تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

دو جماعتی نظام کی افادیت اور ہمارا بدلتا سیاسی تناظر — وقاص صارم

by دانش ڈیسک 24/07/2018
written by دانش ڈیسک 24/07/2018
121

دنیا کے زیادہ تر جمہوری ممالک میں دو جماعتی نظام رائیج ہے۔ یعنی کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں پورے سیاسی نظام پر حاوی ہوتی ہیں اور کسی تیسری جماعت کا ابھر کر سامنے آنا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ یہ نظام زیادہ تر برطانیہ کی سابقہ کالونی رہنے والے ممالک میں دیکھنے کو ملے گا جیسے کہ امریکہ، بھارت، کینیڈا اور بنگلہ دیش وغیرہ۔ اس کے برعکس کثیر الجماعتی نظام میں دو سے زیادہ جماعتوں کو ہم قومی سطح کی یا کم از کم بڑی جماعتیں کہ سکتے ہیں۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ بذات خود ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام رکھنے والا ملک ہے۔ اگرچہ 1920 کے بعد سے زیادہ تر حکومتیں دو بڑی جماعتوں یعنی لیبر پارٹی اور قدامت پرست پارٹی (کنزرویٹو) نے ہی بنائی ہیں تاہم وہیں پہ امریکہ کے برعکس دیگر جماعتیں بھی اچھی خاصی نشستیں جیتتی رہیں ہیں جیسا کہ 2010 میں ہونے والے انتخابات کے بعد قدامت پرست جماعت نے لبرل ڈیمو کریٹوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی تھی کیونکہ کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔
مختلف جمہوری معاشروں میں رائیج ان دونوں نظاموں کی بنیاد کے پیچھے ان ممالک کے اپنے معاشرتی اور تاریخی عوامل کارفرما رہے ہیں۔ فرانس سے تعلق رکھنے والے معروف سو شیالوجسٹ موریس ڈو ورجر کے مطابق جن ممالک میں اکایئت کا طریقہ انتخاب ہوگا وہاں دو جماعتی نظام نافذ ہوگا اور جہاں ڈبل بیلٹ سسٹم ہوگا وہاں کثیر الجماعتی نظام ہوگا۔

اکایئت طریقہ انتخاب کیا ہے؟؟ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ جس طرح پاکستان میں یہ طریقہ رائج ہے کہ ایک ووٹر اپنے حلقے کے مختلف امیدواروں میں سےصرف کسی ایک امید وار کو ہی ووٹ دے سکتا ہے۔ اور اسطرح جو امید وار سب سے زیادہ ووٹ لیتا ہے وہ کامیاب قرار پاتا ہے۔ یہ ہوگیا اکائیت singularity طریقہ انتخاب۔ دوسری طرف دوہرے بیلٹ کے طریقہ کار میں ووٹر کو ایک نہیں بلکہ ووٹ ڈالنے کے دو مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ وہ ایسے کہ پہلی دفعہ کسی حلقے میں پاینچ امید وار مد مقابل ہیں اور قانون کے مطابق کسی ایک امیدوار کا 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے تاہم کوئی بھی امید وار اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا تو ٹاپ پہ رہنے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ سے مقابلہ ہوگا اس بار جیتنے والا فاتح کہلائے گا۔ عام طور پر اسطرح کا طریقہ انتخاب مختلف ممالک میں صدارتی انتخابات کے لیے طے ہے جیسے کہ افغانستان، سری لنکا اور فرانس کے صدارتی انتخابات میں یہی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ اسی طرح فرانس میں ڈیپارٹمنٹس کے اراکین منتخب کرنے کے لیے یہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔

آئے اب بات کرتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی اور جماعتی نظام کی۔ دولت مشترکہ کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی برطانوی سیاسی ماڈل میراث میں ملا تھا۔ ہمارے ہمسائے بھارت کے برعکس ہمارے یہاں جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں مل سکا۔ ہم نے تین آئین بنائے پہلا 1956 میں دوسرا 1960 اور تیسرا 1973 میں پہلا اور موجودہ آئین پارلیمانی نظام کا تھا جبکہ 1960 کا آئین صداری طرز حکومت کا آئینہ دار تھا۔ پہلے دو آئین تو نہ چل سکے تیسرا بھی کئی بار توڑا گیا کبھی ڈائریکٹ مارشلا لگا کر اور کبھی ایمرجنسی لگا کر۔یاد رکھئے آئین کسی بھی ملک کے نظام کی روح ہوا کرتی ہے۔ تمام تر قوانین اور ضابطے آئین کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔

اگر پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سیاسی اور جماعتی نظام کی بات کی جائے تو ایک بات واضح تور پر نظر آتی ہے کہ ہمارے ملک میں آج تک جمہوریت پوری طرح جڑیں نہیں پکڑ سکی۔ تاہم اسکے باوجود یہ بات وسوخ کے ستھ کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے لوگوں کو کثیر الجماعتی نظام کی بجائے دو جماعتی نظام زیادہ پسند ہے۔ جسکا مظہر ہم ماضی میں بارہا دیکھ چکے ہیں۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ جب بھی دو جماعتی نظام مستحکم ہونے لگتا ہے حکومت اور آئین کا بوریا بستر لپیٹ دیا جاتا ہے۔

1970 میں ہونے والے ملک کے پہلے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ دو جماعتی نظام ابھر کر سامنے آیا۔ تاہم ان انتخابات کے بعد جمہوری اصولوں کی نفی کرتے ہوئے نہ صرف اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے سے روکا گیا بلکہ ملک بھی توڑ دیا گیا۔ 1980 کی دہائی تک پاکستسن کی بانی جماعت مسلم لیگ کا کوئی وجود نہیں رہا تھا۔ جبکہ ہمیشہ ہی ڈکٹیٹرز نے اپنے غیر آئینی اختیار کو جواز فراہم کرنے کے لیے مسلم لیگ کا بار بار سہارا لیا۔ جس کے نتیجے میں یہ جماعت عوامی پزیرائی کھو بیٹھی۔

1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے مسلم لیگ کے مردہ تن کو زندہ کرنے کے لیے اسے آزاد اراکین کی ایک نئی کھیپ فراہم کی گئی۔ 1988 میں جب جمہوریت بحال ہوئی تو ایک دفعہ پھر دو جماعتی نظام ابھر کر سامنے آیا۔ مگر ایک دفعہ پھر جمہوریت کی کمزور ریل 1999 تک چل سکی۔ 2002 کے انتخابات میں ایک نئی مسلم لیگ بنائی گئی۔ جو کہ اقتدار اور آمر کی حمایت کی چھت میسر ہونے کے باوجود2008 کا الیکشن ہار گئی۔
2008 سے 2018 کے دس سال ایک مرتبہ پھر جمہوریت کی روانی کے سال تھے۔ تاہم اس عرصے دوران رہنے والی کمزور حکومتوں کی خراب کارکردگی کے باعث ایک تیسری جماعت سیاسی منظر نامے پر واضح طور پر ابھرتی نظر آرہی ہے۔

1996 میں قائم ہونے والی کرکٹر پلٹ سیاست دان عمران خان کی تحریک انصاف کا یک نقاطی ایجنڈا کرپشن فری پاکستان ہے۔ گو ابتدا میں تحریک انصاف کو خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی تاہم 2018 کے انتخابات میں چونکہ چند روز باقی ہیں لہذا واضح طور پر بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں اس جماعت کی کامیابی یقینی نظر آرہی ہے۔

2018طکے ممکنہ نتائج کے تناظر میں ایک دفعہ پھر دوجماعتی نظام بنتا نظر آرہا ہے۔ ممکنہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی اندرون سندھ کی حد تک محدود ہو کے رہ جائے گی۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز دو قومی سطح کی جماعتیں بن کر ابھرتی نظر آرہی ہیں۔

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سیاسی جماعتوں کا عروج و زوال اسقدر تیزی سے ہوتا ہے۔ اندازہ لگائیں 19997 میں دو تہائی اکثریت لینے والی مسلم لیگ نواز 2002 میں قومی اسمبلی کی صرف 15 نشستیں جیت سکی۔ جبکہ 2013 میں اسی جماعت نے 122 نشستیں حاصل کرکے حکومت بنائی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی جو 2008 میں 87 نشستوں کے ساتھ سر فہرست تھی 2013 میں 37 سیٹیں حاصل کر سکی۔ شاید یہی کچھ حشر اب مسلم لیگ نواز کا ہونے والا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر پاکستانی سیاست میں اسقدر اتار چڑاو کیسے ممکن ہوتا ہے۔ تو اسکا سیدھا سا جواب ہے جن معاشرون میں جمہوریت کئی دہایوں حتی کہ صدیوں کا سفر طے کرکے مستحکم ہو چکی ہے وہاں چاہے دو جماعتی نظام ہو چاہے کثیر الجماعتی سیاسی جماعتیں اتنی تیزی سے عروج و زوال کا شکار نہیں ہوتیں۔ یہ صورتحال صرف ہمارے جیسے پسماندہ معاشروں میں ہی نظر آتی ہے جہاں جمہوریت کی افادیت کو کبھی سمجھا ہی نہیں گیا۔۔!

Facebook Comments Box
دو جماعتی نظامسیاست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کیا انتخابی نتا ئج متوقع ہو سکتے ہیں؟ وقاص افضل
next post
تبدیلی کی نئی صبح کا سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمینہ رشید

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.