ بدلنے والی شے ہے اور اس کے لیے اپنی حسیات پر انحصار کر کے اسے کھوجنا بےکار ہے۔ اس کی مثال سقراط یوں دیتا ہے کہ اگر ایک لکڑی کو آدھا پانی میں ڈبو کر دیکھا جائے تو یہ ٹیڑھی دکھائی دے گی جبکہ حقیقت میں وہ ایسی نہیں ہے۔ تو کیا ہماری حسیات ہمیں دھوکہ دیتی ہیں؟

سقراط کہتا ہے کہ جسم کا تعلق ایک ناپائیدار اورحسیاتی دنیا سے ہے جبکہ روح ایک ابدی اور پائیدار دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ حسیاتی دنیا یہی ہے جو ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں لیکن یہ ایک عکس ہے۔ حقیقی دنیا ہم سے پوشیدہ ہے جہاں ہر شے کی پہلے سے ایک وضع اور ہییت موجود ہے۔ یہ ہییت ایک پائیدار، ناقابل تبدیل اور ابدی پیمانہ ہے جس کی بنیاد پر ہم اس ناپائیدار دنیا میں اشیا کو پہچان پاتے ہیں۔ سقراط کے نزدیک چونکہ یہ کائنات مسلسل بدلاؤ کا سامنا کرتی ہے اس لیے یہ حقیقی نہیں ہو سکتی اور اسی بنا پر کوئی بھی شے یہاں مستقل نہیں ٹھہر پاتی۔ مثال کے طور پر لکڑی کی ایک کرسی چاہے جتنی اعلیٰ اور مضبوط بنائی گئی ہو لیکن ایک وقت آتا ہے کہ یہ بھی زوال پزیر ہو کر اپنا وجود مکمل کھو بیٹھتی ہے۔ اسی طرح جسم بھی اپنی تمام ضروریات اور خواہشات کی بنا پر ہمیں مختلف طریقوں سے مصروف رکھتا ہے۔ اسی حسیاتی وجود کی بنا پر یہ انسان کو علم و حکمت سے دور کر دیتا ہے۔

سقراط کے نزدیک اگر کوئی انسان علم و دانش حاصل کرنا چاہتا ہے تواسے حسیاتی دنیا سے توجہ مکمل طور پر ہٹانی ہو گی کیونکہ یہ ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ خواب کتنا تیزی سے بدلتے ہیں اور اگر چیزیں اسی طرح بدلتی رہیں تو ہم کیسے کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں؟ جسم ایک بدی کا مقبرہ ہے جو ہماری روح کی اچھائی کو قید کر لیتا ہے اور حکمت کے ہر موقعے کو دھوکہ میں بدلنے کی سعی کرتا ہے۔ اس طرح سقراط مختلف دلیلیوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ بدلاؤ اور ناپائیداری سے بھرپور اس کائنات میں ہماری حسیات کبھی حقیقت تلاش نہیں کر سکتیں۔ حقیقت اور حکمت صرف اپنی روح میں تلاش کی جا سکتی ہے جس کے لیے روح تک پہنچنا لازم ہے۔ ہماری پیدائش ہمیں وہ تمام چیزیں بھلا دیتی ہے جو ہماری روح سیکھ چکی ہوتی ہے لیکن انہیں پہچاننا ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے سقراط کہتا ہے کہ انسانوں کو وہ سب سیکھا ہوا دوبارہ یاد کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے سقراط جدلیاتی طریقہ اپنایا کرتا تھا۔ وہ لوگوں سے سوالات کرتا تھا اور انکو غور و فکر کرنے پر اکساتا تھا۔ سقراط کہتا ہے

’’حکمت و دانائی اس وقت آ سکتی ہے جب انسان کسی بھی منظر یا حسیاتی مشاہدے کو ذریعہ بنائے بنا خالصتاً اپنے خیالات پر غور کرے۔ آنکھوں اور کانوں اور دیگر بدنی عوامل سے آزاد ہو کر ہی روح انسان کو حقیقی علم سے آشنا کروا سکتی ہے کیونکہ انسان کا بدن ہمیشہ اسکی روح کو کشمکش میں ڈال کر اسے سچائی اور حکمت سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے‘‘۔

سقراط کا نظریہ ایک طرف رکھ کر اگر ہم اسلام پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ دنیا کی ناپائیداری اور ابدی زندگی کے بارے سقراط سے زیادہ مدلل اور واضح نظریات پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں علم و حکمت کے لیے جسمانی خواہشات سے دوری اور مکمل یکسوئی سے غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے لیکن یہ جسم کو مکمل نطر انداز کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ چونکہ یہ ہدایت کا ایک واضح راستہ دکھاتا ہے لہٰذا سقراط کا فلسفہ اپنی جگہ لیکن اسلامی فلسفہ حیات انسان کو مکمل حقیقی علم سے آشنا کرواتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ خیالات تمام دنیاوی و جسمانی خواہشات سے پاک ہوں۔ لہٰذا سقراط، ارسطو اور ان جیسے دیگر فلسفیوں کے فلسفے پڑھنا اچھا ہے لیکن صرف انہی سے متاثر ہو کر حقیقی فلسفہ حیات نظرانداز کر دینا دانشمندی نہیں ہے۔ موجودہ دور میں حقیقت کے متلاشی ارسطو اور سقراط کو پڑھنے میں عمر تو کھپا رہے ہیں مگر وہ ایک واضح اور حقیقی فلسفے کی جانب توجہ نہیں دیتے جو انہیں علم و حکمت کے ساتھ ساتھ اس کائنات سے بھی آشنا کرواتا ہے جسے سقراط عمر بھر کھوجتا رہا۔

Facebook Comments Box
ارسطواسلام اور فلاسفیافلاطونانصافجسم و روححکمت و دانائیدیوتاسقراطسقراط اور حصول علمفلاسفر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
علی عبداللہ

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

previous post
گریہ، جشن اور عمران خان ایک مکالمہ — رفیع اللہ میاں – اقبال خورشید
next post
سب تاج اچھالے جائیں گے: عمران سے اُمید ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد فاروق بھٹی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.