تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

طلسماتی چمی یا تعظیمی بوسہ — رقیہ اکبر 

by دانش ڈیسک 16/07/2018
written by دانش ڈیسک 16/07/2018
130

julie bowen nude Leairis

غیر پارلیمانی زبان کے ا ستعمال پہ معافی چاہتی ہوں۔ مگرکیا کروں ـــــــــ ’’بوسے‘‘ کی نسائی فام ’’چمی‘‘ ہی بنتی ہے۔ اور چونکہ وہ بھاگ بھرا ’’بوسہ‘‘ جس کی خوشبو آجکل ماحول کو معطر کئے ہوئیے ہے ایک نسائی ترغیب اور ہدایت کا مرہون ہے تو اسی لئے یہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی نسائی فام ہی لکھی اور پڑھی جائے۔ تو آج یہ چند بے ادب لائنیں اس با ادب بوسے کے نام۔

اس بوسے کی شرعی یا غیرشرعی حیثیت پر بات کرنے کی جرات تو میں نہیں کر سکتی کہ یہ میرا مقام نہیں، یہ پہلو اہل علم و دانش کے حوالے۔ میں تو اس ’چمی‘ کی غیر مرئی قوت و اہمیت پہ نشتر زنی کرنا چاہتی ہوں، اور اس کراماتی اور مقدس عمل کے ممکنہ و مطلوبہ نتائج پہ روشنی ڈالنا چاہتی ہوں۔ مگر میری نشترزنی سے پہلے ایک لطیفہ سن لیں۔

کسی گائوں میں ایک غریب ہندو کسا ن رہتا تھا اس کی کل جمع پونجی ایک بیل ایک بکری اور ایک مرغے پرمشتمل تھی کسی نے مشورہ دیا کہ گائوں کے بڑے مندر کے گرد ننگے پیر سات پھیرے لگائو تمھارا مال دگنا ہو جائے گا۔ اگلے روز وہ کسان پہنچ گیا مندرکے گردچکر لگانے۔ بڑے سے مندر کے گرد سات پھیرے لگائے اور انتظار کرنے لگا اپنے مال کے دگنا ھونے کا۔ مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے اگلے ہی دن اس کا بیل مرگیا۔ بیچارہ بہت رنجیدہ ہوا مگر بھگوان پہ اپنے یقین کو متزلزل نہیں ہونے دیا اور دوسرے روز پھر چل پڑا قسمت آزمانے۔ ابھی پانچ پھیرے لگائے تھے کہ کسی نے آکر بتلایا تمہاری بکری داعی اجل کو لبیک کہہ گئی۔ اب تو بیچارے کی گویا کمر ہی ٹوٹ گئی۔ لگا اپنی قسمت کو کوسنے اور بھگوان سے شکوہ کرنے۔ رات بھر اسی رنج و الم کی کیفیت میں گزری۔ اگلے دن جب اکلوتا زندہ بچ جانے والا مرغا قید تنہائی سے بیزار ہو کرشور مچانے اور بانگیں دینے لگا توکسان مظلوم جو پہلے ہی حالات کا ستایا ہوا بیزار بیٹھا تھا کڑکڑاتی آواز میں مرغے کو مخاطب ہو کر دھاڑا:

ابے حرام خور چپ کر جا چپ، اوقات ہی کیا ہے تیری؟ تو تو بس میرے دو پھیروں کی مار ہے۔

مجھے عمران خان کے بوسے سے یہ لطیفہ یاد آ گیا اور میں سوچنے لگی خان صاحب کے خیال میں کیا وزارت عظمی محض کسی بوسے کی مار ہے؟ اگر ایسا ہے تو عمران خان یہ بوسہ پہلے ہی دے دیتے، خواہ مخواہ پاکستانی عوام کو ’ڈینگی برادران‘ کے ہاتھوں یوں خوار نہ ہونا پڑتا۔ بلکہ یہ سارے سیاستدان بیچارے یویں جھک مارتے پھرتے ہیں اقتدار کیلئے کبھی یہ پارٹی تو کبھی وہ پارٹی۔ کبھی شریفوں کے سرئیے کے ذریعے اپنی کرسی مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی خان کے سرف ایکسل سے دھل کے پاک و پوتر ہونے کی کوشش کرتے ہیں کہ شاید اس طرح اقتدارکی کرسی نصیب ہو جائے۔ بیوقوف کسی مزار کی چوکھٹ پہ جا کے دو چار ’’چمیاں‘‘ ماریں، زرا سی دیر کو ’’ماتھا ٹکائی‘‘ کی رسم اداکریں (جوتا چھپائی اور دودھ پلائی کی رسم کی طرح) دو چار وزارتیں تو ’ٹھک‘ سے جھولی میں آگریں گی۔ زرا تبدیلی لائیں اپنے اپنے انداز سیاست اور اصول جہانبانی میں۔ کچھ سوچو، زرا نہیں پورا سوچو۔

ویسے میرے منہ میں خاک اس ’بوسہ کہانی‘ کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو قدرے تاریک اور پریشان کن ہے۔ اگرپیرنی جی کی نیت بدل جائے اور وہ خود جا کے درگاہ شریف پہ چلہ کاٹ لیتی ہیں یا چوکھٹ پہ ’وزارتی بوسہ‘ دے آتی ہیں تو خان صاحب کی وزارت تو خطرے میں پڑ جائے گی۔ یا خدانخواستہ کسی گھریلو ناچاقی کی بنیاد پر کبھی خان صاحب کے اندر کا روائتی، قبائلی پٹھان اپنی کیفیت میں آ کے پیرنی صاحبہ کی شان میں کوئی گستاخی کر بیٹھتا ہے تو اس ہندو کسان کی طرح کڑکتی ہوئی آوازمیں یہ دھمکی بھی سننے کو مل سکتی ہے کہ ’حد ادب خان صاحب! ہوش کے ناخن لیں، آپ کی یہ وزارت عظمی بس میری ایک ’چمی‘ کی مار ہے۔ لو جی خان صاحب تو برے پھنسے۔ خیر یہ تو ایک جملہء معترضہ تھا۔ اللہ خان صاحب کی وزارت برقرار رکھے (اگر مل گئی تو)۔ ویسے اپنے خان صاحب بھی پکے خان ہیں ہر چوتھے دن ایک نیا شگوفہ کھلا دیتے ہیں۔ اور متوالے بیچارے صفائیاں پیش کرتے کرتے ادھ موئے ہوئے جاتے ہیں۔

عمر کہتی ہے سنجیدہ ہواجائے    دل یہ کہتا ہے اک نادانی اور سہی

اب اسی کراماتی ’بوسے‘ کی ہی مثال لے لیجئیے۔ سجدہ نہیں کیا ماتھا ٹیکا۔ ۔ ۔ ارے نہیں، ماتھا نہیں ٹیکا بوسہ دیا۔ ۔ ۔ تعظیمی بوسہ دیا سجدہ نہیں کیا۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ، اللہ پوچھے رقیبوں سے یہ بھی تو ہاتھ، منہ، سر، پیرسب دھو کے پیچھے پڑجاتے ہیں منکر نکیروں کی طرح۔ کسی دل جلے نے تو اس پہ نیا ترانہ ہی لکھ ڈالا۔

اے پتن، پیارے پتن، پاک پتن، پاک پتن۔ ۔ ۔ اے میرے پیارے پتن۔

اب کیا ہوگیا جو خان صاحب نے تابعدار شوہر کی طرح بیگم کی بات مان لی۔ یہ سارے رقیب ’پھپھے کٹنی ماسی‘ کی طرح ان کے ہنستے بستے گھرکو اجاڑنے پہ تل گئے ہیں۔ سب سیاستدان اپنی اپنی پیشانیوں کو ہاتھ لگا کرچیک تو کریں زرا کس کس چوکھٹ کی مٹی لگی ہے ان کی بزعم خویش بے داغ پیشانی پر۔ اور جانے کس کس مقدس دروازے کی دھول نہیں چاٹی ہو گی ان کے پاکیزہ ہونٹوں نے۔ اب اگر خان صاحب نے چوکھٹ چوم لی، ماتھا ٹیک دیا، تو کونسی قیامت آگئی؟پڑھے لکھے ہیں توکیا ہوا، بندہ بشر ہیں، عرصہ دراز سے وزارت عظمی کی شیروانی پہننے کی خواہش دل میں مچل رہی ہے اور دوسری طرف تگڑی بیگم سے پالا پڑا ہے، تو دل و دماغ کی چولیں ہل جانا عین حق ہے بلکہ فرض ہے۔

بانو قدسیہ لکھتی ہیں: مرد کے دل میں عورت کیلئے بڑی رغبت ہے۔ اگر عورت پیاری ہو تو سات سال کے لڑکے سے ستر برس کے بڈھے کا دماغ ہل جاتاہے۔ سونے پہ سہاگہ وہ بیوی بھی ہو، پیر و مرشد بھی ہو تو تلیم (تعلیم) گئی پانی بھرنے جناب، ساری ہیکڑی، سارے علم کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے۔ شاید یہ اسی کا اثر ہے کہ سوشل میڈیا پر مزاروں، خانقاہوں، پیروں فقیروں کے حوالے سے لگنے والی پوسٹیں کم ہو گئی ہیں۔ اب یہ حسن اتفاق ہے یا عشق خانی کی کرامات، رب سوہنڑاں جانے۔ بہرحال عمرانی پروانے اپنے قائد کے جبہ و دستار کو داغدار ہونے سے بچانے کیلئے نقلی تو کیا اصلی پیروں کی عزت افزائی بھی نہیں کرتے اب تو، خانقاہوں اور درباروں کو آکسفورڈ کی سند جو مل گئی ہے۔ اب ان پر حاضری دینے والے، چڑھاوے چڑھانے والے، چلے کاٹنے اور نذریں نیاز دینے والے، ماتھا ٹیکنے اور بوسے دینے والے سبھی معتبر قرار پا گئے ہیں کیونکہ اب انہیں خان صاحب کی طرف سے تصدیقی ’سند‘ مل گئی ہے۔ سو اس عمل کے جائز اور درست ہونے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اس احسان عظیم کے جواب میں مزاروں اور درگاہوں کے گدی نشین پیروں کو چاہئے وہ اپنا اور اپنے معتقدین کا ووٹ خان صاحب کی جھولی میں ڈال کراحسان کا بدلہ اتاریں آخر وزارتی چمی کے عمل کو سفلتا ملنی چاہئے۔ اور پھر بھی ’حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘۔

آنے والے دنوں میں آپ خان صاحب کو سر پر پگڑی باندھے، سفری بستر پشت پہ لٹکاے تبلیغی مہم پہ روانہ ہوتے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 

خان صاحب کے اس عمل کو روحانی پیشوا کا حکم کہیں یا بیگم کی پیروی، اصل محرک تو ایک مکتب فکر کے ووٹ بینک کی طلسماتی کشش اورخان صاحب کی سیاسی حکمت عملی تھی جس نے سرکو بھی جھکایا اور بوسہ بھی دلوا دیا (یار دوستوں سے گزارش ہے کہ اب تو خان صاحب کی سیاسی پختگی اور دوراندیشی کے آگے سرتسلیم خم کر دیں) اور پھر خلق خدا نے اس طلسماتی بوسے کے زود اثر ثمرات بھی دیکھے۔ ادھرپانی میں ڈالی ادھریک جان و یک قالب ہوکر درد کا فوری حل۔ بالکل ایسے ہی ادھر خان صاحب نے بوسہ دیا، مزار کے اندر زوجہ کی رہنمائی میں پھولوں کی پتیوں کے بیچ چلہ کاٹا، ادھر پیر سیالوی نے جبہ و دستار لا کے خان کے سرپر سجا دیا۔ اور اس دستار بندی کے ہوتے ہی داتا صاحب کے دربار سے بھی حمائت کا پروانہ مل گیا۔ اب اتنی کرموں والی چمی پہ یوں سیخ پا ہونا۔ ۔ ۔ چہ معنی دارد؟

جناب!    ابتدا ء عشق ہے روتا ہے کیا    آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

آنے والے دنوں میں آپ خان صاحب کو سر پر پگڑی باندھے، سفری بستر پشت پہ لٹکاے تبلیغی مہم پہ روانہ ہوتے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اور کیا معلوم کسی سہ دن کسی سہ روزے پہ ’زنجیر زنی‘ کا تڑکہ بھی لگ جائے آخر ایک مضبوط ووٹ بنک ادھر بھی تو ہے۔

نوٹ: یہ ساری نشترزنی کسی مخالفت یا دشمنی کے سبب ہرگز نہیں۔ خان صاحب آپ کے ساتھ تو لوگوں کا ’کنسرن ابائوٹ یو‘ والا معاملہ ہے۔ آپ کے ایک ایک فعل پر عوام کی نظر بھی ہے اور نظررکھنے کاحق بھی۔ آپ نے پاکستانی قوم کو بہت امیدیں دلائی ہیں اگر خدانخواستہ آپ نے کوئی غلطی کی تو یہ لوگ کسی اور لیڈر پہ اعتبار نہیں کر پائیں گے۔ یاد رکھئیے گا’ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں نسلوں تک انڈے دیتی ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredپاکپتن بوسہعمران خانمزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جنوبی وزیرستان وانہ کی سیاست اور پاکستان افغانستان کا تنازع — اختر خان
next post
صاف چلی شفاف چلی؟ چل جھوٹی —– آصف محمود

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.