تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالممذہبی

 اسلامی اصطلاحات کا طنزیہ استعمال اور شدت پسندی کی بحث — علی عبداللہ

by علی عبداللہ 30/06/2018
written by علی عبداللہ 30/06/2018
100

مہدی رضا حسن ایک ہندوستانی نژاد برطانوی براڈ کاسٹر، صحافی اور مصنف ہیں جو کہ الجزیرہ چینل کے انگریزی پروگرام "دا کیفے”، "ہیڈ ٹو ہیڈ” اور "اپ فرنٹ” کے میزبان بھی ہیں۔ ان کو جنوری 2014 میں میڈیا کے لیے خدمات پر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ حال ہی میں ان کی تازہ ترین ویڈیو جس کا عنوان "خلیفہ ڈونلڈ ٹرمپ اور صلیبی طالبان کا ارتقاء” تھا سامنے آئی جس میں وہ ان عیسائی دائیں بازو کے لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو امریکی حکومت کے لیے اپنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ کہنے کو یہ ویڈیو ان صلیبیوں سے انتباہ کرنے کے بارے میں ہے لیکن اس میں حسن نے براہ راست اسلامی اصطلاحات کا طنزیہ استعمال کیا ہے اور تمام مذاہب کی شدت پسندی کے لیے اسلام کو سامنے رکھا ہے۔

حسن وہ پہلا شخص نہیں جس نے دوسرے مذاہب میں بڑھتی شدت پسندی کے لیے اسلامی اصطلاحات کا سہارا لیا ہے۔ یہ بنیادی طور پر لبرل اور بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے لوگوں کے اس گروپ سے تعلق رکھتا ہے جن کے خیال میں اسلام اور مسلمانوں کو دنیا بھر میں ہونے والی مذہبی شدت پسندی کے لیے بطور استعارہ استعمال کرنا نہایت سود مند ہے۔ اس موازنے سے ان لبرل اور اعتدال پسندوں کو متوجہ کرنا نہایت آسان ہے جو عموماً اس بات کے قائل ہیں کہ مذہبی شدت پسندی ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اور یقیناً کوئی بھی مذہب، اپنے نام پر کسی بھی قسم کی شدت پسندی کا حکم نہیں دیتا لیکن مذہبی شدت پسند اپنے دعووں کو مختلف مقدس صحیفوں اور آیات کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ حسن کی ویڈیو گو کہ صلیبی شدت پسندی کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ہے لیکن اس میں اسلامی اصطلاحات کا مسلسل استعمال تباہ کن ہے۔ حسن نے ان تمام اصطلاحات کا منفی استعمال کیا جن کی حقیقی روح کو اجاگر کرنے کے لیے مسلمان رہنما اور دانشور سخت محنت کر رہے ہیں جو مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے بگڑ چکی ہیں ۔ جیسا کہ "ملا” یہ اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اسلامی قانون اور دیگر اسلامی شعائر سیکھتا ہے لیکن اب یہ "مذہبی شدت پسند” کے متبادل استعمال کیا جانے لگا ہے۔ "شریعت” جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک راہ عمل ہے اسے "شریعہ لا” کہہ کر ہر عام و خاص کے حقوق کو مسترد کر دینے والا بنا دیا گیا ہے۔ اسی طرح "خلیفہ” اس شخص کو کہا جاتا تھا جو ریاستی اور مذہبی رہنما ہو لیکن اب یہ ایک فاشسٹ حکمران کے متبادل استعمال کیا جانے لگا ہے۔ اور تو اور "اللہ اکبر” اللہ سب سے بڑا ہے جسے ہر مسلمان اپنی روزانہ کی عبادات میں دہراتا ہے اسے مذہبی شدت پسندوں کا نعرہ سمجھا جانے لگا ہے۔

ماضی میں "ہندو طالبان” کا لفظ استعمال کرنے پر ایک برطانوی مجسمہ ساز آنیش کپور کو ہندوستانیوں کی جانب سے سخت مذمت کا سامنا کرنا پڑا جس نے کہا تھا کہ”ہندوستان پر ہندو طالبان حکمرانی کر رہے ہیں”

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مذہبی شدت پسندی صرف مسلمانوں سے جڑی ہوئی ہے اور اسلام سے پہلے اس کا وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن وہ کیوں یہ بھول گیا کہ بنیادپرست لفظ بیسویں صدی کے آغاز میں متعارف ہوا اور یہ خاص طور پر سخت عیسائی بنیاد پرستی اور عقائد کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اب اسلام کے لیے عالمی سطح پر تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس طرح کی اصطلاحات کا منفی استعمال کرنے پر کسی قسم کی قباحت نہیں سمجھی جاتی۔ امریکی معاشرتی تربیت کیسی بری ہے کہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اس کے پاس اسلام کو مجازی معنوں میں استعمال کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ماضی میں "ہندو طالبان” کا لفظ استعمال کرنے پر ایک برطانوی مجسمہ ساز آنیش کپور کو ہندوستانیوں کی جانب سے سخت مذمت کا سامنا کرنا پڑا جس نے کہا تھا کہ”ہندوستان پر ہندو طالبان حکمرانی کر رہے ہیں” اور اس کالم کو شائع کرنے پر امریکی اخبار گارڈین پر بہت تنقید ہوئی جس کے بعد اخبار کو اس کالم پر نظر ثانی کرنا پڑی۔ ہندوستانی لوگ طالبان کو ہندومت کے لیے استعمال کرنا نہایت قبیح سمجھتے ہیں اور ایک کالم نگار نے لکھا تھا کہ "ہندومت ایک پرامن مذہب ہونے کے ناطے طالبان جیسا معاشرہ نہیں بن سکتا”۔ ہندوؤں کا کہنا تھا کہ ہندو مت ایک پرامن مذہب ہے اور اس کا اسلام جیسے شدت پسند مذہب سے موازنہ نامناسب ہے۔ درحقیقت مذہبی شدت پسندی کے اظہار کے لیے مسلمانوں کا حوالہ دینا ہے غلط ہے۔

موجودہ سیاسی صورت حال میں بجائے مدلل اور منصفانہ تنقید کے اگر ایسے ہی اسلامی اصطلاحات کا منفی استعمال ہوتا رہا تو ڈر ہے کہ عالمی دنیا اسلام کو فساد کا سبب قرار دے کر مکمل کنارہ کشی ہی اختیار نہ کر لے۔ گو کہ اسلام کسی دنیاوی سہاروں کا محتاج نہیں لیکن ہم بطور مسلمان اس چیز کو گوارا نہیں کر سکتے کہ عالمی سطح پر ہماری پہچان منفی ہو۔ ایسے حالات میں مسلمان دانشوروں اور مذہبی رہنماؤں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کو انتشار کی بجائے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کریں اور ان کی نظریاتی تربیت کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کریں تاکہ ہر عام و خاص مذہب پسند اور مذہبی شدت پسندی میں فرق واضح جان سکے اور لبرلز کی ابھرتی ہوئی سازشوں کا شکار نہ ہو سکے۔ اور عوام الناس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مغربی میڈیا سے متاثر ہونے کی بجائے تحقیق کی جانب راغب ہوں اور مشتبہ نظریات اور مذہبی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر علماء حق سے وابستگی رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور دیگر جدید ذرائع ابلاغ کا مثبت اور مؤثر استعمال جانا جائے تاکہ اپنا نکتہ نظر ہم بہترین طریقے سے عالمی سطح پر اجاگر کر سکیں۔

Facebook Comments Box
IslamIslam Phobiaاپ فرنٹاسلاماسلام فوبیااسلامی دہشت گردیدہشت گردیصلیبی شدت پسندیمذہبی شدت پسندملامہدی رضا حسن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
علی عبداللہ

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

previous post
اقبال اور کشمیر ———– فیضان بٹ
next post
ایم ایم اے: سادگی، خواب زدگی یا خود فریبی —- سید مظفر الحق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.