تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

سیاسی جماعت اسلامی اور "اصلی” جماعت اسلامی — ضیاء الرحمن فاروق

by دانش ڈیسک 04/06/2018
written by دانش ڈیسک 04/06/2018
142

جماعت اسلامی مولانا مودودی کی برپا کی ہوئی ایک عالمگیر تحریک ہے۔ نہ تو یہ کوئی وقتی جذباتی قسم کی تحریک ہے اور نہ ہی کوئی بے سروپا نظریہ ضرورت کے تحت آنے والا واجبی سا گروہ۔ جماعت اسلامی اپنا ایک نظریہ، پروگرام اور ایجنڈا رکھتی ہے۔ یہ کوئی عام سیاسی پارٹی نہیں کہ سیاست جس کا مرکز ہو اور ساری کی ساری تگ و دو کا بنیادی خیال کرسی ہو۔ نظم و ضبط اور اجتماعیت کو قائم رکھنے کیلئے ایک مسودہ باقاعدہ دستور کے شکل میں موجود ہے گاہے بگاہے جو راہنمائی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

یہ جو نقشہ میں نے کھینچا ہے یہ "اصلی” جماعت اسلامی کا ہے۔ آج ہم تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا جماعت اب بھی اپنے مقاصد اور ترجیحات پر قائم و دائم ہے یا اپنے اصلی خطوط کو چھوڑ کر کسی دوسری جانب رو بہ منزل ہے۔

حال ہی میں جماعت کے پی کے صوبائی امیر مشتاق صاحب کی ایک پریس کانفرنس سننے کا اتفاق ہوا جس میں وہ  پارٹی کے اندر جمہوریت کی موجودگی کے گن گا رہے تھے اور ساتھ ساتھ کہہ رہے تھے کہ ہم نے انتخابات کے لئے ایسے امیدواروں کا انتخاب کر لیا ہے جس پہ متعلقہ ارکان راضی بالرضا ہے بلکہ ان کی "چوائس” ہے۔ یہ سب سنتے ہوئے میں بے اختیار ہنسے لگا۔

میرے سامنے ایک دستاویز، خط کی شکل میں پڑی ہے جو سابق حلقہ PK94 اور موجودہ PK15 کے ارکان کی طرف سے مرکزی مجلس شوری و پارلیمانی بورڈ کو لکھی گئی ہے۔ اس پر 105 ارکان کے دستخط موجود ہیں۔ اس خط میں تو بہت سارے حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ لیکن حال ہی میں ختم ہونے والی صوبائی حکومت میں جماعت اسلامی کے صوبائی وزیر مظفر سید کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے آخری جملہ، جو پوری بحث کا نچوڑ ہے، کچھ یوں ہے:

"ہم امید کرتے ہیں کہ آپ مظفر سید جیسے فاسق و فاجر شخص سے جماعت اسلامی کو پاک کریں گے اور دوبارہ انہیں ٹکٹ نہیں دیں گے”

یہ ہے 105 ارکان کی التجائیہ درخواست کہ خدارا جماعت اسلامی کو اس شخص سے پاک کر دیں جو، انکے مطابق بددیانت ہے۔ جی ہاں میں اسی لئے ہنس رہا تھا کہ کتنی صفائی سے صوبائی امیر سو سے اوپر ارکان اور ہزاروں کے تعداد میں کارکنان کی رائے نگل کر میڈیا پر "سب سے بڑی جمہوریت” کا دعویٰ کر رہے تھے۔ اور قصر سلطانی پہ اسلامی انقلاب کا جھنڈا گھاڑنے کی ذمہ داری مبینہ "بد دیانت” اور "فاسق و فاجر” کے حوالے کر گئے۔

آج مشتاق صاحب امیدواروں کے اعلان کرنے کے بعد جب مالاکنڈ کے پہاڑی سے اتر رہے ہونگے تو شاید یہ خیالات ان کے ذہن میں محو رقص ہونگے کہ آج میں نے صوابی سے آکر سیدھے سادے اور بھولے بسرے اہلیان دیر کی رائے کو پاوں تلے روند ڈالا، جس شخص سے وہ جماعت کو پاک کرنے کی استدعا اور التجا کر رہے تھے میں نے اس کو ہی ان نمائندہ بنا کر اسمبلی میں بھیجنے کی پرچی تھما دی۔۔۔۔ اور یا پھر اگر تھوڑی سی بھی تحریکی حرارت روح میں موجود ہے تو آج ضمیر پر بھاری بوجھ لیکر، سید مودودی کی تحریک کا دیر کی فضاوں میں خون کرکے حبس اور گھٹن کے احساس کے ساتھ روبہ سفر ہونگے۔

اب آتے ہیں اندینزی کی طرف۔ PK 15 کیلئے ڈاکٹر ذاکر اللہ کا نام سامنے آیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب 2002 میں ایم ایم اے کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ چونکہ 2008 میں جماعت اسلامی کا بائیکاٹ تھا اسی لئے ڈاکٹر صاحب نے پی پی پی کے طرف اڑان بھر لی تھی، اسی طرح 2013 میں بھی انہوں نے پی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا۔ لیکن اس دفعہ وہ ماشاء اللہ پھر سے جماعت کا رکن بن کر جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے جماعت کے پارلیمانی بورڈ پر، کہ یہ اپنے نظریاتی کارکنان کے ساتھ کیسا کیسا مذاق کر رہا ہے۔ ایک عام سیاسی ورکر اور جماعت کے کارکن میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ان کا مقصد سیاست نہیں بلکہ اقامت دین جیسے اعلی فریضہ کی ادائیگی ہوتا ہے۔ اور لاہور میں بیٹھے جماعت کے فیصلے کرنے والے کبھی ان کو ایک سراب کے پیچھے دوڑاتے ہیں اور کبھی دوسرے کے پیچھے لگا دیتے ہیں۔ ایک روز انہیں بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر صاجب نے دستور شکنی کی ہے لہذا ان کا اخراج ہوچکا، اور وہ باطل کے کیمپ میں جا بیٹھے ہیں۔ اور دوسرے روز وہ پھر بپتیسا اور "لاہوری گروپ” کا اعتماد بحال کروانے کے بعد ایک مرتبہ وہ دستور کے رکھوالے بن کر اقامت دین کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائئے: جماعت اسلامی کا مسقبل، جے یو آئی سے زیادہ روشن ۔۔۔ حمزہ صیاد

 

آپ ان دو واقعات سے اندازہ لگائیے کہ سید مودودی کے افکار اور نظریے کا معیار اور سطح کیا تھی جہاں بڑے بڑے ناموں کی دستور سے معمولی روگردانی کی بناء چھٹی کرادی گئی تھی۔ اور کہاں آج کی حبس زدہ اور سیاست زدہ جماعت اسلامی میں کیا فرق ہے؟ کھبی وہ جماعت جس میں علمی مباحثے ہوا کرتے تھے، جس کے میناروں سے روشنی پھوٹتی تھی آج حد درجہ کے شخصیت پرستی کا شکار ہے۔ سب کچھ صرف اور صرف سیاسی شخصیات کے گرد گھومتا ہے اور سیاسی و شخصی مفاد ہی معیار بن چکا ہے۔

جب نظریے کا دور دورہ تھا تو ڈاکٹر یعقوب جیسے اکابر اسمبلی میں جماعت کے طرف سے بھیجے جاتے تھے جو تن تنہا حکومت وقت کو ناکوں چنے چبواتے تھے۔ ایوان آج بھی اس گھن گرج اور مدلل گفتگو کے گواہ ہیں۔۔۔ اور اب 2013 میں منتخب ہونے والے ہمارے ایم این اے جسے پورے پانچ سال حق مانگنا تو دور میں نے اسمبلی میں بات کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا۔ کیا جماعت میں اہل لوگوں کی کمی ہے؟ نہیں صاحب ایسا نہیں ہے مگر یہاں بھی اب بولیاں لگتی ہے، برادریاں ماپی جاتی ہیں، جس کے جتنے ہاتھ لمبے ہو اتنا ہی وہ کامیاب قرار پاتا ہے۔ نظریہ اور منشور لمبی تان کر کب کے سو چکے ہیں۔ دستور ایک کاغذ کا شکل اختیار کر چکا ہے جسے حسب ضرورت سادہ لوح ارکان کو بے وقوف بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ (منتخب نمائندے اور لیڈرز کیسے دستور کی دھجیاں اڑاتے ہیں انشاءاللہ آئندہ مضمون میں۔)


نوٹ: مضمون میں پیش کردہ نقطہ نظر، مصنف کی رائے ہے اور ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ دانش کے صفحات اس موضوع پہ کسی بھی رائے یا تحریر کے لئے دسیاب ہیں۔


مصنف پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور مقامی اخبارات کے ساتھ ساتھ آن لائن ویب سائیٹس کیلئے بھی لکھتے ہیں۔ مقامی سیاست اور سیاسی و سماجی معاملات پہ گہری نظر رکھتے ہیں۔ کالمز لکھنے کے علاوہ شاعری بھی کرتے ہیں۔

Facebook Comments Box
جماعت اسلامیدیرسیاستکے پی کےمظفر علی سید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایبٹ روڈ —– سبین علی کا فکر انگیز افسانہ
next post
اسلام : ثقافت، نظام یا تمدنی اصول؟ احمد الیاس

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.