تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

کومل رضوی کی خودکَشی Selfie اور ہمارا معاشرہ : ڈاکٹر فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 02/07/2018
written by دانش ڈیسک 02/07/2018
149

کچھ سال پرانی بات ہے کہ اداکارہ کومل رضوی کی ایک سیلفی پر بڑا شور ہوا۔محترمہ نے مرحوم عبدالستار ایدھی صاحب کے ساتھ سیلفی لی تھی مگر یہ کوئی عام سیلفی نہ تھی۔ اس سیلفی میں مرحوم ایدھی صاحب اپنی علالت کی وجہ سے بستر پر لیٹے نظر آ رہے تھے اور کومل رضوی صاحبہ نے ان کو پس منظر میں رکھ کر یہ سیلفی لی۔ اس تصویر پر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر لوگوں نے بہت برا منایا اور محترمہ کومل رضوی کو خوب خوب ملامت کی گئی۔ کسی من چلے نے تو اس سیلفی کا تصویری جواب (Meme) ہی مرتب کر ڈالا۔ جواب کچھ یوں تھا کہ محترمہ کی سیلفی میں ترمیم کر دی گئی تھی، اب پس منظر میں سے ایدھی صاحب کو ہٹا کر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تصویر لگا دی گئی۔ اسی طرح ایک تصویر میں پس منظر میں الطاف حسین صاحب کی دور قدیم کی ایک تصویر لگی تھی جس میں وہ بستر پر لیتے ہیں اور بہت سی چڑیاں ان پر بیٹھی ہیں۔ بات یہیں پر نہ رکی بلکہ محترمہ کی بنائی ہوئی سیلفی میں کومل رضوی صاحب کے جسم پر ایدھی مرحوم کا سر لگا دیا گیا اور ایدھی صاحب کے جسم پر کومل کا سر۔ ایک من چلے نے تو حد کر دی اور الطاف بھائی کی مصطفی کمال صاحب کو جذبات سے پر بوسہ لیتی تصویر میں مصطفی کمال کی جگہ کومل کی تصویر لگا دی۔ خیر یہ طوفان بدتمیزی ہر سماجی میڈیا کی Sensation کی طرح ایک آدھ ہفتے میں ختم ہو گیا۔ کومل رضوی نے اس سب پراپنا ردعمل دیا اور بتایا کہ انہوں نے تو ایدھی صاحب کے ساتھ یہ سیلفی دراصل ان سے اپنی عقیدت کے اظہار کے لئے کھنچوائی تھی جس پرلوگ بلاوجہ ہی برا مان گئے۔

اس پورے ہی واقعے میں غور طلب بات یہ ہے کہ آخر اس سیلفی میں ایسا کیا تھا کہ لوگوں کی طرف سے یوں کومل صاحبہ کو ہدف تنقید بنایا گیا اور کیا کومل رضوی نے واقعی کوئی قابل اعتراض حرکت کی تھی؟ اس سوال پر غور کرنے سے پہلے ایک بات کا اظہار ضروری ہے کہ محترمہ کو اُن کے عمل پر سبق سکھانے کا جو طریقہ لوگوں نے اختیار کیا وہ یقینا غلط تھا۔ اس لئے کہ کسی بھی غلط عمل کا انسداد کبھی بھی کسی غلط عمل سے نہیں کیا جا سکتا۔ بداخلاقی کا توڑ اس سے بڑی بداخلاقی نہیں ہوتی مگر یہ طے ہے کہ محترمہ کچھ بھی کہیں انہوں نے یہ سیلفی محترم ایدھی صاحب سے عقیدت کے اظہار کے لیے نہیں کھینچی تھی بلکہ اس کے پیچھے ممکنہ طور پرجو نفسیاتی محرکات کارفرما تھے وہ بڑے دلچسپ ہیں اور ہمارے معاشرے کے ایک بڑے اہم نفسیاتی مطالعے کا درجہ رکھتے ہیں۔

کبھی غور کیجئے گا کہ ان سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے سماج میں حقیقی معنوں میں کس حد تک رابطوں کو فروغ دیا ہے اور کس قدر سماجی رابطوں کو منقطع کیا ہے۔ کیونکہ سماج کا تو تصور ہی ’’فرد‘‘ نہیں ’’افراد‘‘ سے ہے

دراصل محترمہ نے اپنی اس سیلفی میں لاشعوری طور پر ایدھی صاحب کو ایک جیتے جاگتے انسان کی جگہ ایک یادگار، ایک مجسمے کے طور پر پیش کیا تھا۔ تاثر یہ تھا کہ ایدھی صاحب ایک انسان نہیں بلکہ ایک مشہور ’’شے ‘‘ہیں جیسے مینار پاکستان، قائد اعظم کا مزار یا لاہور کا قلعہ۔ ان کی وقعت محض یہ ہے کہ وہ ’’مشہور ‘‘ہیں اور کیونکہ کومل نے خود کو اِس ’’یادگار‘‘ کے قریب پایا تو انہوں نے اُس کے ساتھ جلدی سے سیلفی لے لی۔ یہ حرکت پہاڑوں کی چوٹی پر جھنڈا گاڑنے والوں کے عمل سے بھی مشابہ ہے۔ جیسے کوہ پیمائوں میں دوسرے سے سے قبل پہاڑوں کو سر کر کے ریکارڈ بنانے کی دوڑ لگی رہتی ہے یا جیسے شکاری اپنے شکار کے ساتھ تصویر کھنچواتے ہیں بالکل اسی طرح کومل نے بھی ایدھی صاحب کو ایک’’ ٹرافی‘‘ کی طرح دنیا پر ظاہر کیا۔ بہت سے لوگ سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر مشاہیر کو دیکھ کر فوراً ان سے آٹو گراف لینے یا ان کے ساتھ سیلفی لینے آ جاتے ہیں۔ ابتدائی طور پر تو نئے نئے مشہور لوگ اپنے ان ’’فینز‘‘ کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں مگر بعد میں ان کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ ان کے ساتھ نہیں، ایک مشہور ’’شے‘‘ کے ساتھ تصویر بنوانے کے لئے بے تاب ہو رہے ہیں۔ جب شہرت گل ہوتی ہے تو یہ دیوانے بھی کبوتروں کی طرح اڑ جاتے ہیں۔

وحید مراد صاحب کا واقعہ معروف ہے کہ ایک جگہ لوگ ان کا آٹو گراف لے رہے تھے کہ محفل میں ندیم صاحب بھی وارد ہو گئے۔یہ وہ دور تھا کہ جب ندیم کا عروج شروع ہو چکا تھا اور وحید مراد زوال کا شکار تھے۔ آٹو گراف لینے والے فوراً وحید مراد کو چھوڑ کر ندیم کی طرف دوڑ گئے۔اس واقعے کا وحید مراد نے بہت برا اثر لیا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو وحید مراد کو چھوڑ کر ندیم کی طرف دوڑے کیا ان کو احساس نہیں تھا کہ یہ ظلم کر رہے ہیں؟ اِس کا جواب ہے کہ شائد نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وحید مراد ان کے لئے ایک انسان تھا نہ ہی ندیم۔ یہ دو مشہور اشیاء تھیں۔ اور یہ ان اشیاء سے مل لینے کا ثبوت یعنی آٹو گراف لے رہے تھے۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ اشیاء میں جذبات تو ہوتے نہیں۔ بالکل اسی نفسیات کا شکار کومل صاحبہ بھی یہ سیلفی بنواتے ہوئے تھیں۔ ان کو اس بات کی صریحاً کوئی پرواہ نہ تھی کہ وہ ایک بہت بیمار ضعیف شخص کے بستر کے پاس کھڑی ہیں۔ یہ موقع بیمار کی عیادت کرنے کا ہے نہ کہ مسکراتے ہوئے سیلفی لینے کا۔ خیر محترمہ کو تنہا کیا دوش دیا جائے جب کہ ہمارے معاشرے میں ہر انسان ہی دوسرے کے لئے ’’چیز‘‘ بن چکا ہے۔ ہمارے ایک عزیز ساحل سمندر پر تفریح کے واسطے گئے تو اپنا DSLR کیمرہ بھی ساتھ لے گئے کہ فطرت کے حسین مناظر کی منظر کشی کر سکیں۔اتفاق سے ان کے ہٹ کے سامنے ہی ساحل پر ایک سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہوئے نوجوان کی لاش لہروں کے ذریعہ ساحل پر آ لگی۔ محترم نے جلدی سے اپنے DSLR کیمرے سے اس کی تصویر بنا لی اور گھر آتے ہی یہ تصویر اپنے سماجی رابطے کے پیج پر اپ لوڈ کر دی اور ایک بڑے بناوٹی غمگین لہجے میں یہ سطر بھی لکھ ماری کہ ساحل پر ان کو یہ افسوس ناک منظر دیکھنے کو ملا۔ حالانکہ اگر ان کو واقعی اس لاش کو دیکھ کر افسوس ہوا ہوتا تووہ یوں اس لاش کا ’’مصلہ‘‘ نہ کرتے۔ میں ایک مرتبہ ساحل پر کچھ لوگوں کو کچھوے کی لاش کی بڑے انہماک سے تصویر کھینچتے دیکھ چکا ہوں۔ ہمارے عزیز کے لئے اس نوجوان کی لاش بھی دراصل اس کچھوے کی لاش ہی کی طرح تھی۔ ایک ’’یادگارچیز‘‘ اور کچھ بھی نہیں۔ اب ظاہر سی بات ہے کسی نوجوان کی لاش یوں ہر روز تو کسی کو پڑی ہوئی نہیں مل جاتی۔ اس ملک میں تو لوگ بن لادن کمپلیکس کے سامنے، ٹھٹھ کے ٹھٹھ، تصویر کھنچوانے پہنچ گئے تھے کہ مبینہ طور پر اس جگہ پر ایک عالمی شہرت یافتہ شخص رہا تھا اور اس جگہ پر جو آپریشن ہوا تھا وہ عالمی میڈیا پر بڑی دھوم مچا رہا تھا۔ لوگوں کے لئے ہر’’ یادگارشے‘‘ ایک تصویر کھنچوانے کا، اس سے منسلک ہو کر مختلف نظر آنے کا موقع ہے بس۔ اور اس کے علاوہ اس کی کوئی اہمیت، کوئی وقعت نہیں۔ اس طرح ہم لوگ توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کولوگوں کی سندِ پسندیدگی اور تبصرے ملتے ہیں، یوں وہ ہم خود کو اہم اور قابل توجہ محسوس کرتے ہیں۔ قابل توجہ بننے کے لئے ہم لوگ الٹی قلابازیاں کھا سکتے ہیں، بے ڈھنگے فیشن کر سکتے ہیں، الغرض سب کچھ کر سکتے ہیں۔ کومل بے چاری نے بس وہی کیا جو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ہم سب ہی کر رہے ہی ہیں۔ بس بات اتنی سی ہے کہ انہوں نے یہ کام تھوڑے بھونڈے پن سے کیا اور ہم آپ یہی کام زرا سلیقے سے کرتے ہیں۔

کبھی غور کیجئے گا کہ ان سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے سماج میں حقیقی معنوں میں کس حد تک رابطوں کو فروغ دیا ہے اور کس قدر سماجی رابطوں کو منقطع کیا ہے۔ کیونکہ سماج کا تو تصور ہی ’’فرد‘‘ نہیں ’’افراد‘‘ سے ہے جب کہ یہ ویب سائٹس بڑی حد تک انا کی پرستش کے ہتھیار بن کر رہ گئے ہیں۔ ہر کوئی دوسرے سے زیادہ ’’بھاری‘‘ بن کر اس سے زیادہ ہی’’ اوپر سے آنے‘‘ کی کوشش کرتا ہے۔ لوگ بیٹھ کر گھنٹوں اپنے ہی بنائے ہوئے البم دیکھتے رہتے ہیں، اپنے ہی پروفائل کی محبت بھری نگاہوں سے آرتی اتارتے ہیں۔ اگر اس کا نام سماجی رابطہ ہے تو پھر نرگسیت (Narcasism) کسے کہتے ہیں؟

Facebook Comments Box
selfieسیلفیکومل رضوینرگیست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ناطق اور ناول: بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا —- احمد اقبال
next post
تیری آزادیٔ اظہار پہ لعنت —— لالہ صحرائی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.