تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینسیاسیکالم

تبدیلی کی نئی صبح کا سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمینہ رشید

by Editor2 26/07/2018
written by Editor2 26/07/2018
92

خوشی سے تیز دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ آنکھوں میں امیدوں کے چراغ جلائے، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ اپنے اپنے ٹی وی اسکرینز کے سامنے، موبائل کی اسکرینز کو اسکرول ڈاؤن کرتے یا اپنے لیپ ٹاپ پر لائیو نشریات پر نظر جمائے اپنے خوابوں کو تعبیر ہوتا دیکھ رہے تھے۔

یہ عام دن تھا نہ یہ کوئی عام سی شب۔ پچیس جولائی کے دن کے خوشگوار اختتام پر یہ رات بہت خاص تھی ۔ ستر سال گزرے لیکن دو ہزار اٹھارہ کی پچیس جولائی کو ایک نئی تاریخ رقم ہونے جارہی تھی۔

ایک طرف اشرافیہ تھی ان کی دولت و حشمت اور کرپشن کے پیسوں کا ایک سیل رواں تھا جو میڈیا ہاؤسسز کو بھاری قیمت ادا کرتا تو کبھی دانشوروں کی دانش کو مول لے لیتا تھا۔ کبھی یہ اشرافیہ طاقت کا استعمال کرکے اداروں کو یرغمال بنا لیتا تھا تو کبھی راہ میں آنے والے ہر شخص کو کچلتا ہوا گزر جاتا۔

جب ایسا سورج طلوع ہوا جو ڈوبنے سے پہلے دنیا کو یہ پیغام دے گیا کہ پاکستانی قوم ایک ایک آزاد اور زندہ قوم ہے۔ جو کرپٹ عناصر، ساہوکاروں اور سوداگروں سے نجات حاصل کرنا جانتی ہے۔

تو دوسری طرف زنجیروں سے جکڑی سوچ سے پیچھا چھڑا کر آزادی کی اڑان بھرنے کے خواہشمند پنچھی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں سوچ کی آزادی کی ایک سنہری جھلک نے دیوانہ بنادیا تھا۔ اور سوچ کی آزادی کا یہ تحفہ دینے والا جیسے ایک ساحر تھا جو اپنی سچائی سے چمکتی آنکھوں سے، اپنے آہنی ارادے سے اور ناقابلِ شکست اور پر عزم لہجے صدیوں کے غلام سوچ کے غلاموں کو غفلت کی نیند سے بیدار کرتا جاتا ہے۔

اشرافیہ کا وہ طاقتور ٹولہ جو اس ملک کے طول و عرض میں پھیلا تھا ہر طرح سے اس پرعزم کھلاڑی اور لوگوں کے کپتان کو روکنے کو تیار تھا۔ اور جب خود کو اسکے مقابلے میں کمزور پاتا تو ایسا سرمئی دھواں ہر طرف پھیلا دیتا جو بصیرت و بصارت پر اثر کرسکے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا پاکستان، اشرافیہ کے مستقل سرکس کے لئےقائم ہوا تھا؟ نعمان علی خان

 

اس اشرافیہ نے بہت چاہا کہ صدیوں سے غلام اور جھکے ہوئے سر اسی طرح رہیں۔ لیکن کپتان کے لہجے کی سچائی سب کو اسیر کرتی جاتی تھی اور ان کے سارے حربے ناکام ہوئے جاتے تھے۔ ہر کوشش کے باوجود روز کپتان کی ٹیم میں لوگ بڑھتے چلے جاتے اور اشرافیہ کے سارے وار خالی چلے جاتے۔

پھر چشم فلک نے پچیس جولائی کا دن بھی دیکھا جب ایسا سورج طلوع ہوا جو ڈوبنے سے پہلے دنیا کو یہ پیغام دے گیا کہ پاکستانی قوم ایک ایک آزاد اور زندہ قوم ہے۔ جو کرپٹ عناصر، ساہوکاروں اور سوداگروں سے نجات حاصل کرنا جانتی ہے۔ جنہیں آگہی کا تحفہ مل چکا ہے اور وہ اشرافیہ کے بچھائے جال سے نکل کر آزاد پرندوں کی اُڑان بھرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ جو غلام بن کر نہیں آزاد اور خود مختار شہری بن کر رہنا اور جینا چاہتے ہیں۔ آئین میں درج بنیادی حقوق کے شیڈول میں درج سارے حقوق کے ساتھ ۔ نہ کم نہ زیادہ۔

اور یہ تبدیلی کا وہ قافلہ ہے جو پچیس جولائی کو اپنی منزل کی جانب پہلا قدم بڑھا چکا ہے جب چھبیس جولائی کا سورج طلوع ہوگا تو بڑے بڑے برج گر چکے ہونگے منافقتوں کے برج، دین فروشوں کے برج اور سب سے بڑھ کر اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے گریزاں صدیوں سے مسلط حکمرانوں کےبرج۔ جو نعرہ لگاتے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ لیکن جب بات آتی ہے کپتان کے ووٹوں کی تو ان کے اصول لمحہ بھر میں بدل جاتے ہیں ۔

نہ انہیں (اشرافیہ کو) اپنے ظلم یاد ہیں، نہ ناانصافیاں اور نہ سیاہ اعمال نامے۔ یاد ہے تو اقتدار چھن جانے کا دکھ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ جلد تسلیم کر لیں کہ شکست ان کا مقدر ہے۔ حقیقی فتح نہیں مل سکتی کہ جب تک لوگ آپ کے ساتھ نہ ہوں ورنہ پچیس جولائی کا سورج ایک انقلاب نہ دیکھ پاتا۔

انہیں لگتا ہے کہ جس طرح وہ لوگوں کی گردنوں پر پاؤں رکھتے اقتدار کی مسند تک پہنچے تھے شاید کپتان بھی اسی راستے کا مسافر ہے ۔ لیکن وہ یکسر غلط ہیں ۔ ان کی شکست خوردگی کا یہ عالم ہے کہ یہ آنکھوں دیکھی سچائی دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اور دیکھ بھی لیں تو تسلیم کے ظرف سے محروم۔

لیکن ہر اقتدار کا اختتام ہے اور ہر ظلم کا ایک انجام ہے۔ ان کے تسلیم نہ کرنے سے نہ اختتام بدل سکتا ہے نہ انجام۔ موقع پرست دانشوروں کا وہ ٹولہ جو کل اس اشرافیہ کے دائیں بائیں موجود تھا آج ایک نئے دروازے کی تلاش میں ہے۔ اور اپنی وفاداریوں کا رخ جلد از جلد بدلنے کا خواہشمند ہے ۔

اقتدار کا ظلِ ہما حکمرانوں کے سر سے اُڑ چکا ہے اور ان کی چیخیں آسمان سے باتیں کرتی سنائی دیتی ہیں۔ نہ انہیں اپنے ظلم یاد ہیں، نہ ناانصافیاں اور نہ سیاہ اعمال نامے۔ یاد ہے تو اقتدار چھن جانے کا دکھ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ جلد تسلیم کر لیں کہ شکست ان کا مقدر ہے۔ حقیقی فتح نہیں مل سکتی کہ جب تک لوگ آپ کے ساتھ نہ ہوں ورنہ پچیس جولائی کا سورج ایک انقلاب نہ دیکھ پاتا ۔

تبدیلی جس کو ثبات ہے
تبدیلی جو سوچ تبدیل کرنے کی طاقت رکھتی ہے

آج سوچ کی آزادی کے رستے پر گامزن قافلہ خوش امیدی کے چراغ جلائے اپنی منزل کی جانب پہلا قدم رکھ چکا ہے۔

یہ پچیس جولائی تاریخ میں امر ہے اور سنہرے حروف میں لکھی جائے گی۔

اس قافلے کے ہر مسافر کو
کپتان کے ہر کھلاڑی کو
تبدیلی کی اس نئی صبح کا سلام

نئی صبح ، نئی امید ، نئے خواب کے رنگ
میری زمین پہ اترے ہیں سب بہار کے رنگ

Facebook Comments Box
اشرافیہبھاری قیمتتبدیلیتبدیلی آ گئیتبدیلی کی نئی صبح کا سلام۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمینہ رشیددانشدانشوروںسورج طلوعقیمتکپتانکرپشنمیڈیامیڈیا ہائوسز
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
دو جماعتی نظام کی افادیت اور ہمارا بدلتا سیاسی تناظر — وقاص صارم
next post
ادبی تنقید اور تنقیدی دبستان ۔۔۔۔۔۔ شہباز بیابانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.