تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

جماعتِ اسلامی کے بچے پی ٹی آئی کے ووٹر کیوں؟ —– نبیلہ کامرانی

by دانش ڈیسک 09/06/2018
written by دانش ڈیسک 09/06/2018
184

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں گھروں کے نقشے اس انداز کے ہوتے ہیں جس میں بنا کسی کاوش کے آپ گھر بیٹھے پڑوسیوں کے گھر کی تمام آوازیں اپنے ٹی وی لاونج میں سننے پے مجبور ہوتے ہیں۔ ہمارے گھر کا نقشہ بھی ویسا ہی تھا۔

صبح سے رات تک ہم دونوں ایک دوسرے کی ساری باتوں سے لطف لینے کے عادی تھے۔
پڑوسیوں کے گھر میں فقط چار افراد تھے، سب ہی اونچے سروں میں بولنے کے عادی، میاں بیوی دونوں کو ہی صفائی کا بے انتہا شوق تھا بیگم گھریلو ملازمہ سے گھر کے کونے کھدروں تک میں پوچھا لگواتیں۔ صبح سویرے پڑوسی انکل دھوتی کو مضبوطی سے گانٹھ باندھ کے ایک بالشت کے جھاڑو سے اپنے گھر کے چاروں طرف گھس گھس کے جھاڑو دیتے پھر کوڑا کرکٹ جمع کر کے ہمارے سبزے پہ پھینک دیا کرتے۔

بچے پڑھائی سے زیادہ گلوکاری کے شوقین تھے۔ چونکہ آواز پاٹ دار تھی اس لیے اونچے سروں میں تان لگاتے جو ہم تک آتی لیکن یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کہ گانے کا وقت صبح دس سے دوپہر کے دو اور شام چار سے سات کے درمیان تھا۔ صبح تو امی گھر پے موجود ہوتی تھیں، انکے جانے کے بعد وہ نئے گانوں کا ایک کیسٹ سنتا پھر وہی گانے گاتا۔ کچھ گانوں کے بول آج بھی یاد ہیں ، اپنی شادی کے دن اب نہیں دور ہیں لازمی ہے کہ تم مجھ سے پردہ کرو، میرا پاؤں بھاری ہو گیا، سولجر سولجر میٹھی باتیں بول کر، تیرا چہرہ حسین جادو کر گیا، وغیرہ وغیرہ۔ شام میں دونوں بھائی کرکٹ کھیلنے نکل جاتے یا خاموشی سے ایک ہندوستانی فلم دیکھتے۔

پڑوسن آنٹی جماعتِ اسلامی کی سکہ بند کارکن تھیں، تقریباً روز ہی وہ کہیں نہ کہیں درس پہ جاتیں اور مہینے میں ایک دو دن انکا نمبر ہوتا۔ پابندی سے درس کے کی دعوت دینا بھی انکی ڈیوٹی ہی تھا، اس قدر محبت اور دلجمعی کے ساتھ وہ دعوت دینے آتیں کے بہت بار ہم حیران رہ جاتے۔ جب بھی آنٹی ہمیں دعوت دینے آتیں پہلے پانچ سے دس منٹ دروازے پے باتیں ہوتی، پھر ہماری ضد پر گھر کے اندر اسکے بعد سارے جہاں کے قصے چائے ناشتے پے اختتام پذیر ہوا کرتے۔ آنٹی جاتے وقت ہمیشہ کہا کرتیں کے تم لوگوں کے گھر وقت کا بالکل پتا نہیں چلتا، آج تو صرف ایک ہی گھر ہو سکا۔ اچھا تم لوگوں نے آنا ضرور ہے۔ یوں مہینے کا کوٹہ پورا ہو جاتا۔

وہ سادگی کا دور تھا انٹرنیٹ مہنگا ہوا کرتا، سن 2000 سے 2010 تک میں موبائل بھی اسمارٹ نہیں ہوتے تھے وڈیو سینٹر سے فلم لا کے دیکھنا ایک پراجکٹ ہوا کرتا تھا، ایک حد سے زیادہ آگے جانا کافی مشکل کام تھا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پی ٹی آئی ٹائیگرز : اخلاقیات کا شکوہ — سمیع اللہ خان

 

کچھ عرصہ قبل ایک ٹریننگ پروگرام میں کئ سکہ بند کارکن خواتین سے ملاقات رہی، ان تمام کا بھی اپنے گھر کے علاؤہ ہر جگہ سے تعلق تھا۔ یہاں تک کے گھر میں بچوں کو چھوڑ کے دیگر شہروں میں بھی چلی جاتی ہیں۔ چونکہ انکی priority list میں جماعت اول نمبر پر ہے۔ ہماری ناقص معلومات میں عورت کی سب سے پہلی ترجیح اسکے بچے اور گھر ہوتے ہیں۔ آج کے تیز ترین دور میں جب تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی موجود ہے ایسے میں وہ بچے اپنی مرضی کے مالک ہیں کہ جہاں تک دل چاہے جائیں۔ اب نہ تو ویڈیو سینٹر جانے کی ضرورت ہے نہ ہی آڈیو کیسٹ خریدنے کی۔ بہرحال دوبارہ ہم آنٹی پڑوسن پہ آتے ہیں۔

نو سال قبل ہم نے وہ محلہ چھوڑ دیا اور آنٹی نے بیٹوں کی شادی کر دی یوں انہیں پڑھائی میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے ایک انٹر اور دوسرا بی کام کر کے ابو جی کی ہیلمٹ کی دکان میں بیٹھ گیا۔ ایک کی شادی بھانجی اور دوسرے کی شادی بھتیجی سے ہوئی۔ سب کچھ اچھا ہی ہے، مگر آنٹی پھر بھی پریشان۔ کچھ عرصہ قبل بازار میں ٹکراؤ ہوا، میاں اور بچوں کی تمام تفصیلات بتانے کے بعد آنٹی نے نہایت سنجیدگی اور پریشانی سے کہا "بیٹا کیا بتاؤں میرے بیٹے تو ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ اس بار دونوں نے پہلے ہی بول دیا ہے کہ ہمارے ووٹ صرف پی ٹی آئی کو جائیں گے، اب تم ہی کوئی مشورہ دو، ہم کیا کریں”۔

Facebook Comments Box
featuredپی ٹی آئیجماعت اسلامیجماعت اسلامی حلقہ خواتیندرس قرآن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پی ٹی آئی نے کے پی میں کیا کرلیا؟ — قسط 1 —- محمد ندیم سرور
next post
‘‘سوسائٹی‘‘ کے اندر کی کہانیاں: ریحام کی کتاب —- سجاد میر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.